حضراتِ خُلَفا واُمَرا کی طرزِزندگی

حضرت ابو بکر ؓ کی طرزِ زندگی

حضرت ابنِ عمر، حضرت عائشہ اورحضرت ابنِ مسیب وغیرہ حضرات ؓ سے مروی ہے لیکن ان کی حدیثیں آپس میں مل گئی ہیں۔ بہر حال یہ حضرات فرماتے ہیں: ہجرت کے گیارہویں سال ۱۲/ربیع الاوّل کو پیرکے دن حضور ﷺ کا انتقال ہوا۔ اسی دن لوگ حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے بیعت ہوئے۔ آپ کا قیام اپنی بیوی حضرت حبیبہ بنتِ خارجہ بن زید بن ابی زُہیر کے ہاںسنح محلہ میں تھا جو کہ قبیلہ بنو حارث بن خزرج میں سے تھیں۔ اپنے لیے بالوں کا ایک خیمہ ڈال رکھا تھا، اس میں انھوں نے کوئی اضافہ نہیں کیا یہاں تک کہ اپنے مدینہ والے گھر منتقل ہوگئے۔ بیعت کے بعد چھ ماہ تک سُنح ہی ٹھہرے رہے۔ اکثر صبح پیدل مدینہ منوّرہ جاتے، کبھی اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر جاتے۔ اور اُن کے جسم پر ایک لنگی اور گیروے رنگ سے رنگی ہوئی ایک چادر ہوتی۔ چناںچہ مدینہ آتے اور لوگوں کو نمازیں پڑھاتے۔ جب عشاء کی نماز پڑھالیتے تو سنح اپنے گھر والوں کے پاس واپس آتے۔ جب حضرت ابو بکر خود (مدینہ میں) ہوتے تو خود لوگوں کو نماز پڑھاتے، جب خود نہ ہوتے تو حضرت عمر بن خطّاب ؓ نماز پڑھاتے۔ جمعہ کے دن، دن کے شروع میںسنح ہی رہتے، اپنے سر اور ڈاڑھی پر مہندی لگاتے، پھر جمعہ کے وقت تشریف لے جاتے اور لوگوں کو جمعہ پڑھاتے۔ حضرت ابو بکر ؓ تاجر آدمی تھے۔ روزانہ صبح بازار جاکر خرید وفروخت کرتے۔ ان کا بکریوں کا ایک ریوڑ بھی تھا جو شام کو ان کے پاس واپس آتا۔ کبھی ان کو چَرانے خود جاتے اور کبھی کوئی اور چَرانے جاتا۔ اپنے محلہ والوں کی بکریوں کا دودھ بھی نکال دیا کرتے۔ جب یہ خلیفہ بنے تومحلہ کی ایک لڑکی نے کہا: ( اب توحضرت ابو بکر خلیفہ بن گئے ہیں لہٰذا) ہمارے گھر کی بکریوں کا دودھ اب توکوئی نہیں نکالا کرے گا۔ حضرت ابو بکر نے یہ سن کر فرمایا: نہیں، میری عمر کی قسم! میں آپ لوگوں کے لیے دودھ ضرور نکالا کروں گا اور مجھے اُمید ہے کہ خلافت کی ذمہ داری جو میں نے اٹھائی ہے یہ مجھے اُن اَخلاقِ کریمانہ سے نہیں ہٹائے گی جو پہلے سے مجھ میں ہیں۔ چناںچہ خلافت کے بعد بھی محلہ والوں کا دودھ نکالا کرتے اور بعض دفعہ از راہِ مذاق محلہ کی لڑکی سے کہتے: اے لڑکی! تم کیسا دودھ نکلوانا چاہتی ہو؟ جھاگ والا نکالوں یا بغیر جھاگ کے؟ کبھی وہ کہتی جھاگ والا اور کبھی کہتی جھاگ کے بغیر۔ بہر حال جیسے وہ کہتی ویسے یہ کرتے۔ چناںچہ سنح محلہ میں چھ ماہ ایسے ہی ٹھہرے رہے پھرمدینہ آگئے اور وہاں مستقل قیام کرلیا۔ پھر اپنی خلافت کے بارے میں غور کیا تو فرمایا: اللہ کی قسم! تجارت میں لگے رہنے سے تو لوگوں کے کام ٹھیک طرح سے نہیں ہوسکیں گے، ان کے کام تو تب ہی ٹھیک ہوسکیں گے جب کہ میں تجارت سے فارغ ہوکر مسلمانوں کے کام میں پورے طور سے لگ جاؤں اور ان کی دیکھ بھال کروں، لیکن میرے اہل وعیال کے لیے گزارہ کے قابل خرچہ ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ سوچ کر انھوں نے تجارت چھوڑ دی اور مسلمانوں کے بیت المال میں سے روزانہ اتنا وظیفہ لینے لگے جس سے ان کا اور ان کے اہل وعیال کا ایک دن کا گزارہ ہوجائے اور اس وظیفہ سے حج وعمرہ بھی کرسکیں۔ چناںچہ شوریٰ والوں نے ان کی ان تمام ضرورتوں کے لیے سالانہ چھ ہزار درہم مقرر کیے۔ جب ان کے انتقال کا وقت قریب آیا تو فرمایا: ہمارے پاس مسلمانوں کے بیت المال میں سے جو کچھ (بچا ہوا) ہے وہ واپس کردو، کیوںکہ میںاس مال سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہتا۔ اور میں مسلمانوں کا جتنا مال استعمال کرچکا ہوں اس کے بدلہ میں میں نے اپنی فلاں علاقے والی زمین مسلمانوں (کے بیت المال) کو دے دی۔ چناںچہ ان کی وفات کے بعد وہ زمین اور ایک دودھ والی اونٹنی اور تلواروں کو تیز کرنے والا غلام اور ایک چادرجس کی قیمت پانچ درہم تھی، حضرت عمر ؓ کو یہ سب چیزیں دی گئیں تو حضرت عمر نے فرمایا: وہ اپنے بعد والوں کو مشکل میں ڈال گئے (کہ ان کی طرح کون کرسکے گا کہ ساری زندگی اپنا سارا مال اور ساری جان اسلام پر لگائی اور جب مجبوری میں لینا پڑا تو کم سے کم لیا اور دنیا سے جاتے وقت وہ بھی واپس کرگئے)۔ حضرت ابو بکر ؓ نے ۱۱ھ میں حضرت عمر بن خطّاب ؓ کو امیرِحج بنا کر بھیجا۔ پھر رجب ۱۲ھ میں خود عمرے کے لیے تشریف لے گئے۔ چاشت کے وقت مکّہ مکرّمہ داخل ہوئے اور اپنے گھر تشریف لے گئے۔ (حضرت ابو بکر کے والد) حضرت ابو قحافہ ؓ اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس کچھ نوجوان بیٹھے ہوئے تھے جن سے وہ باتیں کر رہے تھے۔ کسی نے ان کو بتایا کہ یہ آپ کے بیٹے آگئے ہیں تو وہ کھڑے ہوگئے، لیکن حضرت ابو بکر اونٹنی بٹھائے بغیر جلدی سے اونٹنی سے نیچے اُترگئے اور کہنے لگے: اے ابّاجان! آپ کھڑے نہ ہوں۔ پھر ان سے مل کر ان سے چِمٹ گئے اور ان کی پیشانی کا بوسہ لیا اور بڑے میاں یعنی حضرت ابو قحافہ حضرت ابو بکر کے آنے کی خوشی میں رو پڑے۔ مکّہ کے ذمّہ دار اور سردار حضرات حضرت عَتّاب بن اُسید، حضرت سہیل بن عمرو، حضرت عکرمہ بن ابی جہل، حضرت حارث بن ہشام ؓ ملنے آئے اور انھوں نے حضرت ابو بکر کو سلام کیا اور یوں کہا: سلامٌ علیک اے خلیفۂ رسول اللہ! اور سب نے ان سے مصافحہ کیا۔ پھر جب انھوں نے حضور ﷺ کا تذکرہ شروع کیا تو حضرت ابو بکر رونے لگے۔ پھر ان سب نے حضرت ابوقحافہ کو سلام کیا۔ حضرت ابوقحافہ نے (حضرت ابو بکر کا نام لے کر) کہا: اے عتیق! یہ لوگ مکّہ کے سردار ہیں ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے رہنا۔ حضرت ابو بکر نے کہا: اے ابا جان! اللہ کی مدد سے ہی انسان نیکی کرسکتا ہے اور برائی سے بچ سکتا ہے، اور مجھ پر (خلافت کے) بہت بڑے کام کی ذمّہ داری ڈال دی گئی ہے جسے ادا کرنے کی مجھ میں بالکل طاقت نہیں ہے۔ ہاں! اللہ مدد فرمائے تو پھر یہ ذمّہ داری ادا ہوسکتی ہے۔ پھر حضرت ابوبکرگھر گئے اور غسل کیا اور باہر آئے۔ آپ کے ساتھی آپ کے پیچھے چلنے لگے، آپ نے ان کو ہٹا دیا اور فرمایا: آرام سے چلو! (میرے پیچھے بھیڑ کرنے کی ضرورت نہیں ہے)۔ راستہ میں لوگ حضرت ابو بکر کو ملتے، ان کے ساتھ چلتے اور ان سے حضور ﷺ کی تعزیت کرتے۔ اور حضرت ابو بکر روتے جا رہے تھے یہاں تک کہ بیت اللہ تک پہنچ گئے۔ پھر آپ نے طواف کے لیے اِضطباع کیا۔ (یعنی دائیں کندھے کے نیچے سے اِحرام کی چادر نکال کر اس کے دونوں کنارے بائیں کندھے پر ڈال دیے) پھر حجرِ اسود کا بوسہ لے کر سات چکر لگائے، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر اپنے گھر واپس آگئے۔ جب ظہر کا وقت ہوا تو گھر سے باہر آئے اور بیت اللہ کا طواف کیا پھر دار النّدوہ کے قریب بیٹھ گئے اور فرمایا: کوئی آدمی ایسا ہے جو کسی ظلم کی شکایات لایا ہو یا کسی حق کا مطالبہ کر رہا ہو؟ اس پر کوئی نہ آیا تولوگوں نے اپنے امیر (حضرت عَتّاب بن اُسید) کی تعریف کی۔ پھر عصر کی نماز پڑھائی اور بیٹھ گئے۔ پھر لوگوں نے ان کو رخصت کیا اور یہ مدینہ منوّرہ کو واپس ہوگئے۔ ۱۲ ھ میں لوگوں کے ساتھ حضرت ابو بکر ؓ نے خود حج کیا اور صرف حج کا اِحرام باندھا جسے ’’اِفراد‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور مدینہ میں حضرت عثمان بن عفان ؓ کو اپنا نائب بنایا۔1