صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
صحابۂ کرام ؓ کا جہاد کرنے کا اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کا شوق
حضرت ابو اُمامہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورِ اَقدس ﷺ نے بدر جانے کا اِرادہ فرمایا تو حضرت ابو اُمامہ بھی حضور ﷺ کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوگئے۔ تو ان سے ان کے ماموں حضرت ابوبُردہ بن نِیار ؓ نے کہا: تم اپنی والدہ کے پاس ٹھہرو۔ حضرت ابو اُمامہ نے کہا: نہیں، آپ اپنی بہن کے پاس ٹھہریں۔ حضور ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ آیا تو آپ نے حضرت ابو اُمامہ کو اپنی والدہ کے پاس ٹھہرنے کا حکم دیا اور حضرت ابو بُردہ آپ کے ساتھ (غزوۂ بدر میں) تشریف لے گئے۔ جب حضور ﷺ واپس تشریف لائے تو اس وقت حضرت ابو اُمامہ کی والدہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ چناںچہ حضورﷺ نے اُن کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ 2
حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اگر تین باتیں نہ ہوتیں تو میں اس بات کی تمنا کرتا کہ اللہ سے جا ملوں: اللہ کے راستے میں پیدل چلنا، اور سجدے میں اللہ کے سامنے مٹی میں اپنی پیشانی رکھنا، اور ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنا جو عمدہ باتوں کو ایسے چنتے ہیں جیسے عمدہ کھجوریں چنی جاتی ہیں۔ 1
حضرت عمر ؓ نے فرمایا: تم لوگ حج کیا کرو، کیوںکہ یہ وہ عملِ صالح ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، لیکن جہاد اس سے بھی افضل ہے۔2
حضرت ابنِ عمر ؓ نے فرمایا: جنگ ِبدر کے دن مجھے حضور ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، لیکن حضور ﷺ نے مجھے چھوٹا سمجھ کر قبول نہ فرمایا۔ اس جیسی سخت رات مجھ پر کبھی نہیں آئی تھی۔ حضور ﷺ کے قبول نہ فرمانے کی وجہ سے مجھے بڑا غم تھا اور میں ساری رات جاگتا رہا اور روتا رہا۔ اگلے سال پھر مجھے حضور ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا آپ نے مجھے قبول فرما لیا، میں نے اس پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس پر ایک آدمی نے کہا: اے ابو عبدالر حمٰن! جس دن دونوں فوجیں مقابلہ میں آئی تھیں ( یعنی جنگِ اُحد کے دن) کیا اس دن آپ لوگوں نے پیٹھ پھیری تھی؟ انھوں نے کہا: ہاں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو معاف فرما دیا اس پر اللہ کا بڑا شکر ہے۔ 3
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت عمر ؓ کے پاس آکر کہا: اے امیر المؤمنین! میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں آپ مجھے سواری دے دیں۔ حضرت عمر نے ایک آدمی سے کہا: اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیت المال میں لے جاؤ، وہاں سے جو چاہے لے لے۔ چناںچہ اس آدمی نے بیت المال میں جاکر دیکھا کہ وہاں تو چاندی اور سونا رکھا ہوا ہے۔ اس نے کہا: یہ کیا ہے؟ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، میں تو زادِ سفر اور سواری لینا چاہتا ہوں۔ لوگ اسے حضرت عمر کے پاس واپس لے آ ئے اور اس نے جو کہا تھا وہ حضرت عمر کو بتایا۔ تو حضرت عمر نے حکم دیا کہ اسے زادِ سفر اور سواری دی جائے۔ ( چناںچہ اسے دیا گیا تو) حضرت عمرنے اپنے ہاتھ سے اس کی سواری پر کجا وہ باندھا۔ جب یہ آدمی اس سواری پر سوار ہو گیا تو اس نے ہاتھ اُٹھایا اور حضرت عمر نے اس آدمی کے ساتھ جو حسنِ سلوک کا معاملہ کیا اور اسے دیا اس پر اللہ کا شکر ادا کیا اور اس کی حمد وثنا بیان کی۔ اور حضرت عمر ؓ اس تمنا میں اس کے پیچھے چلنے لگے کہ وہ حضرت عمر کے لیے دعا کر دے۔ جب وہ حمد وثنا سے فارغ ہو گیا تو اس نے کہا: اے اللہ! عمر کو تو اور بہترین جزا عطا فرما۔1
