حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری

دوسرے کے مال پر غزوہ میں جانے والا

حضرت میمونہ بنتِ سعد ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں اس آدمی کے بارے میں بتائیں جو خود غزوہ میں نہ جائے اور اپنا مال دوسرے کو دے دے تاکہ وہ اس مال کو لے کر غزوہ میں چلا جائے، تو اس دینے والے کو ثواب ملے گا یا غزوہ میں جانے والے کو ملے گا؟ آپ نے فرمایا: دینے والے کو اس کے مال کا ثواب ملے گا، اور جانے والا جیسی نیت کرے گا اسے ویسا ملے گا (اگر ثواب کی نیت کرے گا تو ثواب ملے گا ورنہ صرف مال ملے گا ثواب نہیں ملے گا)۔1