صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
حضور ﷺ کا اپنے مرض الوفات میں حضرت اسامہ ؓ (کے لشکر) کو بھیجنے کا اہتمام فرمانا ا
حضرت اُسامہ بن زید ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے انھیں (فلسطین کے )مقام ِ اُبنٰی والوں پر صبح صبح حملہ کر دینے اور ان کے گھروں کے جلا دینے کا حکم دیا۔ پھر حضور ﷺ نے حضرت اسامہ سے فرمایا: اللہ کا نام لے کر چلو۔ چناںچہ حضرت اُسامہ (حضور ﷺ کے دیے ہوئے) اپنے جھنڈے کو لہراتے ہوئے باہر نکلے اوروہ جھنڈا انھوں نے حضرت بُریدہ بن حُصَیب اَسلمی ؓ کو دیا، وہ اسے لے کر حضرت اسامہ کے گھر آئے۔ اور حضور ﷺ کے فرمانے پر حضرت اسامہ نے مقام ِ جُرف پر پڑائو ڈالا اور انھوں نے اپنا لشکر وہاں ٹھہرایا جہاں آج سقایہ سلیمان بنا ہوا ہے۔ لو گ نکل نکل کر وہاں آنے لگے۔ جو اپنی ضروریات سے فارغ ہو جاتا وہ اپنے لشکر کی اس قیام گاہ کو آجاتا، اور جو فارغ نہ ہوتا وہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے میں لگا رہتا۔ مہاجرینِ اوّلین میں سے ہر آدمی اس غزوہ میں شریک ہوا۔ حضرت عمر بن خطّاب، حضرت ابو عبیدہ، حضرت سعد بن ابی وقّاص، حضرت ابو الاعور سعید بن زید بن عمرو بن نُفَیل ؓ اور دیگر مہاجرین اور اَنصار بھی بہت سارے تھے، حضرت قتادہ بن نعمان اور حضرت سلمہ بن اسلم بن حَرِیش ؓ وغیرہ حضرات۔ کچھ مہاجرین نے جن میں حضرت عیّاش بن ابی ربیعہ ؓ پیش پیش تھے اور بڑے زوروں میں تھے کہا: اس لڑکے (اُسامہ) کو مہاجرینِ اوّلین کا امیر بنا یا جا رہا ہے۔ چناںچہ اس بارے میں گفتگو کا خاصا چرچا ہوا۔
حضرت عمر بن خطّاب نے جب اس طرح کی کچھ بات سنی تو انھوں نے بولنے والے کی فوراً تردید کی اور حضور ﷺ کی خدمت میں آکر یہ ساری بات بتا دی۔ جس پر حضور ﷺ کو بڑا غصہ آیا۔ آ پ نے (بیماری کی وجہ سے) اپنے سر پر پٹی باندھ رکھی تھی اور چادر اوڑھ رکھی تھی۔ (چناںچہ آپ اپنے گھر سے باہر تشریف لائے) پھر آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی۔ پھر آپ نے فرمایا: اَما بعد! اے لوگو! میں نے اُسامہ کو جو امیربنایا ہے اس بارے میں آپ لوگوں میں سے کچھ لوگوں کی طرف سے کچھ بات پہنچی ہے، وہ کیا بات ہے؟ اللہ کی قسم! آج تم نے میرے اُسامہ کو امیر بنانے کے بارے میں اعتراض کیا ہے تو اس سے پہلے اس کے والد (حضرت زید بن حارثہ ؓ) کو میرے امیر بنانے کے بارے میں اعتراض کر چکے ہو۔ حالاں کہ اللہ کی قسم! وہ امیر بننے کے قابل تھا، اور اب اُن کے بعد ان کا بیٹا امیر بننے کے قابل ہے۔ اور جیسے وہ (حضرت اُسامہ کے والد) مجھے سب سے زیادہ محبوب تھے ایسے ہی یہ (اُسامہ) لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اور یہ دونوں (باپ بیٹا) ہر خیر کے کام کے بالکل مناسب ہیں۔ تم اس (اُسامہ) کے بارے میں میری طرف سے خیر اور بھلے کی وصیت قبول کرو، کیوںکہ وہ تمہارے پسندیدہ اور منتخب لوگوں میں سیہے۔
