صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
نبی کریم ﷺکا جہاد میں جان لگانے اور مال خرچ کرنے کے لیے ترغیب دینا
کس طرح نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ اللہ کے راستہ میں جہاد کیا کرتے تھے، اور اللہ او ر اس کے رسول ﷺکی دعوت کے لیے ہر حال میں نکلا کرتے تھے چاہے ہلکے ہوں یا بوجھل، دل چاہے یا نہ چاہے، اور تنگی اور فراخی اور سردی اور گرمی ہر زمانے میں اس کے لیے تیار رہتے تھے۔
نبی کریمﷺکا جہاد میں جان لگانے اور مال خرچ کرنے کے لیے ترغیب دینا
حضرت ابو ایوب اَنصاری ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ مدینہ میں تھے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ ابو سفیان کا تجارتی قافلہ (شام کی طرف سے بہت سا مال لے کر) آرہا ہے۔ کیا آپ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم لوگ اس قافلہ کا مقابلہ کرنے کے لیے (مدینہ سے) نکلیں؟ شاید اللہ تعالیٰ اس قافلے کا سارا سامان ہمیں بطورِ مالِ غنیمت دے دے۔ ہم نے کہا: جی ہاں (ہم نکلنا چاہتے ہیں)۔ چنا ںچہ آپ تشریف لے چلے اور ہم بھی (آپ کے ساتھ) نکلے۔ جب ہم ایک یا دو دن چل چکے تو آپ نے ہم سے فرمایا: قریش کو تمہارے نکلنے کی خبر ہوگئی ہے (اور وہ تم سے لڑنے کے لیے تیار ہو کر آگئے ہیں)، تو قریش کے اس لشکر (سے لڑنے) کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟ ہم نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم میں اُن سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے، ہمارا تو تجارتی قافلہ سے مقابلہ کا اِرادہ تھا۔ آپ نے پھر فرمایا: قریش کے اس لشکر(سے لڑنے)کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ ہم نے وہی جواب دیا۔ پھر حضرت مقداد بن عمرو ؓ نے کھڑے ہو کر کہا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے اس مو قع پر وہ نہیں کہیں گے جو (ایسے ہی موقع پر) موسیٰ ؑکی قوم نے ان سے کہا تھا کہ تو جا اور تیرا ربّ اور تم دونوں لڑوہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔
حضرت ابو ایوب کہتے ہیں کہ (حضرت مقداد کے اس ایمان اَفروز جواب پر) ہم اَنصار کو تمنا ہوئی کہ ہم بھی حضرت مقداد جیسا جواب دیتے تو بہت زیادہ مال ملنے سے زیادہ محبوب ہوتا۔ چناںچہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ پر یہ آیات نازل فر مائیں:
{کَمَا اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْم بَیْتِکَ بِالْحَقِّص وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِھُوْنَ O}1
جیسے نکالا تجھ کو تیرے ربّ نے تیرے گھر سے حق کام کے واسطے اور ایک جماعت اہلِ ایمان کی راضی نہ تھی۔ 2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر جانے کے بارے میں مشورہ لیا جس پر حضرت ابو بکر ؓ نے اپنی رائے پیش کی۔ آپ نے صحابہ ؓ سے دو بارہ رائے لی تو حضرت عمر ؓ نے اپنے رائے پیش کی۔ آپ نے پھر صحابہ سے رائے لی۔ اس پر ایک اَنصاری نے کہا: اے جماعتِ اَنصار! رسول اللہ ﷺ تم لوگوں سے رائے لینا چاہتے ہیں۔ اس پر ایک اَنصاری نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (اگر آپ بدر جانا ہی چاہتے ہیں تو)ہم آپ کو ویسا جواب نہیں دیں گے جیسا جواب موسیٰ ؑ کو بنو اسرائیل نے دیا تھا کہ (اے موسیٰ!) تو جا اور تیرا ربّ اور تم دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہ عرض کریں گے کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! اگر آپ ( یمن کی) بستی بر ک ۱لغِمَاد تک کا بھی (طویل) سفر کریں تو بھی ہم آپ کا ساتھ دیں گے ۔3
