نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا حضرت ضماد ؓ کو دعوت دینا
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضرت ضِماد ؓ مکہ میں آئے اور یہ قبیلہ اَزد شنوء ہ میں سے تھے اور یہ پاگل پن اور جنات کے اثرات وغیرہ کا جھاڑ پھونک کے ذریعہ علاج کیا کرتے تھے۔ انھوں نے مکہ کے چند بے وقوفوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ محمد (نعوذ باللہ!) دیوانے ہیں۔ حضرت ضماد نے کہا: یہ آدمی کہاں ہے؟ شاید اللہ تعالیٰ اس کو میرے ہاتھوں شفا عطا فرمادے۔ حضرت ضِماد کہتے ہیں: میری حضورﷺ سے ملاقات ہوئی۔ میں نے اُن سے عرض کیا: میں ان خارجی اثرات کا جھاڑ پھونک سے علاج کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے میرے ہاتھوں شفا عطا فرمادیتے ہیں، تو آؤ میں آپ کا بھی علاج کروں۔ اس پر حضور ﷺ نے خطبہ مسنونہ کا ابتدائی حصہ تین مرتبہ پڑھ کر سنایا، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ جس کو اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔
حضرت ضِماد ؓ نے خطبہ سن کر کہا : اللہ کی قسم!میں نے کاہنوں اور جادوگروں اور شاعروں کے کلام کو بہت سنا ہے، لیکن ان جیسے کلمات کبھی نہیں سنے۔ لائیے ہاتھ بڑھائیے، میں آپ سے اسلام پر بیعت ہوتا ہوں۔ چناں چہ اُن کو حضورﷺ نے بیعت فرمالیا اور ان سے فرمایا کہ یہ بیعت تمہاری قوم کے لیے بھی ہے۔ حضرت ضِماد نے عرض کیا : بہت اچھا، میری قوم کے لیے بھی ہے۔ چناں چہ بعد میں حضورﷺ نے ایک لشکر بھیجا جن کا حضرت ضِمادکی قوم پر گزر ہوا تو لشکر کے امیر نے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تم نے اس قوم کی کوئی چیز لی ہے؟تو ایک آدمی نے کہا: میں نے اُن کا ایک لوٹا لیا ہے۔ تو امیر نے کہا: وہ اُن کو واپس کردو، کیوں کہ یہ حضرت ضِماد کی قوم ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت ضِماد نے حضورﷺسے عرض کیا کہ یہ کلمات آپ دوبارہ سنائیں، کیوں کہ یہ کلمات بلاغت کے سمندر کی گہرائی کو پہنچے ہوئے ہیں۔1
حضرت عبدالرحمن عَدَوِی کہتے ہیں کہ حضرت ضِماد ؓ نے بیان فرمایا: میں عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ گیا۔ وہاں میں ایک مجلس میں بیٹھا جس میں ابوجہل اور عتبہ بن ربیعہ اور اُمیّہ بن خلف تھے۔ ابوجہل نے کہا کہ اس آدمی نے ہماری جماعت میں تفریق ڈال دی، ہمیں بے وقوف بتایا اور ہم میں سے جو مرچکے ہیں انھیں گمراہ قراردیا اور ہمارے خداؤں میں عیب نکالے۔ اُمیّہ نے کہا کہ اس آدمی کے پاگل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ)۔ حضرت ضِماد کہتے ہیں کہ اس کی بات کا میرے دل پر بڑا اثر ہوا اور میں نے اپنے جِی میں کہا: میں بھی تو جنوں وغیرہ کا علاج کرلیتا ہوں۔ چناں چہ میں اس مجلس سے کھڑا ہوا اور حضورﷺ کو تلاش کرنے لگا، لیکن آپ مجھے سارا دن کہیں نہ ملے یہاں تک کہ اگلا دن آگیا۔ اگلے دن پھر ڈھونڈنے نکلا تو مجھے آپ مقامِ ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے مل گئے، میں بیٹھ گیا ۔جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں آپ کے قریب آکربیٹھا اور میں نے کہا: اے ابن عبدالمطلب! آپ نے میری متوجہ ہوکر فرمایا: کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں جنوں وغیرہ کا علاج کرلیتا ہوں، اگر آپ پسند کریں تو آپ کا بھی علاج کردوں ؟ اور آپ اپنی بیماری کو بڑا نہ سمجھیں، کیوں کہ میں نے آپ سے بھی زیادہ سخت بیماروں کا علاج کیا تو وہ ٹھیک ہوگئے۔
میں آپ کی قوم کے پاس سے آرہا ہوں، وہ آپ کے بارے میں چند بُری خصلتوں کا تذکرہ کررہے تھے کہ آپ اُن کو بے وقوف بتاتے ہیں اور آپ نے اُن کی جماعت میں تفریق ڈال دی ہے اور اُن میں سے جو مرچکے ہیں اُن کو آپ گمراہ قرار دیتے ہیں اور اُن کے خداؤں میں عیب نکالتے ہیں۔ تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ ایسے کام تو پاگل (یا آسیب زدہ) ہی کرسکتا ہے۔ میری ساری باتیں سن کر حضورﷺ نے مسنون خطبہ پڑھا ، جس کا ترجمہ یہ ہے: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، میں اس کی تعریف کرتا ہوں اور اس سے مدد مانگتا ہوں اور اس پر ایمان رکھتا ہوں اور اسی پر بھروسہ کرتا ہوں۔ جس کو وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کاکوئی شریک نہیں ہے۔ اور اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں۔ حضرت ضِماد فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ سے ایسا کلام سنا کہ اس سے اچھا کلام اس سے پہلے میں نے کبھی نہیں سنا تھا۔ میں نے آپ سے اس خطبہ کے دوبارہ پڑھنے کی گزارش کی جس پر آپ نے دوبارہ خطبہ پڑھا۔
پھر میں نے کہا :آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاؤ جس کا کوئی شریک نہیں اور بتوں کی غلامی سے اپنے آپ کو آزاد کرلو اور اس بات کی گواہی دو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ میں نے کہا : اگرمیں ایسا کردوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا: تمہیں جنت ملے گی۔ تو میں نے کہا: میںاس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور اپنی گردن سے بتوں کو اتار کر اُن سے براء ت کا اظہار کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ پھر میں آپ کے ساتھ رہنے لگ گیا یہاں تک کہ میں نے قرآن شریف کی بہت سی سورتیں یاد کرلیں، پھر میں اپنی قوم میں واپس آگیا ۔
عبداللہ بن عبدالرحمن عَدَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت علیؓکو ایک جماعت کا امیر بنا کر بھیجا۔ ان لوگوں کو ایک جگہ بیس اونٹ ملے، وہ اُن کو ساتھ لے کر چل پڑے۔ حضرت علی بن ابی طالب کو پتہ چلا کہ یہ اونٹ حضرت ضِمادکی قوم کے ہیں تو انھوں نے فرمایا: یہ اونٹ اُن کو واپس کردو۔ چناں چہ وہ سب اونٹ واپس کردیے گئے۔ 1