صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت ابوذر غِفاری ؓ کا مال واپس کرنا

ضرت ابو ذر غِفاری ؓ کے بھتیجے حضرت عبد اللہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں: میں اپنے چچا (حضرت ابو ذر ؓ) کے ساتھ حضرت عثمان ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میرے چچا نے حضرت عثمان سے کہا: مجھے ربذہ بستی میں رہنے کی اجازت دے دیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا: ٹھیک ہے اجازت ہے۔ اور ہم آپ کے لیے صدقہ کے کچھ اُونٹ مقرر کر دیتے ہیں جو صبح شام آپ کے پاس آجایا کریں گے (آپ ان کا دودھ استعمال کر لیا کر یں)۔ میرے چچا نے کہا: مجھے ان کی ضرورت نہیں۔ ابو ذر کو اس کے اُونٹوں کا چھوٹا سا گلہ ہی کافی ہے۔ پھر کھڑے ہوگئے اور یہ کہا: تم اپنی دنیا میں خوب لگے رہو، اور ہمیںاپنے ربّ اور دین کے لیے چھوڑ دو۔ اس وقت یہ لوگ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کی میراث تقسیم کر رہے تھے اور حضرت عثمان کے پاس حضرت کعب ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عثمان نے حضرت کعب سے پوچھا کہ آپ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس نے اتنا مال جمع کیا؟ یہ (عبد الرحمن بن عوف ؓ) اس میں سے زکوٰۃ بھی دیا کرتے تھے اور نیکی کے تمام کاموں میں بھی خرچ کیا کرتے تھے۔ حضرت کعب نے کہا: مجھے تو اس آدمی کے بارے میں خیر ہی کی اُمید ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت ابو ذر کو غصہ آگیا اور انھوں نے حضرت کعب پر لاٹھی اٹھا کر کہا: او یہودی عورت کے بیٹے! تجھے کیا خبر؟ اس مال والا قیامت کے دن اس بات کی ضرور تمنا کرے گا کہ کاش! دنیا میں بچّھو اس کے دل کے نازک ترین حصہ کو ڈنک مار لیتے (اور وہ اتنا مال پیچھے چھوڑ کر نہ مرتا بلکہ سارا مال صدقہ کر دیتا)۔1 حضرت ابو شعبہ ؓکہتے ہیں: ایک آدمی حضرت ابو ذرؓ کے پاس آیا اور انھیں کچھ خرچہ دینا چاہا۔ حضرت ابو ذر نے فرمایا: ہما رے پاس کچھ بکریاں ہیں جن کا دودھ نکال کر ہم استعمال کرلیتے ہیں، اور سواری اور مال برداری کے لیے کچھ گدھے ہیں، اور ایک آزاد کردہ باندی ہے جو ہماری خدمت کرتی ہے، اور کپڑوں میں ضرورت سے زائد ایک چوغہ بھی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ ضرورت سے زائد رکھنے پر کہیں مجھ سے اس کا حساب نہ لیا جائے۔2 شام کے گورنر حضرت خُبَیب بن مسلمہ ؓ نے حضرت ابو ذر ؓ کی خدمت میںتین سو دینار بھیجے اور یوں کہا کہ انھیں اپنی ضرورت میں خرچ کرلیں۔ حضرت ابو ذر نے لانے والے سے کہا: یہ ان ہی کے پاس واپس لے جاؤ۔ کیا انھیں ہمارے علاوہ کوئی اور نہ ملاجو اللہ کے بارے میں ہم سے زیادہ دھوکہ میں پڑا ہوا ہو؟ (جو اللہ کے حکموں کو چھوڑ کر اس کے عذاب سے بے خوف ہو کر اس کی نافرمانیوں میں لگا ہو ا ہو؟ حضرت ابو ذر ضرورت سے زیادہ مال رکھنے کو غلط سمجھتے تھے) ہمارے پاس سایہ میں بیٹھنے کے لیے ایک مکان ہے اور بکریوں کا ایک ریوڑ ہے جو شام کو آجاتا ہے اور ایک آزاد کردہ باندی ہے جو مفت میں ہماری خدمت کر دیتی ہے۔ بس یہی چیزیں ہمارے پاس ہیں اور کچھ نہیں ہیں، لیکن پھر بھی مجھے ضرورت سے زائد رکھنے کا ڈر لگا رہتا ہے۔1 حضرت محمد بن سیرین ؓکہتے ہیں: حضرت حارث قریشی جو کہ شام میں رہا کرتے تھے ان کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت ابو ذرؓ بڑی تنگ دستی میںہیں، تو انھوں نے حضرت ابو ذر کی خدمت میں تین سو دینار بھیج دیے۔ حضرت ابو ذر نے فرمایا: اسے کوئی ایسا اللہ کا بندہ نہیں ملا جو اس کے نزدیک مجھ سے زیادہ بے قیمت ہوتا۔ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کے پاس چالیس درہم ہیں اور پھر وہ مانگے تو وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال کرنے والا ہے۔ (اور اس سے اللہ ورسول ﷺ نے منع فرمایا ہے) اور ابو ذر کے پاس چالیس درہم اور چالیس بکریاں اور دو خادم ہیں۔2