نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا حضرت عمران ؓ کے والد حضرت حُصَیْن ؓ کو دعوت دینا
قریش حضرت حُصَینؓ کی بڑی تعظیم کرتے تھے۔ ایک دفعہ قریش اُن کے پاس آئے اور اُن سے کہا :آپ ہماری طرف سے جاکر اس آدمی سے بات کریں، کیوں کہ وہ ہمارے خداؤں کو برا بھلا کہتا ہے۔ چناں چہ قریش حضرت حُصَین کے ساتھ چلے اور حضورﷺ کے دروازے کے قریب آکر بیٹھ گئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: بڑے میاں (یعنی حضرت حُصَین) کے لیے جگہ خالی کردو۔ حضرت حُصَین کے صاحب زادے حضرت عمران ؓاور اُن کے بہت سے ساتھی حضورﷺ کی خدمت میں پہلے سے جمع تھے ۔ حضرت حُصَین نے کہا کہ یہ کیا ہورہا ہے کہ ہمیں آپ کی طرف سے یہ باتیں پہنچ رہی ہیں کہ آپ ہمارے خداؤں کو برا بھلا کہتے ہیں، حالاں کہ آپ کے والد تو بہت محتاط اور بھلے آدمی تھے۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: اے حُصَین! میرے والد اور تمہارے والد دونوں جہنم میں ہیں ۔ (اس روایت سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کے والد جہنم میں ہیں، لیکن دیگر روایات کی بنا پر راجح مسلک یہ ہے کہ حضورﷺ کے والدین دونوں جنتی ہیں کیوں کہ دونوں نے زمانہ ٔجاہلیت میں شرک کا گناہ بالکل نہیں کیا تھا اور ملّتِ ابراہیمی پر عمل کرنے والے تھے۔ اور حافظ سیوطی نے اپنے رسائل میں یہ تحقیق کی ہے کہ حضورﷺ کے والدین شریفین کو زندہ کیا گیا اور وہ آپ پر ایمان لائے، اس لیے یہ روایت اس سے پہلے کی ہے۔)
اے حُصَین! اچھا یہ تو بتاؤ، تم کتنے خداؤں کی عبادت کرتے ہو؟ حضرت حُصَین نے کہا: میرے سات خدا زمین پر ہیں اور ایک خدا آسمان میں ہے ۔ حضورﷺ نے فرمایا: جب تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچتا ہے تو کس خدا کوپکارتے ہو؟ حضرت حُصَین نے کہا: آسمان والے خدا کو۔ آپ نے فرمایا: جب مال ہلاک ہوجائے تو کس کو پکارتے ہو؟ حضرت حُصَین نے کہا: آسمان والے کو۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ عجیب بات ہے کہ تمہاری پکار پر وہ اکیلا تمہاری فریاد رسی کرتا ہے اور تم اس کے ساتھ اور خداؤں کو شریک کرتے ہو۔ کیا تم آسمان والے خدا کی رضا و اجازت سے ان دیوتاؤں کو شریک کرتے ہو یا ان دیوتاؤں سے ڈرتے ہو کہ اگر تم ان کو شریک نہیں کروگے تو وہ تم پر غالب آجائیں گے؟حضرت حُصَین نے کہا: ان دونوں باتوں میں سے کوئی بھی بات نہیں ہے۔ حضرت حُصَین کہتے ہیں کہ ا س وقت مجھے پتہ چلا کہ آج تک ان جیسی بڑی ہستی سے میں نے بات نہیں کی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے حُصَین! مسلمان ہوجاؤ سلامتی پالوگے۔ حضرت حُصَین نے کہا: میری قوم ہے اورمیرا خاندان ہے (اگر اسلام لاؤں گا تو اُن سے مجھے خطرہ ہے)،اس لیے اب میں کیا کہوں ؟ آپ نے فرمایا: یہ دعا پڑھو:
{اَللّٰہُمَّ أَسْتَہْدِیْکَ لِأَرْشَدِ أَمْرِيْ وَزِدْنِيْ عِلْمًا یَّنْفَعُنِيْ}
جس کا ترجمہ یہ ہے: اے اللہ میں اپنے معاملہ میں زیادہ رُشد و ہدایت والے راستے کی آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں، اور مجھے علمِ نافع اور زیادہ عطا فرما۔
چناں چہ حضرت حُصَین نے یہ دعا پڑھی اور اسی مجلس میں اٹھنے سے پہلے ہی مسلمان ہوگئے۔ یہ دیکھتے ہی حضرت عمران نے کھڑے ہوکر اپنے والد حضرت حُصَینؓ کے سر، ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لیا۔ جب حضورﷺ نے یہ منظر دیکھا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا: عمران کے رویہ کی وجہ سے مجھے رونا آگیا کہ اُن کے والد حُصَین جب اندر آئے تو وہ کافر تھے، اس وقت عمران اُن کے لیے نہ کھڑے ہوئے اور نہ اُن کی طرف متوجہ ہوئے، لیکن جب وہ مسلمان ہوگئے تو فوراً اُن کا حق اداکردیا، اس کی وجہ سے مجھ پر رِقّت طاری ہوئی۔جب حضرت حُصَین باہر جانے لگے تو حضورﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا: اٹھو اور انھیں اُن کے گھر تک پہنچا آؤ۔ حضرت حُصَین جوں ہی دروازے سے باہر آئے تو قریش نے دیکھتے ہی کہا: یہ تو بے دین ہوگیا اور سارے قریش انھیں چھوڑ کر اِدھر اُدھر بکھرگئے ۔ 1