نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا دنیا سے بے رغبتی اختیا ر کرنا

حضرت عمر بن خطّاب ؓ کا زہد

حضرت سالم بن عبد اللہ ؓکہتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ خلیفہ بنے تو انھوں نے حضرت ابو بکر ؓ والے اسی وظیفہ پر اکتفا کیا جو صحابہ ؓ نے اُن کے لیے مقرر کیا تھا۔ چناںچہ وہ کچھ عرصہ اتنا ہی لیتے رہے ، لیکن وہ ان کی ضرورت سے کم تھا اس لیے ان کے گزر میں تنگی ہونے لگی۔ تو مہاجرین کی ایک جما عت اکٹھی ہوئی جن میںحضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر ؓ بھی تھے۔حضرت زبیر نے کہا کہ اگر ہم حضرت عمر سے کہیں کہ ہم آپ کے وظیفہ میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، تو یہ کیسا رہے گا؟ حضرت علی نے کہا:ہم تو پہلے سے ان کا وظیفہ بڑھانا چاہتے ہیں، چلو چلتے ہیں۔ حضرت عثمان نے کہا: یہ حضرت عمر ہیں، پہلے ہمیں اِدھر اُدھر سے ان کی رائے معلوم کرنی چاہیے (پھر ان سے براہِ راست با ت کرنی چاہیے)۔ میرا خیال یہ ہے کہ ہم اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ ؓ کے پاس جاتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے حضرت عمر کی رائے معلوم کرتے ہیں۔ اور ان سے کہہ دیں گے کہ وہ حضرت عمر کو ہم لوگوں کے نام نہ بتائیں۔ چناںچہ یہ حضرات حضرت حفصہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ آ پ یہ بات ایک جماعت کی طرف سے حضرت عمر سے کریں اور انھیں کسی کا نام نہ بتائیں، لیکن اگر وہ یہ بات مان لیں تو پھر نام بتانے میں حرج نہیں ہے۔ یہ بات کہہ کر وہ حضرات حضرت حفصہ کے پاس سے چلے آئے۔ پھر حضرت حفصہ حضرت عمر کی خدمت میں گئیں اور نام لیے بغیر ان کی خدمت میں یہ بات پیش کی تو حضرت عمر کے چہرہ پر غصہ کے آثار ظاہر ہوگئے۔ اور انھوں نے پوچھا کہ تمھیں یہ بات کن لوگوں نے کہی ہے؟ حضرت حفصہ نے عرض کیا: پہلے آپ کی رائے معلوم ہوجائے پھر میں آپ کو ان کے نا م بتلا سکتی ہو ں۔ حضرت عمر نے فرمایا: اگر مجھے ان کے نام معلوم ہوجاتے تو میں انھیں ایسی سخت سزا دیتا جس سے ان کے چہروں پر نشان پڑجاتے۔ تم ہی میرے اور ان کے درمیان واسطہ بنی ہو، اس لیے میں تمھیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم یہ بتاؤ کہ تمہارے گھر میں حضورﷺ کا سب سے عمدہ لباس کو ن سا تھا؟ انھوں نے کہا: گیروے رنگ کے دو کپڑے جنھیں کسی وفد کے آنے پر اور جمعہ کے خطبہ کے لیے پہنا کرتے تھے۔ پھر حضرت عمر نے پوچھا: حضورﷺ نے تمہارے ہاں سب سے عمدہ کھانا کون سا کھایا؟ انھوں نے کہا: ایک مرتبہ ہم نے جَو کی ایک روٹی پکائی، پھر اس گرم گرم روٹی پر گھی کے ڈبے کی تلچھٹ اُلٹ کر اسے چپڑ دیا، جس سے وہ روٹی خوب چکنی چپڑی اور نرم ہوگئی پھر حضورﷺ نے خوب مزے لے کر اسے نوش فرمایا اور وہ روٹی آپ کو بہت اچھی لگ رہی تھی۔ پھر حضرت عمر نے پوچھا: حضورﷺ کا تمہا رے ہاں سب سے زیادہ نرم بستر کون سا تھا؟ انھوں نے کہا: ہمارا ایک مو ٹا سا کپڑا تھا گرمی میں اس کو چوہرا کر کے بچھا لیتے تھے اور سردی میں آدھے کو بچھا لیتے اور آدھے کو اوڑھ لیتے۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا: اے حفصہ! ان لوگوں تک یہ بات پہنچا دو کہ حضورﷺ نے اپنے طرزِ عمل سے ہر چیز میں ایک اندازہ مقرر فرمایا ہے اور ضرورت سے زائد چیزوں کو اپنی اپنی جگہوں میں رکھا ہے (اور ان میں نہیں لگے) اور کم سے کم پر گزارہ کیا ہے۔ میں نے بھی ہر چیز کا اندازہ مقرر کیا ہے۔ اوراللہ کی قسم! ضرورت سے زائد چیزوں کو ان کی جگہو ں میں رکھوں گا اور میں بھی کم سے کم پر گزارہ کروں گا۔ میری اور میرے دو ساتھیوں کی مثال ان تین آدمیوں کی سی ہے جو ایک راستہ پر چلے۔ان میں سے پہلا آدمی توشہ لے کر چلا اور منزلِ مقصود تک پہنچ گیا، پھر دوسرے نے بھی اسی کا اتباع کیا اور اسی کے راستہ پر چلا تو وہ بھی اسی منزل تک پہنچ گیا، پھر تیسرے آدمی نے بھی اسی پہلے کا اتباع کیا۔ اگر وہ ان دونوںکے راستہ کا خود کو پابند بنائے گا اور ان جیسا توشہ رکھے گا تو ان کے ساتھ جا ملے گا اور ان کے ساتھ رہا کرے گا، اور اگر وہ ان دونوں کے راستے کو چھوڑ کر کسی اور راستے پر چلے گا تو (کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں مل سکے گا)۔1 حضرت حسن بصری ؓ کہتے ہیں: بصرہ کی جامع مسجد میں ایک مجلس لگی ہوئی تھی۔ میں ان کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ حضورﷺ کے چند صحابہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ کے زہد، حسنِ سیرت، اسلام اور ان دینی فضائل کا تذکرہ کر رہے ہیں جو اللہ نے انھیں عطا فرمائے تھے۔ میں ان لوگوں کے بالکل قریب چلا گیا تو میں نے دیکھا کہ حضرت اَحنف بن قیس تمیمی ؓ بھی ان لوگوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے سنا وہ اپنا قصہ یوں بیان کر رہے تھے کہ ہمیں حضرت عمر بن خطّا ب ؓ نے ایک جماعت کے ساتھ عراق بھیجا۔ اللہ نے ہمیں عراق اور فارس کے مختلف شہروں پر فتح نصیب فرمائی۔ ان علاقوں میں ہمیں فارس اور خراسان کے سفید کپڑے ملے۔ وہ کپڑے ہم نے ساتھ رکھ لیے اور ان کو پہننا شروع کر دیا۔ (ہم لوگ واپس مدینہ منوّرہ پہنچے) جب ہم لوگ حضرت عمر کی خدمت میںپہنچے توحضرت عمرنے ہم سے چہرہ پھیر لیا اور ہم سے کو ئی بات نہ کی۔ حضور ﷺ کے جو صحا بہ ہما رے ساتھ تھے انھیں حضرت عمرکے اس رویے سے سخت پریشانی ہوئی۔ پھر ہم لوگ حضرت عمر کے صاحب زادے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی خدمت میں گئے اور امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب کی بے رخی اور سخت رویے کی ان سے شکا یت کی۔ انھوں نے کہا: امیرالمؤمنین نے تم لوگوں سے بے رخی اس وجہ سے کی ہے کہ انھوں نے تم لوگوں پر ایسا لباس دیکھا ہے جو انھوں نے نہ حضورﷺ کو پہنے ہوئے دیکھا اور نہ ان کے بعد ان کے خلیفہ حضرت ابو بکر ؓ کو پہنے ہوئے دیکھا۔ یہ سنتے ہی ہم لوگ اپنے گھر گئے اور وہ کپڑے اتار دیے، اور وہ کپڑے پہنے جو پہلے سے ہم لوگ حضرت عمر کے سامنے پہنا کرتے تھے۔ اور ان کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے۔ اس دفعہ وہ ہما رے استقبا ل کے لیے کھڑے ہوگئے، اور ایک ایک آدمی کوالگ الگ سلام کیا اور ہر ایک سے معانقہ کیا اور ایسے گرم جوشی سے ملے کہ گویا اس سے پہلے انھوں نے ہمیں دیکھا ہی نہیں تھا۔ پھر ہم نے مالِ غنیمت آپ کی خدمت میں پیش کیا جسے آپ نے ہما رے درمیان برابر برابر تقسیم کر دیا۔ پھر اس مالِ غنیمت میں کھجور اور گھی کے سرخ او ر زرد رنگ کے حلوے کے ٹوکرے آپ کے سامنے پیش کیے گئے۔ اس حلوے کو حضرت عمر ؓ نے چکھا تو وہ انھیں خوب مزیدار اور خوش بو دار لگا۔ پھر ہم لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے جما عتِ مہاجرین واَنصا ر! اللہ کی قسم! مجھے نظر آرہا ہے کہ اس کھانے کی وجہ سے تم میں سے بیٹا اپنے باپ کو اور بھائی اپنے بھائی کو ضرور قتل کرے گا۔ پھر آپ نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دیا اور اسے ان مہاجرین اور انصار کی اولاد میں تقسیم کر دیا گیا جو حضورﷺ کے سامنے شہید ہوئے تھے۔ پھر حضرت عمر کھڑے ہو کر واپس چل پڑے۔ حضورﷺ کے صحا بہ آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑے اور کہنے لگے: اے جماعتِ مہاجرین وانصا ر! تم ان حضرت کے زہد اور ان کی ظاہری حالت کو نہیں دیکھتے؟ ہمیں تو ان کی وجہ سے بڑی شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہا تھوں کسریٰ وقیصر کے ملک اور مشرق ومغرب کے علاقے فتح کروا دیے ہیں۔ اور عرب وعجم کے وفود ان کے پاس آتے ہیں تو وہ ان پر یہ جبّہ دیکھتے ہیں جس میں انھو ں نے بارہ پیوند لگا رکھے ہیں۔ لہٰذا اے محمد ﷺ کے صحا بہ کی جماعت! آپ لوگ حضو رﷺ کے ساتھ بڑی بڑی جنگوں اور لڑائیوں میں شریک ہونے والوں میں سے بڑے درجے کے ہیں، اور مہاجرین واَنصار میں سے شروع زمانے کے ہیں۔ اگر آپ لو گ ان سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ یہ جبّہ پہننا چھوڑ دیں اور اس کے بجا ئے کسی نرم کپڑے کا عمدہ جبّہ بنالیں، جس کے دیکھنے سے لوگوں پر رعب پڑے، اور صبح وشام ان کے سامنے کھانے کے بڑے بڑے پیالے لائے جائیں جن میں سے خود بھی کھائیں اور مہاجرین وانصار میں سے جو حاضر ہوں ان کو بھی کھلائیں تو یہ بہت اچھا ہوگا۔ سب لوگوں نے کہا: حضرت عمر سے یہ بات صرف دو آدمی کر سکتے ہیں یا تو حضرت علی بن ابی طالب ؓ کرسکتے ہیں، کیوںکہ وہ حضرت عمر کے سامنے سب سے زیا دہ جرأت سے بات کرتے ہیں اور پھر وہ حضرت عمر کے خسر بھی ہیں۔ یا پھر ان کی صاحب زادی حضرت حفصہ ؓ کرسکتی ہیں، کیوںکہ وہ حضورﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں اور اسی نبوی نسبت کی وجہ سے حضرت عمر اُن کا بہت احترام کرتے ہیں۔ چناںچہ ان حضرات نے حضرت علی ؓ سے بات کی۔ حضرت علی نے کہا: میں حضرت عمر سے یہ بات نہیں کر سکتا۔ آپ لوگ حضورﷺ کی ازواجِ مطہّرات کے پاس جاؤ، کیوںکہ وہ تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں، وہ حضرت عمر کے سامنے جرأت سے بات کر سکتی ہیں۔ چناںچہ ایک موقع پر حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ اکٹھی بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان حضرات نے جاکر ان دونوں کی خدمت میںاپنی درخواست پیش کی (کہ حضرت عمر ؓ سے یہ بات کریں)۔ اس پر حضرت عائشہ نے کہا: میں ان کی خدمت میں یہ مطالبہ پیش کرتی ہوں۔ حضرت حفصہ نے کہا: میرے خیال میں تو حضرت عمر کبھی ایسا نہیں کریں گے، آپ ان سے بات کر کے دیکھ لیں آپ کو پتہ چل جائے گا۔ چناںچہ دونوں امیرالمؤمنین کی خدمت میں گئیں تو انھو ں نے ان دونوں کو اپنے قریب بٹھایا۔ حضرت عائشہ نے کہا: اے امیرالمؤمنین! اگر اجا زت ہو تو میں آپ سے کچھ بات کروں؟ حضرت عمر نے کہا: اے اُمّ المؤمنین! ضرور کریں۔ حضرت عائشہ نے کہا: حضورﷺ اپنے راستے پر چلتے رہے اور آخرکار اللہ تعالیٰ کی جنت اور خوشنودی ان کو حاصل ہوگئی، نہ آپ دنیا حاصل کرنا چاہتے تھے اور نہ ہی دنیا آپ کے پاس آئی۔ اور پھر اسی طرح ان کے بعد حضرت ابو بکر ؓ ان کے راستے پر چلے اور انھوں نے حضور ﷺ کی سنتوں کو زندہ کیا اور جھٹلانے والوں کو ختم کیا اور اہلِ باطل کے تمام دلائل کا منہ توڑ جواب دیا۔ انھوں نے تمام رعایا میں انصاف کیا اور مال سب میں برابر تقسیم کیا اور مخلوق کے ربّ کو راضی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت اور خوشنودی کی طرف اٹھا لیا اور رفیقِ اعلیٰ میں اپنے نبی کے پاس پہنچا دیا۔ (رفیقِ اعلیٰ سے مراد حضرات انبیائے کرام ؑ کی جماعت ہے جو اعلیٰ علیّیّن میں رہتے ہیں) نہ وہ دنیا حاصل کرنا چاہتے تھے اور نہ ہی دنیا ان کے پا س آئی۔ لیکن اب اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں کسریٰ اور قیصر کے خزانے اور ملک فتح کروائے ہیں، اور ان دونوں کے خزانے وہاں سے آپ کی خدمت میں پہنچا دیے گئے ہیں، اور مشرق ومغرب کے آخری علاقے بھی آپ کے ماتحت ہوگئے ہیں، بلکہ ہمیں تو اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ وہ اس سلسلہ کو اور بڑھائیں گے اور اسلام کو اور زیادہ مضبوط فرمائیں گے۔ اب عجمی بادشاہوں کے قاصد اور عرب کے وفود آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ نے یہ جبّہ پہن رکھا ہے جس میں آپ نے با رہ پیوند لگا رکھے ہیں۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اسے اُتار دیں اور اس کی جگہ نرم کپڑے کا عمدہ جبّہ پہن لیں جس کے دیکھنے سے لوگوں پر رعب پڑے، اور صبح وشام آپ کے سامنے کھا نے کے بڑے بڑے پیالے لائے جائیں جن میں سے آپ بھی کھائیں اور مہاجرین واَنصار میں سے جو حاضر ہوں ان کو بھی کھلائیں۔ یہ سن کر حضرت عمر بہت روئے، پھر فرمایا: میں تمھیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تمھیں معلوم ہے کہ حضورﷺ نے اپنی وفات تک مسلسل دس دن یا پانچ دن یا تین دن گندم کی روٹی پیٹ بھر کر کھائی ہو، یا کسی دن دوپہر کا کھانا بھی کھایا ہو اور رات کا بھی؟ حضرت عائشہ نے کہا: نہیں۔ پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر حضرت عمر نے فرمایا: کیا تمھیں معلوم ہے کہ کبھی حضورﷺ کے سامنے زمین سے ایک بالشت اُونچے دسترخوان پر کھانا رکھا گیا ہو؟ بلکہ آپ کے فرمانے پر کھانا زمین پر رکھا جاتا تھا اور فارغ ہونے کے بعد دسترخوان اٹھا لیا جاتا تھا۔ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ دونوں نے کہا: ہاں! ایسے ہی ہوتا تھا۔ پھر حضرت عمر نے ان دونوں سے فرمایا: تم دونوں حضورﷺ کی بیویاں ہو اور تمام مسلمانوں کی مائیں ہو۔ تم دونوںکا تمام مسلمانوںپر عموما ً اور مجھ پر خاص طور سے بڑا حق ہے۔ تم دونوں مجھے دنیا کی ترغیب دینے آئی ہو، حالاںکہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے اُون کا جبّہ پہنا تھا وہ بہت کھردرا اور سخت تھا جس کی رگڑ کی وجہ سے ان کے جسم میں خارش ہونے لگ گئی تھی۔ کیا تمھیں بھی یہ بات معلوم ہے؟ دونوں نے کہا: جی ہاں! معلوم ہے۔ پھر فرمایا: کیا تمھیں معلوم ہے کہ حضورﷺ اِکہرے چُغّے پر سویا کرتے تھے؟ اور اے عائشہ! تمہارے گھر میں ایک بوریا تھا جسے حضورﷺ دن میں بچھونا اور رات کو بستر بنا لیا کرتے تھے۔ جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ کے جسم پر اس بوریے کے نشان ہمیں نظر آیا کرتے تھے۔ اور اے حفصہ! اب تم سنو! تم نے ہی مجھے ایک دفعہ بتایا تھا کہ تم نے حضورﷺ کے لیے ایک رات بستر دوہرا کر کے بچھا دیا تھا جو آپ کو نرم محسوس ہوا۔ آپ اس پر سو گئے اور ایسے سوئے کہ حضرت بلال ؓ کی اذان پر آپ کی آنکھ کھلی، تو آپ ﷺ نے تم سے فرمایا تھا: اے حفصہ! یہ تم نے کیا کیا؟ آج را ت تم نے میرا بستر دوہرا کر کے بچھایا تھا جس کی وجہ سے میں صبحِ صادق تک سو تا رہا۔ مجھے دنیا سے کیا واسطہ ؟ تم نے نرم بستر میں مجھے لگا دیا (جس کی وجہ سے میں تہجد میں نہ اُٹھ سکا)۔ اے حفصہ! کیا تمھیں معلوم نہیں کہ حضورﷺ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو چکے تھے، لیکن پھر بھی آپ دن بھر بھوکے رہتے اور رات کا اکثر حصہ سجدہ میں گزار دیتے، اور ساری عمر یوں ہی رکوع اور سجدے میں رونے دھونے اور گڑگڑانے میں گزاری یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت اور خوشنودی کی طرف اٹھا لیا؟ عمر کبھی عمدہ کھانا نہیں کھائے گا اور کبھی نرم کپڑا نہیں پہنے گا۔ وہ اپنے دونوں ساتھیوں کے نقشِ قدم پر چلے گا اور کبھی دو سالن ایک وقت میں نہیں کھائے گا۔ البتہ نمک اور تیل بھی دو سالن ہیں، لیکن ان کو ایک وقت میں استعمال کرے گا، اور مہینہ میں صرف ایک دن گوشت کھائے گا تا کہ اس کا مہینہ بھی عام لوگوں کی طرح گزرے۔ پھر حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ دونوں حضرت عمر ؓ کے گھر سے نکلیں اور ان کی ساری بات انھوں نے حضورﷺ کے صحا بہ کو بتائی۔ چناںچہ حضرت عمر نے لباس اور کھانے وغیرہ کا معیا ر نہ بدلا، بلکہ اسی زاہدانہ طرز پر زندگی گزار دی یہا ں تک کہ اللہ عزّ وجل سے جا ملے۔1 حضرت عِکرمہ بن خالد ؓ کہتے ہیں: حضرت حفصہ، حضرت ابنِ مطیع اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے یہ بات کی کہ اگر آپ اچھا کھانا کھایا کریں تو اس سے آپ کو حق پر چلنے میں زیادہ قوت حاصل ہوگی۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا: مجھے معلوم ہے تم میں سے ہر آدمی میرا خیر خواہ ہے، لیکن میں نے اپنے دونوں ساتھیوں حضورﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ کو ایک راستے پر چلتے ہوئے چھوڑا ہے۔ اگر میں ان دونوں کا راستہ چھوڑ دوں گا تو منزلِ مقصود میں ان سے نہیں مل سکوں گا یعنی ان والی منزل تک نہیں پہنچ سکوں گا۔1 حضرت ابو اُمامہ بن سہل بن حُنَیف ؓ فرماتے ہیں کہ ایک زمانے تک حضرت عمر ؓ نے بیت المال سے کچھ نہ لیا (اور مسلمانوں کے اجتماعی کاموں میں مشغولی کی وجہ سے تجارت میں لگنے کی فرصت بھی نہ تھی) اس وجہ سے ان پر تنگی اور فقروفاقہ کی نوبت آگئی۔ تو انھوں نے حضور ﷺ کے صحابہ کو بلایا اور ان سے مشورہ لیا کہ میں اَمرِخلافت میں بہت مشغول ہوگیا ہوں (کاروبار کی فرصت نہیں ملتی) تو میرے لیے بیت المال میں سے کتنا لینا مناسب ہے؟ حضرت عثمان بن عفّان ؓ نے کہا: آپ بیت المال میں سے خود بھی کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں۔ یہی بات حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ؓ نے کہی۔ حضرت عمر نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ حضرت علی نے کہا: آپ دوپہر اور رات کا دو وقت کا کھانا لے لیا کریں۔ چناںچہ حضرت عمر نے حضرت علی کے مشورے پر عمل کیا۔2 حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں: ہمیں یہ بتایا گیا کہ حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے: اگر میں چاہتا تو تم سب سے زیا دہ عمدہ کھانا کھاتا اور تم سب سے زیادہ نرم کپڑے پہنتا، لیکن میں اپنی نیکیوں کا بدلہ یہاں نہیں لینا چاہتا بلکہ آخرت میںلینا چاہتا ہوں۔ اور ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب حضرت عمر بن خطّاب ملکِ شام آئے تو اُن کے لیے ایسا عمدہ کھانا تیار کیا گیا کہ انھوں نے اس جیسا کھانا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ تو اسے دیکھ کر فرمایا: ہمیں تو یہ کھانا مل گیا، لیکن وہ مسلمان فقرا جن کا اس حال میں انتقال ہو ا کہ ان کو پیٹ بھر کر جَو کی روٹی بھی نہ ملتی تھی ان کو کیا ملے گا؟ اس پر حضرت عمر بن ولید نے کہا: انھیں جنت ملے گی۔ یہ سن کر حضرت عمر کی آنکھیں ڈُبڈبا آئیں اور فرمایا: اگر ہمارے حصہ میں دنیا کا یہ مال ومتاع ہے اور وہ جنت لے جائیں تو وہ ہم سے بہت آگے نکل گئے اور بڑی فضیلت حاصل کرلی۔1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: میں گھر میں اپنے دسترخوان پر کھانا کھا رہا تھا کہ اتنے میں حضرت عمر ؓ تشریف لے آئے۔ میں نے ان کے لیے صدرِ مجلس میں جگہ خالی کر دی۔ (وہ وہاں بیٹھ گئے) پھر انھوں نے بسم اللہ پڑھ کر اپنا ہاتھ بڑھایا اور ایک لقمہ لیا اور پھر دوسرا لیا، پھر فرمایا: مجھے اس سالن میں چکنائی محسوس ہو رہی ہے جو کہ گوشت کی اپنی نہیں ہے، بلکہ الگ سے ڈالی گئی ہے۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں آج بازار (دو درہم لے کر) گیا تھا، میرا خیال تھا کہ میں عمدہ اور چربی والا گوشت خریدوں گا لیکن وہ مہنگا تھا، اس لیے میں نے ایک درہم کا کمزور جانور کا گھٹیا گوشت خرید لیا اور ایک درہم کا گھی خرید کر اس میں ڈال دیا (میں نے اپنا خرچہ نہیں بڑھایا)۔ میں نے سوچا اس طرح میرے بیوی بچوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک ہڈی تو مل جائے گی۔ یہ سن کر حضرت عمر نے کہا: جب بھی حضورﷺ کے سامنے گوشت اور گھی دونوں آجاتے تو ایک کو نوش فرماتے اور دوسرے کو صدقہ کر دیتے (دونوںکو نوش نہ فرماتے۔ اس لیے میں بھی یہ سالن نہیں کھا سکتا، اس میں گوشت بھی ہے اور گھی بھی) میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! اس وقت تو آپ یہ سالن کھالیں، آیندہ جب بھی گوشت اور گھی مجھے ملے گا میں یہی کروں گا (کہ ایک کو کھالوں گا اور دوسرے کو صدقہ کر دوں گا، دونوں کو ملا کر ایک سالن نہیں بناؤں گا)۔ حضرت عمر نے کہا کہ میں اس سالن کو کھانے کے لیے بالکل تیار نہیں ہو ں۔2 حضرت ابو حازم ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ اپنی بیٹی حضرت حفصہؓ کے ہاں گئے۔ انھوں نے حضرت عمر کے سامنے ٹھنڈا شوربا اور روٹی رکھی اور شوربے پر تیل ڈال دیا۔ تو حضرت عمر نے کہا: ایک بر تن میں دوسالن (ایک شوربا اور دوسرا تیل) میں مرتے دم تک ایسے سالن کو نہیں چکھ سکتا۔3 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: میں نے زمانۂ خلافت میں حضرت عمر بن خطّاب ؓ کا یہ معمول دیکھا کہ ان کے سامنے ایک صاع (ساڑھے تین سیر) کھجور رکھی جاتی تو اس میں سے کھاتے رہتے، یہاں تک کہ اس میں جو ردی قسم کی ہوتی اسے بھی کھا لیتے۔ حضرت سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں: میں نے کئی دفعہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے ہاں رات کا کھانا کھایا۔ وہ گوشت روٹی کھاتے اور پھر اپنے ہاتھ کو اپنے پاؤں پر پھیر کر صاف کرلیتے اور فرماتے: یہ عمر اور آلِ عمر کے ہاتھ صاف کرنے کا تولیہ ہے۔1 حضرت ثابت ؓ کہتے ہیں: حضرت جارود ؓ نے حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے ہاں ایک مرتبہ کھانا کھایا۔ جب حضرت جارود کھانے سے فارغ ہوگئے تو انھوں نے کہا: اے باندی! ذرا تولیہ لے آنا۔ وہ اس سے ہاتھ صاف کرنا چاہتے تھے، توحضرت عمر نے فرمایا: اپنے سُرین سے اپنا ہاتھ صاف کرلو۔2 حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ کے پاس عراق سے کچھ لوگ آئے۔ (حضرت عمر ؓ نے ان کو کھانا کھلایا تو) حضرت عمر کو ایسا لگا کہ جیسے انھوں نے کم کھایا ہو۔ (وہ لوگ عمدہ کھانا کھانے کے عادی تھے اور حضرت عمر کا کھانا موٹا جھوٹا اور سادہ تھا) حضرت عمر نے کہا: اے عراق والو! اگر میں چاہتا تو میرے لیے بھی عمدہ اور نرم کھانے تیار کیے جاتے جیسے تمہارے لیے کیے جاتے ہیں، لیکن ہم دنیا کی چیزیں کم سے کم استعمال کرنا چاہتے ہیں، تاکہ ہمیں زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا بد لہ آخرت میں مل سکے۔ کیا تم نے سنا نہیںکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک قوم کے با رے میں یہ فرمایا ہے کہ ان سے قیا مت کے دن یہ کہہ دیا جائے گا: {اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰـتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا}3 تم اپنی لذّت کی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں حاصل کر چکے۔