صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

اللہ کے راستہ میں نکل کر اکٹھے مل کر رہنا

حضرت ابو ثعلبہ خُشنی ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ جب کسی منزل پر پڑائو ڈالا کرتے تھے تو بکھر جایا کرتے تھے اور گھاٹیوں اور وادیوں میں پھیل جایا کرتے تھے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا: تمہارا یہ گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے ۔ اس فرمان کے بعد مسلمان جہاں بھی ٹھہرتے اِکٹھے ہوکر مل جل کر رہتے۔ 1 ’’بیہقی ‘‘کی روایت میں یہ بھی ہے (کہ اس کے بعد صحابہ اتنے قریب قریب رہنے لگے کہ) یوں کہا جانے لگا کہ اگر ان مسلمانوں پر ایک چادر ڈالی جائے تو وہ ان سب پر ہی آجائے۔ 2 حضرت معاذ جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے ساتھ فلاں غزوہ میں گیا۔ (ایک جگہ ہم لوگوں نے پڑائو ڈالا، لوگ بکھر گئے جس سے) لوگوں کے لیے ٹھہرنے کی جگہ تنگ پڑ گئی اور راستے بند ہو گئے۔ اس پر حضور ﷺ نے ایک منا دی کو بھیجا جو لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ جس نے ٹھہر نے کی جگہ تنگ کی یا راستہ بند کیا اس کا کوئی جہاد نہیں یعنی اسے جہاد کا ثواب نہیں ملے گا۔ 3