خُلَفَا اور اُمرَا کا احترام کرنا اور اُن کے احکامات کی تعمیل کرنا

رعایا کے حالات کی خبر گیری

حضرت ابو صالح غِفَاری ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے خدمت کے لیے مدینہ کے کنارے میں رہنے والی ایک نابینا عمر رسیدہ بڑھیا تلاش کی تاکہ رات کو اس کا پانی بھر دیا کریں اور اس کے کام کاج کر دیا کریں، لیکن جب حضرت عمر اس کے ہاں گئے تو انھوں نے دیکھا کہ کوئی آدمی ان سے پہلے آکر خدمت کے سارے کام بڑھیا کی حسبِ منشاکرچکا ہے۔ حضرت عمر نے کئی مرتبہ کوشش کی لیکن اس آدمی سے پہلے نہ آسکے، وہی پہلے آکر تمام کام کر جاتا۔ آخر ا س کا پتہ چلانے کے لیے حضرت عمر راستہ میں گھات لگاکر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں دیکھا کہ حضرت ابو بکر صدیق (اس بڑھیا کی خدمت کرنے) آرہے ہیں اور یہی وہ صاحب ہیں جو حضرت عمر سے پہلے آکر خدمت کر رہے تھے حالاںکہ وہ خلیفۂ وقت تھے۔ انھیں دیکھ کر حضرت عمر نے کہا: میری عمر کی قسم! آپ ہیں (جو مجھ سے بھی پہلے آکر اس بڑھیا کی خدمت کر رہے تھے)۔ 1 حضرت اَوزاعی ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ رات کی تاریکی میں باہر نکلے تو حضرت طلحہ ؓکی نظر ان پر پڑی۔ انھوں نے دیکھا کہ حضرت عمر پہلے ایک گھر میں داخل ہوئے پھر دوسرے گھر میں۔ صبح کو حضرت طلحہ اس گھر میں گئے تو دیکھا کہ گھر میں ایک نابینا اور اَپاہج بڑھیا ہے۔ حضرت طلحہ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ یہ آدمی تمہارے پاس کس لیے آتا ہے؟ اس بڑھیا نے کہا: یہ اتنے عرصہ سے یعنی برسوں سے میری دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ میری ضرورت کے کام کر دیتے ہیں اور میرے گھر کے پاخانے وغیرہ تمام چیزوں کی صفائی کر دیتے ہیں۔ اس پر حضرت طلحہ نے کہا: اے طلحہ ! تیری ماں تجھے گم کرے! کیا تم عمر کی لغزشوں کو تلاش کرتے ہو۔2