نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا

حضور ﷺ کا حضرت ذو الجوشن ضبابی ؓ کو دعوت دینا

حضرت ذُوالجوشن ضِبا بیؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ غزوۂ بدر سے فارغ ہوئے تو میں اپنی قرحاء نامی گھوڑی کا بچھیرا لے کر حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: اے محمد! میں آپ کے پاس قرحاء گھوڑی کا بچھیرا لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے اپنے استعمال کے لیے لے لیں۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، ہاں اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کے بدلہ میں بدر کی زر ہوں میں سے تمہاری پسند کی ایک زرہ دے دوں۔ میں نے کہا کہ میں اس کو آج اعلیٰ درجہ کے ایک گھوڑے کے بدلہ میں دینے کو تیار نہیں ہوں۔ آپ نے فرمایا: پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اے ذُوالجوشن!تم مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے تاکہ شروع میں اسلام لانے والوں میں سے ہوجاؤ؟ میں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا :کیوں؟ میں نے کہا :اس لیے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا ہے۔ آپ نے فرمایا: بدر میں اُن کی شکست کے بارے میں تمہیں کیسی خبر پہنچی؟ میں نے کہا: مجھے ساری خبر پہنچ چکی ہے۔ آپ نے فرمایا: ہمیں تو تمہیں اللہ کی سیدھی راہ بتانی ہے۔ میں نے کہا: مجھے منظورہے بشرطیکہ آپ کعبہ کو فتح کرکے وہاں رہنے لگ جائیں۔ آپ نے فرمایا : اگر تم زندہ رہے تو اسے بھی دیکھ لوگے ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کو فرمایا: او فلانے! اس آدمی کا تھیلا لے لو اور اس میں راستے کے لیے عجوہ کھجوریں ڈال دو۔ جب میں واپس ہونے لگا تو آپ نے (صحابہ ؓ سے) فرمایا: یہ شخص بنی عامر کے بہترین شہسواروں میں سے ہے۔ حضرت ذُوالجوشن فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں مقامِ غور میں اپنے گھر والوں میں تھا کہ اتنے میں ایک سوار آیا ۔ میں نے اس سے پوچھا: لوگوں کا کیا بنا ؟ اس نے بتایا کہ اللہ کی قسم ! محمد کعبہ پر غالب آچکے ہیں اور اس میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ تو میں نے یہ سن کر کہا :کاش! میں پیدا ہوتے ہی مرجاتا اور میری ماں کی گود مجھ سے خالی ہوجاتی ۔ کاش کہ جس روز آپ نے فرمایا تھا میں اسی روز مسلمان ہوجاتا اور پھر میں آپ سے حِیْرہ مقام بھی مانگتا تو آپ مجھے بطور جاگیر ضرور دے دیتے۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے اُن سے فرمایا: تمہیں اسلام لانے سے کون سی چیز روک رہی ہے؟ میں نے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا ہے اور آپ کو (آپ کے شہر مکہ سے) نکال دیا اور اب آپ سے جنگ کررہے ہیں ۔ میں دیکھ رہا ہوں اب آپ کیا کریں گے؟ اگر آپ ان پر غالب آگئے تو میں آپ پر ایمان لے آؤںگا اور آپ کا اتباع کروں گا، اور اگر وہ آپ پر غالب آگئے تو آپ کا اتباع نہیں کروں گا۔1