پھر حضور ؓ منبر سے نیچے تشریف لائے اوراپنے گھر تشریف لے گئے۔ یہ ہفتہ کا دن تھا اور ربیع الاول کی دس تاریخ تھی۔ حضرت اُسامہ کے ساتھ جانے والے مسلمان حضورﷺ سے الوداعی ملاقات کے لیے آنے لگے اُن میں حضرت عمر بن خطّاب بھی تھے۔ حضور ﷺ (ہر ایک سے) یہی فرماتے جاتے تھے کہ اُسامہ کا لشکر روانہ کرو۔ (حضرت اُسامہ کی والدہ) حضرت اُمّ اَیمن ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں آکرعرض کیا: یا رسول اللہ! اپنے روبصحت ہونے تک اسامہ کو اپنی اسی چھائونی (جُرف) میں ہی رہنے دیں (اور ابھی اُن کو روانہ نہ کریں)۔ اگر وہ اسی حالت میں چلے گئے تو وہ کچھ کر نہیں سکیں گے (اُن کی ساری توجہ آپ کی بیماری کا حال معلوم کرنے کی طرف لگی رہے گی)۔ حضور ﷺ نے (اُن کو بھی یہی) فرمایا: اُسامہ کا لشکر روانہ کرو۔ چناںچہ تمام لوگ (جُرف کی) چھائونی کو چلے گئے اور سب نے وہاںاِتوار کی رات گزاری۔ اِتوار کے دن حضرت اُسامہ (مزاج پُرسی کے لیے) حضور ﷺ کی خدمت میں مدینہ آئے اور حضور ﷺ کی طبیعت بڑی نڈھال تھی اور آپ پر غشی طاری تھی۔ یہ وہی دن ہے جس میں گھر والوں نے حضور ﷺ کو دوا پلائی تھی۔
جب حضرت اُسامہ حضور ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئے تو اُن کی آنکھوں میں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اور آپ کے پاس حضرت عباس ؓ تھے اور ازواجِ مطہّرات آپ کے اِرد گرد تھیں۔ حضرت اُسامہ نے جھک کر حضور ﷺ کا بوسہ لیا۔ حضور ﷺ بول نہیں سکتے تھے۔ آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر حضرت اسامہ پر رکھ رہے تھے۔ حضرت اسا مہ ؓ فرماتے ہیں: میں سمجھ گیا کہ حضور ﷺ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔ میں وہاں سے اپنے لشکر کی قیام گاہ کو واپس آ گیا۔ پیر کے دن حضور ﷺ کو کچھ افاقہ ہوا۔ حضرت اُسامہ اپنے لشکر کی قیام گاہ سے پھر حضور ﷺ کی خدمت میں صبح کو حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ (تمہارے سفر میں) برکت فرمائے! تم روانہ ہو جائو۔ چناںچہ حضرت اُسامہ حضور ﷺ سے رخصت ہوئے۔ حضور ﷺ کو اس وقت افاقہ تھا اور آپ کے آرام کی خوشی میں ازواجِ مطہّرات ایک دوسرے کی کنگھی کر نے لگیں۔ حضرت ابو بکر نے خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! بحمدِ اللہ، آج آپ کو افاقہ ہے۔ آج (میری بیوی) بنتِ خارجہ کا دن ہے مجھے (اس کے ہاں جانے کی) اجازت دے دیں۔ حضور ﷺ نے اُن کو اجازت دے دی۔ چناںچہ وہ (عوالی مدینہ میں) سُنُح محلّہ(میں اپنے گھر ) چلے گئے۔
حضرت اُسامہ سوار ہو کر اپنے لشکر کی قیام گاہ کو چلے اور اپنے ساتھیوں میںاعلان کر دیا کہ سب وہاں پہنچ جائیں۔ لشکر کی قیام گاہ میں پہنچ کر حضرت اُسامہ سواری سے اترے اور لوگوں کو کوچ کا حکم دیا۔ دن چڑھ چکا تھا۔ حضرت اُسامہ سوار ہو کر جُرف سے روانہ ہونا ہی چاہتے تھے کہ ان کے پاس ان کی والدہ حضرت اُمّ اَیمن ؓ کا قاصد پہنچا کہ حضور ﷺ دنیا سے تشریف لے جا رہے ہیں۔ حضرت اُسامہ مدینہ کو چل پڑے۔ اُن کے ساتھ حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ ؓ بھی تھے۔ جب یہ حضرات حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو حضور ﷺ کے آخری لمحات تھے۔ حضور ﷺ کا انتقال بارہ ربیع الاوّل پیر کے دن زوال کے قریب ہوا۔ جُرف میں جتنے مسلمان (جانے کے لیے تیار ہو کر) ٹھہرے ہوئے تھے وہ سب مدینہ آ گئے۔ حضرت بُریدہ بن حُصَیب نے حضرت اُسامہ کا جھنڈا حضور ﷺ کے دروازے کے قریب زمین میں گاڑ دیا۔
