صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت عبد اللہ بن زید ؓ کے خرچ کرنے کا قصہ

حضرت عبد اللہ بن زید بن عبدِ ربّہٖؓ جنھوںنے خواب میں (فرشتے کو) اذا ن (دیتے ہوئے) دیکھاتھا، وہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضورِ اَقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا یہ باغ صدقہ ہے۔ میں اللہ اور اس کے رسول کو دے رہا ہوں، وہ جہاں چاہیں خرچ کردیں۔ جب ان کے والدین کو معلوم ہوا تو انھوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا گزارا تو اسی باغ پر ہورہا تھا (ہمارے بیٹے نے اسے صدقہ کر دیا)۔ حضور ﷺ نے وہ باغ ان دونوں کو دے دیا۔ پھر جب ان دونوں کا انتقال ہوگیا تو وہ باغ ان کے بیٹے (حضرت عبد اللہ بن زید) کو وراثت میں مل گیا (اور وارث بن کر اس باغ کے مالک ہوگئے)۔1