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ کو ابو سفیان کے (تجارتی قافلہ کے ملکِ شام سے) آنے کی اطلاع ملی تو آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا۔ حضرت ابو بکر ؓ نے کچھ مشورہ دیا، آپ نے اُن سے منہ پھیر لیا۔ پھر حضرت عمر نے اپنا مشورہ دیا، آپ نے ان سے بھی منہ پھیر لیا۔ اس پر حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے کہا کہ حضور ﷺ ہماری رائے لینا چاہتے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر آپ ہمیں اس بات کا حکم دیں کہ ہم اپنی سواریاں سمندروں میں ڈال دیں تو ہم اُن کو سمندروں میں ڈال دیں گے، اور اگر آپ ہمیں اس بات کا حکم دیں کہ ہم برک الغِمَاد تک اپنی سواریوں پر سفر کریں تو ہم ایسا ضرور کریں گے۔ (اس پر خوش ہو کر) حضور ﷺ نے لوگوں کو (اس قافلہ کے مقابلہ کے لیے چلنے کا)حکم دیا۔1
حضرت علقمہ بن وقّاص لیثی ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ بدر کے لیے روانہ ہوئے۔ جب آپ رَوْحَامقام پر پہنچے تو آپ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت ابو بکر ؓ نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیںیہ خبر ملی ہے کہ وہ(کفار) بہت ہتھیار لے کر بڑی تعداد میں آئے ہیں۔ آپ نے پھر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟ تو حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوبکر جیسی بات کہی۔ آپ نے پھر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟
اس پر حضرت سعد بن معاذ ؓ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ہماری رائے لینا چاہتے ہیں؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو یہ شرف بخشا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی! نہ تو میں کبھی اس راستہ پر چلا ہوں اور نہ مجھے اس کا کچھ علم ہے، لیکن اگر آپ یمن کے برک الغِمَاد تک جائیں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ وہاں تک جائیں گے اور ہم اُن لوگوں کی طرح سے نہیں ہوں گے جنھوں نے موسیٰ ؑ سے کہہ دیا تھا:
{فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ O}2
آپ بھی جائیں اور آپ کا ربّ بھی جائے آپ دونوں لڑائی کریں، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔
بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں:
اِذْھَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا إِنَّا مَعَکُمْ مُتَّبِعُوْنَ۔