جب حضرت ابو بکر ؓکی بیعت ہو گئی تو انھوں نے حضرت بُریدہ کو حکم دیا کہ وہ جھنڈا حضرت اُسامہ کے گھر لے جائیں، اور جب تک حضرت اُسامہ مسلمانوں کو لے کر غزوہ میں نہ چلے جائیں اس جھنڈے کو نہ کھولیں۔ حضرت بُریدہ فرماتے ہیں کہ میں جھنڈا لے کر حضرت اُسامہ کے گھر گیا، پھر اس جھنڈے کو لے کر ملکِ شام حضرت اُسامہ کے ساتھ گیا۔ پھر میں اسے لے کر (شام سے) حضرت اُسامہ کے گھر واپس آیا اور وہ جھنڈا اسی طرح اُن کے گھر میں یوں ہی بندھا رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ جب عربوں کو حضور ﷺ کے انتقال کی خبر ملی اور بہت سے عرب اِسلام سے مرتد ہوگئے تو حضرت ابو بکر نے حضرت اُسامہ سے کہا: تمہیں حضور ﷺ نے جہاں جانے کا حکم دیا تم (اپنا لشکر لے کر) وہاں چلے جائو۔ چناںچہ لوگ پھر (مدینہ سے) نکلنے لگے اور اپنی پہلی جگہ جا کر پڑائو ڈالنے لگے۔ اور حضرت بُریدہ بھی جھنڈا لے کر آئے اور پہلی قیام گاہ پر پہنچ گئے۔
حضرت ابو بکر کا حضرت اُسامہ کے لشکر کو بھیجنا بڑے بڑے مہاجرین اوّلین کو بڑا شاق گزرا۔ چناںچہ حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت ابوعبیدہ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت سعید بن زید ؓ نے حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے خلیفۂ رسول اللہ! ہر طرف عرب کے لوگ آپ کی اِطاعت چھوڑ بیٹھے ہیں، (ان حالات میں ) آپ اس پھیلے ہوئے بڑے لشکر کو بھیج کر اور اپنے سے جدا کرکے کچھ نہیں کر سکیں گے۔ (آپ اس لشکر کو یہاں ہی رکھیں )اور ان سے مرتدین کے فتنہ کو ختم کرنے کا کام لیں، ان کو مرتدین کے مقابلہ کے لیے بھیجیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں مدینہ پر اچانک حملہ کا خطرہ ہے، اور یہاں (مسلمانوں کی) عورتیں اور بچے ہیں۔ ابھی آپ روم کی لڑائی کو رہنے دیں۔ جب اِسلام اپنی پہلی حالت پر آکر مضبوط ہو جائے اور مرتدین یا تو اِسلام میں واپس آ جائیں جس سے اب وہ نکل گئے ہیںیا تلوار سے اُن کا خاتمہ ہو جائے تو پھر آپ حضرت اُسا مہ کو (روم) بھیج دیں۔ ہمیں پورا اطمینان ہے کہ رومی (اس وقت) ہماری طرف نہیں آرہے (لہٰذا اُن کے روکنے کے لیے حضرت اُسامہ کے لشکر کو ابھی بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے)۔
جب حضرت ابو بکر نے اُن کی پوری بات سن لی تو فرمایا: کیا تم میں کوئی کچھ اور کہنا چاہتا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، آپ نے ہماری بات اچھی طرح سن لی ہے۔ آپ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر مجھے اس بات کا یقین ہو جائے کہ (اگر میں اس لشکر کو بھیجوں گا تو) درندے مجھے مدینہ میں آکر کھا جائیں گے تو بھی میں اس لشکر کو ضرور بھیجوںگا۔ (اور خلیفہ بننے کے بعد میں سب سے پہلے یہی کام کرنا چاہتا ہوں) اس سے پہلے میں کوئی اور کام نہیں کر نا چاہتا ہوں۔ اور (اس لشکر کو جانے سے) کیسے (روکا جاسکتا ہے) جب کہ حضور ﷺ پر آسمان سے وحی اُتر تی تھی اور آپ فرماتے تھے کہ اُسامہ کے لشکر کوروانہ کرو۔ ہاں! ایک بات ہے جو میں اُسامہ سے کرنا چاہتا ہوں کہ عمر (نہ جائیں اور) ہمارے پاس رہ جائیں، کیوں کہ ہمارا ان کے بغیر کام نہیں چل سکتا، ہمیں ان کی یہاںضرورت ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ ایسا کریں گے یا نہیں۔ اگر انھوں نے ایسانہ کیا تو اللہ کی قسم! میں اُن کو مجبور نہیں کروں گا۔ آنے والے حضرات سمجھ گئے کہ حضرت ابو بکر نے حضرت اُسامہ کے لشکر کو بھیجنے کا پختہ اِرادہ کر رکھا ہے۔
