خُلَفَا اور اُمرَا کا احترام کرنا اور اُن کے احکامات کی تعمیل کرنا
امیر کے سامنے حق بات کہنا اور جب وہ اللہ کے حکم کے خلاف کوئی حکم دے تو اس کے حکم کو ماننے سے انکار کر دینا
کوئی حکم دے تو اس کے حکم کو ماننے سے انکار کر دینا
حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے ایک مرتبہ حضرت اُبی بن کعب ؓ کی (پڑھی ہوئی)ایک آیت کا انکار کیا (کہ یہ قرآن میں نہیںہے، یا قرآن میں اس طرح نہیں ہے)۔ حضرت اُبی نے کہا: میں نے اس آیت کو حضور ﷺ سے سنا ہے اور تم تو بَقِیْع بازار میں خرید وفروخت میں مشغول رہا کرتے تھے (اس لیے تمہیں یہ آیت حضور ﷺ سے سننے کا موقع نہیں ملا)۔ حضرت عمر نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا، میں نے تمہاری آیت کا قصداً اِنکار تم لوگوں کو آزمانے کے لیے کیا تاکہ پتہ چلے کہ تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جو (امیر کے سامنے) حق بات کہہ سکے ۔ اس امیر میں کوئی خیر نہیں ہے جس کے سامنے حق بات نہ کہی جا سکے اور نہ وہ خود حق بات کہہ سکے۔3
حضرت ابو مِجْلَز ؓکہتے ہیں: حضرت اُبی بن کعب ؓ نے یہ آیت پڑھی: {مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْھِمُ الْاَوْلَیٰنِ} تو حضرت عمر نے ان سے فرمایا: تم نے غلط پڑھا۔ حضرت اُبی نے کہا: (میں نے ٹھیک پڑھا ہے) آپ کی غلطی زیادہ ہے۔ کسی آدمی نے (حضرت اُ بی سے کہا): آپ امیر المؤمنین (کی بات) کو غلط کہہ رہے ہیں۔ حضرت اُبی نے کہا: میں تم سے زیادہ امیرالمؤمنین کی تعظیم کرنے والا ہوں، لیکن چوںکہ ان کی بات قرآن کے خلاف تھی اس وجہ سے میں نے قرآن کے مقابلہ میں ان کی بات کو غلط کہا ہے، اور یہ نہیں ہو سکتا کہ میں قرآن کو غلط کہوں اور امیر المؤمنین کی (غلط )بات کو ٹھیک کہوں ۔ حضرت عمر نے فرمایا: حضرت اُبی ٹھیک کہتے ہیں۔1
حضرت نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ ایک مجلس میں تھے اور ان کے اِردگرد حضراتِ مہاجرین اور اَنصار بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا: ذرا یہ بتانا کہ اگر میں کسی کام میں ڈھیل برتوں تو تم کیا کرو گے؟ تمام حضرات اَدباًخاموش رہے۔ حضرت عمر نے اپنی اس بات کو دو تین مرتبہ دہرایا تو حضرت بشیر بن سعد نے فرمایا: اگر آپ ایسا کریں گے تو ہم آپ کو ایسا سیدھا کردیں گے جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے۔ اس پر حضرت عمر نے (خوش ہو کر) فرمایا: پھر تو تم لوگ ہی (امیر کی مجلس میں بیٹھنے کے قابل ہو) پھر تو تم لوگ ہی (امیر کی مجلس کے قابل ہو)۔ 2
حضرت موسیٰ بن ابی عیسیٰ ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ قبیلہ بنو حارثہ کی پانی کی سبیل کے پاس آئے ، وہاں انھیں حضرت محمد بن مَسْلَمہ ؓ ملے۔ حضر ت عمر نے فرمایا: اے محمد! مجھے کیسا پاتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو ویسا پاتا ہوں جیسا میں چاہتا ہوں اور جیسا ہر وہ آدمی چاہتا ہے جو آپ کے لیے بھلا چاہتا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ مال جمع کرنے میں خوب زور دار ہیں، لیکن آپ خود مال سے بچتے ہیں اور اسے انصاف سے تقسیم کرتے ہیں۔ اگر آپ ٹیڑھے ہو گئے تو ہم آپ کو ایسا سیدھا کر دیں گے جیسے اَوزار سے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے۔ حضرت عمر نے (خوش ہو کر) فرمایا: اچھا (تم مجھے کہہ رہے ہو کہ) اگر آپ ٹیڑھے ہو گئے تو ہم آپ کو سیدھا کر دیں گے جیسے اَوزار سے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے۔ پھر فرمایا: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسے لوگوں میں (امیر) بنا یا کہ میں اگر ٹیڑھا ہو جائوں تو وہ مجھے سیدھا کر دیں۔1
حضرت ابوقَبِیْل کہتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ جمعہ کے دن منبر پر چڑھے اور اپنے خطبہ میں فرمایا: یہ اجتماعی مال ہمارا ہے، اور خراج کا مال اور لڑے بغیر ملنے والا مالِ غنیمت بھی ہمارا ہے، جسے چاہیں گے دیں گے اور جسے چاہیں گے نہیں دیں گے۔ اس پر کسی نے کچھ نہیں کہا۔ اگلے جمعہ کو بھی انھوں نے (خطبہ میں) یہی بات کہی، پھر کسی نے کچھ نہیںکہا۔ جب تیسرا جمعہ آیا تو انھوں نے خطبہ میں پھر وہی بات کہی تو حاضرینِ مسجد میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ہر گز نہیں،یہ (اجتماعی) مال ہمارا ہے، اور یہ خِراج کا مال اور مالِ غنیمت ہمارا ہے، لہٰذا جو ہمارے اور اس کے درمیان حائل ہوگا ہم اپنی تلواروں سے اس کو اللہ کے فیصلہ کی طرف لے جائیں گے۔ حضرت معاویہ (منبر سے) نیچے اُتر آئے اور اس آدمی کو بلانے کے لیے پیغام بھیج دیا۔ (اور جب وہ آگیا تو) اسے اندر بلا لیا۔ لوگ کہنے لگے: یہ آدمی تو ہلاک ہو گیا۔ پھر لوگ اندر گئے تو انھوں نے دیکھا کہ وہ آدمی تو حضرت معاویہ کے ساتھ تخت پر بیٹھا ہوا ہے۔
حضرت معاویہ نے لوگوں سے کہا: اس آدمی نے مجھے زندہ کردیا، اللہ اسے زندہ رکھے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے بعد ایسے امیر ہوں گے کہ اگر وہ کوئی (غلط) بات کہیں گے توکوئی ان کی تردید نہ کر سکے گا۔ وہ آگ میں ایک دوسرے پر ایسے اندھا دُھند گریں گے جیسے (کسی درخت کے اوپر سے) بندر ایک دوسرے پر چھلانگ لگاتے ہیں۔ چناںچہ میں نے پہلے جمعہ کو یہ (غلط) بات (قصداً) کہی تھی۔ کسی نے میری تردید نہیں کی، جس سے مجھے ڈر ہوا کہ کہیں میں (آگ میں گرنے والے) ان امیروں میں سے نہ ہوں۔ پھر میں نے دوسرے جمعہ کو وہی بات دوبارہ کہی تو پھر کسی نے میری تردید نہ کی۔ اس پر میں نے اپنے دل میں کہا: میں تو ضرور ان ہی امیروں میں سے ہو ں۔ پھر میں نے تیسرے جمعہ کو وہی بات تیسری مرتبہ کہی تو اس آدمی نے کھڑے ہو کر میری تردید کی۔ اس طرح اس نے مجھے زندہ کر دیا، اللہ تعالیٰ اسے زندہ رکھے۔1
حضرت خالد بن حکیم بن حِزام ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو عبیدہ ؓ ملکِ شام کے گورنر تھے۔ انھوں نے ایک مقامی ذِمی (کافر) کو (جزیہ نہ دینے پر) سزا دی۔ حضرت خالد (بن الولید ؓ) نے کھڑے ہو کر حضرت ابو عبیدہ سے (سزا دینے کے بارے میں) بات کی۔ لوگوں نے حضرت خالد سے کہا: آپ نے تو امیر کو ناراض کر دیا۔ انھوں نے کہا: میرا ارادہ تو انھیں ناراض کرنے کا نہیں تھا، بلکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں ایک حدیث سنی تھی وہ حدیث انھیں بتانا چاہتا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو دنیا میں لوگوں کو سب سے زیادہ سزا دیں گے۔ 2
حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: زِیاد نے حضرت حکم بن عمرو غِفاری ؓکو (لشکر کا ا میر بناکر) خراسان بھیجا۔ ان کو وہاں بہت سا مالِ غنیمت ملا۔ زِیاد نے ان کویہ خط لکھا:
اَمابعد! امیر المؤمنین (حضرت معاویہ ؓ) نے (مجھے) یہ لکھا ہے کہ مالِ غنیمت میں سے سارا سونا چاندی ان کے لیے الگ کر لیا جائے، لہٰذا آپ سونا چاندی مسلمانوں میں تقسیم نہ کریں۔
حضرت حَکم نے جواب میں زِیاد کو یہ خط لکھا:
اَما بعد! تم نے مجھے خط لکھا ہے جس میں تم نے امیر المؤمنین کے خط کا تذکرہ کیاہے، لیکن مجھے اللہ کی کتاب امیر المؤمنین کے خط سے پہلے مل چکی ہے (اور امیر المؤمنین کا خط اللہ کے حکم کے خلاف ہے، اس لیے میں اسے نہیں مان سکتا)۔اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر سارے آسمان اور زمین کسی بندے پر بند ہوجائیں، اور وہ آدمی اللہ سے ڈرتا رہے تواللہ تعالیٰ اس کے لیے ان کے درمیان میں سے نکلنے کا راستہ ضرور بنا دیں گے۔ والسلا م۔
اور حضرت حَکم نے ایک آدمی کو حکم دیا اس نے مسلمانوں میں یہ اعلان کیا کہ صبح اپنا مالِ غنیمت لینے کے لیے آجاؤ۔ (چناںچہ لوگ صبح آئے) اور انھوں نے مسلمانوں میں وہ سارا مالِ غنیمت (سونے چاندی سمیت) تقسیم کردیا۔ جب حضرت معاویہ کو پتہ چلاکہ حضرت حَکم نے مالِ غنیمت سارا تقسیم کردیاہے تو انھوں نے آدمی بھیجے جنھوں نے حضرت حَکم کے پائوں میں بیڑیاں ڈال کر قید کر دیا۔ اسی قید میں ان کا انتقال ہوا اور ان کو خراسان ہی میں دفن کیا گیا۔ انھوں نے یہ بھی فرما یا تھا کہ میں (اس بارے میں حضرت معاویہ ؓ سے اللہ کے ہاں) جھگڑا کروں گا۔1
ابنِ عبد البر نے اسی جیسی حدیث ذکر کی ہے، لیکن اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت حَکم نے مسلمانوں میں مالِ غنیمت تقسیم کر دیا اور اللہ سے یہ دعا مانگی کہ اے اللہ! (ان حالات میں) اگر تیرے پاس میرے لیے خیر ہو تو تُو مجھے اپنی طرف بلالے۔ چناںچہ ان کا علاقۂ خراسان کے مَرْو شہر میں انتقال ہوگیا ۔2
اور’’اِصابہ‘‘ میں یہ ہے کہ صحیح بات یہ ہے کہ جب اُن کے پاس زِیاد کی ناراضگی کا خط آیا تو انھوں نے اپنے لیے (مرنے کی) دعا کی اور ان کا انتقال ہوگیا۔3
حضرت ابراہیم بن عطاء اپنے والد (حضرت عطاء) سے نقل کرتے ہیں کہ زِیاد یا ابنِ زِیاد نے حضرت عمران بن حصین ؓ کو صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب وہ واپس آئے تو ایک درہم بھی لے کر نہ آئے تو ان سے زِیاد یا ابنِ زِیاد نے کہا: مال کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے مجھے مال کے لیے بھیجا تھا؟ حضور ﷺ کے زمانہ میں جیسے ہم صدقات لیا کرتے تھے ویسے ہم نے صدقات لیے اور حضور ﷺ کے زمانہ میں جہاں خرچ کیا کرتے تھے وہاں ہم نے خرچ کر دیے (یعنی وہاں کے مستحقین میں تقسیم کر دیے)۔ 4