حضورِ اکرم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا عدل واِنصاف

حضراتِ خلفائے کرام ؓ کا اللہ تعالیٰ سے ڈرنا

حضرت ضحاک ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے ایک مرتبہ ایک پرندہ درخت پر بیٹھے ہوئے دیکھا تو (پرندے کو مخاطب کر کے) کہنے لگے: ا ے پرندے! تمہیں خوش خبری ہو! (تم کس قدر مزے میںہو) اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں بھی تمہاری طرح ہوتا۔ تم درختوں پر بیٹھتے ہو، پھل کھاتے ہو، پھر اُڑ جاتے ہو، اور (قیامت کے دن) نہ تمہارا حساب ہوگا اور نہ تم پر کوئی عذاب ہوگا۔ اللہ کی قسم! میں چاہتا ہو ں کہ میں راستہ کے کنارے کا ایک درخت ہوتا، میرے پاس سے کوئی اُونٹ گزرتا مجھے پکڑ کر اپنے منہ میں ڈال لیتا پھر وہ مجھے چباتا اور جلدی سے نگل لیتا اور پھر مجھے مینگنی بنا کر نکال دیتا اور میں انسان نہ ہوتا۔1 حضرت ضحاک بن مُزَاحم ؓ کہتے ہیں: حضر ت ابو بکر صدیق ؓ نے ایک چڑیا کو دیکھا تو فرمانے لگے: اے چڑیا! تجھے خوش خبری ہو! تو پھل کھاتی ہے اور درختوں پر اُڑتی پھرتی ہے، اور نہ تجھے حساب دینا پڑے گا اور نہ تجھے عذاب ہوگا۔ اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں کوئی دُنبہ ہوتا۔ میرے گھر والے مجھے کھلا پلا کر موٹا کرتے، اور جب میں خوب موٹا ہوجاتا تو وہ مجھے ذبح کرتے، اور میرا کچھ حصہ بھون کر او رکچھ حصہ کی بوٹیاں بناکر کھا جاتے، اور پھر مجھے پاخانہ بنا کر بیت الخلاء میں پھینک دیتے اور مجھے انسان نہ بنایا جاتا۔2 امام احمد ؓ نے’’کتابِ زُہد‘‘ میں روایت کیا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا: اے کاش! میںکسی مؤمن بندے کے پہلومیںکوئی بال ہوتا۔3 حضرت ضحاک ؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: کاش! میں اپنے گھر والوں کا دنبہ ہوتا۔ وہ مجھے کچھ عرصہ تک کھلا پلا کر موٹاکرتے رہتے۔ جب میںخوب موٹا ہوجاتا اور ان کا محبوب دوست ان کو ملنے آتا وہ (اس کی مہمانی کے لیے مجھے ذبح کرتے اور) میرے کچھ حصہ کو بھون کر اور کچھ حصہ کی بوٹیاں بنا کر کھا جاتے، اور پھر مجھے پاخانہ بناکر نکال دیتے اور میں انسان نہ ہوتا۔4 حضرت عامر بن ربیعہ ؓ فرماتے ہیں: میں نے ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ کو دیکھا کہ انھوں نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا: اے کاش! میں یہ تنکا ہوتا۔ کاش! میں پیدا نہ ہوتا۔ کاش! میں کچھ بھی نہ ہوتا۔ کاش! میری ماں مجھے نہ جنتی۔ اور کاش! میں بالکل بھولا بسرا ہوتا۔5 حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا: اگر آسمان سے کوئی منادی یہ اعلان کرے کہ اے لوگو! ایک آدمی کے علاوہ باقی تم سب کے سب کے سب جنت میں جاؤ گے تو مجھے (اپنے اعمال کی وجہ سے) ڈر ہے کہ وہ ایک آدمی میں ہی ہوں گا۔ اور اگر کوئی منادی یہ اعلان کرے کہ اے لوگو! ایک آدمی کے علاوہ باقی تم سب کے سب دوزخ میں جاؤ گے تو مجھے (اللہ کے فضل سے) اُمید ہے کہ وہ ایک آدمی میں ہی ہوں گا۔ (ایمان اسی خوف واُمید کے درمیان کی حالت کا نام ہے)1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: ایک دفعہ حضرت عمر ؓ کی حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے ملاقات ہوئی۔ تو حضرت عمر نے ان سے فرمایا: اے ابو موسیٰ! کیا تم کو یہ بات پسند ہے کہ تم نے حضور ﷺ کے ساتھ رہ کر جو عمل کیے ہیں وہ عمل تو تمہارے لیے صحیح سالم اور ٹھیک رہیں (کہ ان کا اچھا بدلہ تمہیں اللہ کی طرف سے ملے) اور تم نے حضور ﷺ کے بعد (خصوصاً امارت کے زمانہ میں) جو عمل کیے ہیں ان سے تم برابر سرابر پر چھوٹ جاؤ۔ اس زمانہ کا خیر شر کے بدلہ میں اور شر خیر کے بدلہ میں ہوجائے۔ نہ کسی نیکی پر تمہیں ثواب ملے اور نہ کسی گناہ پر تمہاری پکڑ ہو۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: اے امیر المؤمنین! نہیں، (بعد والے زمانہ کے اعمال سے برابر سرابر پر چھوٹنے کے لیے میں تیار نہیں ہوں، بلکہ مجھے تواس زمانے کے اچھے اعمال پر بڑے ثواب کی امید ہے، کیوںکہ) اللہ کی قسم! جب میں بصرہ آیا تھا تو بصرہ والوں میں بد سلوکی اور اُجڈپن عام تھا۔ پھر میں نے ان کو قرآن وسنت سکھایا، ان کو ساتھ لے کر اللہ کے راستہ میں جہاد کیا، ان تمام اعمال کی وجہ سے مجھے اللہ کے فضل کی امید ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: لیکن میں تو چاہتا ہوں کہ حضور ﷺ کے بعد والے زمانہ (خصوصاً خلافت کے زمانہ) کے اعمال سے برابر سرابر پر چھوٹ جاؤں اور اس زمانہ کا خیر شر کے بدلہ میں اور شر خیر کے بدلہ میں ہوجائے۔ نہ کسی عمل پر مجھے ثواب ملے اور نہ کسی گناہ پر سزا۔ اور حضور ﷺ کے ساتھ رہ کر میں نے جو عمل کیے ہیں وہ میرے لیے صحیح سالم رہیں (ان کا اچھا بدلہ ملے)۔ 2 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ پر نیزہ سے حملہ ہوا اور آپ زخمی ہوگئے تو میں ان کے پاس گیا اور میں نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کو خوش خبری ہو! کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ کئی شہروں کو آباد کیا، نفاق کو ختم کیا اور آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے عام انسانوں کے لیے روزی کی خوب فراوانی کی۔ حضرت عمر نے فرمایا: اے ابنِ عباس! کیا اَمارت کے بارے میں تم میری تعریف کر رہے ہو؟ میں نے کہا: میں تو دوسرے کاموں میں بھی آپ کی تعریف کرتا ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! میں تو یہ چاہتا ہوں کہ امارت میں جیسا داخل ہوا تھا اس میں سے ویسا ہی نکل آؤں، نہ کسی اچھے عمل پر مجھے ثواب ملے او ر نہ کسی برے عمل پر سزا۔1 ابنِ سعد نے حضرت ابنِ عباس ؓ سے یہی حدیث ایک اور سند سے نقل کی ہے، اس میں یہ مضمون ہے کہ میں نے حضرت عمر ؓ سے کہا: آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ آپ حضور ﷺ کی صحبت میں رہے اور بڑے لمبے عرصہ تک اُن کی صحبت میں رہے۔ اور پھر آپ مسلمانوں کے امیر بنائے گئے تو آپ نے مسلمانوں کو خوب قوت پہنچائی اور امانت صحیح طور سے ادا کی۔ حضرت عمر نے فرمایا: تم نے مجھے جنت کی بشارت دی ہے، تو اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے! اگر ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے وہ سب مجھے مل جائے تو اس وقت میرے سامنے آخرت کا جو دہشت ناک منظر ہے، اس سے بچنے کے لیے میں وہ سب کچھ یہ جاننے سے پہلے ہی فدیہ میں دے دوں کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ تم نے مسلمانوں کے امیر بننے کا بھی ذکر کیا ہے، تواللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ امارت برابر سرابر رہے، نہ ثواب ملے اور نہ سزا۔ اور تم نے حضور ﷺ کی صحبت کا بھی ذکر کیا ہے تو یہ ہے اُمید کی چیز۔2 اور ابنِ سعد کی ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: مجھے بٹھاؤ۔ جب بیٹھ گئے تو حضرت ابنِ عباس ؓ سے فرمایا: اپنی بات دوبارہ کہو۔ انھوں نے دوبارہ کہی تو فرمایا: اللہ سے ملاقات کے دن، یعنی قیامت کے دن کیا تم اللہ کے سامنے ان تمام باتوں کی گواہی دے دوگے؟ حضرت ابنِ عباس نے عرض کیا: جی ہاں۔ اس سے حضرت عمر خوش ہوگئے اور ان کو یہ بات بہت پسند آئی۔1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: مرض الوفات میں حضرت عمر ؓ کا سر میری ران پر رکھا ہوا تھا۔ تو مجھ سے انھوں نے کہا: میرا سر زمین پر رکھ دو۔ میں نے کہا: آپ کا سر میری ران پر رہے یا زمین پر، اس میں آپ کا کیا حرج ہے؟ فرمایا: نہیں، زمین پر رکھ دو۔ چناںچہ میں نے زمین پر رکھ دیا تو فرمایا: اگر میرے ربّ نے مجھ پر رحم نہ کیا تو میری بھی ہلاکت ہے اور میری ماں کی بھی۔ اور حضرت مِسْور کہتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ کو نیزہ مارا گیا تو فرمایا: اگر مجھے اتنا سونا مل جائے جس سے ساری زمین بھر جائے، تو میں اللہ کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے ہی اس سے بچنے کے لیے وہ سارا سونا فدیہ میں دے دوں۔2