آپ بھی جائیں اور آپ کا ربّ بھی جائے آپ دونوں لڑا ئی کریں اور ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ آپ تو کسی اورکام کے ارادے سے چلے ہوں، اور اب اللہ تعالیٰ کچھ اور کام کروانا چاہتے ہوں۔ یعنی آپ تو قافلہ ابو سفیان کے مقابلہ کے اِرادے سے چلے تھے لیکن اب اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ کافروں کے اس لشکر سے لڑا جائے تو جو اللہ تعالیٰ کروانا چاہتے ہیں آپ اسے دیکھیں اور اسے کریں۔ اس لیے اب (ہماری طرف سے آپ کو ہر طرح کا پورا اختیار ہے، اب) آپ جس سے چاہیں تعلقات بنائیں اورجس سے چاہیں تعلقات ختم کردیں، اور جس سے چاہیں دشمنی رکھیں اور جس سے چاہیں صلح کر لیں، اور ہمارا جتنا مال چاہیں لے لیں۔ چناںچہ حضرت سعد کے اس جواب پر یہ قرآن نازل ہوا:
{کَمَا اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْم بَیْـتِکَ بِالْحَقِّص وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُـؤْمِنِیْنَ لَکٰرِھُوْنَ O}1
جیسے نکالا تجھ کو تیرے ربّ نے تیرے گھر سے حق کام کے واسطے اور ایک جماعت اہلِ ایمان کی راضی نہ تھی۔ 2
اُمَوی نے اپنی مغازی میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے اور اس میں یہ مضمون مزید ہے کہ آپ ہمارا جتنا مال چاہیں لے لیں اور جتنا چاہیں ہمیں دے دیں، اور جو آپ ہم سے لیں گے وہ ہمیں اس سے زیا دہ محبوب ہو گا جو آپ ہمارے پاس چھوڑ دیں گے، اور آپ جو حکم دیں گے ہمارا معاملہ اس حکم کے تابع ہو گا۔ اللہ کی قسم! اگر آپ غُمْدان کے بَرک تک چلتے چلتے پہنچ جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ وہاں تک جائیں گے۔ اور اس کو ابنِ اسحاق نے اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہو تا ہے کہ یا رسول اللہ! آپ ہماری رائے لینا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت سعد نے کہا: ہم آپ پر ایمان لا چکے ہیں اور آپ کی تصدیق کر چکے ہیں اور گواہی دے چکے ہیں کہ آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے، اور ہم نے آپ کو اس بات پر عہد وپیمان دیا ہے کہ ہم آپ کی ہر بات سنیں گے اور مانیں گے۔
یا رسول اللہ ! آپ نے جس چیز کا اِرادہ کیا ہے اسے کر گزریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! اگر آپ ہمیں سمندر کے سامنے لے جائیں اور آپ سمندر میں گھس جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ سمندر میں گھس جائیں گے، ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ اگر کل آپ ہمیں ساتھ لے کر ہمارے دشمن سے لڑیں تو ہمیں یہ با لکل ناگوار نہ ہو گا، ہم بڑے جم کر لڑنے والے ہیں، اور بڑی بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کل کو اللہ تعالیٰ ہمارے ہاتھوں آپ کو کوئی ایسا کارنامہ دکھائے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں۔ اللہ برکت عطا فرمائے! آپ تشریف لے چلیں۔ حضرت سعد کے اس جواب سے حضو ر ﷺ بہت زیادہ خوش ہوئے اور آپ کی طبیعت میں اس سے بڑی نشاط پیدا ہوئی۔ پھر آپ نے فرمایا: چلو اور تمہیں خوش خبری ہو، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے ان دو جماعتوں (قافلہ ابوسفیان اور لشکرِ کفار) میں سے ایک جماعت (پر غلبہ دینے) کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے اس وقت وہ جگہیں نظر آرہی ہیں جہاں کل یہ کافر (قتل ہو کر) گریں گے۔ 1
