نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا حضرت عدی بن حاتم ؓ کو دعوت دینا
حضرت عدی بن حاتمؓ فرماتے ہیں کہ جب مجھے حضورﷺ کے مدینہ منورّہ ہجرت کرنے کی خبر ملی (یا آپ کے دعوائے نبوت کی خبر ملی) تو مجھے یہ بہت برا لگا۔ چناں چہ میں اپنے وطن سے نکل کر رُوم کی طرف چلاگیا، اور بعض روایات میں ہے کہ میں قیصر کے پاس چلاگیا، اور میرا یہ روم میں آکر قیصر کے پاس چلے جانا مجھے حضورﷺ کے ہجرت فرمانے سے بھی اور زیادہ برا لگا اور میں نے اپنے دل میں کہا :مجھے اس آدمی کے پاس جانا چاہیے اگر یہ جھوٹا ہوگا تو میرا نقصان نہیں کرسکے گا، اور اگر سچا ہوگا تو مجھے پتہ چل جائے گا۔
فرماتے ہیں: میں مدینہ پہنچا تو لوگ (خوش ہوکر ) کہنے لگے: عدی بن حاتم آگئے۔ چناں چہ میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے مجھ سے تین دفعہ فرمایا: اے عدی بن حاتم! مسلمان ہوجاؤ سلامتی پاؤگے۔ میں نے کہا :میں خود ایک دین پر چل رہا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: میں تمہارے دین کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ میںنے (حیران ہوکر) کہا: آپ میرے دین کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! کیا تم فرقہ رَکُوسِیَّہ میں سے نہیں ہو؟(یہ نصاریٰ اور صابئین کے درمیان کا فرقہ ہے) اور تم اپنی قوم کا چوتھائی مالِ غنیمت کھا جاتے ہو؟میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا :حالاں کہ تمہارے لیے یہ تمہارے دین میں حلال نہیں ہے۔ میں نے کہا: جی ہاں، حلال نہیں ہے۔ حضورﷺ نے اتنی ہی بات کی تھی کہ میں آپ کی بات کے سامنے جھک گیا۔
حضورﷺ نے فرمایا: اور سنو! میں اس بات کو بھی خوب جانتا ہوں جو تمہیں اسلام سے روک رہی ہے۔ تم یہ کہتے ہو کہ ان کے پیچھے چلنے والے تو کمزور قسم کے وہ لوگ ہیں جن کے پاس کوئی قوّت نہیں ہے اور تمام عرب نے ان کو الگ پھینک رکھا ہے (یا تمام عرب نے ان کو نشانہ بنا رکھا ہے)۔ کیا تم حِیْرہ شہر کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: اسے دیکھا تو نہیں ہے، البتہ اس کا نام سنا ضرور ہے۔ آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اللہ اس دین کو ضرور پورا کرکے رہیں گے۔ (اور ایسا امن و امان ہوجائے گا کہ ) پردہ نشین عورت تنِ تنہا حِیْرہ سے چلے گی اور اکیلے بیت اللہ کا طواف کرے گی اور کوئی اس کے ساتھ نہ ہوگا، اور کسریٰ بن ہُرْ مُز کے خزانے فتح کیے جائیں گے۔ میں نے (حیران ہوکر ) کہا: کسریٰ بن ہُرْ مُز کے خزانے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں! کسریٰ بن ہُرْ مُز کے خزانے، اور مال خوب خرچ کیا جائے گا حتی کہ اسے کوئی لینے والا نہ ہوگا۔
یہ قصہ سنانے کے بعد حضرت عدی بن حاتم نے فرمایا: دیکھو !یہ تنِ تنہا عورت حِیْرہ سے آرہی ہے اور اکیلی بیت اللہ کا طواف کررہی ہے اور اس کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہے۔ اور میں خود اُن لوگوں میں تھا جنہوں نے کسریٰ کے خزانے فتح کیے۔ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تیسری بات بھی ضرور ہوکر رہے گی اس لیے کہ حضورﷺ فرماچکے ہیں۔1