حضرت اَرطاۃ بن منذر کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ نے ایک دن اپنے پاس بیٹھنے والوں سے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ اَجر و ثواب والا کون ہے؟ لوگ نماز اور روزے کا ذکر کرنے لگے اور کہنے لگے: امیر المؤمنین کے بعد فلاں اور فلاں ( زیادہ اَجر وثواب والے ہیں)۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ آدمی نہ بتا دوں جس کا اَجر و ثواب ان سے بھی زیادہ ہے جن کا تم نے ذکر کیا ہے اور امیر المؤ منین سے بھی زیادہ ہے؟ لوگوں نے کہا: ضرور بتائیں۔ آپ نے فرمایا: وہ ایک چھوٹا سا آدمی ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ کر شام میں پیدل چل رہا ہے، اور جو مسلمانوں کے اجتماعی مرکز ( مدینہ منوّرہ) کی حفاظت کر رہا ہے ( تاکہ شامی فوج مدینہ پر حملہ کرنے نہ جاسکے)۔ اسے یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ کیا اسے کوئی درندہ پھاڑ کھائے گا یا کوئی زہریلا جانور اسے ڈس لے گا یا کوئی دشمن اس پر قابو پالے گا۔ اس آدمی کا اَجر و ثواب اُن لوگوں سے بھی زیادہ ہے جن کا تم نے ذکر کیا ہے اور امیر المؤ منین سے بھی زیادہ ہے۔2
حضرت کعب بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت معاذ ؓ ملک ِشام کی طرف روانہ ہو گئے تو حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت معاذ کے شام جانے سے مدینہ والوں کو فقہی مسائل میں اور فتویٰ لینے میں بڑی دِقّت پیش آ رہی ہے، کیوںکہ حضرت معاذ مدینہ میں لوگوں کو فتویٰ دیا کرتے تھے۔ میں نے حضرت ابو بکر ؓ سے اللہ اُن پر رحمت نازل فرمائے! یہ بات کی تھی کہ وہ حضرت معاذ کو مدینہ میں روک لیں، کیوں کہ (فتویٰ میں) لوگوں کو اُن کی ضرورت ہے، لیکن انھوں نے مجھے اِنکار کر دیا اور فرمایا کہ ایک آدمی اس راستہ میں جا کر شہید ہونا چاہتا ہے تو میں اسے نہیں روک سکتا ہوں۔ تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! جو آدمی اپنے گھر میں رہ کر شہر والوں کے بڑے بڑے ( دینی) کام کر رہا ہے وہ اگر اپنے بستر پر بھی مر جائے گا تو بھی وہ شہید ہوگا۔ حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں: حضرت معاذ ؓ حضور ﷺ کے زمانے میں بھی اور حضرت ابو بکر ؓ کے زمانہ میں بھی مدینہ میں لوگوں کو فتویٰ دیا کرتے تھے۔ 1
حضرت نوفل بن عمارہ فرماتے ہیں کہ حضرت حارث بن ہشام اور حضرت سہیل بن عمرو ؓ حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے اور حضرت عمر ان دونوں کے درمیا ن بیٹھے ہوئے تھے۔ حضراتِ مہاجرین اوّلین حضرت عمر کے پاس آنے لگے۔ ( ان میں سے جب بھی کوئی آتا تو) حضرت عمرفرماتے: اے سہیل ! ادھر ہو جاؤ، اور اے حارث! ادھر ہو جاؤ۔ اس طرح حضرت عمرنے مہاجرین کو پاس بٹھا لیا اور ان دونوں کو ان سے پیچھے کر دیا۔ پھر حضراتِ اَنصار حضرت عمر ؓ کے پاس آنے لگے۔ حضرت عمر ان دونوں کو اَنصار سے بھی پیچھے کر دیتے۔ ہوتے ہوتے یہ دونوں لوگوں کے بالکل آخر میں پہنچ گئے۔ جب یہ دونوں حضرت عمر کے پاس سے باہر آئے تو حضرت حارث بن ہشام نے حضرت سہیل بن عمروسے کہا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ حضرت عمر نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟ تو حضرت سہیل نے ان سے کہا: ہم حضرت عمر کو ملامت نہیں کر سکتے، ہمیں تو اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہیے۔ ان لوگوں کو ( اِسلام کی) دعوت دی گئی تھی انھوں نے جلدی سے قبول کر لی۔ ہمیں بھی دعوت دی گئی تھی ہم نے دیر سے قبول کی۔
