حضراتِ خُلَفا واُمَرا کی طرزِزندگی

حضرت سعید بن عامر بن حِذْیَم جمحی ؓ کا قصہ

حضرت خالد بن معدان ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حضرت سعید بن عامر بن حِذْیَم جمحی ؓ کو حمص پر ہمارا گورنر بنایا۔ جب حضرت عمر بن خطّاب حمص تشریف لائے تو فرمایا: اے حمص والو! تم نے اپنے گورنر کو کیسا پایا؟ اس پر انھوں نے حضرت عمر سے اپنے گورنر کی شکایتیں کیں۔ چوںکہ حمص والے بھی اپنے گورنر کی ہمیشہ شکایت کیا کرتے تھے اس وجہ سے حمص کو چھوٹا کوفہ کہا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا: ہمیں ان سے چار شکایتیں ہیں: پہلی تو یہ ہے کہ جب تک اچھی طرح دن نہیں چڑھ جاتا اس وقت تک یہ ہمارے پاس گھر سے باہر نہیں آتے۔ حضرت عمر نے فرمایا: واقعی یہ تو بہت بڑی شکایت ہے، اس کے علاوہ اور کیا ؟ انھوں نے کہا: یہ رات کو کسی کی بات نہیں سنتے۔ حضرت عمر نے فرمایا:یہ بھی بڑی شکایت ہے، اس کے علاوہ او ر کیا؟ انھوں نے کہا: مہینے میں ایک دن گھر میں ہی رہتے ہیں ہمارے پاس باہر آتے ہی نہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: یہ بھی بڑی شکایت ہے، اس کے علاوہ اور کیا؟ انھوں نے کہا: کبھی کبھی ان کو موت جیسی بے ہوشی کا دورہ پڑتا ہے۔ حضرت عمر نے حمص والوں کو اور ان کے گورنر کو ایک جگہ جمع کیا اور یہ دعا مانگی: اے اللہ! سعید بن عامر کے بارے میں (اچھے ہونے کا) میر ا جو اندازہ تھا آج اسے غلط نہ ہونے دے۔ اس کے بعد حمص والوں سے فرمایا: تمہیں ان سے کیا شکایت ہے؟ انھوں نے کہا: جب تک اچھی طرح دن نہیں چڑھ جاتا اس وقت تک یہ گھر سے ہمارے پاس باہر نہیں آتے۔ حضرت سعید نے کہا: اللہ کی قسم! اس کی وجہ بتانا مجھے پسند نہیں تھی، لیکن اب میں مجبور اً بتاتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ میرے گھر والوں کا کوئی خادم نہیں ہے۔ اس لیے میں خود آٹا گوندھتا ہوں، پھر اس انتظار میں بیٹھتا ہوں کہ آٹے میں خمیر پیدا ہوجائے، پھر میں روٹی پکاتا ہوں، پھر وضو کر کے گھر سے باہر ان لوگوں کے پاس آتا ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: تمہیں ان سے او ر کیا شکایت ہے؟ انہو ں نے کہا: یہ رات کو کسی کی بات نہیں سنتے۔ حضرت عمر نے کہا: (اے سعید!) آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ حضرت سعید نے کہا: اس کی وجہ بتانا بھی مجھے پسند نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ میں نے دن اور رات کو تقسیم کیا ہے۔ دن ان لوگوں کو دیا ہے اور رات اللہ تعالیٰ کو۔ حضرت عمر نے فرمایا: تمہیں ان سے او رکیا شکایت ہے؟ انھوں نے کہا: مہینے میں ایک دن یہ ہمارے پاس باہر نہیں آتے۔ حضرت عمر نے فرمایا: آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ حضرت سعید نے کہا: نہ تو میرے پاس کوئی خادم ہے جو میرے کپڑے دھو دے، اور نہ میرے پاس اور کپڑے ہیں جنھیں پہن کر میں باہر آسکوں۔ اس لیے میں اپنے کپڑے دھوتا ہوں، پھر ان کے سوکھنے کا انتظار کرتا ہوں، جب سوکھ جاتے ہیں تو وہ موٹے ہونے کی وجہ سے سخت ہوجاتے ہیں اس لیے میں ان کو رَگڑ رَگڑ کر نرم کرتا ہوں۔ سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے، پھر انھیں پہن کر شام کو ان لوگوں کے پاس باہر آتا ہوں۔ حضرت عمر نے پوچھا: تمہیں ان سے اور کیا شکایت ہے؟ انھوں نے کہا: انھیں کبھی کبھی بے ہوشی کا دورہ پڑجاتا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ حضرت سعید نے کہا: حضرت خبیب اَنصاری ؓ کی شہادت کے وقت میں مکّہ میں موجود تھا۔ پہلے قریش نے ان کے گوشت کو جگہ جگہ سے کاٹا پھر ان کو سولی پر لٹکایا او رکہا: کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہاری جگہ محمد (ﷺ) ہوں؟ (تمہاری جگہ ان کو سولی دے دی جائے؟) حضرت خبیب ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ میں اپنے اہل وعیال میں ہوں اور (اس کے بدلہ میں) حضرت محمد ﷺ کو ایک کانٹا چبھے۔ اور پھر (حضور ﷺ کی محبت کے جوش میں آکر) زور سے پکارا: یامحمد! جب بھی مجھے وہ دن یاد آتا ہے اور یہ خیال آتا ہے کہ میں نے اس حالت میں ان کی مدد نہیں کی اور میں اس وقت مشرک تھا، اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لایاتھا، تومیرے دل میں زور سے یہ خیال پیدا ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس گناہ کو کبھی معاف نہیں فرمائیں گے۔ بس اس خیال سے مجھے بے ہوشی کا وہ دورہ پڑجاتا ہے۔ حضرت عمر نے یہ جوابات سن کر فرمایا: تمام تعریفیںاس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری فراست کو غلط نہیں ہونے دیا۔ پھر حضرت عمر نے ان کے پاس ہزار دینار بھیجے اور فرمایا: انھیں اپنے کام میں لے آؤ۔ اس پر ان کی بیوی نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں آپ کی خدمت سے بے نیاز کر دیا۔ حضرت سعید نے کہا: کیا تم اس سے بہتر بات چاہتی ہوکہ ہم یہ دینار اسے دے دیتے ہیں جو ہمیں سخت ضرورت کے وقت دے دے؟ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ چناںچہ انھوں نے اپنے گھر والوں میں سے ایک آدمی کو بلایا جس پر انھیں اعتماد تھا اور ان دیناروں کو بہت سی تھیلیوں میں ڈال کر اس سے کہا: جاکر یہ دینار فلاں خاندان کی بیواؤں، فلاں خاندان کے یتیموں، فلاں خاندان کے مسکینوں اور فلاں خاندان کے مصیبت زدہ لوگوں کو دے آؤ۔ تھوڑے سے دینار بچ گئے تو اپنی بیوی سے کہا: لو یہ خرچ کرلو۔ پھر اپنے گورنری کے کام میں مشغول ہوگئے۔ چند دن بعد ان کی بیوی نے کہا: کیا آپ ہمارے لیے کوئی خادم نہیں خرید لیتے؟ اس مال کا کیا ہوا؟ حضرت سعید نے کہا: وہ مال تمہیں سخت ضرورت کے وقت ملے گا۔1