صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

اللہ کے راستہ میں نکلنے اور مال خرچ کرنے کی طاقت نہ رکھنے پر صحابۂ کرام ؓ کا غمگین ہونا

ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت ابنِ یامین نصری ؓ کی حضرت ابو لیلیٰ اور حضرت عبد اللہ بن مُغفّل ؓ سے ملاقات ہوئی۔ وہ دونوں حضرات رو رہے تھے۔ ابنِ یامین نے پوچھا: آپ دونوں کیوں رو رہے ہیں؟ ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ ہم حضور ﷺ کی خدمت میں گئے تھے تاکہ آپ ہمیں (اللہ کے راستہ میں جانے کے لیے) سواری دے دیں، لیکن ہم نے آپ ﷺ کے پاس کوئی سواری نہ پائی جو آپ ہمیں دے دیتے۔ اور حضور ﷺ کے ساتھ جانے کے لیے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا ( چوں کہ حضور ﷺ کے ساتھ جانے کے لیے ہمارا کوئی اِنتظام نہیں ہوسکا اس وجہ سے ہم لوگ رو رہے ہیں)۔ چناںچہ حضرت ابنِ یامین نے ان حضرات کو اپنی اُونٹنی دے دی اور سفر کے لیے کچھ کھجوروں کا توشہ بھی دیا۔ ان دونوں نے اس اونٹنی پر کجاوہ کسا اور حضور ﷺ کے ساتھ گئے۔ یونس بن بکیر نے ابنِ اسحاق سے روایت میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ حضرت عُلْبہ بن زید ؓ (کا حضور ﷺ کے ساتھ جانے کا کوئی انتظام نہ ہوسکا تو) رات کو نکلے اور کافی دیر تک رات میں نماز پڑھتے رہے۔ پھر رو پڑے اور عرض کیا: اے اللہ! آپ نے جہاد میں جانے کا حکم دیا ہے اور اس کی ترغیب دی ہے، پھر آپ نے نہ مجھے اتنا دیا کہ میں اس سے جہاد میں جا سکوں اور نہ اپنے رسول کو سواری دی جو مجھے ( جہاد میں جانے کے لیے) دے دیتے۔ لہٰذا کسی بھی مسلمان نے مال یا جان یا عزّت کے بارے میں مجھ پر ظلم کیا ہو، وہ معاف کر دیتا ہوں اور اس معاف کرنے کا اَجر وثواب تمام مسلمانوں کو صدقہ کردیتا ہوں۔ اور پھر یہ صبح لوگوں میں جا ملے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: آج رات کوصدقہ کرنے والا کہاں ہے؟ تو کوئی نہ کھڑاہوا۔ آپ نے دوبارہ فرمایا: صدقہ کرنے والا کہاں ہے؟ کھڑا ہو جائے۔ چناںچہ حضرت عُلْبہ نے کھڑے ہوکر حضور ﷺ کو اپنا سارا واقعہ سنایا، حضور ﷺ نے فرمایا: تمہیں خوش خبری ہو! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تمہارا یہ صدقہ مقبول خیرات میں لکھا گیا ہے۔ 1 حضرت ابو عبس بن جبر کہتے ہیں کہ حضرت عُلْبہ بن زید بن حارثہ ؓ حضور ﷺ کے صحابہ میں سے ہیں۔ جب حضور ﷺ نے صد قہ کرنے کی ترغیب دی تو ہر آدمی اپنی حیثیت کے مطابق جو اُس کے پاس تھا وہ لانے لگا۔ حضرت عُلْبہ بن زید نے کہا: اے اللہ! میرے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ اے اللہ! تیری مخلوق میں سے جس نے بھی میری آبرو ریزی کی ہے میں اسے صدقہ کرتا ہوں (یعنی اسے معاف کرتا ہوں)۔ حضور ﷺ نے ایک منادی کو حکم دیا جس نے یہ اعلان کیا کہ کہاں ہے وہ آدمی جس نے گزشتہ رات اپنی آبرو کا صدقہ کیا؟ اس پر حضرت عُلْبہ کھڑے ہوئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تمہارا صدقہ قبول ہوگیا۔1