جب حضراتِ مہاجرین و ا نصار حضرت عمر کے پاس سے کھڑے ہو کر باہر آگئے تو ان دونوں نے حضرت عمرکی خدمت میں آکر کہا: اے امیر المؤمنین! آ پ نے آج ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ہے ہم نے اسے خوب دیکھا ہے، اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہمارے ساتھ آج جو کچھ ہو ا ہے یہ ہماری اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہوا ہے، لیکن کیا ایسی کوئی چیز ہے جسے کر کے ہم آیندہ وہ قدر ومنزلت حاصل کر لیں جو ہم ابھی تک حاصل نہیں کر سکے؟ حضرت عمر نے فرمایا: ایسا کام تو اب بس ایک ہی ہے کہ تم ادھر چلے جاؤ۔ اور ہاتھ سے روم کی سرحد کی طرف اِشارہ فرمایا۔ چناںچہ وہ دونوں حضرات شام کی طرف چلے گئے اور وہاں ہی ان حضرات کا انتقال ہوگیا۔1
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کے دروازے پر کچھ لوگ آئے جن میں حضرت سہیل بن عمرو، حضرت ابوسفیان بن حرب ؓ اور بہت سے قریش کے بڑے سردار تھے۔ حضرت عمر کا دربان باہر آیا اور حضرت صُہَیب، حضرت بلال اور حضرت عمار ؓجیسے بدری صحابہ کواِجازت دینے لگا۔ اللہ کی قسم!حضرت عمر خود بدری تھے اور بدریوں سے بڑی محبت کرتے تھے اور اُن کا خاص خیال رکھنے کی اپنے ساتھیوںکو تاکید کر رکھی تھی۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو سفیان نے کہا: آج جیسا دن تو میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ یہ دربان ان غلاموں کو اجازت دے رہا ہے اور ہم بیٹھے ہوئے ہیں ہمیں دیکھتا بھی نہیں ہے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت سہیل بن عمرو بڑے اچھے اور سمجھ دار آدمی تھے، انھوں نے کہا: اے لوگو! میں تمہارے چہروں پر ناگواری کے اَثرات دیکھ رہاہوں۔ اگر تم نے ناراض ہونا ہی ہے تو اپنے اوپر ناراض ہو۔ ان لوگوں کو بھی دعوت دی گئی تھی اور تمہیں بھی دعوت دی گئی تھی، انھوں نے دعوت جلدی مان لی تم نے دیر سے مانی۔
غور سے سنو! اللہ کی قسم! تم ( امیر المؤمنین) کے اس دروازے میں ایک دوسرے سے زیادہ حرص کر رہے ہو، اور یہ دروازہ تمہارے لیے آج کھلا بھی نہیں۔ تو اس دروازے کے ہاتھ میں نہ آنے سے زیادہ سخت تو ( دعوتِ اسلام کو قبول کر لینے اور دینی محنت میں لگنے کی) فضیلت سے محروم ہونا ہے جس فضیلت کی وجہ سے وہ تم سے آگے نکل گئے ہیں۔ اور یہ لوگ جیسے کہ تم دیکھ رہے ہو تم سے آگے نکل گئے ہیں۔ اور اللہ کی قسم! تم سے آگے بڑھ کر انھوں نے جو درجہ پالیا ہے اب تم وہ کسی طرح حاصل نہیں کر سکتے ہو۔ لہٰذا اب تم جہاد کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اس میں مسلسل لگے رہو، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں جہاد اور شہادت کا مرتبہ نصیب فرما دے۔ پھر حضرت سہیل بن عمرو کپڑے جھاڑتے ہوئے کھڑے ہوئے اور ( جہاد کے لیے) ملکِ شام چلے گئے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں: حضرت سہیل نے سچ فرمایا۔ اللہ کی قسم! جو بندہ اللہ کی طرف (چلنے میں) جلدی کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ دیر کرنے والے کی طرح نہیں بناتے ہیں۔ 1