حضرت عدی بن حاتمؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ مقامِ عقرب میں تھے کہ حضورﷺ کا بھیجا ہوا گھوڑے سواروں کا ایک دستہ آیا جو میری پھوپھی اور کچھ لوگوں کو گرفتار کرکے لے گئے اور حضورﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔ جب یہ سب آپ کے سامنے ایک صف میںکھڑے کیے گئے تو میری پھوپھی نے عرض کیا: یا رسول اللہ!میرا مددگار نمایندہ جدا ہوگیا، اولاد ختم ہوگئی، میں خود بہت بوڑھی عمر رسیدہ ہوچکی اور مجھ سے کوئی خدمت بھی نہیں ہوسکتی، آپ مجھ پر احسان کیجیے اللہ آپ پر احسان کرے گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تمہارا مددگار نمایندہ کون ہے؟ پھوپھی نے کہا:عدی بن حاتم۔ آپ نے فرمایا:وہی جو اللہ اور رسول سے بھاگا ہوا ہے؟ پھوپھی فرماتی ہیں کہ آپ نے مجھ پر احسان فرمادیا۔ جب آپ واپس جانے لگے تو ایک آدمی آپ کے ساتھ تھا، ہمارا خیال یہ ہے کہ وہ حضرت علیؓ تھے۔ انھوں نے پھوپھی سے کہا: حضورﷺ سے سواری مانگ لو۔ پھوپھی نے حضورﷺ سے سواری مانگی، حضورﷺ نے فرمایا: ان کو سواری دے دی جائے ۔
حضرت عدی فرماتے ہیں کہ وہاں سے پھوپھی میرے پاس آئیں اور مجھ سے یہ کہا :تم نے ایسا کام کیا ہے کہ تمہارا باپ تو کبھی نہ کرتا (یعنی تم مجھے چھوڑ کر بھاگ گئے)۔ اور کہا: تمہارا دل چاہے یا ڈر کی وجہ سے نہ چاہے ان کے پاس ضرور جاؤ۔ فلاں ان کے پاس گیا اسے حضورﷺ سے خوب ملا اور فلاں گیا اسے بھی حضورﷺ سے خوب ملا۔ حضرت عدی فرماتے ہیں: (پھوپھی کے کہنے پر) میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس وقت حضورﷺ کے پاس ایک عورت اور دو بچے یا ایک بچہ بیٹھا ہوا تھا جو کہ آپ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے،(یوں عورت اور بچوں کے پاس بیٹھنے سے) میں سمجھ گیا کہ یہ کسریٰ وقیصر والی بادشاہت نہیں ہے۔ حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے عدی بن حاتم! کس وجہ سے بھاگ رہے ہو؟ کیا اس وجہ سے بھاگ رہے ہوکہ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہنا پڑے گا؟ تو کیا اللہ کے علاوہ کوئی معبود ہے؟ کس وجہ سے بھاگ رہے ہو؟ کیا اس وجہ سے بھاگ رہے ہو کہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہنا پڑے گا؟ کیا کوئی چیز اللہ عزّوجل سے بڑی ہے؟ یہ سن کر میں مسلمان ہوگیا اور میں نے دیکھا کہ (میرے اسلام لانے پر) آپ کا چہرہ کھل گیا اور آپ نے فرمایا: {الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ} جن پر اللہ ناراض ہوا وہ یہودی ہیں، اور {الضَّآلِّیْنَ} جو گمراہ ہوئے وہ نصاریٰ ہیں۔
حضرت عدی فرماتے ہیں: پھر کچھ لوگوں نے آپ سے مانگا (آپ کے پاس کچھ تھا نہیںاس لیے آپ نے صحابہ ؓکو دوسروں پر خرچ کرنے کی ترغیب دی) چناں چہ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! ضرورت سے زائد مال خرچ کرو کوئی ایک صاع، کوئی صاع سے کم، کوئی ایک مٹھی، کوئی مٹھی سے کم۔ شعبہ راوی کہتے ہیں: جہاں تک مجھے یاد ہے آپ نے یہ بھی فرمایا :کوئی ایک کھجور دے، کوئی کھجور کا ٹکڑا ۔ اور تم میں سے ہر ایک آدمی اللہ کے سامنے حاضر ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس سے یہ پوچھیں گے: جو میں تمہیں بتارہا ہوں کیا میں نے تمہیں دیکھنے اور سننے کی نعمت نہیں دی تھی؟ کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد نہیں دی تھی؟ تم نے آگے کے لیے کیا بھیجا ہے؟ یہ سن کر آدمی آگے پیچھے، دائیں بائیں دیکھے گا لیکن کچھ نہ پائے گا۔ جہنم سے صرف اللہ کی ذات کے ذریعہ سے ہی بچا جاسکتا ہے، لہٰذا آگ سے بچو اور (آگ سے بچنے کے لیے دینے کو کچھ نہ ہو تو) کھجور کا ٹکڑا ہی دے دو، اور اگر کھجور کا ٹکڑا بھی نہ ہو تو نرم بات ہی کردیا کرو۔ مجھے تم پر فقر و فاقہ کا ڈر نہیں ہے، اللہ پاک تمہاری ضرور مدد فرمائیں گے اور تمہیں بہت زیادہ دیں گے اور بہت زیادہ فتوحات کریں گے یہاں تک کہ پردہ نشین عورت تنِ تنہا حِیْرہ اور یثرِب کے درمیان یا اس سے بھی زیادہ لمبا سفر کیا کرے گی اور اسے چوری کا ڈر نہ ہوگا۔ 1