اور حضرت ابو بکر چل کر حضرت اُسامہ سے ملنے اُن کے گھر گئے، اور حضرت عمر کو (مدینہ میں) چھوڑ جانے کے بارے میں اُن سے بات کی جس پر وہ راضی ہوگئے۔ حضرت ابو بکر نے ان سے یہ بھی کہا کہ کیا آپ نے (عمر کو یہاں رہنے کی) خوشی خوشی اجازت دی ہے؟ حضرت اُسامہ نے کہا: جی ہاں۔ باہر آکر اپنے منادی کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کردے کہ میری طرف سے اس بات کی پوری تاکید ہے کہ رسولِ کریم ﷺ کی زندگی میں جو بھی حضرت اُسامہ کے ساتھ اُن کے اس لشکر میں جانے کے لیے تیار ہو گیا تھا اب وہ ہر گز اس لشکر سے پیچھے نہ رہے (ضرور ساتھ جائے)۔ اور ان میں سے جو اس لشکر کے ساتھ نہ گیا اور وہ میرے پاس لایا گیا تو میں اس کو یہ سزا دوں گا کہ اسے پیدل چل کر اس لشکر میں شامل ہونا ہوگا۔ اور جن حضرات مہاجرین نے حضرت اُسامہ کی اِمارت کے بارے میں گفتگو کی تھی انھیں بلایا اور ان پر سختی کی اور ان کے (اس لشکر کے ساتھ) جانے کو ضروری قرار دیا۔ چناںچہ ایک بھی انسان لشکر سے پیچھے نہ رہا۔ اور حضرت ابوبکر حضرت اُسامہ اور مسلمانوں کو رخصت کر نے کے لیے نکلے۔ اس لشکر کی تعداد تین ہزار تھی اور اُن میں ایک ہزار گھوڑے تھے۔ جب حضرت اُسامہ اپنے ساتھیوں کو لے کر اپنی سواری پر جُرف سے سوار ہوئے تو حضرت ابوبکر تھوڑی دیر حضرت اُسامہ کے ساتھ چلے پھر (مسافر کو رخصت کرنے کی دعا پڑھی):
أَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِیْنَکَ وَأَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ أَعْمَالِکَ۔
اور فرمایا: (اس سفر میں جانے کا ) تمہیں حضور ﷺ نے حکم دیا تھا، تم حضور ﷺ کے اِرشاد کی وجہ سے جائو۔ نہ میں نے تم کو اس کا حکم دیا ہے اور نہ میں تمہیں اس سے روک سکتا ہوں۔ حضور ﷺ جس کام کا حکم دے گئے تھے میں تو وہ کام پورا کروا رہا ہوں۔ پھر حضرت اُسامہ تیزی سے روانہ ہوئے اور اُن کا ایسے علاقوں سے گزر ہوا جو پُر سکون تھے ا وروہاں کے لوگ مرتد نہیں ہوئے تھے جیسے قُضَاعہ کے جُہَیْنہ وغیرہ قبیلے۔ جب حضرت اُسامہ وادیٔ قُریٰ پہنچے تو انھوں نے بنو عُذرہ کے حُرَیث نامی آدمی کو اپنا جاسوس بنا کر آگے بھیجا، جو اپنی سواری پر سوار ہوکر حضرت اُسامہ سے پہلے روانہ ہو ا اور چلتے چلتے (مطلوبہ شہر) اُبنیٰ تک پہنچ گیا۔ اس نے وہاں کے حالات کو غور سے دیکھا اور (لشکر کے لیے) مناسب راستہ تلاش کیا۔ پھر وہ تیزی سے واپس لوٹا اور اُبنیٰ سے دو راتوں کی مسافت پہلے وہ حضرت اُسامہ کے پاس پہنچ گیا اور اس نے انھیں بتایا کہ لوگ بالکل غافل ہیں (انھیں مسلمانوں کے لشکر کے آنے کی کوئی خبر نہیں ہے) اور ان کا لشکر بھی جمع نہیں ہوا۔ اور انھیں مشورہ دیا کہ اب (لشکر کو لے کر) تیزی سے چلیں تاکہ ان کے لشکروں کے جمع ہونے سے پہلے ہی ان پر اچانک حملہ کیا جاسکے۔ 1
