صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت اَشْعَث بن قیس کِنْدی ؓ کا کھانا کھلانا

حضرت قیس بن ابی حازم ؓ کہتے ہیں: جب حضرت اشعث ؓ (حضور ﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور بعد میں پھر مسلمان ہوگئے تھے اور ان) کو قید کر کے حضرت ابوبکر ؓ کے پاس لایا گیا تو انھوں نے ان کی بیڑیاں کھول دیں (اور انھیں اسلام لے آنے کی وجہ سے آزاد کر دیا) اور اپنی بہن سے ان کی شادی کر دی۔ یہ اپنی تلوار سونت کر اونٹوں کے بازار میں داخل ہوگئے اور جس اونٹ یا اونٹنی پر نظر پڑتی اس کی کونچیں کاٹ ڈالتے۔ لوگوں نے شور مچا دیا کہ اشعث تو کافر ہوگیا۔ جب یہ فارغ ہوئے تو اپنی تلوار پھینک کر فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے کفر اختیار نہیں کیا، لیکن اس شخص نے یعنی حضرت ابوبکرنے اپنی بہن سے میری شادی کی ہے۔ اگر ہم اپنے علاقہ میں ہوتے تو ہمارا ولیمہ کچھ اور طرح کا ہوتا یعنی بہت اچھا ہوتا۔ اے مدینہ والو! تم ان تمام اونٹوں کو ذبح کر کے کھا لو۔ اور اے اونٹوں والو! آئو اور اپنے اونٹوں کی قیمت لے لو۔1