نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا دنیا سے بے رغبتی اختیا ر کرنا
حضرت سلمان فارسی ؓ کا زہد
حضرت عطیّہ بن عامر ؓکہتے ہیں: میں نے ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسی ؓکو دیکھا کہ وہ کھانا کھا رہے تھے۔ ان سے مزید کھانے کا اصرار کیا گیا تو انھوں نے کہا: میرے لیے یہی کافی ہے، میرے لیے یہی کافی ہے، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا میں زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والے قیامت کے دن زیادہ بھوکے ہو ں گے۔ اے سلمان! دنیا مؤمن کے لیے جیل خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت (کہ مؤمن اللہ تعالیٰ کے اَحکام کا خود کو پابند کر کے چلتا ہے اور کافر اپنی مرضی پر چلتا ہے۔)3
حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: حضرت سلمان ؓ کو بیت المال سے پانچ ہزار وظیفہ ملتا تھا اور وہ تقریباً تیس ہزار مسلمانوں کے امیر تھے۔ اُن کا ایک چُغّہ تھا جس کے کچھ حصہ کو نیچے بچھا کر باقی کو اوپر اوڑھ لیا کرتے تھے اور اسی چُغّہ کو پہن کرلوگوں میں بیان کیا کرتے تھے۔ جب انھیں وظیفہ ملتا تو اسے اسی وقت آگے خرچ کر دیا کرتے اس میں سے اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے تھے، اور اپنے ہاتھ سے کھجور کے پتّوں کی ٹوکریاں بناتے تھے اور اس کی کمائی سے گزارا کرتے تھے۔1
حضرت اعمش ؓ کہتے ہیں: میں نے لوگوں کو یہ قصہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت حذیفہؓ نے حضرت سلمان ؓکو یہ فرمایا: اے ابو عبد اللہ! (یہ حضرت سلمان ؓکی کنیت ہے) کیا میں تمہارے لیے ایک کمرا نہ بنادوں؟ حضرت سلمان کو یہ بات بری لگی تو حضرت حذیفہ نے کہا: ذرا ٹھہرو تو سہی، سن تو لو میں تمہارے لیے کیسا کمرا بنانا چاہتا ہوں؟ میں تمہارے لیے ایسا کمرا بنانا چاہتا ہوں کہ جب تم اس میں لیٹو تو تمہارا سر ایک دیوار کو لگے اور پاؤں دوسری دیوار کو، اور جب تم کھڑے ہو تو تمہارا سر چھت کو لگے۔ حضرت سلمان نے کہا: ایسا معلوم ہو تا ہے کہ تم تو میرے دل میں رہتے ہو، یعنی اب تم نے میرے دل کی بات کہی ہے۔2
حضرت مالک بن انس ؓ کہتے ہیں: حضرت سلمان فارسی ؓ (کسی درخت کے سایہ) میں بیٹھا کرتے تھے (اور مسلمانوں کے اجتماعی کاموں کو انجام دیا کرتے تھے) اور سایہ گھوم کر جدھر جاتا خود بھی کھسک کر ادھر ہو جاتے۔ اس کام کے لیے ان کا کوئی گھر نہ تھا۔ ان سے ایک آدمی نے کہا: کیا میں آپ کو ایک کمرا نہ بنا دوں کہ گرمیوں میں اس کے سایہ میں رہا کریں اور سردیوں میں اس میں رہ کر سر دی سے بچاؤ کر لیا کریں؟ حضرت سلمان نے اس سے فرمایا: ہاں، بنا دو۔ جب وہ آدمی پشت پھیر کر چل پڑا تو حضرت سلمان نے اسے زور سے آواز دے کر کہا: کیسا کمرا بناؤ گے؟ اس آدمی نے کہا: ایسا کمرا بناؤں گا کہ اگر آپ اس میں کھڑے ہوں تو آپ کا سر چھت کو لگے اور اگر آپ اس میں لیٹیں تو آپ کے پاؤں دیوار کو لگیں۔ حضرت سلمان نے کہا: پھر ٹھیک ہے۔3