نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا دنیا سے بے رغبتی اختیا ر کرنا

حضرت معاذ بن عفراء ؓ کا زہد

حضر ت ابو ایوب ؓ کے غلام حضرت افلح ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓحکم دے کر اہلِ بدر کے لیے خاص طور سے بڑے عمدہ جوڑوں کا کپڑا تیار کرواتے تھے۔ (پھر اس سے جوڑے بنا کر اہلِ بدر کو بھیجا کرتے تھے) چناںچہ انھوں نے حضرت معاذ بن عفراء ؓ کو ان میں سے ایک جوڑا بھیجا۔ حضرت معاذ نے مجھ سے فرمایا: اے افلح! یہ جوڑا بیچ دو۔ میں نے وہ جوڑا ڈیڑھ ہزار درہم میں بیچا تو انھوں نے فرمایا: جائو ڈیڑھ ہزار درہم کے میرے لیے غلام خرید لائو۔ میں پانچ غلام خرید لایا۔ انھیںدیکھ کر فرمایا: جو آدمی ڈیڑھ ہزار درہم کے پا نچ غلام خرید کر انھیں آزاد کر سکتا ہے، وہ اس رقم کے دو چھلکے (لنگی اور چادر کے) پہن لے واقعی وہ بہت بے وقوف ہے۔ (اے غلامو!) جاؤ تم سب آزاد ہو۔ حضرت عمر کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت عمر حضرت معاذ کے پاس جوجوڑے بھیجتے ہیںحضرت معاذ انھیں پہنتے نہیںہیں، تو حضرت عمر نے ان کے لیے سو درہم کا ایک موٹا جوڑا بنوا کر ان کے پاس بھیج دیا۔ جب قاصد وہ جوڑا لے کر ان کے پاس آیا تو حضرت معاذ نے فرمایا: میرا خیال یہ ہے کہ حضرت عمر نے یہ جوڑا دے کر تمھیں میرے پاس نہیں بھیجا۔ اس قاصد نے کہا: نہیں، آپ کے پاس ہی بھیجا ہے۔ انھوں نے وہ جوڑا لیا اور لے کر حضرت عمر کی خدمت میں آئے اور کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ نے یہ جوڑا میرے پاس بھیجا ہے؟ حضرت عمر نے فرمایا: ہا ں، میں نے بھیجا ہے۔ ہم پہلے تمہارے پاس ان (قیمتی) جو ڑوں میں سے بھجوایا کرتے تھے جو تمہارے اور تمہارے (بدری) بھائیوں کے لیے بنوایاکرتے تھے، لیکن مجھے پتا چلا کہ تم اسے پہنتے نہیں ہو (اس لیے اس دفعہ میں نے تمہارے پاس یہ معمولی جوڑا بھیج دیا)۔ انھوں نے کہا: اے امیرالمؤمنین! میں اگرچہ وہ جوڑا پہنتا نہیں، لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کے پاس جو بہترین چیز ہے مجھے اس میں سے ملے۔ چناںچہ حضرت عمر نے ان کو حسبِ سابق وہی عمدہ جوڑا دے دیا۔1