4 حضرت حبیب بن ابی ثابت ؓ اپنے ایک ساتھی سے روایت کرتے ہیں کہ عراق کے کچھ لوگ حضرت عمر ؓ کے پاس آئے، ان میں حضرت جریر بن عبد اللہ ؓبھی تھے۔ حضرت عمر اُن کے لیے ایک بڑا پیالہ لائے جس میں روٹی اور تیل تھا اور ان سے فرمایا: کھاؤ۔ تو انھوں نے تھوڑا سا کھایا۔ (حضر ت عمر سمجھ گئے کہ ان کو یہ سادہ کھانا پسند نہیں آیا ہے) اس پر حضرت عمر نے ان سے فرمایا: تم جو کر رہے ہو وہ میں دیکھ رہا ہوں، تم لوگ کیا چاہتے ہو؟ یہی چاہتے ہونا کہ رنگ برنگے، کھٹے میٹھے، گرم اور ٹھنڈے کھانے ہوں، اوران سب کو پیٹ میں ٹھونس دیا جائے (اور میں ایسا کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوں)۔ 1 حضرت حُمید بن ہلال ؓ کہتے ہیں: حضرت حفص بن ابی العاص ؓ کھانے کے وقت حضرت عمر ؓ کے ہاں حاضر تھے، لیکن ان کا کھانا نہ کھایا۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا: تم ہمارا کھاناکیوں نہیں کھاتے؟ انھوں نے کہا: آپ کا کھانا سخت اور موٹا جھوٹا ہے۔ (میں اسے کھا نہیں سکتا) میرے لیے عمدہ اور نرم کھانا پکایا گیا ہے میں واپس جا کر وہ کھاؤں گا۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ یہ میرے بس میں نہیں ہے کہ میں اپنے آدمیوں کو حکم دوں تو وہ بکری کے بال صاف کر کے اسے بھون لیں، اور وہ آٹے کو کپڑے میں چھان کر اس کی پتلی چپاتیاں پکا لیں، اور وہ ایک صاع کشمش ڈول میں ڈال کر اس پر پا نی ڈال دیں جس سے ہرن کے خون کی طرح سرخ مشروب تیار ہوجائے؟ حضرت حفص نے کہا: آپ کی یہ با ت سن کر تو پتہ چلا کہ آپ اچھی زندگی کے طریقوں اور کھانے پینے کی قسموں کو اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: ہاں! میں جانتا ہوں۔ لیکن اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر میں قیامت کے دن اپنی نیکیوں کے بدلہ میں کمی کو برا نہ سمجھتا تو میں بھی تمہارے ساتھ اس زندگی کے مزوں میں ضرور شریک ہوجا تا۔2 حضرت سالم بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ فرمایا کرتے تھے: اللہ کی قسم! ہمیں اس دنیا کی لذتوں کی کو ئی پروا نہیں ہے۔ ہمارے کہنے پر لذتوں کے یہ سامان تیار ہوسکتے ہیں: جو ان بکروں کے بال صاف کر کے اُن کو بھون لیا جا ئے اور میدے کی عمدہ روٹیاں پکالی جائیں اور ڈول میںکشمش کو پانی ڈال کر اتنی دیر رکھا جائے کہ چکور کی آنکھ جیسے رنگ کا صاف ستھرا مشروب تیار ہوجا ئے، اور پھر ہم ان تمام چیزوں کو کھا پی جائیں۔ ہم یہ سب کچھ کر سکتے ہیں، لیکن اس وجہ سے نہیں کر تے ہیںکہ ہم چا ہتے ہیںکہ ہما ری نیکیوں کا بدلہ آخرت میں ملے یہاں نہ ملے، کیوںکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد سن رکھا ہے: {اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا}۔ (تر جمہ گزر چکا)1 حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں: میں اہلِ بصرہ کے وفد کے ساتھ حضرت عمر بن خطّاب ؓ کی خدمت میں آیا۔ ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ (ہم نے دیکھا کہ) اُن کے لیے روزانہ ایک روٹی توڑ کر لائی جاتی ہے اور وہ اسے کبھی گھی سے، کبھی تیل سے اور کبھی دودھ سے کھا لیتے ہیں۔ کبھی دھوپ میں خشک کیے ہوئے گوشت کے ٹکڑے بھی لائے جاتے جو پانی میں اُبلے ہوئے ہوتے تھے۔ کبھی ہم نے تازہ گوشت بھی ان کے سامنے دیکھا، لیکن بہت کم۔ (وہ ہمیں یہی کھانے کھلایاکرتے تھے۔ تو) ایک دن حضرت عمر نے ہم سے فرمایا: اللہ کی قسم! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لو گ میرے کھانے کو گھٹیا سمجھتے ہو اور اچھا نہیں سمجھتے ہو۔ اللہ کی قسم! اگر میں چاہتا تو میں تم سب سے زیادہ عمدہ کھانے والا اور تم سب سے زیادہ ناز ونعمت کی زندگی والا ہوتا۔ غور سے سنو! اللہ کی قسم! میں اُونٹ کے سینے اور کوہان کے گوشت (ان دو جگہوں کا گوشت سب سے عمدہ شمار ہوتا ہے) سے بھنے ہوئے گوشت سے چپاتیوں اور رائی کی چٹنی سے ناواقف نہیں ہوں، لیکن (میں انھیں قصداً استعما ل نہیں کرتا، کیوںکہ ) میں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد سنا ہے کہ وہ ایک قوم کو اُن کے کیے ہوئے ایک غلط کام پر عار دلاتے ہوئے فرماتے ہیں: {اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِھَا}2 تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں حاصل کر چکے اور ان کو خوب برت چکے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اگر تم لو گ امیر المؤمنین سے بات کرلو کہ وہ تمہارے لیے بیت المال سے کچھ کھانا مقرر کر دیں جسے تم کھا لیا کرو تو یہ بہتر ہوگا۔ چناںچہ ان لوگوں نے حضرت عمر سے بات کی۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا تم لو گ اپنے لیے وہ کھانا پسند نہیں کرتے جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں؟ تو اُن لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! مدینہ منوّرہ ایسا شہر ہے جہا ں (ہمارے لیے) زندگی گزارنا بڑا مشکل کام ہے، اور آپ کا کھانا ایسا عمدہ اور مزیدار نہیں ہے جسے کھانے کے لیے کوئی آئے۔ ہم لوگ سرسبز وشاداب علاقے کے رہنے والے ہیں۔ ہمارے امیر ایسے ہیں کہ لوگ شوق سے ان کے پاس آتے ہیں اور ان کا کھانا ایسا عمدہ ہوتا ہے کہ خوب کھایا جاتا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر نے تھوڑی دیر اپنا سر جھکایا پھر سر اٹھا کر فرمایا: میں تم لوگوں کے لیے بیت المال سے روزانہ دو بکریاں اور دو بوریاں مقرر کر دیتا ہوں۔ صبح کو ایک بکری اور ایک بوری پکا لیا کرو پھر خود بھی کھاؤ اور اپنے ساتھیوں کو بھی کھلاؤ۔ اور پھر حلال مشروب منگا کر پہلے خود پیو پھر اپنے دائیں طرف والے کو پلاؤ پھر اس کے ساتھ والے کو، پھر اپنے کا م کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ اور ایسے ہی شام کو دوسری بکری اور دوسری بوری پکاؤ، خود بھی کھاؤ اور اپنے ساتھیوں کو بھی کھلاؤ۔ غور سے سنو! تم لوگ عام لوگوں کے گھروں میں اتنا بھیجو کہ ان کا پیٹ بھر جائے اور ان کے اہل وعیا ل کو کھلاؤ، کیوںکہ اگر تم لوگ لوگوں سے بد اخلاقی سے پیش آؤ گے تو اس سے ان لوگوں کے اخلاق اچھے نہیں ہو سکیں گے اور ان کے بھوکوں کے کھانے کا انتظام نہیں ہوسکے گا۔ اللہ کی قسم! اس سب کے باوجود میرا خیال یہ ہے کہ جس گاؤں سے روزانہ دو بکریاں اور دو بوریاں لی جائیں گی وہ جلد اُجڑ جائے گا۔1 حضرت عتبہ بن فرقد ؓ کہتے ہیں: میں کھجور اور گھی کے حلوے کے ٹوکرے لے کر حضرت عمر ؓ کی خدمت میں آیا۔ انھوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ کچھ کھانے کی چیز ہے جسے میں اس وجہ سے آپ کی خدمت میں لایا ہوں کہ آپ دن کے شروع میں لوگوں کی ضرورتوں میں لگے رہتے ہیں، تو میرا دل چاہا کہ جب آپ اس سے فارغ ہو کر گھر جایا کریں تو اس میں سے کچھ کھا لیا کریں، اس سے اِن شاء اللہ آپ کو طاقت حاصل ہوجایا کرے گی۔ اس پر حضرت عمر نے ایک ٹوکرے کو کھول کر دیکھا اور فرمایا: اے عتبہ! میں تمھیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے ہر مسلمان کو ایسا ایک ٹوکرا حلوے کا دے دیا ہے؟ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں اگر قبیلہ قیس کا سارا مال بھی خرچ کر دوں تو بھی یہ نہیں ہو سکتا (کہ ہر مسلمان کو حلوے کا ایک ٹوکرا دے دوں)۔ حضرت عمر نے کہا: پھر تومجھے تمہارے اس حلوے کی ضرورت نہیں۔ پھر انھوں نے ایک بڑا پیالہ منگوایا جس میں سخت روٹی اور سخت گوشت کے ٹکڑوں سے بنا ہوا ثرید تھا۔ (ہم دونوں اس میں سے کھانے لگے) حضرت عمر میرے ساتھ اسے بڑی رغبت سے کھا رہے تھے۔ میں کوہان کی چربی سمجھ کر ایک سفید ٹکڑے کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو اسے اٹھانے کے بعد پتہ چلتا کہ یہ تو پٹھے کا ٹکڑا ہے۔ اور میں گوشت کے ٹکڑے کو چباتا رہتا، لیکن وہ اتنا سخت ہوتا کہ میں اسے نگل نہ سکتا۔ آخر جب حضرت عمر کی توجہ اِدھر اُدھر ہوجاتی تو میں گوشت کے اس ٹکڑے کو منہ سے نکال کر پیالے اور دسترخوان کے درمیان چھپا دیتا۔ پھر حضرت عمر نے نبیذ (کھجور یا کشمش کا شربت) ایک بڑے پیالے میں منگایاجو سرکہ بننے والا تھا (اور خوش ذائقہ نہیں تھا)۔ انھوں نے مجھ سے فرمایا: پی لو۔ میں اسے لے کر پینے لگا، لیکن حلق سے نیچے بڑی مشکل سے اتارا۔ پھر انھوں نے وہ پیا لہ مجھ سے لیا اور اسے پی گئے۔ پھر فرمایا: اے عتبہ! سنو! ہم روزانہ ایک اُونٹ ذبح کرتے ہیں اور اس کی چربی اور عمدہ گوشت باہر سے آنے والے مسلمانوں کو کھلا دیتے ہیں۔ اس کی گردن آلِ عمر کو ملتی ہے، وہ یہ سخت گوشت کھاتے ہیں اور یہ باسی نبیذ اس لیے پیتے ہیں تاکہ یہ نبیذ پیٹ میں جا کر اس گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہضم کر دے اور یہ سخت گوشت ہمیں تکلیف نہ دے سکے۔1 حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ ایک آدمی کے گھر تشریف لے گئے۔ آپ کو پیاس لگی ہوئی تھی، آپ نے اس آدمی سے پا نی مانگا وہ شہد لے آیا۔ حضرت عمر نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: شہد ہے۔ انھوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! (شہد پینا انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے نہیں ہے بلکہ یہ تو مزے لینے کی چیز ہے، اس لیے) شہد ان چیزوں میں سے نہیں ہوگا جن کا مجھ سے قیامت کے دن حساب لیا جائے گا ۔2 حضرت زید بن اسلم ؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے پینے کا پانی مانگا۔ ایک صاحب پانی میں شہد ملا کر لے آئے توحضرت عمر نے فرمایا: یہ ہے تو بڑا مزیدار، لیکن میں سن رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کی یہ برائی بتا رہے ہیںکہ وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں لگ گئے۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں: {اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِھَا}۔ چناںچہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہما ری نیکیوں کا بدلہ ہمیں دنیا ہی میں دے دیا جائے اور اس پانی کو نہ پیا۔1 حضرت عروہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطا ب ؓ اَیْلَہ شہر تشریف لے گئے اور ان کے ساتھ مہاجرین واَنصا ر بھی تھے۔ حضرت عمر مدینہ سے کافی لمبا سفر کر کے آئے تھے اس لیے مسلسل بیٹھنے کی وجہ سے ان کا کھردرے کپڑے والا کُرتا پیچھے سے پھٹ گیا تھا۔ حضرت عمر نے وہ کُرتا پادری کو دیا اور فرمایا: اسے دھو بھی دو اور اس میں پیوند بھی لگا دو۔ وہ پادری کُرتالے گیا اور اسے دھو کر اس میں پیوند بھی لگا دیا اور اس جیسا ایک اور کُرتا سی کرحضر ت عمر کی خدمت میں لے آیا۔ حضرت عمر نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس پادری نے کہا: یہ آپ کا کُرتا ہے جسے میں نے دھو کر پیوند لگا دیا ہے اور یہ دوسرا کُرتا میری طرف سے آپ کی خدمت میں ہدیہ ہے۔ حضرت عمر نے اس نئے کُرتے کو دیکھا اور اس پر ہاتھ پھیرا (وہ نرم اور باریک تھا) پھر اپنا کُرتا پہن لیا اور اس کا واپس کر دیا اور فرمایا: یہ (پرانا) کُرتا اس سے زیادہ پسینہ جذب کرتا ہے (کیوںکہ یہ موٹا ہے)۔2 حضرت قتا دہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ زمانۂ خلافت میں ایسا اُونی جبّہ پہنتے تھے جس میں چمڑے کے پیوند بھی لگے ہوتے تھے، اور کندھے پر کو ڑا رکھ کر لوگوں کو ادب اور سلیقہ سکھانے کے لیے بازاروں میں چکر لگایا کرتے تھے، اور گرے پڑے ٹوٹے ہوئے دھاگے اور رسیاں اور گٹھلیاں زمین سے ا ٹھا کر لوگوں کے گھروں میں ڈال دیتے تا کہ لوگ انھیں اپنے کام میں لے آئیں۔3 حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطا ب ؓ اپنے زما نۂ خلافت میں لوگوں میں بیان کر رہے تھے اور انھوں نے ایک لنگی باندھ رکھی تھی جس میں با رہ پیوند تھے۔1 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: میں نے ایک مرتبہ زمانۂ خلافت میں حضرت عمر ؓ کو دیکھا کہ انھوں نے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان اوپر نیچے تین پیوند لگا رکھے تھے۔2 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لیے گزارے کے قابل خوراک لیا کرتے تھے۔ گرمیوں میں ایک جوڑا پہنتے۔ بعض دفعہ ان کی لنگی پھٹ جاتی تو اسے پیوند لگا لیتے، لیکن (نیا جوڑا لینے کے) وقت آنے سے پہلے اس کی جگہ بیت المال سے اور لنگی نہ لیتے، اسی سے کا م چلا تے رہتے۔ اور جس سال مال زیادہ آتا اس سال ان کا جوڑا پچھلے سال سے اور گھٹیا ہو جاتا۔ حضرت حفصہ ؓ نے ان سے اس بارے میں بات کی تو فرمایا: میں مسلمانوں کے مال میں سے پہننے کے جوڑے لیتا ہوں اور یہ میری ضرورت کے لیے کافی ہیں۔3 حضرت محمد بن ابراہیم ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ روزانہ بیت المال سے اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لیے دو درہم خرچہ لیا کرتے تھے۔4