صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

کھانا تقسیم کرنا

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: (دُومۃ الجندل مقام کے بادشاہ) اُکَیْدِر نے حلوے کا بھرا ہوا ایک گھڑا حضور ﷺ کی خدمت میں ہدیہ بھیجا۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ لوگوں کے پاس سے گزرے اور آپ ان میں سے ہر ایک کو حلوے کا ٹکڑا دیتے جا رہے تھے۔ چناںچہ حضرت جابر ؓ کو بھی ایک ٹکڑا دیا۔ پھر ان کے پاس واپس آکر ان کو ایک اور ٹکڑا دیا۔ حضرت جابر نے عرض کیا: آپ مجھے ایک دفعہ تو دے چکے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ دوسرا ٹکڑا حضرت عبد اللہ کی بیٹیوں یعنی تمہاری بہنوں کے لیے دیا ہے۔1 حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں: دُومۃ الجندل کے بادشاہ اُکَیْدِر نے حضور ﷺ کی خدمت میں حلوے کا ایک گھڑا ہدیہ میں بھیجا جسے تم نے دیکھا تھا۔ اور اللہ کی قسم! اس دن خود حضور ﷺ کو اور آپ کے گھروالوں کو اس گھڑے کی ضرورت تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ نے ایک آدمی سے فرمایا: تو وہ اس گھڑے کو لے کر حضور ﷺ کے صحابہ کے پاس گیا۔ وہ جس آدمی کے پاس پہنچتا وہ گھڑے میں ہاتھ ڈال کر اس میں سے حلوہ نکال لیتا اور پھر اسے کھالیتا۔ چناںچہ وہ حضرت خالد بن ولید ؓ کے پاس پہنچا تو انھوں نے ہاتھ ڈالا (اور اس میں سے دو مرتبہ لیا) اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اور لوگوں نے تو ایک مرتبہ لیا ہے اور میں نے دومرتبہ لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: (کوئی بات نہیں) تم خود بھی کھالو اور اپنے اہل وعیال کو بھی کھلائو۔2 حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: ایک دن حضور ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ میں کھجوریں تقسیم فرمائیں اور ہر ایک کو سات سات کھجوریں دیں۔ اور مجھے بھی آپ نے سات کھجوریں دیں جن میں ایک بغیر گٹھلی والی گھٹیا کھجور بھی تھی جو مجھے ان تمام کھجوروں سے زیادہ اچھی لگی، کیوںکہ وہ سخت تھی اس لیے اس کے چبانے میں دیر لگی اور میں اسے کافی دیر تک چباتا رہا۔3 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ کی خدمت میں کچھ کھجوریں لائی گئیں۔ آپ انھیں صحابہ میں تقسیم فرمانے لگے۔ اور آپ اس طرح بیٹھ کر وہ کھجوریں جلدی جلدی کھا رہے تھے جیسے کہ ابھی اٹھنے والے ہوں۔ (کسی ضروری کام سے کہیں جاناہوگا اس لیے اطمینان سے بیٹھ کر نہ کھائیں) 4 حضرت لیث بن سعد ؓکہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے زمانۂ خلافت میں رَمادہ والے سال میںمدینہ منوّرہ میں لوگوں کو شدید قحط سالی کی وجہ سے بڑی مشقت اُٹھانی پڑی۔ چناںچہ انھوں نے مصر حضرت عمرو بن عاص ؓکو یہ خط لکھا: اللہ کے بندے عمر امیرالمؤمنین کی طرف سے نافرمان کی طرف جو عاص کے بیٹے ہیں۔سلام ہو۔ اَما بعد! اے عمرو! میری جان کی قسم! جب تم خود اور تمہارے ساتھی سیر ہو کر کھا رہے ہوں تو پھر تمہیں اس کی کیا پروا کہ میں اور میرے ساتھی ہلاک ہو رہے ہیں۔ ہماری مدد کرو! ہماری مدد کرو! (چوںکہ حضرت عمر ؓ کا لہجہ تنبیہ اور عتاب کا ہے، اس لیے حضرت عمرو ؓ کو نافرمان سے خطاب کیا۔ اور اپنی جان کی قسم کھانے کا اہلِ عرب میں عام رواج تھا، لیکن اس سے قسم مراد نہیں ہوتی تھی بلکہ تاکید مقصد ہوتی تھی) حضرت عمراپنے آخری جملے کو بار بار دہراتے رہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ نے جواب میں یہ مضمون لکھا: اللہ کے بندے عمر امیرالمؤمنین کی خدمت میں عمرو بن عاص کی طرف سے۔ اَما بعد! میں مدد کے لیے حاضر ہوں! میں مدد کے لیے حاضر ہوں! میں آپ کی خدمت میں غلّہ کا اتنا بڑا قافلہ بھیج رہا ہوں جس کا پہلا اونٹ آپ کے پاس مدینہ میں ہوگا اور اس کا آخری اونٹ میرے پاس مصر میں ہوگا۔ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔ چناںچہ حضرت عمرو نے بہت بڑا قافلہ بھیجا جس کا پہلا اُونٹ مدینہ میں تھا اور آخری مصر میں، اور اونٹ کے پیچھے اُونٹ چل رہا تھا۔ جب یہ قافلہ حضرت عمر کے پاس پہنچا تو آپ نے خوب دل کھول کر لوگوں میں تقسیم کیا اور یہ طے کیا کہ مدینہ منوّرہ اور اس کے آس پاس کے ہر گھر میں ایک اُونٹ مع اس پر لدے ہوئے سارے غلہ کے دیا جائے۔ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت زُبیر بن عوّام اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓکو لوگوں میں سامان تقسیم کرنے کے لیے بھیجا۔ چناںچہ ان حضرات نے ہر گھر میں ایک اونٹ مع اس پر لدے ہوئے غلہ کے دیا تاکہ وہ غلہ بھی استعمال کریں اور اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت کھائیں اور اس کی چربی کا سالن بنالیں اور اس کی کھال سے جوتے بنالیں اور جس بوری میں غلہ ہے اسے اپنی ضرورت میں لحاف وغیرہ بنا کر استعمال کرلیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو خوب وسعت عطا فرمائی۔ اس کے بعد راوی نے مزید لمبی حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ مضمون ہے کہ مدینہ منوّرہ اور مکہ مکرّمہ تک غلہ پہنچانے کے لیے دریائے نیل سے بحرِقلزم تک ایک نہر کھودی گئی۔1 حضرت اسلم ؓ اسی واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے رَمادہ والے (قحط کے) سال میں حضرت عمرو بن عاص ؓکو خط لکھا۔ پھر اس قصہ کو بیان کرنے کے بعد حضرت اسلم کہتے ہیں: جب اس قافلہ کا پہلا حصہ مدینہ منوّرہ پہنچا تو حضرت زبیر ؓ کو بلا کر فرمایا: یہ اُونٹ لے کر تم نجد چلے جائو اور وہاں کے رہنے والوں میں سے جتنوں کو تم میرے پاس سواری پر لاسکو، ان کو میرے پاس لے آئو۔ اور جن کو نہ لاسکو ان میں ہر گھر کو ایک اُونٹ مع اس پر لدے ہوئے غلہ کے دے دو۔ اور ان سے کہہ دوکہ دو چادریں توپہن لیں، اور اُونٹ کو ذبح کرکے اس کی چربی کو پگھلا کر تیل بنالیں، اور گوشت کو کاٹ کر خشک کرلیں، اور اس کی کھال سے جوتی بنالیں۔ اور پھر کچھ گوشت، کچھ چربی اور مٹھی بھر آٹا لے کر اسے پکالیں اور اسے کھالیں۔ اس طرح گزارہ کرتے رہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے مزید روزی کا انتظام فرما دیں۔ لیکن حضرت زُبیر نے اس کام کے لیے جانے سے معذرت کر دی۔ حضرت عمر نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم کو پھر موت تک اتنے بڑے ثواب والے کام کا موقع نہیں مل سکے گا۔ پھر حضرت عمر نے ایک اور آدمی غالباً حضرت طلحہ ؓ کو بلایا لیکن انھوں نے بھی جانے سے انکار کر دیا۔ پھر حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح ؓ کو بلایا (وہ جانے کے لیے تیار ہوگئے) اور چلے گئے۔ آگے انھوں نے حدیث ذکر کی جس میں یہ ہے کہ حضرت عمر نے حضرت ابو عبیدہ کو ہزار دینار دیے جو انھوں نے واپس کر دیے، لیکن حضرت عمر ؓ کے کچھ کہنے پر آخر حضرت ابوعبیدہ ؓ نے قبول کر لیے۔2 حضراتِ انصار کے اکرام اور خدمت کے باب میں یہ گزر چکا ہے کہ حضور ﷺ نے انصار میں اور بنو ظفر میں غلّہ تقسیم فرمایا۔