صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا مال خرچ کرنا

حضرت نافع ؓکہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیمار ہوگئے۔ ان کے لیے ایک درہم میں انگور کا ایک خوشہ خریدا گیا۔ (جب وہ خوشہ اُن کے سامنے رکھا گیا تو) اس وقت ایک مسکین نے آکر سوال کیا۔ انھوں نے کہا: یہ خوشہ اسے دے دو۔ (گھر والوں نے وہ خوشہ اس مسکین کو دے دیا، وہ لے کر چل دیا) گھر کے ایک آدمی نے جا کر اس مسکین سے وہ خوشہ ایک درہم میں خرید لیا (کیوںکہ بازار میں اس وقت انگور نایاب تھا اس لیے اس سے خریدا) اور حضرت ابنِ عمر کی خدمت میں پیش کر دیا۔ اس مسکین نے آکر پھر سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: یہ اسے دے دو۔ (گھر والوں نے اسے دے دیا وہ لے کر چل دیا) گھر کے ایک آدمی نے جاکر اس مسکین سے وہ خوشہ پھر ایک درہم میں خرید لیا اور لاکر پھر حضرت ابنِ عمر کی خدمت میں پیش کر دیا۔ اس مسکین نے آکر پھر سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: یہ اسے دے دو۔ (گھر والوں نے اسے دے دیا، وہ لے کر چل دیا) پھر گھر کے ایک آدمی نے جاکر اس مسکین سے وہ خوشہ پھر ایک درہم میں خرید لیا (اور لاکر ان کی خدمت میں پیش کر دیا)۔ اس مسکین نے پھر واپس آکر مانگنے کا ارادہ کیا تو گھر والوں نے اسے روک دیا، لیکن اگر حضرت ابنِ عمر کو معلوم ہوجاتا کہ یہ خوشہ اس مسکین سے خریدا گیا ہے اور اسے سوال کرنے سے بھی روکا گیا ہے تو وہ اسے بالکل نہ چکھتے۔1 ابو نعیم نے ہی یہ قصہ ایک اور سند سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابنِ عمر ؓ ایک مرتبہ بیمار ہوئے۔ ان کا انگور کھانے کو دل چاہا، میں نے ان کے لیے انگور کا ایک خوشہ ایک درہم میں خریدا اور لاکر وہ خوشہ ان کے ہاتھ میں دے دیا۔ آگے حدیث کا مضمون پچھلی حدیث کی طرح ہے اور اس کے آخر میں یہ ہے کہ وہ سائل بار بار آتا اور وہ ہر دفعہ اسے خوشہ دینے کا حکم فرما دیتے ( اور ہم اسے دے دیتے اور پھر اس سے خرید کر لے آتے) یہاں تک کہ میں نے سائل کو تیسری یا چوتھی مرتبہ میں کہا: تیراناس ہو! تجھے شرم نہیں آتی؟ (ہر دفعہ واپس آکر پھر مانگ لیتا ہے) چناںچہ میں نے اس سے ایک درہم میں خرید کر ان کی خدمت میں پیش کر دیا ( اور وہ سائل منع کر دینے پر اس دفعہ نہ آیا) تو آخر انھوں نے وہ خوشہ کھا لیا۔1