حضرت ابو سعد بن فضالہ ؓ ایک صحابی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت سہیل بن عمرو ؓ دونوں اِکٹھے شام گئے۔ میں نے انھیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضور ﷺ سے یہ سنا کہ زندگی میں سے ایک گھڑی کسی کا اللہ کے راستہ میں کھڑا ہونا اس کے اپنے گھروالوں میں عمر بھر کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے۔ حضرت سہیل نے کہا: میں اب اسلامی سرحد کی حفاظت میں یہاں مرتے دم تک لگا رہوں گا اور مکہ واپس نہیں جاؤں گا۔ چناںچہ وہ ملکِ شام میں ہی ٹھہرے رہے یہاں تک کہ اُن کا طاعونِ عمواس میں انتقال ہوگیا ۔2
حضرت ابو نوفل بن ابی عقرب بیان کرتے ہیں کہ حضرت حارث بن ہشام ؓ ( ملکِ شام جانے کے لیے) مکہ سے روانہ ہونے لگے، تو تمام مکہ والے ( اُن کے یوں ہمیشہ کے لیے چلے جانے کی وجہ سے) بڑے غمگین اور پریشان تھے۔ دودھ پینے والے بچوں کے علاوہ باقی سب چھوٹے بڑے رخصت کر نے اُن کے ساتھ شہرِ مکہ سے باہر آئے۔ جب وہ بطحا مقام کی اونچی جگہ یا اُس کے قریب پہنچے تو وہ رک گئے اور تمام لوگ اُن کے اِرد گرد رُک گئے اور تمام لوگ رو رہے تھے۔ جب انھوں نے ان لوگوں کی یہ پریشانی دیکھی تو کہا: اے لوگو! اللہ کی قسم! میں اس وجہ سے نہیں جا رہا ہوں کہ مجھے اپنی جان تمہاری جان سے زیادہ پیاری ہے، یا میں نے تمہارے شہرِ(مکہ) کو چھوڑکر کوئی اور شہر اختیار کرلیا ہے۔ بلکہ اس وجہ سے جا رہاہوں کہ (اِسلام لانے اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کی) بات چلی تھی تو اس وقت قریش کے بہت سے ایسے آدمیوں نے نکلنے میں پہل کرلی جو نہ تو قریش کے بڑے لوگوں میں سے تھے اور نہ وہ قریش کے اعلیٰ خاندانوں میں سے تھے۔ (قریش کے بڑے لوگ تو ہم تھے اور ہمارے خاندان اعلیٰ تھے ) اب ہماری حالت یہ ہوگئی ہے کہ اللہ کی قسم! اگر ہم مکہ کے پہاڑوں کے برابر سونا اللہ کے راستے میں خرچ کر دیں تو بھی ہم اُن کے ایک دن کے ثواب کو نہیں پا سکتے ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر وہ دنیا میں ہم سے آگے نکل گئے ہیں تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ کم از کم ہم آخرت میں تو اُن کے برابر ہوجائیں۔ عمل کر نے والے کو (اپنے عمل کے بارے میں) اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ چناںچہ وہ ملکِ شام روانہ ہوگئے اور اُن کے تمام متعلقین بھی اُن کے ساتھ گئے اور وہاں وہ شہید ہوگئے۔ اللہ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے! 1
حضرت خالد ؓ کے خاندان کے آزاد کر دہ غلام حضرت زِیاد کہتے ہیں کہ حضرت خالد نے اپنے انتقال کے وقت فرمایا کہ جو رات سخت سردی والی ہو جس میں پانی جم جائے اور میں مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ ہوں اور صبح کو دشمن پر حملہ کروں، رُوئے زمین پر کوئی رات مجھے اس رات سے زیادہ محبوب نہیں ہے لہٰذا تم لوگ جہاد کر تے رہنا۔ 2
حضرت خالد ؓ فرماتے ہیں کہ جس رات میرے گھر میں نئی دلہن آئے جس سے مجھے محبت بھی ہو اور مجھے اس سے لڑکے کے ہونے کی بشارت بھی اس رات مل جائے، یہ رات مجھے اس رات سے زیادہ محبوب نہیں ہے جس رات میں پانی جما دینے والی سخت سردی پڑرہی ہو اور میں مہاجرین کی ایک جماعت میں ہوں اور صبح کو دشمن پر حملہ کرنا ہو۔ 3
حضرت خالد بن ولید ؓ فرماتے ہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ (کی مشغولی کی وجہ سے) میں زیادہ قرآن نہ پڑھ سکا۔ 4
ایک روایت میں ہے: حضرت خالدؓ فرماتے ہیں کہ میں جہاد کی وجہ سے بہت سا قرآن نہیں سیکھ سکا۔1
