خُلَفَا اور اُمرَا کا احترام کرنا اور اُن کے احکامات کی تعمیل کرنا

امیر کے عام مسلمانوں سے اپنا معیارِ زندگی بلند کرنے پر اور دربان مقرر کرکے ضرورت مندوں سے چھپ جانے پر نکیر

حضرت ابو صالح غِفَاری ؓ کہتے ہیں: حضرت عمرو بن عاص ؓ نے (مصر سے) حضرت عمر بن خطّاب ؓ کو خط لکھا کہ ہم نے (یہاں) جامع مسجد کے پاس آپ کے لیے ایک مکان کی جگہ مخصوص کر دی ہے۔ حضرت عمر نے اس کے جواب میں لکھا کہ حجاز میں رہنے والے آدمی کے لیے مصر میں گھر کیوں کر ہو سکتا ہے؟ اور حضرت عمر و کو حکم دیا کہ اس جگہ کو مسلمانوں کے لیے بازار بنا دیں۔3 حضرت ابو تمیم جیشانی ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حضرت عمر و بن عاص ؓ کو یہ خط لکھا: اَما بعد! مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے ایک منبر بنایا ہے۔ (جب تم) اس پر (بیان کرتے ہو تو) تم لوگوں کی گردنوں سے بلند ہو جاتے ہو۔ کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ تم (زمین پر) کھڑے ہو کر بیان کرو۔ اس طرح مسلمان تمہاری ایڑیوں کے نیچے ہوں گے۔ میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم اسے توڑ دو۔ 4 حضرت ابو عثمان ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ آذر بائیجان میں تھے۔ وہاں حضرت عمر ؓ نے ہمیں یہ خط لکھا: اے عتبہ بن فرقد! یہ ملک و مال تمہیں تمہاری محنت سے نہیں ملا، اور نہ ہی تمہارے ماں باپ کی محنت سے ملا ہے۔ اس لیے تم اپنے گھر میں جو چیز پیٹ بھر کر کھاتے ہو وہی چیز سارے مسلمانوں کو ان کے گھروں میں پیٹ بھر کر کھلائو، اور ناز و نعمت کی زندگی سے اور مشرکین جیسی ہیئت اختیارکرنے سے اورریشم پہننے سے بچو۔1 حضرت عروہ بن رُوَیم ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ لوگوں کے حالات کا جائزہ لے رہے تھے۔ان کے پاس سے حمص کے لو گ گزرے۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا: تمہارے امیر (حضرت عبد اللہ بن قرط ؓ) کیسے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: بہترین امیر ہیں، بس ایک بات ہے کہ انھوںنے ایک بالاخانہ بنا لیا ہے جس میں رہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے اس امیر کو خط لکھا اور اپنا قاصد بھی ساتھ بھیجا اور اس قاصد کو حکم دیا کہ وہا ں جاکر اس بالاخانہ کو جلا دے۔ جب وہ قاصد وہاں پہنچا تو اس نے لکڑیاں جمع کرکے اس بالاخانہ کے دروازے کو آگ لگا دی۔ جب یہ بات اس امیر کو بتائی گئی تو اس نے کہا: اسے کچھ مت کہو، یہ (امیر المؤمنین کا بھیجا ہوا) قاصد ہے۔ پھر اس قاصد نے ان کو (حضرت عمر) کا خط دیا۔ وہ خط پڑھتے ہی سوار ہو کر حضرت عمر کی طرف چل دیے۔ جب حضرت عمر نے ان کو دیکھا تو ان سے فرمایا: (مدینہ سے باہر پتھریلے میدان) حَرَّہ میں میر ے پاس پہنچ جاؤ۔ حرّہ میں صدقہ کے اونٹ تھے۔ (جب وہ حَرَّہ حضرت عمر کے پاس پہنچ گئے تو ان سے) حضرت عمر نے فرمایا: اپنے کپڑے اُتار دو۔ (انھوں نے کپڑے اُتار دیے) حضرت عمر نے ان کو اونٹ کے اُون کی چادر پہننے کے لیے دی (جسے انھوں نے پہن لیا)۔ پھر ان سے فرمایا: (اس کنوئیں سے) پانی نکالو اور ان اونٹوں کو پانی پلاؤ۔ وہ یوں ہی ہاتھ سے کنوئیں سے پانی نکالتے رہے یہاں تک کہ تھک گئے۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا: دنیا میں اور کتنا عرصہ رہو گے؟ انھوں نے کہا: بس تھوڑا ہی عرصہ۔ فرمایا: بس اس (مختصر سی زندگی) کے لیے تم نے وہ بالاخانہ بنایا تھا جس کی وجہ سے تم مسکین، بیوہ اور یتیم انسانوں (کی پہنچ) سے اوپر ہوگئے تھے۔ جاؤ اپنے کام پر واپس جاؤ اور آیندہ ایسا نہ کرنا۔1 حضرت عَتَّاب بن رِفَاعہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کو یہ خبر ملی کہ حضرت سعد ؓ نے ایک محل بنوایا ہے اور ا س پر دروازہ بھی لگوایا ہے اور یہ بھی کہاہے کہ اب (بازار کا) شور آنا ختم ہوگیا ہے۔ (یہ محل انھوں نے اسی وجہ سے بنایا تھا کہ بازار کی آوازیں بہت آتی تھیں جس کی وجہ سے یہ کام صحیح طرح نہیں کرسکتے تھے) چناںچہ حضرت عمر نے حضرت محمد بن مَسْلَمَہ ؓ کو بھیجا اور جب بھی حضرت عمر کو اپنی مرضی کے مطابق کام کروانا ہوتا تھا تو ان کو ہی بھیجا کرتے تھے۔ اور ان سے فرمایا: سعد کے پاس جاؤ اور ان (کے محل) کا دروازہ جلادو۔ چناںچہ حضرت محمد کوفہ پہنچ گئے اور حضرت سعد کے دروازے پر پہنچتے ہی اپنی چقماق نکالی اور اس سے آگ جلائی، پھر دروازہ کو آگ لگادی۔ لوگوں نے آکر حضرت سعد کو اس کی اطلاع دی اور آگ لگانے والے کا حلیہ بیان کیا تو حضرت سعد ان کو پہچان گئے اور ان کے پاس باہر آئے۔ حضرت محمد نے ان سے کہا: امیر المؤمنین کو آپ کی طرف سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہاہے کہ اب شور آنا ختم ہوگیا ہے۔ حضرت سعد نے اللہ کی قسم کھا کر کہاکہ انھوں نے یہ بات نہیںکہی ہے۔ حضرت محمد نے کہا: ہمیں تو جو حکم دیا گیا وہ کر رہے ہیں، اور اب آپ جو کہہ رہے ہیں وہ آپ کی طرف سے (امیر المؤمنین کو) پہنچا دیں گے۔ حضرت سعد حضرت محمد کو راستہ کے لیے توشہ پیش کرنے لگے، لیکن حضرت محمد نے لینے سے انکار کردیا اور اپنی سواری پر سوار ہو کر چل دیے اور مدینہ منوّرہ پہنچ گئے۔ جب حضرت عمر ؓ نے ان کو دیکھا تو فرمایا: (تم بڑی جلدی واپس آگئے ہو) اگر ہمیں تمہارے ساتھ حسنِ ظن نہ ہوتا تو ہم یہی سمجھتے کہ تم نے کام پورا نہیں کیا۔ حضرت محمد نے کہا: میں نے سفر بہت تیزی سے کیاہے اور آپ نے جس کام کے لیے بھیجا تھا وہ بھی میںنے پوراکر دیا ہے، اور حضرت سعد معذرت کر رہے تھے اور قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ انھوں نے یہ بات نہیں کہی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا حضرت سعد نے تم کو سفر کے لیے توشہ دیا تھا؟ حضرت محمد نے کہا: نہیں، لیکن آپ نے مجھے توشہ کیوں نہیں دیا؟ حضرت عمر نے فرمایا: میں نے اس بات کو برا سمجھا کہ تمہارے لیے توشہ کا حکم دوں کہ اس طرح تمہیں تو دنیا میں توشہ مل جائے گا لیکن میری آخرت میں پکڑ ہوجائے گی، کیوںکہ میرے اِردگرد مدینہ والے ہیںجو بے چارے بھوک سے مر رہے ہیں۔ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیںسنا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ مؤمن خود تو اپنا پیٹ بھرلے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔ 1 حضرت ابو بکرہ اور حضرت ابو ہریرہ ؓ اسی حدیث کو مختصر طور سے نقل کرتے ہیں اور اس میں یہ مضمون ہے کہ حضرت عمر ؓکو یہ خبر ملی کہ حضرت سعد ؓ نے اپنا دربان مقرر کرلیا ہے اور لوگوں سے الگ رہتے ہیں اور اپنا دروازہ بند رکھتے ہیں۔ اس پر حضرت عمرنے حضرت عمار بن یاسر ؓ کو بھیجا اور ان سے فرمایا: جب تم وہاں پہنچو اور تم کو حضرت سعد کا دروازہ بند ملے تو تم اس کو آگ لگا دینا۔2 حضرت ابو الدرداء ؓ نے حضرت عمر ؓ سے ملکِ شام جانے کی اجازت مانگی۔ حضرت عمر نے فرمایا: صرف اس شرط پر اجازت دے سکتا ہوں کہ تم وہاں جاکر کسی شہر کے گورنر بن جاؤ۔ حضرت ابو الدرداء نے کہا: میں گورنر بننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: پھر میں اجازت نہیں دیتا۔ حضرت ابو الدرداء نے کہا: میں وہاں جاکر لوگوں کو ان کے نبی ﷺ کی سنت سکھاؤں گا اور انھیں نماز پڑھاؤں گا۔ اس پر حضرت عمر نے ان کو اجازت دے دی (اور وہ ملکِ شام چلے گئے۔ اس کے کچھ عرصہ کے بعد) حضرت عمر ملکِ شام تشریف لے گئے۔ جب حضرات صحابۂ کرام کے قریب پہنچے توحضرت عمر رک گئے یہاںتک کہ شام ہوگئی۔ جب رات کا اندھیرا چھا گیا تو (اپنے دربان سے) فرمایا: اے یرفا! حضرت یزید بن ابی سفیان ؓ کے پاس لے چلو ، اور ان کو دیکھو! ان کے پاس مجلس جمی ہوئی ہوگی اور چراغ جل رہا ہوگا اور مسلمانوں کے مالِ غنیمت میں سے لے کر ریشم اور دیباج بچھا رکھا ہوگا۔ (ان حضرات کے ریشم کوبچھانے کی وجہ یہ تھی کہ اول تو ان حضرات کا ملکِ شام میں قیام عارضی تھا، وہاں ٹھہرنے کے جو پہلے سے انتظامات تھے ان ہی میں چند دن ٹھہر کر انھیں آگے جاناتھا۔ دوسرے ہوسکتا ہے کہ اس کا تانا ریشم کا ہو اور بانا سوتی وغیرہ حلال دھاگے کا ہو۔ تیسرے اگر وہ مکمل ریشم ہی کا تھا تو بعض صحابۂ کرام ؓ ریشم کے بچھانے کو جائز سمجھتے تھے۔ البتہ ریشم کے پہننے کے حرام ہونے میں کوئی اختلاف نہیں تھا) تم انھیں سلام کرو گے وہ تمہارے سلام کا جواب دیں گے، تم ان سے اندر آنے کی اجازت مانگوگے وہ پہلے یہ پوچھیں گے کہ تم کون ہو، پھر تم کو اجازت دیں گے۔ چناںچہ ہم لوگ وہاں سے چلے اور حضرت یزید کے دروازے پر پہنچے۔ حضرت عمر نے کہا: السلام علیکم۔ حضرت یزید نے کہا: وعلیکم السلام۔ حضرت عمر نے کہا: میں اندر آجاؤں؟ انھوں نے کہا: آپ کون ہیں؟ حضرت یرفا نے کہا: یہ وہ ہستی ہے جو تمہارے ساتھ ناگوار سلوک کرے گی، یہ امیر المؤمنین ہیں۔ حضرت یزید نے دروازہ کھولا۔ (حضرت عمر اور حضرت یرفا اندر داخل ہوئے) ان حضرات نے دیکھا کہ مجلس جمی ہوئی ہے، چراغ جل رہا ہے، ریشم اور دیباج بچھا ہواہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اے یرفا! جلدی سے دروازہ بند کرو، دروازہ بند کرو۔ اور ایک کوڑا حضرت یزید کی کنپٹی پر رسید کیا اور سارا سامان سمیٹ کر گھر کے درمیان رکھ دیا اور ان لوگوں سے کہا: میرے واپس آنے تک تم میں سے کوئی بھی اس جگہ سے نہ ہلے، سب یہیں رہیں۔ پھر یہ دونوں حضرات حضرت یزید کے پاس سے باہر آئے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اے یرفا ! آؤ چلیں۔ حضرت عمر و بن عاص ؓ کے پاس چلتے ہیں اور ان کو دیکھتے ہیں۔ ان کے پاس بھی مجلس جمی ہوئی ہوگی اور چراغ جل رہا ہوگا اور مسلمانوں کے مالِ غنیمت میں سے دیباج بچھا رکھا ہوگا۔ تم انھیں سلام کروگے وہ تمہارے سلام کا جواب دیں گے، پھر تم ان سے اندر آنے کی اجازت مانگو گے وہ اجازت دینے سے پہلے پوچھیں گے کہ تم کون ہو۔ چناںچہ حضرت عمروکے دروازے پر پہنچے۔ حضرت عمر نے فرمایا: السلام علیکم۔ حضرت عمرو نے جواب دیا: وعلیکم السلام۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیامیںاندرآجاؤں؟ حضرت عمرو نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ حضرت یرفا نے کہا: یہ وہ ہستی ہے جو تمہارے ساتھ ناگوار سلوک کرے گی، یہ امیر المؤمنین ہیں۔ حضرت عمرو نے دروازہ کھولا۔ (یہ دونوں حضرات اندر گئے) اندر جا کر ان حضرات نے دیکھا کہ مجلس لگی ہوئی ہے اور چراغ جل رہا ہے او رریشم اور دیباج بچھا رکھا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اے یرفا! جلدی سے دروازہ بند کرو، دروازہ بند کرو۔ پھر ایک کوڑا حضرت عمرو کی کنپٹی پر رسید کیا پھر سارا سامان سمیٹ کر گھر کے درمیان رکھ دیا۔ پھر ان لوگوں سے فرمایا: میرے واپس آنے تک تم میں سے کوئی بھی اپنی جگہ سے نہ ہلے، سب یہیں رہیں۔ پھر یہ دونوں حضرات حضرت عمرو کے پاس سے باہر آئے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اے یرفا! آؤچلیں۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ کے پاس چلتے ہیں اور ان کو دیکھتے ہیں۔ ان کے پاس مجلس جمی ہوئی ہوگی اور چراغ جل رہا ہوگا اور مسلمانوں کے مالِ غنیمت میں سے اُونی کپڑا بچھا رکھا ہوگا۔ تم ان سے اندر آنے کی اجازت مانگو گے وہ اجازت دینے سے پہلے معلوم کریں گے کہ تم کون ہو؟ چناںچہ ہم ان کے پاس گئے تو وہاں بھی مجلس جمی ہوئی تھی، چراغ جل رہا تھا اور اُونی کپڑا بچھا رکھا تھا۔حضرت عمر نے ان کی کنپٹی پر ایک کوڑا رسید کیا اور فرمایا: اے ابو موسیٰ! تم بھی (یہاں آکر بدل گئے ہو اور وہی کر رہے ہو جو دوسرے کر رہے ہیں)۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: میں نے تو کم کیا ہے، میرے ساتھیوں نے جو کچھ کرلیا ہے آپ وہ دیکھ ہی چکے ہیں (وہ میرے سے زیادہ ہے)۔ اللہ کی قسم! مجھے بھی اتنا ملا جتنا میرے ساتھیوں کو ملا۔ حضرت عمر نے فرمایا: پھر یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا کہ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ اتنا کرنے سے ہی (امارت کا) کام ٹھیک چلے گا۔ پھر حضرت عمر نے سارا سامان سمیٹ کر گھر کے بیچ میں رکھ دیا اور ان لوگوں سے فرمایا: میرے واپس آنے تک تم میں سے کوئی بھی یہاں سے باہر نہ جائے، سب یہیں رہیں۔ جب ہم ان کے پاس سے باہر آئے تو حضرت عمر نے فرمایا: اے یرفا! آؤ ہم اپنے بھائی (حضرت ابو الدرداء ؓ) کے پاس چلیںاور ان کو دیکھیں۔ نہ ان کے ہاں مجلس لگی ہوئی ہوگی، نہ چراغ ہوگا اور نہ ان کے دروازے کو بند کرنے کی کوئی چیز کنڈی وغیرہ ہوگی، کنکریاں بچھا رکھی ہوں گی، پالان کے نیچے ڈالنے والے کمبل کو تکیہ بنا رکھا ہوگا، ان پر پتلی چادر ہوگی جس میں انھیں سردی لگ رہی ہوگی، تم انھیں سلام کرو گے وہ تمہارے سلام کاجواب دیں گے، پھر تم ان سے اندر آنے کی اجازت مانگو گے وہ یہ معلوم کیے بغیر ہی تم کو اجازت دے دیں گے کہ تم کون ہو؟ چناںچہ ہم دونوںچلے یہاں تک کہ حضرت ابو الدرداء کے دروازے پرپہنچ کر حضرت عمر نے فرمایا: السلام علیکم۔ حضرت ابو الدرداء نے کہا: وعلیک السلام۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا میں اندر آجاؤں؟ انھوں نے کہا: آجائیں۔ حضرت عمر نے دروازہ کو دھکا دیا تو اس کی کنڈی نہیں تھی۔ ہم اندر گئے تو کمرہ میں اندھیرا تھا۔ حضرت عمر ان کو (اندھیرے کی وجہ سے) ٹٹولنے لگے یہاں تک کہ ان کا ہاتھ حضرت ابو الدرداء کو لگ گیا۔ پھر ان کے تکیہ کو ٹٹولا تو وہ پالان کا کمبل تھا، پھر ان کے بچھونے کو ٹٹولا تو وہ کنکریاں تھیں، پھر ان کے اوپر کے کپڑے کو ٹٹولا تو وہ باریک سی چادر تھی۔ حضرت ابو الدرداء نے کہا: یہ کون ہے؟ کیا یہ امیر المؤمنین ہیں؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت ابو الدرداء نے کہا: اللہ کی قسم! آپ بڑی دیر سے آئے ہیں، میں سال بھر سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! کیا میں نے آپ پر وسعت نہیں کی؟ او ر کیا میں نے آپ کے ساتھ فلاں فلاں احسان نہیں کیے؟ حضرت ابو الدرداء نے کہا: اے عمر! کیا آپ کو وہ حدیث یاد نہیں ہے جو حضور ﷺ نے ہم سے بیان کی تھی۔ حضرت عمر نے پوچھا: کون سی حدیث؟ انھوں نے کہا: حضور ﷺ نے فرمایا تھا تم میں سے ایک آدمی کے پاس زندگی گزارنے کا اتنا سامان ہونا چاہیے جتنا سوار کے پاس سفر کا توشہ ہوتا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: ہاں (یاد ہے)۔ حضرت ابو الدرداء نے کہا: اے عمر! حضور ﷺ کے بعد ہم نے کیا کیا؟ پھر دونوں ایک دوسرے کو حضور ﷺ کی باتیں یاد دلا کر صبح تک روتے رہے۔1