صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

جوڑے پہنانا اور ان کی تقسیم

حضرت حِبّان بن جزی سُلُمی اپنے والد حضرت جزی سُلمی ؓ سے نقل کرتے ہیںکہ وہ اس (صحابی) قیدی کو لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ( جسے ان کی قوم نے قید کر رکھا تھا)۔ حضرت جزی وہاں حضور ﷺ کے ہاں مسلمان ہوگئے تو حضور ﷺ نے ان کو دوچادریں پہنانے کا ارادہ فرمایا تو ان سے فرمایا کہ تم عائشہ کے پاس جائو، جو چادریں ان کے پاس ہیں ان میں سے وہ تم کو دو چادریں دے دیں گی۔ چناںچہ انھوں نے حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ کو سرسبز وشاداب رکھے! آپ کے پاس جو چادریں ہیں ان میں سے دوچادریں پسند کر کے مجھے دے دیں، کیوںکہ حضور ﷺ نے ان میں سے دوچادریں مجھے دینے کا حکم فرمایا ہے۔ حضرت عائشہ نے پیلو کی لمبی مسواک بڑھاتے ہوئے فرمایا: یہ اور یہ لے لو۔ اور عرب عورتیں نظر نہیں آتی تھیں (کیوں کہ وہ پردہ کرتی تھیں اور اسی وجہ سے حضرت عائشہ نے مسواک سے اشارہ کیا)۔1 حضرت جعفر بن محمد اپنے والد حضرت محمد ؓ سے نقل کرتے ہیںکہ حضرت عمر ؓ کے پاس یمن سے جوڑے آئے جو انھوں نے لوگوں کو پہنا دیے۔ شام کو لوگ وہ جوڑے پہن کر آئے، اس وقت حضرت عمر قبر اطہراور منبر شریف کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ ان کے پاس آکر ان کو سلام کرتے اور ان کو دعائیں دیتے۔ اتنے میں حضرت حسن اورحضرت حسین ؓ اپنی والدہ حضرت فاطمہ ؓ کے گھر سے نکلے اور لوگوں کو پھلانگتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اور ان کے جسم پر ان جوڑوں میں سے کوئی جوڑا نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر آپ غمگین اور پریشان ہوگئے اور آپ کی پیشانی پر بَل پڑگئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! تم لوگوں کو جوڑے پہناکر مجھے خوشی نہیں ہوئی (کیوںکہ حضور ﷺ کے نواسوں کو تو پہنا نہیں سکا)۔ لوگوں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ نے اپنی رعایا کو جوڑے پہنا کر اچھا کیا ہے۔ حضرت عمر نے کہا: میں اس وجہ سے پریشان ہوں کہ یہ دولڑکے لوگوں کو پھلانگتے ہوئے آرہے تھے اور ان کے جسم پر ان جوڑوں میں سے کوئی جوڑا نہیں ہے۔ یہ جوڑے ان دونوں سے بڑے ہیں اور یہ دونوں ان جوڑوں سے چھوٹے ہیں (اس وجہ سے ان کو جوڑے نہیں دیے)۔ پھر انھوں نے یمن کے گورنر کو خط لکھا کہ حضرت حسن اور حضرت حسین کے لیے جلدی سے دوجوڑے بھیجو۔ چناںچہ انھوں نے دوجوڑے بھیجے جو حضرت عمر نے ان دونوں حضرات کو پہنا دیے۔1 اور اَنصارکے اکرام کے باب میں لوگوں میں جوڑے تقسیم کرنے کے بارے میں حضرت عمر ؓ کے ساتھ حضرت اُسید بن حضیر اور حضرت محمد بن مَسْلَمہؓ کا قصہ گزر چکا ہے۔ اور عورتوں کے جنگ کرنے کے باب میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ حضرت عمر نے حضرت اُمّ عُمَارہ ؓ کو اس لیے ایک بڑی چادر دی تھی کہ انھوں نے جنگِ اُحُدکے دن جنگ کی تھی۔ حضرت محمد بن سلام ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حضرت شفاء بنتِ عبد اللہ عدویہ ؓ کو پیغام بھیجا کہ صبح کے وقت میرے پاس آنا۔ وہ فرماتی ہیں: میں صبح کے وقت حضرت عمر کے ہاں گئی تو مجھے ان کے دروازے پر حضرت عاتکہ بنتِ اسید بن ابی العیص ؓ ملیں۔ پھر ہم دونوں اندر گئیں۔ وہاں ہم نے کچھ دیر بات کی۔ پھر حضرت عمر نے ایک چادر منگوا کر حضرت عاتکہ کو دی۔ پھر ایک اور چادر منگوائی جو پہلی سے کم درجہ کی تھی وہ مجھے دی۔ میں نے کہا: اے عمر! میںان سے پہلے اسلام لائی ہوں، اور میں آپ کی چچازاد بہن ہوں اور یہ نہیں ہیں، اور آپ نے مجھے پیغام بھیج کر بلایا ہے اور یہ خود آئی ہیں (ان تمام باتوں کی وجہ سے بَڑھیا چادر مجھے ملنی چاہیے)۔ حضرت عمر نے فرمایا: میں نے یہ چادر تمہارے لیے ہی اٹھا رکھی تھی، لیکن جب تم دونوں اکٹھی ہوئیں تو مجھے یہ یاد آیا کہ ان کی حضور ﷺ سے رشتہ داری تم سے زیادہ قریب کی ہے (اور حضور ﷺ کی رشتہ داری میری رشتہ داری سے زیادہ درجہ رکھتی ہے اس لیے میں نے انھیں بَڑھیا چادر دی)۔2 حضرت اَصْبَغ بن نُباتہ ؓ کہتے ہیں: ایک شخص نے حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے امیر المؤمنین! مجھے آپ سے ایک کام ہے جسے میں آپ کے سامنے پیش کرنے سے پہلے اللہ کے سامنے پیش کرچکا ہوں۔ اگر آپ میرا وہ کام کر دیں گے تو میں اللہ کی بھی تعریف کروں گا اور آپ کا بھی شکریہ ادا کروں گا، اور اگر آپ نے وہ کام نہ کیا تو بھی میں اللہ کی تعریف کروں گا اور آپ کو معذور سمجھوں گا کہ یہ کام آپ کے بس میں نہیں ہے۔ حضرت علی نے فرمایا: تم اپنا کام زمین پر لکھ کر مجھے بتا دو، کیوںکہ زبان سے مانگنے کی ذلّت میں تمہارے چہرے پر دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ چناںچہ اس نے زمین پر لکھا کہ میں ضرورت مند ہوں۔ حضرت علی نے فرمایا: ایک جوڑا میرے پاس لائو۔ چناںچہ وہ جوڑا حضرت علی نے اس آدمی کو دے دیا۔ اس آدمی نے لے کر وہ جوڑا پہن لیا، پھر وہ حضرت علی ؓ کی تعریف میں یہ اشعار پڑھنے لگا: کَسَوْتَنِيْ حُلَّۃً تَبْلٰی مَحَاسِنُھَا فَسَوْفَ أَکْسُوْکَ مِنْ حُسْنِ الثَّـنَاء حُلَلًا آپ نے تو مجھے ایک ایسا جوڑا پہنایا ہے جس کی خوبیاں پرانی ہو کر ختم ہوجائیں گی اور میں آپ کو عمدہ تعریف کے (ایسے) جوڑے پہنائوں گا (جن کی خوبیاں ختم نہ ہوںگی)۔ إِنْ نِّلْتَ حُسْنَ ثَنَائِيْ نِلْتَ مَکْرُمَۃً وَلَسْتَ تَبْغِيْ بِمَا قَدْ قُلْتُہٗ بَدَلًا آپ کو میری عمدہ تعریف سے بڑی عزّت حاصل ہوگی۔ اور میں نے جو کچھ کہا ہے آپ اس کے بدلہ میں کچھ نہیں چاہتے ہیں۔ إِنَّ الثَّنَائَ لَیُحْیِيْ ذِکْرَ صَاحِبِہٖ کَالْغَیْثِ یُحْیِيْ نَدَاہُ السَّھْلَ وَالْجَبَلَا تعریف، تعریف والے کے تذکرے کو اس طرح زندہ رکھتی ہے جس طرح بارش کی تری میدانی اور پہاڑی علاقوں کو زندہ کرتی ہے۔ لَا تَزْھَدِ الدَّھْرَ فِيْ خَیْرٍ تُوَفَّقُہٗ فَکُلُّ عَبْدٍ سَیُجْزٰی بِالَّذِيْ عَمِلَا جس خیر کے کام کی اللہ تمہیں توفیق دے تم زندگی بھر اسے کرتے رہو اور بے رغبتی سے اسے مت چھوڑو، کیوںکہ ہر بندے کو اپنے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ (یہ اشعار سن کر) حضرت علی نے فرمایا: میرے پاس دینار لائو۔ چناںچہ آپ کے پاس سو اشرفیاں لائی گئیں۔ آپ نے وہ اشرفیاں اس آدمی کو دے دیں۔ حضرت اصبغ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ اسے ایک جوڑا اور سو دینار دے رہے ہیں؟ حضرت علی نے فرمایا: ہاں! میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں کے ساتھ ان کے درجے کے مطابق معاملہ کرو اور اس آدمی کا میرے نزدیک یہی درجہ ہے۔1 حضرت ابنِ عباس ؓ کے پاس ایک سائل آیا (اور اس نے کچھ مانگا)۔ حضرت ابنِ عباس نے اس سے کہا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ حضرت ابنِ عباس نے پوچھا: رمضان کے روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ حضرت ابنِ عباس نے کہا: تم نے مانگا ہے اور مانگنے والے کا حق ہوتا ہے، اور یہ ہم پر حق ہے کہ ہم تمہارے ساتھ احسان کریں۔ پھر حضرت ابنِ عباس نے اسے ایک کپڑا دیا اور فرمایا: میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان بھی کسی مسلمان کو کپڑا پہناتا ہے تو جب تک اس کے جسم پر اس کپڑے کا ایک ٹکڑا رہے گا اس وقت تک وہ پہنانے والا اللہ کی حفاظت میں رہے گا۔2