نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا دنیا سے بے رغبتی اختیا ر کرنا
حضرت عثمان بن مظعون ؓ کا زہد
حضرت ابنِ شہاب ؓکہتے ہیں: ایک دن حضرت عثمان بن مظعون ؓ مسجد میں داخل ہوئے، انھوں نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی جو کئی جگہ سے پھٹی ہوئی تھی جس پر انھوں نے کھال کا پیوند لگا رکھا تھا۔ یہ دیکھ کر حضورﷺ کو اُن پر بڑا ترس آیا اور آپ پر رِقّت طاری ہوگئی اور آپ کی وجہ سے صحابہ ؓ پر بھی رِقّت طاری ہوگئی۔ پھر آپ نے فرمایا: اس دن تم لوگوں کا کیا حال ہوگا جس دن تم میں سے ہر آدمی ایک جوڑا صبح پہنے گا اور ایک جوڑا شام کو، اور کھانے کا ایک بڑا پیالہ اس کے سامنے رکھا جائے گا اور ایک اٹھایا جائے گا، اور تم گھروں پر ایسے پردے لٹکاؤ گے جیسے کعبہ پر لٹکائے جاتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم تو چاہتے ہیں کہ ایسا ہوجائے اور ہمیں بھی وسعت اور سہولت حاصل ہو جائے۔ حضورﷺ نے فرمایا: ایسا ضرور ہو کر رہے گا، لیکن آج تم لو گ اس دن سے بہتر ہو (کہ دین کا کام مجاہدوں کے ساتھ کر رہے ہو)۔3
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: جس دن حضرت عثمان بن مظعون ؓ کا انتقال ہوا اس دن حضورﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور حضرت عثمان پر ایسے جھکے کہ گویا ان کو وصیت فرما رہے ہیں۔ پھر آپ نے سر اٹھا یا تو صحابہ نے آپ کی آنکھوں میں رونے کا اثر دیکھا۔ آپ دوبارہ ان پر جھکے، پھر آپ نے سر اٹھایا تو اس دفعہ آپ روتے ہوئے نظر آئے۔ پھر آپ ان پر تیسری مرتبہ جھکے، پھر آپ نے سر اٹھایا تو اس دفعہ آپ سسکیاں لے رہے تھے جس سے صحابہ سمجھے کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس پر صحابہ بھی رونے لگے تو حضورﷺ نے فرمایا: ٹھہرو! یہ آواز سے رونا شیطان کی طرف سے ہے۔ اللہ سے استغفار کرو۔ پھر حضرت عثمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے ابو السائب! تم غم نہ کرو۔ تم دنیا سے چلے گئے اور تم نے دنیا سے کچھ نہ لیا۔1
ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے حضرت عثمان ؓ کے انتقال کے بعد ان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے عثمان! اللہ تم پر رحم فرمائے! نہ تو تم نے دنیا سے کوئی فائدہ اٹھایا اور نہ ہی دنیا تمہارے پاس آئی۔2