صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

جہاد کے لیے اللہ کے راستہ میں نکل کر امیر کا حکم ماننا

حضرت ابو مالک اَشعری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو ہمارا امیر بنایا۔ چناںچہ ہم لوگ روانہ ہوگئے اور ایک منزل پر پڑائو ڈالا۔ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر اپنی سواری کی زِین کسی۔ میں نے اس سے کہا: تم کہاں جانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: میں چارہ لانا چاہتا ہوں۔ میں نے اس سے کہا: جب تک ہم اپنے امیر سے پوچھ نہ لیں تم ایسا نہ کرو۔ چناںچہ ہم حضرت ابو موسیٰ اَشعری کے پاس آئے (غالباً حضرت ابو موسیٰ لشکر کے کسی ایک حصہ کے امیر ہوں گے) ہم نے اُن سے تذکرہ کیا تو انھوں نے کہا: شاید تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانا چاہتے ہو؟ اس آدمی نے کہا: نہیں۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: دیکھو تم کیا کہہ رہے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ تو حضرت ابو موسیٰ نے کہا: اچھا! تم جائو اور ہدایت والے راستہ پر چلو۔ چناںچہ وہ آدمی چلا گیا اور کافی رات گزار کر واپس آیا تو حضرت ابو موسیٰ نے اس سے کہا: شاید تم اپنے گھر والوں کے پاس گئے تھے؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: دیکھ لو تم کیا کہہ رہے ہو؟ اس نے کہا: ہاں (میں گیا تھا)۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا: تو آگ میں چل کر اپنے گھر گیا اور (وہاں جتنی دیر بیٹھا رہا) تو آگ میں بیٹھا رہا اور آگ میں چل کر واپس آیا، لہٰذا اب تو نئے سرے سے عمل کر (تاکہ تیرے اس گناہ کا کفارہ ہوجائے)۔ 2