نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا دنیا سے بے رغبتی اختیا ر کرنا

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا زہد

حضرت حمزہ بن عبد اللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ اس وقت کھانا کھاتے جب ساتھ کھانے والا کوئی اور بھی ہوتا، اور جب کھاتے تو چاہے کھانا کتنا زیادہ ہوتا پیٹ بھر کر نہ کھاتے۔ چناںچہ ایک مرتبہ حضرت ابنِ مطیع ؓ ان کی عیادت کرنے آئے تو انھوں نے دیکھا کہ ان کا جسم بہت دبلا ہو چکا ہے تو انھوں نے (ان کی بیوی) حضرت صفیہ ؓ سے کہا: کیا تم ان کی اچھی طرح دیکھ بھال نہیں کرتی ہو؟ اگر تم ان کی دیکھ بھال ٹھیک طرح سے کرو تو ہوسکتا ہے کہ یہ دبلا پن ختم ہوجائے اور کچھ تو جسم ان کا بن جائے، اس لیے ان کے لیے عمدہ کھانا خاص طور سے اہتمام سے تیار کیا کرو۔ حضرت صفیہ نے کہا: ہم تو ایسا ہی کرتے ہیں، لیکن یہ اپنے کھانے پر تمام گھر والوں کو اور (باہر کے) تمام حاضرین کو بلا لیتے ہیں (اور سارا کھانا دوسروں کو کھلا دیتے ہیں خود بہت کم کھاتے ہیں) لہٰذا آپ ہی ان سے اس بارے میں بات کریں۔ تو اس پر حضرت ابنِ مطیع نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! (یہ ان کی کنیت ہے) اگر آپ کچھ اچھا کھانا کھا لیا کریں تو اس سے آپ کی جسمانی کمزوری دور ہو جائے گی۔ تو انھوں نے فرمایا: آٹھ سال مسلسل ایسے گزرے ہیں کہ میں نے کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا، یا صرف ایک مرتبہ ہی پیٹ بھر کر کھایا ہوگا۔ اب تم چاہتے ہو کہ میں پیٹ بھر کر کھایا کروں جب کہ گدھے کی پیاس جتنی (تھوڑی سی) زندگی رہ گئی ہے۔1 حضرت عمر بن حمزہ بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی گزرا اور اس نے کہا: آپ مجھے بتائیں کہ جس دن میں نے آپ کو حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے ’’جُرف‘‘ مقام پر با ت کرتے ہوئے دیکھا تھا آپ نے ان کو کیا کہا تھا؟ انھوں نے کہا: میں نے ان سے کہا تھا اے ابو عبدالرحمن! آپ کا جسم بہت دبلا ہوگیا اور عمر بہت زیادہ ہوگئی۔ آپ کی مجلس میں بیٹھنے والے نہ آپ کا حق پہچانتے ہیں اور نہ آپ کا مقام۔ آپ یہاں سے گھر واپس جا کر اپنے گھر والوں سے کہیں کہ وہ آپ کے لیے خاص طور سے اچھا سا کھانا تیار کر دیا کریں۔ انھوں نے کہا: تیرا بھلا ہو! اللہ کی قسم! میں نے گیارہ سال سے بلکہ بارہ سال سے بلکہ تیرہ سال سے بلکہ چودہ سال سے ایک دفعہ بھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا، اب تو گدھے کی پیاس جتنی (تھوڑی سی) زندگی رہ گئی اب یہ کیسے ہو سکتا ہے؟2 حضرت عبید اللہ بن عدی ؓ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے غلام تھے۔ وہ عراق سے آئے اور انھوں نے حضرت عبد اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر انھیں سلام کیا اور عرض کیا: میں آپ کے لیے ہدیہ لایا ہوں۔ حضرت عبد اللہ نے پوچھا: کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جوارش ہے۔ حضرت عبد اللہ نے پوچھا: جوارش کیا چیز ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: اس سے کھانا ہضم ہوجاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا: میں نے چالیس سال سے کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا میں اس جوارش کا کیا کروں گا۔3 حضرت ابنِ سیرین ؓ کہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے کہا: کیا میں آپ کے لیے جوارش تیار کر دوں؟ حضرت ابنِ عمر نے پوچھا: جوارش کیا چیز ہوتی ہے؟ اس آدمی نے کہا: اگر آپ کسی دن کھانا اتنا زیادہ کھالیں کہ سانس لینا بھی مشکل ہوجائے اور پھر اس جوارش کو استعمال کر لیں تو اس سے اس کھانے کو ہضم کرنا آسان ہوجائے گا۔ حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: میں نے تو چار ماہ سے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔ اور یہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ مجھے کھانا ملتا نہیں ہے، کھانا تو بہت ہے لیکن میںایسے لوگوں کے ساتھ رہا ہوں جو ایک وقت پیٹ بھر کر کھاتے تھے اور دوسرے وقت بھوکے رہتے تھے۔1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: جب سے حضورﷺ کا انتقال ہوا، میں نے نہ اینٹ پر اینٹ رکھی (یعنی کوئی تعمیر نہیں کی) اور نہ ہی کھجور کا کوئی پودا لگایا ہے۔2 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے علاوہ ہم میںسے جس نے بھی دنیا پائی دنیا اس کی طرف مائل ہوئی اور وہ دنیا کی طرف مائل ہوگیا۔3 حضرت سُدّی ؓ کہتے ہیں: میں نے صحابہ ؓ کی ایک جماعت کو دیکھا جو یہ سمجھتے تھے کہ حضورﷺ صحابہ کو (دنیاوی چیزوں کے استعمال میں) جس حالت پر چھوڑ کر گئے تھے، اس حالت پر حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے علاوہ اور کوئی نہیں رہا۔4