حضرت حسن بن ابی الحسن فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنے انتقال سے پہلے اہلِ مدینہ اور اس کے اَطراف سے ایک لشکر تیار فرمایا جن میں حضرت عمر بن خطّاب ؓ بھی تھے، اور حضرت اُسامہ بن زید ؓ کو اس لشکر کا امیر بنایا۔ ان حضرات نے ابھی خندق بھی پار نہیں کی تھی کہ حضور ﷺ کا انتقال ہوگیا۔ حضرت اُسامہ لوگوں کو لے کر ٹھہر گئے اور حضرت عمر سے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ کے پاس واپس جائیں اور ان سے (ہمارے لیے واپس آنے کی) اِجازت لیں تاکہ وہ مجھے اِجازت دیں تو ہم سب لوگ مدینہ واپس چلے جائیں، کیوں کہ میرے ساتھ بڑے بڑے جلیل القدر صحابۂ کرام لشکر میں ہیں۔ اور مجھے خطرہ ہے کہ کہیں مشرکین خلیفۂ رسول اللہ پر اور حضور ﷺ کے گھر والوںاور مسلمانوں کے گھروالوں پر اچانک حملہ نہ کر دیں۔ اور اَنصار نے کہا: اگر حضرت ابوبکر ہمارے جانے کا ہی فیصلہ کریں تو اُن کو ہماری طرف سے یہ پیغام دے کر مطالبہ کریں کہ وہ ہمارا امیر ایسے آدمی کو بنائیں جو عمر میں حضرت اُسامہ سے بڑا ہو۔ چناںچہ حضرت عمر حضرت اُسامہ کا یہ پیغام لے کر گئے اور حضرت ابوبکر کو جاکر حضرت اُسامہ کی ساری بات بتا دی۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ اگر کتے اور بھیڑیے مجھے اُچک لیں (مجھے مدینہ سے اُٹھا کر لے جائیں یا مجھے پھاڑ ڈالیں) تو بھی میں حضور ﷺ کے فیصلہ کو واپس نہیں لے سکتا ہوں ۔
پھر حضرت عمر نے کہا: مجھے اَنصار نے کہا تھا کہ میں آپ کو اُن کا یہ پیغام پہنچا دوں کہ وہ یہ چا ہتے ہیں کہ آپ اُن کا امیر ایسے آدمی کو بنائیں جو عمر میں حضرت اُسامہ سے بڑا ہو۔ حضرت ابو بکر بیٹھے ہوئے تھے، یہ سن کر ایک دم جھپٹے اور حضرت عمر کی ڈاڑھی پکڑ کر کہا: اے ابن الخطّاب! تیری ماں تجھے گم کرے (یعنی تم مر جائو )! حضور ﷺ نے تو ان کو امیر بنایا ہے اور تم مجھے کہہ رہے ہو کہ میں ان کو اِمارت سے ہٹا دوں۔ حضرت عمر وہاں سے نکل کر لوگوں کے پاس آئے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیا کر آئے؟ حضرت عمر نے کہا: چلو، اپنا سفر شروع کرو۔ تمہاری مائیں تمہیں گم کریں! آج تو مجھے تمہاری وجہ سے خلیفۂ رسول اللہ سے بہت کچھ برداشت کرنا پڑا۔ پھر حضرت ابو بکر خود ان لوگوں کے پاس آئے اور ان لوگوں کو خوب ہمت دلائی۔ اور ان کو اس طرح رخصت کیا کہ حضرت ابو بکر خود پیدل چل رہے تھے اور حضرت اُسامہ سوار تھے۔ اور حضرت عبدالر حمٰن بن عوف ؓ حضرت ابوبکر کی سواری کی لگام پکڑ کر چل رہے تھے۔
حضرت اُسامہ نے کہا: اے خلیفۂ رسول اللہ! یا تو آپ بھی سوار ہو جائیں یا پھر میں بھی نیچے اُتر کر پیدل چلتا ہوں۔ حضرت ابوبکر نے کہا: اللہ کی قسم! نہ تم اُترو گے، اور اللہ کی قسم! نہ میں سوار ہوں گا۔ اس میں کیا حرج ہے کہ میں تھوڑی دیر اپنے پائوں اللہ کے راستہ میں غبار آلود کر لوں، کیوںکہ غازی جو قدم بھی اُٹھا تا ہے اس کے لیے ہر قدم پر سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے سات سو درجے بلند کیے جاتے ہیں اور اس کے سات سو گناہ مٹائے جاتے ہیں۔ جب حضرت ابوبکر ان کو رخصت کر کے واپس آنے لگے تو انھوں نے حضرت اُسامہ سے کہا: اگر آپ منا سب سمجھو تو حضرت عمر کو میری مدد کے لیے یہاں چھوڑ جائو۔ چناںچہ حضرت اُسامہ نے حضرت عمر کو مدینہ حضرت ابوبکر کے پاس رہ جانے کی اجا زت دے دی ۔1
