صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
حضورﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع ؓ کا مال واپس کرنا
نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: اے ابو رافع! تمہارا اس وقت کیا حا ل ہوگا جب تم فقیر ہوجاؤ گے؟ میں نے کہا: تو میںابھی صدقہ کر کے اپنی آخرت کے لیے آگے نہ بھیج دوں؟ (بعد میں تو فقیر ہوجاؤں گا صدقہ کرنے کے لیے کچھ پاس نہ ہوگا) حضورﷺ نے فرمایا: ضرور، لیکن آج کل تمہارے پاس کتنا مال ہے؟ میں نے کہا: چالیس ہزار، اور وہ میں سارے اللہ کے لیے صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: سارے نہیں، کچھ صدقہ کردو، کچھ اپنے پاس رکھ لو اور اپنی اولاد کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ان کا بھی ہم پر اسی طرح حق ہے جس طرح ہمارا ان پر ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں! والد پر بچے کا حق یہ ہے کہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن مجید سکھائے، اور تیر اندازی اور تیراکی بھی سکھائے، اور جب دنیا سے جائے تو ان کے لیے حلال اور پاکیزہ مال چھوڑ کر جائے۔ میں نے پوچھا: میں کس زمانے میں فقیر ہوجاؤں گا؟ حضورﷺ نے فرمایا: میرے بعد۔
ابو سُلَیم راوی کہتے ہیں: میں نے انھیں دیکھا کہ وہ حضورﷺ کے بعد اتنے فقیر ہوگئے تھے کہ وہ بیٹھے ہو ئے کہا کرتے تھے: کوئی ہے جو نابینا بوڑھے پر صدقہ کرے؟ کوئی ہے جو اُس آدمی پر صدقہ کرے جسے حضورﷺ نے بتایا تھا کہ وہ ان کے بعد فقیر ہوجائے گا؟ کوئی ہے جو صدقہ کرے؟ کیوںکہ اللہ کا ہاتھ سب سے اوپر ہے اور دینے والے کا ہاتھ درمیان میں ہے اور لینے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہے۔ اور جو مال دار ہوتے ہوئے بغیر ضرورت کے سوال کرے گا تو اس کے جسم پر ایک بد نما داغ ہوگا جس سے وہ قیامت کے دن پہچانا جائے گا۔ اور مال دار کو اور طاقت ور انسان کو جس کے جسم کے اعضا ٹھیک ہوں صدقہ لینا جائز نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ ایک آدمی نے ان کو چار درہم دیے تو انھوں نے ان میں سے ایک درہم اسے واپس کر دیا۔ تو اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے بندے! میرا صدقہ واپس نہ کرو۔ انھوں نے فرمایا: میں نے اس لیے ایک درہم واپس کیا ہے کہ حضورﷺ نے مجھے ضرورت سے زیادہ مال رکھنے سے منع فرمایا ہے (اور مجھے ضرورت تین کی ہے)۔
ابو سُلَیم راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ وہ بعد میں اتنے مال دار ہوگئے تھے کہ عُشر وصول کرنے والا ان کے پاس بھی آیا کرتا تھا، لیکن وہ فرمایا کرتے: کاش! ابو رافع فقیری کی حالت میں مرجاتا (دوبارہ مال دار نہ بنتا)۔ اور غلام کو جتنے میں خریدتے اتنے پر ہی اسے مکاتب بنا دیتے۔ (غلام کو مکاتب بنانے کی صورت یہ ہے کہ مالک اپنے غلام سے یوں کہے کہ تم مجھے اتنامال کما کر لادو تو تم آزاد ہو جاؤ گے)1