صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
حضرت ابوعقیل ؓ کے خرچ کرنے کا قصہ
حضرت ابو عقیل ؓ فرماتے ہیں: وہ ساری رات دو صاع (سات سیر) کھجوروں کے عوض اپنی کمر پر رسی باندھ کر کنوئیں میں سے پانی نکالتے رہے، پھر ایک صاع کھجور لا کر اپنے گھر والوں کو دی تاکہ وہ اسے اپنے کام میں لائیں اور دوسرا صاع قربِ خداوندی حاصل کرنے کے لیے حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور حضور ﷺ کو بتلادیا کہ یہ صاع محنت کرکے حاصل کیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اسے صدقہ کے مال میں رکھ دو۔ (چوںکہ یہ خود غریب اور محتاج تھے اور اس ایک صاع کھجور کی خود ان کو ضرورت تھی اس وجہ سے) منافقوں نے ان کا مذاق اُڑاتے ہوئے ان کے بارے میں کہا: اللہ تعالیٰ کو اس کے صاع کی کیا ضرورت تھی یہ تو خود اس صاع کا محتاج تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں:
{اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَالَّذِیْنَ لَایَجِدُوْنَ اِلَّا جُھْدَھُمْ} 2
یہ(منافقین) ایسے ہیں کہ نفلی صدقہ دینے و الے مسلمانوں پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں، اور (خصوص) ان لوگوں پر (اور زیادہ) جن کو بجز محنت مزدوری کی آمدنی کے اور کچھ میسر نہیں ہوتا، یعنی ان سے تمسخر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس تمسخر کا (تو خاص) بدلہ دے گا اور (مطلق طعن کا یہ بدلہ ملے ہی گا) کہ ان کے لیے آخرت میں درد ناک سزا ہوگی۔3
حضرت ابو سلمہ اور حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ نے اعلان فرمایا: صدقہ کرو کیوںکہ میں ایک جماعت بھیجنا چاہتا ہوں۔ اس پر حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس چار ہزار درہم ہیں ان میں سے دو ہزار تو میں اپنے ربّ کو اُدھار دے رہا ہوں۔ (اللہ کو اُدھار دینے کا مطلب یہ ہے کہ اب میں یہ مال ضرورت مندوں پر خرچ کردیتا ہوں اور آخرت میں اس کا بدلہ لوں گا) اور دو ہزار میں اپنے اہل وعیال کو دے رہا ہوں۔ حضور ﷺ نے (خوش ہو کر) ان کو دعا دی: اللہ تعالیٰ اس میں بھی برکت دے جو تم دے رہے ہو اور اس میں بھی برکت دے جو تم (گھر والوں کے لیے) رکھ رہے ہو۔ اور ایک اَنصاری نے رات بھر مزدوری کر کے دو صاع کھجوریں جمع کیں۔ انھوں نے خدمت میں آکر عرض کیا: یارسول اللہ! میں نے (مزدوری کر کے) دو صاع کھجوریں جمع کی ہیں۔ ایک صاع میں اپنے ربّ کو دے رہا ہوں اور ایک صاع میں اپنے اہل وعیال کے لیے رکھ رہا ہوں۔ اس پر منافقوں نے (زیادہ دینے والے اور کم دینے والے) دونوں قسم کے حضرات میں عیب نکالنے شروع کر دیے اور کہنے لگے: عبد الرحمن بن عوف جیسے زیادہ خرچ کرنے والے تو صرف ریا اور دکھاوے کی وجہ سے اتنا خرچ کر رہے ہیں، اور یہ غریب اور ضرورت مند آدمی جو ایک صاع کھجور دے رہا ہے اللہ اور رسول ﷺ کو اس کے صاع کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے {اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ} والی آیت نازل فرمائی۔1