حضرت ابو وائل کہتے ہیںکہ جب حضرت خالد ؓ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو انھوں نے فرمایا کہ میرے دل میں تمنا تھی کہ میں اللہ کے راستہ میں شہید ہو جاؤں، لہٰذا جن جگہوں سے شہادت مل سکتی تھی میں ان تمام جگہوں میں گیا لیکن میرے لیے بستر پر مرنا ہی مقدر تھا۔ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کے بعد میرے نزدیک سب سے زیادہ اُمید والا عمل یہ ہے کہ میں نے ایک رات اس حال میں گزاری تھی کہ ساری رات صبح تک بارش ہوتی رہی اور میں ساری رات سر پر ڈھال لیے کھڑا رہا اور صبح کو ہم نے کافروں پر اچانک حملہ کر دیا۔ پھر فرمایا: جب میں مر جاؤں تو میرے ہتھیار اور گھوڑے کو ذرا خیال کرکے جمع کرلینا اور انھیں اللہ کے راستہ میں بطور سامانِ جنگ کے دے دینا۔ جب اُن کا انتقال ہوگیا تو حضرت عمر ؓ اُن کے جنازے کے لیے باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ خاندانِ ولید کی عورتیں حضرت خالد کے انتقال پر آنسو بہا سکتی ہیں، نہ تو گریبان پھاڑیں، نہ چیخیں چِلّائیں ۔ 2
حضرت عبد اللہ بن محمد، عمر بن حفص اور حضرت عمّار بن حفص ان سب کے والد ان سب کے داداؤں سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت بلال ؓ نے حضرت ابو بکر ؓ کی خد مت میں حاضر ہو کر کہا: اے خلیفۂ رسول اللہ! میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ مؤمنوں کا سب سے افضل عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے، اس لیے میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ میں موت تک اللہ کے راستہ میں رہوں گا۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: اے بلال! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا اور اپنی عزّت کا اور اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ میری عمر زیادہ ہوگئی ہے اور میری قوتیں کمزور ہوگئی ہیں اور میرے جانے کا وقت قریب آگیا ہے (اس لیے تم نہ جاؤ)۔ چناںچہ حضرت بلال رُک گئے اور حضرت ابو بکر کے ساتھ رہتے رہے۔ جب حضرت ابو بکر کا انتقال ہو گیا تو حضرت بلال نے حضرت عمر سے جہاد میں جانے کی اجازت مانگی۔ حضرت عمر نے حضرت ابو بکر جیسا جواب دیا، لیکن حضرت بلال رکنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اے بلال! اَذان کے لیے کسے مقرر کروں؟ حضرت بلال نے کہا: حضرت سعد (قُرظ) کو، کیوںکہ وہ حضور ﷺ کے زمانے میں قبا میں اَذان دیتے رہے ہیں۔ چناںچہ حضرت عمرنے حضرت سعد کو اَذان کے لیے مقرر فرمایا اور یہ فیصلہ کر دیا کہ اس کے بعد ان کی اولاد اَذان دے گی۔ 1
حضرت محمد بن ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ جب حضور ﷺ کا وصال ہوگیا تو حضور ﷺ کے دفن ہونے سے پہلے حضرت بلال نے اَذان دی۔ جب انھوں نے ( اَذان میں) أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِکہا تو مسجد میں تمام لوگ رو پڑے۔ جب حضور ﷺ دفن ہوگئے تو اُن سے حضرت ابو بکر ؓ نے کہا: اذان دو۔ تو حضرت بلال نے کہا: اگر آپ نے مجھے اس لیے آزاد کیا تھا تاکہ میں آپ کے ساتھ (زندگی بھر) رہوں تو پھر تو ٹھیک ہے ( آپ کے فرمانے پر میں آپ کے ساتھ رہا کروں گا اور اذان دیتا رہوں گا)، لیکن اگر آپ نے مجھے اللہ کے لیے آزاد کیا تھا تو مجھے اس ذات کے لیے یعنی اللہ کے لیے چھوڑ دیں جس کے لیے آپ نے مجھے آزاد کیا تھا۔ حضرت ابو بکر نے کہا: میں نے تو تمہیں محض اللہ ہی کے لیے ہی آزاد کیا تھا۔ حضرت بلال نے عرض کیا کہ حضور ﷺ کے بعد میں اب کسی کے لیے اذان دینا نہیں چاہتا ہوں۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: اس کا تمہیں اختیار ہے۔ پھر حضرت بلال مدینہ ٹھہر گئے۔ جب شام کی طرف لشکر جانے لگے تو حضرت بلال بھی اُن کے ساتھ چلے گئے اور ملکِ شام پہنچ گئے۔ حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر جمعہ کے دن منبر پر بیٹھے تو اُن سے حضرت بلال نے کہا: اے ابو بکر! حضرت ابوبکر نے فرمایا: لبیک۔ حضرت بلال نے کہا: آپ نے مجھے اللہ کے لیے آزاد کیا تھا یا اپنے لیے؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا: اللہ کے لیے۔ حضرت بلال نے کہا: آپ مجھے اللہ کے راستہ میں جانے کی اِجازت دے دیں۔ حضرت ابو بکر ؓ نے انھیں اِجازت دے دی۔ چناںچہ وہ ملکِ شام چلے گئے اور وہاں ہی اُن کا انتقال ہوا۔ 2
حضرت ابو یزید مکی کہتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب اور حضرت مقداد ؓ فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ ہم ہر حال میں ( اللہ کے راستہ میں) نکلیں۔ {اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالاً} والی آیت کی وہ یہی تفسیر بیان کیا کرتے تھے۔1
حضرت ابو راشد حُبْرانی کہتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے شہ سوار حضرت مقداد بن اسود ؓ سے ملا، وہ حمص میں صرّاف کے ایک صندوق پر بیٹھے ہوئے تھے۔ چوں کہ جسم بھاری ہو چکا تھا اس لیے اُن کا جسم تابوت سے باہر نکلا ہوا تھا۔ ( اور اس حال میں بھی) اُن کا اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے جانے کا ارادہ تھا۔ میں نے اُن سے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو معذور قرار دیا ہے۔ انھوں نے فرمایا :سورۂ بُعوث کی آیت {اِنْفِرُوْاخِفَا فًا وَّثِقَالاً} نے ہمارے ہر طرح کے عذر ختم کر دیے ہیں ۔2
حضرت جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ہم لوگ دمشق میں حضرت مقداد بن اسودؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ایک صندوق پر بیٹھے ہوئے تھے صندوق کی کوئی جگہ خالی نہیں تھی ( ان کا جسم اتنا بھاری ہوچکا تھا کہ ان کے جسم سے سارا صندوق بھی بھر گیا تھا بلکہ ان کے جسم کا کچھ حصہ صندوق سے باہر بھی تھا)۔ ان سے ایک آدمی نے کہا کہ اس سال آپ جہاد میں نہ جائیں ( گھر میں ہی رہ جائیں )۔ انھوں نے فرمایا: سورۂ بعوث یعنی سورۂ توبہ ہمیں ایسا کرنے سے روکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {اِنْفِرُوْاخِفَافًاوَّثِقَا لًا}میں تو اپنے آپ کو ہلکا ہی پاتا ہوں ( لہٰذا جانا ضروری ہے )۔3
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ ؓ نے سورۂ براء ت پڑھنی شروع کی، جب اللہ تعالیٰ کے اس قول { اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالًا} پر پہنچے تو فرمایا: مجھے تو یہی نظر آرہا ہے کہ اللہ تعا لیٰ یہ چاہتے ہیں کہ ہم جو ان ہوں یا بوڑھے، دونوں حالتوں میں (اللہ کے راستے میں) نکلیں۔ اے میرے بیٹو! (اللہ کے راستے میں جانے کے لیے) مجھے تیار کرو،مجھے تیار کرو۔ ان کے بیٹوں نے ان سے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! آپ حضور ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک رہے یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا۔ اور پھر حضرت ابو بکر ؓ کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ اُن کا انتقال ہوگیا، اور پھر حضرت عمر ؓ کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ اُن کا انتقال ہوگیا۔ (آپ تو اللہ کے راستے میں بہت جا چکے ہیں، اب آپ نہ جائیں ) آپ ہمیں اپنی طرف سے جہاد میں جانے دیں۔ انھوں نے فرمایا: نہیں، تم لوگ مجھے (جہاد میں جانے کے لیے) تیار کرو۔ چناںچہ جہاد میں انھوں نے سمندر کا سفر کیا اور سمندر ہی میں اُن کا انتقال ہو گیا، اور سات دن کے بعد اُن کے ساتھیوں کو ایک جزیرہ ملا جس میں انھیں دفن کیا۔ ( اتنے دن گزرنے کے باوجود) ان کے جسم میں ذرا بھی فرق نہیں پڑا تھا ( اُن کا جسم گلنے سے محفوظ رہا، یہ اُن کی کرامت ہے )۔ 1
