حضرات خُلَفَائے کرام کا دیگر خُلَفَاواُمرا کو وصیّت کرنا

حضرت ابو بکر ؓ کا حضرت عمر ؓ کو وصیت کرنا

حضرت اَغَرّ(اَغَرّ بنی مالک) ؓ کہتے ہیں: جب حضرت ابو بکر ؓ نے حضرت عمر ؓ کو خلیفہ بنانا چاہا تو انھوں نے آدمی بھیج کر حضرت عمر کو بلایا۔ جب وہ آگئے تو ان سے فرمایا: میں تمہیں ایک ایسے کام کی طرف بلانے لگا ہوں کہ جو بھی اس کی ذمہ داری اٹھائے گا یہ کام اسے تھکا دے گا۔ لہٰذا اے عمر! اللہ کی اطاعت کے ذریعہ تم اس سے ڈرو اور اس سے ڈرتے ہوئے اس کی اطاعت کرو، کیوںکہ اللہ سے ڈرنے والا ہی (ہر خوف سے) اَمن میں ہوتا ہے اور (ہر شر اور مصیبت سے) محفوظ ہوتا ہے۔ پھر اس امرِ خلافت کا حساب اللہ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ اور اس کام کا مستحق صرف وہی ہے جو اس کا حق ادا کرسکے۔ اور جو دوسروں کو حق کا حکم دے اور خود باطل پر عمل کرے، اور نیکی کا حکم کرے اور خود برائی پر عمل کرے اس کی کوئی اُمید پوری نہ ہوسکے گی اور اس کے تمام نیک اعمال ضائع ہوجائیں گے (وہ اعمال آخرت میں اس کے کام نہ آئیں گے)۔ لہٰذا اگر تم پر مسلمانوں کی خلافت کی ذمّہ داری ڈال دی جائے تو پھر تم اپنے ہاتھوں کو ان کے خون سے دور رکھ سکو، اور اپنے پیٹ کو ان کے مال سے خالی رکھ سکو، اور ان کی آبروریزی سے اپنی زبان کو بچا سکو تو ضرور ایسے کرنا۔ اور نیکی کرنے کی طاقت صرف اللہ ہی سے ملتی ہے۔1 حضرت سالم بن عبد اللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: جب حضرت ابو بکر ؓ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو انھوںنے یہ وصیت نامہ لکھوایا: بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ ابوبکر صدیق کی طرف سے وصیت ہے۔ (اور وہ یہ وصیّت نامہ اس وقت کر رہے ہیں) جب کہ ان کا اس دنیا میں آخری وقت آگیا ہے اور وہ اس دنیا سے جا رہے ہیں اور ان کی آخرت شرو ع ہو رہی ہے جس میں وہ داخل ہو رہے ہیں۔ اور یہ موت کا وقت ایسا ہے کہ جس وقت کافر بھی غیب پر ایمان لے آتا ہے اور فاسق وفاجر بھی متقی بن جاتا ہے اور جھوٹا آدمی بھی سچ بولنے لگ جاتا ہے۔ میں نے اپنے بعد عمر بن خَطّاب کو خلیفہ بنا دیا ہے۔اگر وہ عدل وانصاف سے کام لیں تو ان کے بارے میں میرا گمان یہی ہے ، اور اگر وہ ظلم کریں اور بدل جائیں تو (اس کا وبال ان پر ہی ہوگا۔ اور ان کو خلیفہ بنانے سے) میرا ارادہ خیر کا ہی ہے اور مجھے غیب کا علم نہیں۔ ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ان کے ظلم کا انجام کیا ہوگا؟ اور وہ کس برے ٹھکانہ کی طرف لوٹنے والے ہیں؟ پھر انھوں نے آدمی بھیج کر حضرت عمر ؓ کو بلایا اور ان کو زبانی یہ وصیت فرمائی: اے عمر! کچھ لوگ تم سے بغض رکھتے ہیں اور کچھ تم سے محبت کرتے ہیں۔ پرانے زمانے سے یہ دستور چلا آرہا ہے کہ خیر کو براسمجھا جاتا ہے اور شر کو پسند کیا جاتا ہے۔ حضرت عمر نے کہا: پھر تو مجھے خلافت کی ضرورت نہیں۔ حضرت ابو بکرنے فرمایا: لیکن خلافت کو تمہاری ضرورت ہے، کیوںکہ تم نے حضور ﷺ کو دیکھا ہے اور ان کے ساتھ رہے ہو۔ اور تم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ حضور ﷺ ہمیں اپنی ذات پر ترجیح دیا کرتے تھے۔ بعض دفعہ حضور ﷺ کی طرف سے ہمیں جو ملتا تھا ہم اسے استعمال کرتے اور پھر اس میں سے جو بچ جاتا وہ ہم حضور ﷺ کے گھر والوں کو بھیج دیا کرتے۔ (یعنی حضور ﷺ اپنے گھر والوں کو پہلے نہ دیتے، بلکہ ان پر ترجیح دیتے ہوئے پہلے ہمیں دیتے) اور پھر تم نے مجھے بھی دیکھا ہے اور میرے ساتھ بھی رہے ہو۔ اور میں نے اپنے سے پہلے والے کی یعنی حضور ﷺ کی اتباع کی ہے۔ اللہ کی قسم! یہ بات نہیں ہے کہ میں سو رہا ہوں اور خواب میں تم سے باتیں کر رہا ہوں، یا کسی وہم کے طور پر تمہارے سامنے یہ شہادتیں دے رہا ہوں۔ اور میں نے (سوچ سمجھ کر) جو راستہ اختیار کیا ہے اس سے اِدھر اُدھر نہیںہٹا ہوں۔ اے عمر! اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ رات میں اللہ تعالیٰ کے کچھ حقوق ایسے ہیں جنھیں وہ دن میں قبول نہیں کرتے ہیں، اور دن میں کچھ حقوق اللہ کے ایسے ہیں جن کو وہ رات میں قبول نہیں کرتے ہیں۔ (یعنی انسان دن میں انسانوں پر محنت کرے اور مسلمانوں کے اجتماعی کام میں لگا رہے اور رات کو کچھ وقت اللہ کی عبادت، ذکروتلاوت اور دعا میں مشغول رہے۔ دن ورات کی یہ ترتیب اللہ نے مقرر فرمائی ہے) اور قیامت کے دن صرف حق کے اتباع کرنے کی وجہ سے ہی اَعمال کا ترازو بھاری ہوگا، اور جس ترازو میں صرف حق ہی ہو اس کا بھاری ہونا ضروری ہے۔ اور قیامت کے دن صرف باطل کے اتباع کرنے کی وجہ سے ہی ترازو ہلکا ہوگا، اور جس ترازو میں صرف باطل ہی ہو اس کا ہلکا ہونا ضروری ہے۔ سب سے پہلے میں تمہیں تمہارے اپنے نفس سے ڈراتا ہوں، پھر لوگوں سے ڈراتا ہوں۔ کیوںکہ لوگوں کی نگاہیں (لالچ کی وجہ سے) جھانکنے لگ گئی ہیں اور ان کی نفسانی خواہشات پھول گئی ہیں، یعنی زور پکڑ چکی ہیں، لیکن جب ان خرابیوں کی وجہ سے انھیں ذِلّت اٹھانی پڑے گی تو اس وقت وہ حیران وپریشان ہوں گے۔ کیوںکہ جب تک تم اللہ سے ڈرتے رہو گے اس وقت تک وہ لوگ تم سے ڈرتے رہیں گے۔ یہ میری وصیت ہے میری طرف سے تمہیں سلام ہو۔1 حضرت عبد الرحمن بن سابِط، حضرت زید بن زُبید بن حارث اور حضرت مجاہد ؓ کہتے ہیں: جب حضرت ابو بکر ؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے حضرت عمر ؓ کو بلاکر ان سے یہ فرمایا: اے عمر! اللہ سے ڈرتے رہنا۔ اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے (انسانوں کے ذمہ) دن میں کچھ ایسے عمل ہیں جن کو وہ رات کو قبول نہیں کرتے ہیں، اور ایسے ہی اللہ کی طرف سے (انسانوں کے ذمّہ) رات میں کچھ عمل ایسے ہیں جن کو وہ دن میں قبول نہیں کرتے۔ اور جب تک فرض ادا نہ کیا جائے اس وقت تک اللہ نفل قبول نہیں فرماتے۔ دنیا میں حق کا اتباع کرنے اور حق کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے ہی قیامت کے دن اَعمال کا ترازو بھاری ہوگا۔ کل جس ترازو میں حق رکھا جائے اسے بھاری ہونا ہی چاہیے۔ اور دنیا میں باطل کا اتباع کرنے اور باطل کومعمولی سمجھنے کی وجہ سے ہی قیامت کے دن ترازو ہلکا ہوگا۔ اور کل جس ترازو میں باطل رکھا جائے اسے ہلکا ہونا ہی چاہیے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جہاں جنت والوں کا ذکر کیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے سب سے اچھے اعمال کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کے برے اعمال سے درگزر فرمایا ہے۔ میں جب بھی جنت والوں کا ذکر کرتا ہوںتوکہتا ہوںمجھے یہ ڈر ہے کہ شاید میں ان میں شامل نہ ہوسکوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے جہاں دوزخ والوں کو ذکر کیا ہے وہاں ان کو سب سے برے اعمال کے ساتھ ذکر کیا ہے، اور ان کے اچھے اعمال کو ان پر رد کر دیا ہے یعنی ان کو قبول نہیں فرمایا۔ میں جب بھی دوزخ والوں کو ذکر کرتا ہوں توکہتا ہوں کہ مجھے یہ ڈر ہے کہ شاید میں ان ہی کے ساتھ ہوں گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے رحمت کی آیت بھی ذکر فرمائی ہے اور عذاب کی آیت بھی۔ لہٰذا بندے کو رحمت کا شوق اور عذاب کا ڈر ہونا چاہیے۔ اور اللہ تعالیٰ سے غلط امیدیں نہ باندھے (کہ عمل تو اچھے نہ کرے اور اُمید جنت کی رکھے) اور اس کی رحمت سے نااُمید بھی نہ ہو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالے۔ اگر تم نے میری یہ وصیت یاد رکھی (اور اس پر اچھی طرح عمل کیا) تو کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور تمہیں موت آکر رہے گی۔ اور اگر تم نے میری وصیت ضائع کردی (اور اس پر عمل نہ کیا) تو کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ بری نہیں لگے گی اور وہ موت تمہیں پکڑ کر رہے گی تم اس سے بچ نہیں سکتے۔1