صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

رائے اور عمل میں اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا اکرام کرنا

حضرت یحییٰ بن سعید ؓ اپنے چچاسے نقل کرتے ہیں کہ ان کے چچا فرماتے ہیں: جب ہم جنگِ جمل میںکھڑے ہوگئے اور حضرت علیؓ نے ہماری صفوں کو ترتیب دے دی، تو انھوں نے لوگوں میں یہ اعلان کرایاکہ (چوںکہ ہمارے مقابلے پر مسلمانوں کی ہی ایک جماعت ہے اس لیے) کوئی آدمی نہ تیر چلائے اور نہ نیزہ مارے اور نہ تلوار چلائے۔ اور ان لوگوں سے خود لڑائی شروع نہ کرو اور ان کے ساتھ بہت نرم بات کرو،کیوںکہ یہ ایسا مقام ہے کہ جو اس میں کامیاب ہوگیا وہ قیامت کے دن بھی کامیاب ہوگا۔ چناںچہ ہم لوگ یوں ہی کھڑے رہے یہاں تک کہ جب دن بلند ہوگیا تو (مقابل لشکر کے) تمام لوگوں نے بلند آواز سے کہا: اے حضرت عثمانؓ کے خون کے بدلہ کا مطالبہ کرنے والو! (حملہ کے لیے تیارہوجاؤ) حضرت محمد بن حنفیہ ؓ ہمارے آگے جھنڈا لیے کھڑے تھے تو ان سے حضرت علی نے پکار کر پوچھا: اے ابنِحنفیہ! یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ انھوں نے ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے امیر المؤمنین! (انھوں نے کہا:) اے حضرت عثمان کے خون کے بدلہ کا مطالبہ کرنے والو! اس پر حضرت علی نے ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگی: اے اللہ! قاتلینِ عثمان کو منہ کے بل گرادے۔1 حضرت محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب ؓکہتے ہیں: حضرت علی ؓ نے پہلے اہلِ جمل کو تین دن دعوت دی پھر ان سے جنگ کی۔ جب تیسرا دن ہوا تو حضرت حسن، حضرت حسین اور حضرت عبد اللہ بن جعفر ؓ نے حضرت علی کے پاس آکر کہا: انھوں نے ہمیں بہت زیادہ زخمی کر دیا ہے۔ حضرت علی نے کہا: اے میرے بھتیجے! مجھے لوگوں کے سارے حالات معلوم ہیں میں ان سے ناواقف نہیں ہوں۔ پھر حضرت علی نے فرمایا: پانی ڈال کر لاؤ۔ چناںچہ پانی آیا تو اس سے وضو کر کے حضرت علی نے دو رکعت نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر انھوں نے ہاتھ اٹھاکر اللہ سے دعا مانگی پھر ان سے فرمایا: اگر تم ان لوگوں پر غالب آجاؤ تو بھاگنے والے کا پیچھا نہ کرنا اور کسی زخمی کا کام تمام نہ کرنا۔ اور یہ لوگ میدانِ جنگ میں جو ہتھیار لائے ہیں ان پر تو قبضہ کرلینا اس کے علاوہ جتنا سامان یا ہتھیار ہیں وہ سب مرنے والے کے ورثا کے ہیں۔ امام بیہقی فرماتے ہیں: یہ حدیث منقطع ہے، صحیح یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے کچھ نہیں لیا اور کسی مرنے والے کے ہتھیار بھی نہیں لیے۔1 حضرت علی بن حسین ؓ فرماتے ہیں: میں مروان بن حکم کے پاس گیا تو اس نے کہا: میں نے آپ کے والد سے زیادہ اچھی طرح غلبہ پانے والا کوئی نہیں دیکھا۔ جنگِ جمل کے دن جوں ہی ہم لوگ شکست کھا کر بھاگے تو ان کے آدمی نے زور سے اعلان کیا کہ کسی بھاگنے والے کو قتل نہ کیا جائے اور کسی زخمی کا کام تمام نہ کیا جائے۔2 حضرت عبدِ خیر ؓ کہتے ہیں: کسی نے حضرت علیؓ سے اہلِ جمل (یعنی جو جنگِ جمل میں حضرت علی کے مخالف تھے ان) کے بارے میں پوچھا تو حضرت علی نے فرمایا: یہ ہمارے بھائی ہیں جنھوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی تھی اس لیے ہم نے ان سے جنگ کی تھی۔ اب انھوں نے بغاوت سے توبہ کرلی ہے جسے ہم نے قبول کر لیا ہے۔3 حضرت محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب ؓکہتے ہیں: حضرت علیؓ نے جنگِ جمل کے دن فرمایا: ہم ان مخالفوں پر کلمۂ شہادت کی وجہ سے احسان کریں گے (یعنی انھیں قتل نہیں کریں گے)، اور جو قتل ہو جائیں گے ان کے سامان اور ہتھیار کا وارث ان کے بیٹوں کو بنائیں گے(ہم نہیںلیں گے)۔ حضرت ابو البَخْترَِی ؓ کہتے ہیں: حضرت علیؓ سے اہلِ جمل کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ مشرک ہیں؟ تو فرمایا: شرک سے تو وہ بھاگ کر آئے ہیں۔ پھر پوچھا گیا: کیا وہ منافق ہیں؟ تو فرمایا: منافق تو اللہ کا بہت کم ذکر کرتے ہیں (اور یہ لوگ تو اللہ کا بہت ذکر کرتے ہیں اس لیے منافق نہیں ہیں)۔ پھر پوچھا گیا: پھر یہ کیا ہیں؟ فرمایا: یہ ہمارے بھائی ہیں، انھوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی تھی۔