حضرت انس ؓ فر ماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت بُسْبس ؓ کو جاسوسی کے لیے بھیجا کہ دیکھ آئیں کہ ابو سفیان کا قافلہ کیا کر رہا ہے؟ چناںچہ وہ (حضور ﷺ کی خدمت میں) واپس آئے اور اس وقت گھر میںمیرے اور حضور ﷺ کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ کی جن بعض عورتوں کے بارے میںبتایا کہ وہ بھی گھر میں موجود تھیں میں ان کو نہیں جانتا۔ حضرت بُسْبس نے حضور ﷺ کو تمام حالات بتائے۔ حضور ﷺ نے گھر سے باہر تشریف لا کر (صحابہ سے) فر مایا: ہم ایک قافلہ کو تلاش کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا جس کی سواری موجود ہے وہ تو اس پر سوار ہوکر ہمارے ساتھ چل پڑے۔ بعض لوگ حاضر ہو کر اِجازت لینے لگے کہ ہماری سواریاں مدینہ کے بالائی حصہ میں ہیں، ہم وہاںسے سواریاں لے آتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:نہیں، جس کی سواری یہاں موجود ہو وہ ہی ہمارے ساتھ چلے ۔ چناںچہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ چلے اور مشرکین سے پہلے بدر پہنچ گئے اور مشرکین بھی آگئے۔ حضو ر ﷺ نے فرمایا: جب تک میںکوئی کام نہ کر لوںاس وقت تک تم میں سے کوئی بھی وہ کام نہ کرے۔
چناںچہ مشرکین بالکل قریب آگئے تو حضور ﷺ نے فرمایا: اُٹھو اور ایسی جنت کی طرف بڑھو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ حضرت عمیر بن حُماَم اَنصاری ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسی جنت جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابرہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت عمیرنے کہا: واہ واہ! حضور ﷺ نے فرمایا: تم واہ واہ کیوںکہہ رہے ہو؟ انھوںنے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! صرف اس اُمیدپر کہہ رہا ہوںکہ میںبھی جنت والوںمیں سے ہوجائوں۔ پھر وہ اپنی جھولی میںسے نکال کر کھجوریں کھا نے لگے۔ پھر کہنے لگے: ان کھجوروںکے کھانے تک میںزندہ رہوںیہ تو بڑی لمبی زندگی ہے۔ یہ کہہ کر کھجوروںکو پھینک دیا اور شہید ہونے تک کافروں سے لڑتے رہے ۔رَحِمَہُ اللّٰہُ۔1
ابنِ اسحاق کی روایت میںاس طرح ہے کہ پھر حضور ﷺ (کفارِمکہ کے آنے کی خبر سننے کے بعد ) لوگوں کے پاس باہر تشریف لائے اور لوگوں کوترغیب دیتے ہوئے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میںمیری جان ہے! آج جو اِن کافروںسے جنگ کرے گا اور صبرکرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ثواب کی اُمید میںآگے بڑھتے ہوئے شہید ہوگا اور پشت نہیںپھیرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ضرور جنت میں داخل کر دیں گے۔ بنو سلمہ کے حضرت عمیر بن حُماَم ؓ کے ہاتھ میں کھجوریں تھیں جنھیں وہ کھا رہے تھے۔ یہ سن کر انھوںنے کہا: واہ واہ! کیا میرے اور جنت میںداخل ہونے کے درمیان صرف یہی چیز حائل ہے کہ یہ (کافر) لوگ مجھے قتل کر دیں؟ یہ کہہ کر کھجوریں ہاتھ سے پھینک دیں اور تلوار لے کر کافر وں سے لڑنا شروع کیا یہاں تک کے شہید ہوگئے ۔ ابنِ جریر نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ حضرت عمیرؓکافروں سے لڑتے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہے تھے:
رَکْضًا إِلَی اللّٰہِ بِغَیْرِ زَادٖ
إِلَّا التُّقٰی وَعَمَلِ الْمَعَادٖ
وَالصَّبْرِ فِي اللّٰہِ عَلَی الْجِھَادٖ
وَکُلُّ زَادٍ عُرْضَۃُ النَّفَادٖ
غَیْرَ التُّقٰی وَالْبِرِّ وَالرَّشَادٖ