حضرت عروہ فرماتے ہیں: جب صحابہ (حضرت ابوبکر ؓ کی) بیعت سے فارغ ہوگئے اور سب پوری طرح مطمئن ہو گئے، تو حضرت ابو بکر نے حضرت اُسامہ کو فرمایا: تمہیں حضور ﷺ نے جہاں جانے کا حکم دیا تھا تم وہاں چلے جائو۔ کچھ مہا جرین اور اَنصار نے حضرت ابوبکر سے گفتگو کی اور کہا: آپ حضرت اُسامہ اور اُن کے لشکر کو روک لیں، کیوںکہ ہمیں ڈر ہے کہ حضور ﷺ کی وفات کا سن کر تمام عرب ہم پر ٹوٹ پڑیں گے۔ حضرت ابو بکر تمام صحابہ میں معاملات کے اعتبار سے سب سے زیادہ سمجھ دار اور مضبوط تھے۔انھوں نے کہا: کیا میں اس لشکر کو روک لوں جسے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا؟ اگر میں ایسا کروں تو یہ میری بہت بڑی جسارت ہوگی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! سارے عرب مجھ پر ٹوٹ پڑیں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں اس لشکر کو جانے سے روک دوں جسے حضور ﷺ نے روانہ فرمایا تھا۔ اے اُسامہ! تم اپنے لشکر کو لے کر وہاں جائو جہاں جانے کا تمہیں حکم ہوا تھا، اور فلسطین کے جس علا قہ میں جا کر لڑنے کا حضور ﷺ نے تمہیں حکم دیا تھا وہاں جاکر اہلِ مُوتہ سے لڑو۔ تم جنھیں یہاں چھوڑ کر جا رہے ہو اللہ اُن کے لیے کافی ہیں، لیکن اگر تم مناسب سمجھو تو حضرت عمر کو یہا ںرہنے کی اِجازت دے دو۔ میں ان سے مشورہ لیتا رہوں گا اور مدد لیتا رہوں گا، کیوںکہ ان کی رائے بڑی عمدہ ہوتی ہے اور وہ اِسلام کے بڑے خیر خواہ ہیں۔ چناںچہ حضرت اُسامہ نے اِجازت دے دی۔
اور اکثر عرب اور اکثر اہلِ مشرق اور قبیلہ غَطَفان والے اور قبیلہ بنو اَسد والے اور اکثر قبیلہ اَشجع والے اپنے دین کو چھوڑ گئے، البتہ قبیلہ بنوطی اِسلام کو تھامے رہے۔ اور اکثر صحابہ نے حضرت ابو بکر کو کہا: حضرت اُسامہ اور اُن کے لشکر کو روک لو۔ قبیلہ غَطَفان اور باقی عرب کے جو لوگ مرتد ہوگئے ہیں ان کو ان کے فتنہ کو ختم کرنے کے لیے بھیج دو۔ حضرت ابوبکرنے حضرت اُسامہ اور ان کے لشکر کو روکنے سے اِنکار کردیا اور صحابہ سے کہا: تم جانتے ہو کہ حضور ﷺ کے زمانے سے یہ دستور چلا آرہا ہے کہ جن اُمور میں نہ تو حضور ﷺ کی سنت ہمیں معلوم ہو اور نہ ان کے بارے میں قرآن میں کوئی صاف حکم آیا ہو، تو ان اُمور کے بارے میں ہم لوگ مشورہ کیا کرتے تھے۔ تم لوگوں نے اپنا مشورہ دے دیا، اب میں تمہیں اپنا مشورہ دیتا ہوں۔ جو تمہیں زیادہ بہتر نظر آئے اسے تم لوگ اختیا ر کر لو، کیو ںکہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہر گز گمراہی پر اِکٹھا نہیں ہونے دیں گے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! میرے خیال میں سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ حضور ﷺ کو جو آدمی زکوٰۃ میں جانوروں کے ساتھ رسی دیا کر تا تھا اب وہ (جانور تو دے لیکن) رسی نہ دے تو بھی اس کے ساتھ جہاد کیا جائے۔ تمام مسلمانوں نے حضرت ابوبکر کی رائے کو قبول کر لیا اور سب نے دیکھ لیا کہ حضرت ابو بکر کی رائے اُن کی رائے سے بہتر ہے ۔
چناںچہ حضرت ابو بکر نے حضرت اُسامہ بن زید کو وہاں بھیجا جہا ں جانے کا حضور ﷺ نے حکم دیا تھا۔ اس غزوے کے بارے میں حضرت ابو بکر نے بالکل صحیح فیصلہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اُسامہ اور اُن کے لشکر کو خوب مالِ غنیمت دیا اور انھیں صحیح سالم اس غزوہ سے واپس فرمایا۔ جب حضرت اُسامہ روانہ ہوئے تو حضرت ابوبکر ؓ (مر تدین کے مقابلہ کے لیے) مہاجرین اور اَنصار کی ایک جماعت کو لے کر چلے۔ سارے دیہاتی عرب اپنے بال بچوں کو لے کر بھاگ گئے۔ جب مسلمانوں کو پتہ چلا کہ دیہاتی عرب اپنے بال بچوں کو لے کر بھاگ گئے تو انھوں نے حضرت ابوبکر سے بات کی اور کہا کہ اب آپ مدینہ بچوں اور عورتیں کے پاس واپس چلیں اور اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کو لشکر کا امیر بنا دیں اور اپنی ذمہ داری اس کے سپرد کر دیں۔ مسلمان حضرت ابو بکر کو کہتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابوبکر مدینہ واپسی کے لیے تیار ہو گئے اور لشکر کا حضرت خالد بن ولید ؓ کو امیر بنا دیا اور ان سے فرمایا کہ عرب کے لوگ جب مسلمان ہو جائیں اور زکوٰۃ دینے لگ جائیں پھر تم میں سے جو واپس آنا چاہے وہ واپس آجائے۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر مدینہ واپس ہوئے۔1
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر ؓ کی بیعت ہو گئی اور اَنصار نے جس امرِ خلافت کے بارے میں اختلاف کیا تھا وہ سب اس پر متفق ہو گئے، اور حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ حضرت اُسامہ کے لشکر (کی روانگی) کا کام مکمل ہو جانا چاہیے۔ عرب کے لوگ مرتد ہوگئے، کوئی سارا قبیلہ مرتد ہو گیا، کسی قبیلہ کے کچھ لوگ مرتد ہوگئے، اور نفاق ظاہر ہو گیا اور یہودیت اور نصرانیت سر اُٹھا کر دیکھنے لگی۔ اور چوں کہ مسلمانوں کے نبی کا ابھی انتقال ہوا تھا اور ان کی تعداد کم تھی اور ان کے دشمن کی تعداد زیادہ تھی، اس وجہ سے مسلمانوںکی حالت اس بکری جیسی تھی جو کہ سردی کی رات میں بارش میں بھیگ گئی ہو۔ تو لوگوں نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ لے دے کر بس یہی مسلمان ہیں۔ اور جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں عربوں نے آپ کی اِطاعت چھوڑ دی ہے، اس لیے آپ کے لیے مناسب نہیں کہ مسلمانوں کی اس جماعت (لشکرِ اُسامہ) کو اپنے سے جدا کر کے بھیج دیں۔ تو حضرت ابو بکر نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر مجھے یہ یقین ہو جائے کہ درندے مجھے اُٹھا کر لے جائیں گے تو بھی میں حضورِ اَقدس ﷺ کے حکم کے مطابق اُسامہ کے لشکر کو ضرور روانہ کروں گا، اور آبادی میں میرے سوا کوئی بھی باقی نہ رہے تو بھی میں اس لشکر کو روانہ کر کے رہوں گا ۔ 1
حضرت قاسم اور حضرت عمرہ روایت کر تے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ جب حضور ﷺ کا وصال ہوا تو سارے ہی عرب مرتد ہو گئے اور نفاق سر اٹھا کر دیکھنے لگا ۔ ا للہ کی قسم! میرے والد پر (اس وقت ) ایسی مصیبت پڑی تھی کہ اگر وہ مضبوط پہاڑوں پر پڑتی تو وہ ان کو بھی پاش پاش کر دیتی۔ اور حضورﷺ کے صحابہ کی حالت ایسی ہو گئی تھی جیسے وہ بکری جو رات کے اند ھیرے میں بارش میں بھیگ رہی ہو اور درندوں سے بھرے ہوئے علاقہ میں حیران و پریشان ہو۔ اللہ کی قسم! (اس موقع پر ) جس بات میں بھی صحابہ کا اختلاف ہوتا میرے والد اس کے بگاڑکو ختم کرتے اور اس کی لگام کو تھام کر منا سب فیصلہ کر دیتے (جس سے سارا اختلاف ختم ہو جاتا)۔2