4 حضرت طلحہؓ کے غلام حضرت ابو حبیبہ ؓ کہتے ہیں: جب حضرت علیؓ اہلِ جمل سے فارغ ہوگئے (اور اس جنگ میں حضرت طلحہ حضرت علی کی مخالف جماعت میں تھے اور وہ شہید ہوئے تھے) تو میں حضرت طلحہ کے صاحب زادے حضرت عمران کے ساتھ حضرت علی کی خدمت میں گیا، تو انھوں نے حضرت عمران کو خوب خوش آمدید کہا اور انھیں اپنے قریب بٹھا کر کہا: مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کے والد کو ان لوگوں میں شامل کر دیں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ o}1 اور ان کے دلوں میں جو کینہ تھا ہم وہ سب دور کر دیں گے کہ سب بھائی بھائی کی طرح رہیں گے، تختوں پر آمنے سامنے بیٹھا کریں گے۔ پھر فرمایا: اے میرے بھتیجے! فلاںعورت کا کیا حال ہے؟ اور فلاں عورت کا کیا حال ہے؟ ان کے والد (حضرت طلحہؓ) کی اولاد کی ماؤں (یعنی ان کی بیویوں) کے بارے میں پوچھا۔ پھر فرمایا: ہم نے ان سالوں میں تمہاری زمین پر اس لیے قبضہ کیے رکھا تاکہ لوگ تم سے چھین نہ لیں۔ پھر فرمایا: اے فلانے! انھیں لے کر ابنِ قَرَظَہ کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ وہ ان گزشتہ سالوں کی تمام آمدن انھیں دے دے، اور ان کی زمین بھی انھیں دے دے۔ ایک کونے میں دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے ان میں ایک حارث اَعْوَر تھا۔ ان دونوں نے کہا: اللہ تعالیٰ (حضرت علیؓ سے) زیادہ بہتر فیصلہ کرنے والے ہیں۔ ہم انھیں قتل کر رہے ہیں اور وہ جنت میں ہمارے بھائی بنیں (یہ کیسے ہو سکتا ہے)۔ اس پر حضرت علی نے (ناراض ہو کر) فرمایا: تم دونوں یہاں سے اُٹھ کر اللہ کی زمین کے سب سے دور والے علاقے میں چلے جاؤ۔ اگر میں اور حضرت طلحہ اس آیت کا مصداق نہیں ہیں تو پھر کون ہوگا؟ اے میرے بھتیجے! جب تمھیں کوئی ضرورت ہواکرے تو تم ہمارے پاس آجایا کرو۔2 ابنِ سعد نے حضرت رِبعی بن حراش ؓ سے پچھلی حدیث جیسی حدیث نقل کی ہے۔ اس کے آخر میں یہ ہے کہ ان دونو ںکی بات سن کر حضرت علیؓ نے زور سے چیخ ماری جس سے سارا محل دہل گیا اور پھر فرمایا: جب ہم اس آیت کا مصداق نہیں ہوں گے تو پھر کون ہوگا؟ حضرت ابراہیم ؓ کہتے ہیں: ابنِ جُرمُوز نے آکر حضرت علی سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ (ابنِ جُرمُوز نے جنگِ جمل میں حضرت زبیرؓ کو شہید کیا تھا)۔ حضرت علی نے بڑی دیر کے بعد اجازت دی تو اس نے اندر آکر کہا: جن لوگوں نے خوب زورشور سے جنگ کی تھی آپ ان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں! حضرت علی نے فرمایا: تیرے منہ میں خاک ہو، مجھے یقین ہے کہ میں، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ o}1 حضرت جعفر بن محمد اپنے والد حضرت محمد ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: مجھے یقین ہے کہ میں، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر ان لوگوں میں ہوں گے جن کے بارے میں اللہ نے فرمایاہے اور پھر پچھلے آیت تلاوت فرمائی۔ حضرت عمرو بن غالب ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسرؓ نے سنا کہ ایک آدمی اُمّ المؤمنین حضرت عائشہؓ کے بارے میں نازیبا کلمات کہہ رہا ہے تو اسے ڈانٹ کر فرمایا: بکواس بند کرو۔ چپ کرو۔ خدا تجھے خیر سے دور کرے اور گالیاں دینے والے تجھ پر مسلط کرے۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنت میں بھی حضورﷺ کی بیوی ہوں گی۔2 ’’ترمذی‘‘ کی حدیث میں یہ ہے کہ حضرت عمارؓ نے فرمایا: دفع ہوجا، خدا تجھے خیر سے دور کرے، کیا تو حضورﷺ کی محبوب بیوی کو تکلیف پہنچا رہا ہے؟3 حضرت عمارؓ فرماتے ہیں: ہماری اماں جان حضرت عائشہؓ نے اپنا ایک مؤقف اختیار کیا ہے (جو حضرت علیؓ کے خلاف ہے) اور ہمیں معلوم ہے کہ وہ دنیا اور آخرت میں حضور ﷺ کی بیوی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے ہمارا امتحان لینا چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کی بات مانتے ہیں یا ان کی۔4 حضرت ابو وائلؓ فرماتے ہیں: جب حضرت علیؓ نے حضرت عمار بن یاسر اور حضرت حسن بن علیؓ کو کوفہ بھیجا تاکہ وہ کوفہ والوں کو (حضرت علی کی مدد کے لیے تیار کرکے) لے آئیں، توحضرت عمار نے یہ بیان فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ وہ (حضرت عائشہؓ) حضورﷺ کی دنیا اور آخرت میں بیوی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے تمہارا امتحان لینا چاہتے ہیں، دیکھنا چاہتے ہیں کہ تم لوگ اللہ کے پیچھے چلتے ہو یا ان کے۔1