میں(ظاہری)توشہ لیے بغیر اللہ کی طرف دوڑ رہا ہوں، البتہ تقویٰ اور آخرت والے عمل اور جہاد میںاللہ کے لیے صبر کرنے کا توشہ ضرورساتھ ہے، اور تقویٰ اور نیکی اور ہدایت کے علاوہ ہر توشہ ضرور ختم ہو جائے گا۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیںکہ طائف سے واپس آنے کے چھ ماہ بعد میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو غزوۂ تبوک کا حکم دیا۔ یہ وہ غزوہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سَاعَۃُ الْعُسْرَۃْ (تنگی کی گھڑی) کے نام کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہ غزوہ سخت گرمی میں ہواتھا اس وقت منافقین کا زور بھی بڑھ رہا تھا اور اصحابِ صفہ کی تعداد بھی بڑھ رہی تھی۔ صُفّہ ایک چبوترے کا نام ہے جس پر فقر وفاقہ والے مسلمان جمع رہتے تھے۔ ان کے پاس حضور ﷺ کا اور مسلمانوںکا صدقہ آیا کر تا تھا۔ جب کسی غزوہ میں جانے کا موقع آتا تو مسلمان ان کے پاس آکر حسبِ توفیق ایک یا زیادہ آدمیوںکو اپنے ساتھ لے جاتے اور ان کو کھانا بھی خوب کھلاتے اور ان کو لڑائی کا سامان بھی دیتے۔ یہ حضرات بھی مسلمانوںکے ساتھ لڑائی میں شریک ہوتے اور مسلمان بھی ان حضرات پر ثواب لینے کی نیت سے خرچ کیا کرتے تھے۔ چناںچہ (غزوۂ تبوک کے اس موقع پر ) حضور ﷺ نے مسلمانوںکو ثواب لینے کی نیت سے اللہ کی راہ میںخرچ کرنے کا حکم دیا۔
چناںچہ مسلمانوں نے ثواب کی نیت سے خوب خرچ کیا، اور کچھ (منافق) لوگوں نے بھی خرچ کیالیکن ان کی نیت ثواب لینے کی نہیں تھی (بلکہ دِکھاوے او ر خود کو مسلمان ظاہر کر نے کی تھی)۔ اور بہت سے نادار مسلمانوںکے لیے سواری کا انتظام ہو گیا، لیکن پھر بھی بہت سے مسلمان (سواری کے بغیر) رہ گئے۔ اس دن سب سے زیادہ مال حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے خرچ کیا۔ چناںچہ انھوں نے دو سو اُوقیہ چاندی یعنی آٹھ ہزار درہم اللہ کے راستہ میں دیے۔ اور حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ایک سو اُوقیہ چاندی یعنی چار ہزار درہم دیے۔ اور حضرت عاصم اَنصاری ؓ نے نوّے وسق (تقریباً پونے پانچ سو من) کھجوردی۔ حضرت عمربن خطاب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے خیال میں حضرت عبدالرحمن (اتنازیادہ خرچ کر کے) گناہگار ہوگئے ہیں، کیوں کہ انھوں نے اپنے گھر والوں کے لیے کچھ نہیں چھوڑاہے۔ چناںچہ حضور ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں! جتنا میں لایا ہوں اس سے زیادہ اور اس سے عمدہ (چھوڑ کر آیا ہوں)۔ آپ نے فرمایا: کتنا؟ انھوں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جس رِزق اور خیر کا وعدہ کیا ہے وہ چھوڑ کر آیا ہوں۔ حضرت ابو عقیل نامی اَنصاری صحابی ؓ نے ایک صاع(ساڑھے تین سیر) کھجورلاکر دی۔