حضرت محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب اَنصاری ؓ حضور ﷺ کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں کے ہر غزوہ میں شریک ہوتے رہے، لیکن ایک سال لشکر کا امیر ایک نوجوان کو بنا دیا گیا اس وجہ سے اس سال وہ اس غزوہ میں نہ گئے، لیکن اس سال کے بعد وہ ہمیشہ افسوس کرتے رہے اور تین مرتبہ فرمایاکرتے کہ مجھے اس سے کیا غرض کہ میرا امیر کس کو بنایا گیا ہے؟ (میری غرض تو مسلمانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جانا ہے )۔ چناںچہ اس کے بعد وہ ایک غزوہ میں گئے (جس میں) وہ بیمار ہوگئے اور لشکر کا امیر یزید بن معاویہ تھا۔ وہ اُن کی عیادت کے لیے ان کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ آپ کو کسی چیزکی ضرورت ہے؟ انھوں نے فرمایا: مجھے اس بات کی ضرورت ہے کہ جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو کسی سواری پر رکھ دینا اور جہاں تک ہوسکے مجھے دشمن کے علاقہ میں لے جانا، اور جب آگے لے جانے کا راستہ نہ ملے تو وہاں مجھے دفن کر دینا اور وہاں سے تم واپس آجانا۔ چناںچہ جب اُن کا انتقال ہوگیا تو یزید نے اُن کی لاش کو ایک سواری پر رکھا اور دشمن کے علاقہ میں لے کر گیا اور جب آگے لے جانے کا راستہ نہ ملا تو اُن کو وہاں دفن کردیا اور وہاں سے واپس ہوگیا۔ اور حضرت ابو ایوب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
{اِنْفِرُوْا خِفَا فًا وَّثِقَالاً }
تم ہلکے ہو یا بھاری ہر حال میں (اللہ کی راہ میں ) نکلو۔
لہٰذا میں اپنے آپ کو ہلکا پاؤں یا بوجھل (مجھے ہر حال میں نکلنا چاہیے )۔ 1
حضرت ابو ایوب ؓ حضرت معاویہ ؓ کے زمانے میں ایک غزوہ میں گئے اور بیمار ہوگئے۔ جب زیادہ بیمار ہوگئے تو اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ جب میں مرجائوں تو مجھے سواری پر لے چلنا۔ جب تم دشمن کے سامنے صفیں باندھنے لگو تو اپنے قدموں میں مجھے دفن کر دینا۔ چناںچہ ان حضرات نے ایسا ہی کیا۔ آگے اور حدیث بھی ہے۔2
حضرت ابوظِبْیان کہتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب ؓ یزید بن معاویہ کے ساتھ ایک غزوہ میں گئے۔ حضرت ابو ایوب نے فرمایا: جب میں مرجاؤں تو مجھے دشمن کی زمین میں لے جانا اور جہاں تم دشمن سے مقابلہ کرنے لگو وہاں مجھے اپنے قدموں کے نیچے دفن کر دینا۔ میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ جو اس حال میں مرے گا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیزکو بھی شریک نہیں کر رہاہوگا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ 3
