خُلَفَا اور اُمرَا کا احترام کرنا اور اُن کے احکامات کی تعمیل کرنا

امیر کے سامنے زبان کی حفاظت کرنا

حضرت عُروہ ؓ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر بن خطّاب ؓ کی خدمت میں آیا اور میں نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! (یہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی کنیت ہے) ہم اپنے ان امیروں کے پاس بیٹھتے ہیں، اور وہ کوئی بات کہتے ہیں، اور ہمیں معلوم ہے کہ (یہ بات غلط ہے اور) صحیح بات کچھ اور ہے، لیکن ہم ان کی بات کی تصدیق کر دیتے ہیں اور وہ لوگ ظلم کا فیصلہ کرتے ہیںاور ہم ان کو تقویت پہنچاتے ہیں اور ان کے اس فیصلے کو اچھا بتاتے ہیں، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ انھوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! ہم تو حضورِ اکرم ﷺ کے زمانہ میںاسے نفاق شمار کرتے تھے (کہ دل میں کچھ اور ہے اور زبان سے کچھ اور ظاہر کر رہا ہے) لیکن مجھے پتہ نہیں تم لوگ اسے کیا سمجھتے ہو؟ (یعنی امیر کے سامنے حق بات نہ کہہ سکے تو اس کے غلط کو بھی صحیح تو نہ کہے) 1 (حضرت عاصم کے والد) حضرت محمد ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابنِ عمر ؓ سے کہا: ہم اپنے بادشاہ کے پاس جاتے ہیں اور ہم کو اس کے سامنے (اس کی وجہ سے) کچھ ایسی باتیں زبان سے کہنی پڑتی ہیںکہ اس کے پاس سے باہر آکران کے خلاف کہتے ہیں۔ حضرت ابنِ عمر نے کہا: ہم اسے نفاق شمار کرتے تھے۔2 امام بخاری نے حضرت محمد بن زید ؓ سے اس جیسی حدیث روایت کی ہے، جس میں یہ مضمون بھی ہے کہ ہم اسے حضورِ اقدس ﷺ کے زمانے میں نفاق شمار کرتے تھے۔ 3 حضرت مجاہد ؓ کہتے ہیں: ایک آدمی حضرت ابنِ عمر ؓ کے پاس آیا تو اس سے حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: تمہارا حضرت ابو اَنیس (ضحّاک بن قیس) کے ساتھ کیسا رویہ ہے؟ اس نے کہا: جب ہم ان سے ملتے ہیںتو ہم ان کے سامنے وہ بات کہتے ہیں جو اُن کو پسند ہو، اور جب ان کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو پھر کچھ اور کہتے ہیں۔ حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: حضور ﷺ کے زمانہ میں تو ہم اسے نفاق شمار کیاکرتے تھے۔4 حضرت شَعبی ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابنِ عمر ؓ کی خدمت میںعرض کیاکہ ہم جب ان (امیروں) کے پاس جاتے ہیں تو وہ بات کہتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں، اور جب اُن کے پاس سے باہر چلے جاتے ہیں تو اس کے خلاف کہتے ہیں۔ حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: حضور ﷺ کے زمانہ میں ہم اسے نفاق شمار کرتے تھے۔5 حضرت علقمہ بن وقاص ؓ کہتے ہیں: ایک بے کار آدمی تھاجو امیروں کے پاس جاکر ان کو ہنسایا کرتا تھا۔ اس سے میرے دادا نے کہا: اے فلانے! تیرا ناس ہو۔ تم ان امیروں کے پاس جا کر کیوں ہنساتے ہو؟ (ایسا کرنا چھوڑ دو) کیوںکہ میں نے حضور ﷺ کے صحابی حضرت بلال بن حارث مُزنی ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: بعض دفعہ بندہ اللہ کی رضا والا ایک بول ایسا بول دیتاہے جس کا انسانوں پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے اور اتنا مؤثر ہونے کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا اور اس ایک بول کی وجہ سے اللہ اس سے راضی ہوجاتے ہیں اور اس سے ملاقات کے دن یعنی قیامت کے دن تک اس سے راضی رہتے ہیں۔ اور کبھی بندہ اللہ کی ناراضگی والا ایک بول ایسا بول دیتا ہے جس کا انسانوں پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے اور اسے اتنا مؤثر ہونے کاگمان بھی نہیں ہوتا، اس ایک بول کی وجہ سے اللہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں اور اس سے ملاقات کے دن یعنی قیامت کے دن تک اس سے ناراض رہتے ہیں۔1 حضرت علقمہ ؓ کہتے ہیں: حضرت بلال بن حارث مُزَنی ؓ نے ان سے فرمایا: میں نے دیکھا ہے کہ تم ان امیروں کے پاس کثرت سے جاتے ہو۔ دیکھ لو! تم ان سے کیا باتیں کرتے ہو؟ کیوںکہ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی اللہ کی رضا والا ایک بول ایسا بول دیتا ہے۔ اور پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔2 حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں: اپنے آپ کو فتنے کی جگہوں سے بچائو۔ کسی نے ان سے پوچھا: اے ابو عبد اللہ! فتنوں کی جگہیں کون سی ہیں؟ انھوں نے فرمایا: امیروں کے دروازے کہ تم میں سے ایک آدمی امیر کے پاس جاتا ہے اور اس کی غلط بات کی تصدیق کرتا ہے اور (اس کی تعریف کرتے ہوئے) ایسی خوبی کا تذکرہ کرتا ہے جو اس میں نہیں ہے۔3 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: مجھ سے میرے والد (حضرت عباس ؓ) نے فرمایا: اے میرے بیٹے! میں دیکھ رہاہوں کہ امیر المؤمنین (حضرت عمر ؓ) تمہیں بلاتے ہیں اور تمہیں اپنے قریب بٹھاتے ہیں اور حضور ﷺ کے دیگر صحابہ کے ساتھ تم سے بھی مشور ہ لیتے ہیں، لہٰذ ا تم میری تین باتیں یاد رکھنا: اللہ سے ڈرتے رہنا ، کبھی ان کے تجربہ میں یہ بات نہ آئے کہ تم نے جھوٹ بولا ہے یعنی کبھی ان کے سامنے جھوٹ نہ بولنا۔ اور ان کا کوئی راز فاش نہ کرنا۔ اور کبھی ان کے پاس کسی کی غیبت نہ کرنا۔ حضرت عامر کہتے ہیں: میں نے حضرت ابنِ عباس سے کہا: ان تین باتوں میں سے ہر بات ایک ہزار (درہم) سے بہتر ہے ۔ انھوں نے فرمایا: نہیں، ان میں سے ہر ایک دس ہزار (درہم) سے بہتر ہے۔1 حضرت شعبی ؓ کہتے ہیں: حضرت عباس ؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ ؓ سے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ آدمی یعنی حضرت عمر بن خطاب ؓ تمہارا بڑا اِکرام کرتے ہیں اور تمہیں اپنے قریب بٹھا تے ہیں اور تمہیں ان لوگوں میں یعنی ان بڑے صحابہ میں شامل کر دیا ہے کہ ان جیسے تم نہیں ہو۔ میری تین باتیں یاد رکھنا: کبھی ان کے تجربہ میں یہ بات نہ آئے کہ تم نے جھو ٹ بولا ہے، اور کبھی ان کا کوئی راز فاش نہ کرنا، اور ان کے پاس کسی کی غیبت بالکل نہ کرنا۔2