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیںہے! اگر (حضور ﷺ کے بعد) حضرت ابو بکر ؓ خلیفہ نہ بنائے جاتے تو اللہ کی عبادت (دنیا میں) نہ ہوتی۔ حضرت ابوہریرہ نے دوبارہ یہ بات فرمائی اور پھر تیسری مرتبہ فرمائی تو لوگوں نے ان سے کہا: اے ابوہریرہ! (ایسی بات کہنے سے) آپ رُک جائیں۔ انھوں نے فرمایا: (میں یہ بات اس وجہ سے کہہ رہا ہوں ) کہ حضور ﷺ نے سات سو آ دمیوں کا لشکر دے کر حضرت اُسامہ کو ملکِ شام روانہ فرمایا۔ (مشہور روایت تین ہزار کی ہے، اس لیے بظاہر یہ سات سو کا لشکر قریش میں سے ہوگا) جب حضرت اُسامہ ذِی خُشُب مقام پر (مدینہ سے باہر) پہنچے تو حضور ﷺ کا وصال ہوگیا اور مدینہ کے اَطراف کے عرب مرتد ہوگئے۔ تو حضور ﷺ کے صحابہ نے حضرت ابو بکر کے پاس جمع ہو کر کہا: اے ابو بکر! اس لشکر کو واپس بلالیں، آپ ان کو روم بھیج رہے ہیں حالاں کہ مدینہ کے اِرد گرد کے عرب مرتد ہو رہے ہیں۔ تو انھوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! اگر کتے حضور ﷺ کی ازواجِ مطہّرات کی ٹانگوں کو گھسیٹتے پھریں تو بھی میں اس لشکر کو واپس نہیں بلائوں گا جسے حضور ﷺ نے روانہ فرمایا ہے، اور میں اس جھنڈے کو نہیں کھول سکتا جسے حضور ﷺ نے باندھا ہے۔
چناںچہ حضرت ابو بکر نے حضرت اُسامہ کا لشکر روانہ فرمایا (اور اسے واپس نہ بلا یا) جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ لشکر جس قبیلہ کے پاس سے گزرتا جن کا مرتد ہونے کا اِرادہ ہوتا وہ قبیلہ والے کہتے: اگر مسلمانوں کی (بڑی ) قوت نہ ہوتی تو اُن کے پاس سے اتنا بڑا لشکر نکل کر نہ آتا۔ ابھی ہم ان مسلمانوں کو (ان کے حال پر) چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کو رومیوں سے لڑنے دو (پھر دیکھیں گے)۔ چناںچہ اس لشکر نے رومیوں سے لڑائی کی اور اُن کو شکست دی اور انھیں قتل کیا اور صحیح سالم واپس آگیا اور یوں(راستہ کے ) تمام عرب قبیلے اِسلام پر جمے رہے۔ 1
حضرت سیف روایت کر تے ہیں کہ حضرت ابو بکر ؓ حضرت خالد ؓ کے شام روانہ ہونے کے بعد بیمار ہو گئے اور چند ماہ کے بعد اسی بیماری میں اُن کا انتقال ہوا۔ حضرت ابو بکر کے انتقال کا وقت قریب آچکا تھا اور وہ حضرت عمر ؓ کے لیے خلافت طے کر چکے تھے کہ اتنے میں (ملکِ شام سے) حضرت مثنّٰیؓ آئے اور انھوں نے حضرت ابوبکر کو تمام حالا ت بتائے۔ تو حضرت ابوبکر نے کہا: عمر کو میرے پاس بلا لائو۔ چناںچہ حضرت عمر آگئے۔ آپ نے ان سے فرمایا: اے عمر! جو میں تمہیںکہہ رہا ہوں اسے غور سے سنو، اور پھر اس پر عمل کرو۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ میں آج انتقال کر جائوں گا۔ اور یہ پیر کا دن تھا۔ اگر میں ابھی مر جائوں تو شام سے پہلے پہلے لوگوں کو حضرت مثنّٰی کے ساتھ (ملکِ شام )جانے کے لیے ترغیب دے کر تیار کر لینا،اور اگر میں رات تک زندہ رہوں اور رات کو میرا انتقال ہو تو صبح ہونے سے پہلے پہلے لوگوں کو حضرت مثنّٰی کے ساتھ (ملکِ شام) جانے کے لیے ترغیب دے کر تیار کرلینا۔ اور کوئی مصیبت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو تمہیں تمہارے دینی کام سے اور تمہارے ربّ کی وصیت سے روک نہ سکے۔ تم نے مجھے دیکھا ہے کہ میں نے حضور ﷺ کے انتقال کے موقع پر کیا کیا تھا، حالاں کہ اتنی بڑی مصیبت انسانوں پر کبھی نہیں آئی تھی۔ اللہ کی قسم! اگر میں اللہ اور اس کے رسول کی بات سے ذرا بھی پیچھے ہٹ جاتا تو اللہ تعالیٰ ہماری مدد چھوڑ دیتے اور ہمیں سزا دیتے اور سارا مدینہ آگ میں جل جاتا ۔1