ابنِ اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کے (غزوئہ تبوک میں) تشریف لے جانے کے چند دن بعد حضرت ابو خَیْثمہ ؓ اپنے گھر واپس آئے۔ اس دن سخت گرمی پڑرہی تھی۔ انھوں نے دیکھا کہ اُن کے باغ میں اُن کی دو بیویا ں اپنے اپنے چھپّر کے اندر ہیں، اور ہر ایک نے اپنے اپنے چھپّر میں چھڑکاؤ کر رکھا ہے اور ہر ایک نے اُن کے لیے ٹھنڈا پانی اور کھانا تیار کر رکھا ہے۔ چناںچہ جب یہ اندر گئے تو چھپّر کے دروازے پر کھڑے ہو کر انھوں نے بیویوں پر اور اُن تمام نعمتوں پر نظر ڈالی جو اُن کی بیویوں نے تیار کر رکھی تھیں۔ اور یوں کہا کہ حضور ﷺ تو دھوپ میں اور لُو میں اور سخت گرمی میں ہوں، اور ابو خَیْثمہ ٹھنڈے سائے اور تیار کھانے اور خوب صورت بیویوں میں ہو اور اپنے مال ومتاع میں ٹھہر ا ہو اہو۔ یہ ہر گز اِنصاف کی بات نہیں ہے۔ اس کے بعد کہا: اللہ کی قسم! میں تم دونوں میں سے کسی کے چھپّر میں داخل نہیں ہوں گا۔ میں تو سیدھا حضور ﷺ کی خدمت میں جاؤں گا، تم دونوں میرے لیے زادِ سفر تیار کر دو۔چناںچہ انھوں نے تیار کر دیا۔ پھر اپنی اونٹنی کے پاس آئے اور اس پر کجاوہ کسا۔ پھر حضور ﷺ کی تلاش میں چل پڑے۔
اور حضور ﷺ جب تبوک پہنچے ہی تھے تو یہ حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ راستہ میں حضرت عمیر بن وہب جمحی ؓ کی ان سے ملاقات ہوئی تھی، وہ بھی حضور ﷺ کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ وہاں سے آگے یہ دونوں حضرات اِکٹھے چلتے رہے۔ تبوک کے قریب آ کر حضرت ابو خَیْثمہ نے حضرت عمیر بن وہب سے کہا: مجھ سے ایک غلطی ہوئی ہے، اس لیے میں حضور ﷺ کی خدمت میں جلدی حاضر ہونا چاہتا ہوں ( اور چوں کہ تم سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے اس لیے اگر) تم ٹھہر کر آئو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ( اس لیے مجھے پہلے جانے دو)۔ چناںچہ انھوں نے اسے منظور کر لیا۔جب یہ حضور ﷺ کے قریب پہنچے تو آپ تبوک میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ لوگوں نے کہا: یہ راستہ میں ایک سوار آ رہا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: خدا کرے یہ ابوخَیْثمہ ہو۔ صحابۂ کرام ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! واقعی یہ ابوخَیْثمہ ہیں۔ جب یہ اپنی سواری بٹھا چکے تو انھوں نے آ کر حضور ﷺ کو سلام کیا۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا: اے ابو خَیْثمہ! تیرا ناس ہو! پھر انھوں نے حضور ﷺ کو ساری بات بتائی، حضور ﷺ نے اُن کے بارے میں کلماتِ خیر فرمائے اور اُن کے لیے دعائے خیر فرمائی۔ 1
حضرت سعد بن خَیْثمہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں پیچھے رہ گیا اور حضور ﷺ کے ساتھ نہ جاسکا۔ ایک دن میں باغ میں آیا۔ میں نے دیکھا کہ چھپّر میں پانی چھڑکا ہوا ہے اور وہاں میری بیوی موجود ہے۔ میں نے کہا: یہ تو اِنصاف نہیں ہے کہ حضور ﷺ تو لُو اور گرم ہوا میں ہوں اور میں اس سایہ اور ان نعمتوں میں۔ میں کھڑے ہو کر اپنی اونٹنی کی طرف گیا اور اس پر کجاوے کے پیچھے سامانِ سفر باندھا اور کھجوروں کا توشہ لیا۔ میری بیوی نے پکار کر پوچھا: اے ابو خَیْثمہ! کہاں جا رہے ہو؟ میں نے کہا: حضور ﷺ کے پاس جانے کا اِرادہ ہے۔ چناںچہ میں اس ارادہ سے چل پڑا۔ میں ابھی راستہ میں تھا کہ حضرت عمیربن وہب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے اُن سے کہا: تم بہادر آدمی ہو اور مجھے وہ جگہ معلوم ہے حضور ﷺ جہاں ہیں،اور میں گناہ گار آدمی ہوں تم تھوڑا پیچھے رہ جائو تاکہ میں حضور ﷺ سے تنہائی میں مل لوں۔ حضرت عمیر پیچھے رہ گئے۔ چناںچہ میں جب لشکر کے قریب پہنچا تو لوگوں نے مجھے دیکھ لیا اور حضور ﷺ نے فرمایا: خدا کرے یہ ابو خَیْثمہ ہو۔ میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تو ہلاک ہو چلا تھا اور پھر میں نے اپنا سارا قصہ بیان کیا۔ آپ نے میرے بارے میں کلماتِ خیر فرمائے اور میرے لیے دعا فرمائی۔ 1