حضرات خُلَفَائے کرام کا دیگر خُلَفَاواُمرا کو وصیّت کرنا
حضرت ابو عبیدہ بن جرّ اح ؓ کا وصیّت کرنا
حضرت سعید بن مُسیّب ؓ کہتے ہیں: جب حضرت ابوعبیدہ ؓ اُردن میں طاعون میں مبتلا ہوئے تو جتنے مسلمان وہاں تھے ان کو بلا کر ان سے فرمایا:
میں تمہیں ایک وصیت کررہا ہوں اگر تم نے اسے مان لیا تو ہمیشہ خیر پر رہو گے اور وہ یہ ہے کہ نماز قائم کرو، ماہِ رمضان کے روزے رکھو، زکوٰۃ ادا کرو، حج وعمرہ کرو، آپس میں ایک دوسرے کو (نیکی کی) تاکید کرتے رہو اور اپنے امیروں کے ساتھ خیرخواہی کرو اور ان کو دھوکہ مت دو اور دنیا تمہیں (آخرت سے) غافل نہ کرنے پائے کیوںکہ اگر انسان کی عمر ہزار سال بھی ہوجائے تو بھی اسے (ایک نہ ایک دن) اس ٹھکانے یعنی موت کی طرف آنا پڑے گا جسے تم دیکھ رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی آدم کے لیے مرناطے کر دیا ہے، لہٰذا وہ سب ضرور مریں گے۔ اور بنی آدم میں سب سے زیادہ سمجھ دار وہ ہے جو اپنے ربّ کی سب سے زیادہ اطاعت کرے اور اپنی آخرت کے لیے سب سے زیادہ عمل کرے۔ وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ اے معاذ بن جبل! آپ لوگوں کو (میری جگہ) نماز پڑھاؤ۔
اس کے بعد حضرت ابوعبیدہ ؓ کا انتقال ہوگیا۔ پھر حضرت معاذ ؓ نے لوگوں میں کھڑے ہوکر یہ بیان کیا:
اے لوگو! تم اللہ کے آگے اپنے گناہوں سے توبہ کرو، کیوںکہ جو بندہ بھی اپنے گناہوں سے توبہ کرکے (قیامت کے دن) اللہ سے ملے گا تو اللہ کے ذمّہ اس کا حق ہوگا کہ اللہ اس کی مغفرت فرما دیں۔ اور جس کے ذمہ قرضہ ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنا قرضہ ادا کرے، کیوںکہ بندہ اپنے قرضہ کی وجہ سے بندھا رہے گا (جب تک اسے ادا نہیں کرے گا اللہ کے ہاں اسے چھوٹ نہیں ملے گی)۔ اور جس کسی نے اپنے (مسلمان) بھائی سے قطع تعلق کر رکھا ہو اسے چاہیے کہ وہ اس سے مل کر صلح کرلے۔ اے مسلمانو! تمہیں ایک ایسے آدمی کی موت کا صدمہ پہنچا ہے جس کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ ان سے زیادہ نیک دل، ان سے زیادہ شر وفساد سے دور رہنے والا، ان سے زیادہ عوام سے محبت کرنے والا اور ان سے زیادہ خیر خواہی کرنے والا میں نے کوئی نہیں دیکھا۔ لہٰذا ان کے لیے نزولِ رحمت کی دعا کرو اور ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرو۔1