اور منافقوں نے جب مسلمانوںکے اس طرح خرچ کرنے کو دیکھاتو ایک دوسرے کو آنکھ سے اشارے کرنے لگے۔ جب کوئی زیادہ لاتا تو آنکھ سے اشارے کر کے کہتے کہ یہ ریا کارہے (دِکھاوے کے لیے زیادہ لایا ہے)، اور جب کوئی اپنی طاقت کے مطابق تھوڑی کھجوریں لاتا تو کہتے کہ یہ جو لایا ہے اس کا تو یہ خود ہی زیادہ محتاج ہے۔ چناںچہ جب حضرت ابو عقیل ایک صاع کھجور لائے تو انھوں نے کہاکہ میںآج ساری رات دو صاع کھجورمزدوری کے بدلہ میں پانی کھینچتا رہا ہوں۔ اللہ کی قسم! ان دو صاع کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں تھا۔ وہ عذر بھی بیان کر رہے تھے اور (کم خرچ کرنے پر)شرما بھی رہے تھے۔ اور ان دو صاع میں سے ایک صاع یہاں لایا ہوں اور دوسرا صاع اپنے گھر والوں کے لیے چھوڑ آیا ہوں۔ اس پر منافقوں نے کہا کہ اسے تو اپنے صاع کھجوروںکی دوسروں سے زیادہ ضرورت ہے۔ اور منافقین اس طرح آنکھوں سے اِشارے اور زبان سے ایسی باتیں بھی کرتے جاتے تھے اور ان کے مال دار اور غریب سب اس انتظارمیں تھے کہ ان صدقات میں سے انھیں بھی کچھ مل جائے۔
جب حضور ﷺ کی روانگی کا وقت قریب آگیا تو منافق بہت زیادہ اجازت مانگنے لگے اور انھوں نے گرمی کی بھی شکایت کی، اور یہ بھی کہا کہ اگروہ اس سفر میں گئے تو انھیں آزمایش میں مبتلا ہو جانے کا خطرہ ہے۔ اور اپنی جھوٹی باتوں پر اللہ کی قسم بھی کھاتے تھے۔ حضور ﷺ اُن کو اجازت دیتے رہے، آپ کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے دلوں میںکیاہے ؟ ان میں سے ایک گروہ نے مسجدِ نفاق بھی بنائی جس میںبیٹھ کر وہ ابو عامر فاسق اور کنانہ بن عبدِیَالِیْل اور علقمہ بن عُلاَثہ عامری کا انتظار کر رہے تھے۔ ابو عامر ہِرَقْل کے پاس گیا ہوا تھا۔ (ابو عامر ہِرَقْل کو حضور ﷺ کے خلاف فوج کشی پر آمادہ کرنے کے لیے گیا تھا، اور یہ مسجد مسلمانوںکے خلاف مشورے کرنے کے لیے بنائی تھی) اور ان ہی کے بارے میں سورۂ براء ت تھوڑی تھوڑی نازل ہو رہی تھی اور اس میںایک ایسی آیت نازل ہوئی جس کے بعد کسی کے لیے جہاد سے رہ جانے کی گنجایش نہیںرہی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے {اِنْفِرُوْاخِفَافًا وَّثِقَالاً}1 آیت نازل فرمائی کہ ’’تم ہلکے ہو یا بھاری ہر حال میںاللہ کے راستہ میں نکلو۔‘‘ تو مخلص اور پکے مسلمان جو کمزور اور بیمار اور غریب تھے، انھوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں آکر شکایت کی کہ اب تو اس غزوہ میں نہ جانے کی کوئی گنجایش نہیں رہی۔ اور منافقین کے بہت سے گناہ ابھی تک چھپے ہوئے تھے جو بعد میں ظاہر ہوئے۔ اور بہت سے (منافق) لوگ اس غزوہ میں نہ گئے، نہ انھیں (خدا پر) یقین تھا اور نہ کسی قسم کی بیماری تھی۔
یہ سورت بڑی تفصیل کے ساتھ آپ پر نازل ہو رہی تھی اور آپ کا ساتھ دینے والوں کا سارا حال بتا رہی تھی یہاں تک کہ آپ تبوک پہنچ گئے، اور وہاںسے حضرت علقمہ بن مُجزِّزمُدْلَجِی ؓ کو فلسطین اور حضرت خالد بن ولید ؓ کو دُوْمۃالْجَنْدل حضور ﷺ نے بھیجا۔ اور (حضرت خالد سے) حضور ﷺ نے فرمایا: تم جلدی جائو، تم (دُوْمۃ الْجَنْدل کے بادشاہ کو) باہر نکل کر شکار کرتا ہوا پائو گے تو اسے پکڑ لینا۔ چناںچہ ایسا ہی ہوا حضرت خالد نے اسے پایا اور اسے پکڑ لیا۔
جب (مسلمانوں کی طرف سے) کوئی تکلیف اور مشقت کی خبر آتی تو منافق مدینہ میںلوگوں کو خوب پریشان کرتے۔ چناںچہ جب انھیں یہ خبر ملتی کہ مسلمانوںکو بڑی مشقت اور مجاہدہ برداشت کرنا پڑا تو ایک دو سرے کو خوش خبری دیتے اور بہت خوش ہوتے اور کہتے: ہمیں تو یہ پہلے سے معلوم تھا (کہ اس سفر میں بڑی مشقت اٹھانی پڑے گی) اور اسی وجہ سے ہم اس سفر میں جانے سے روک بھی رہے تھے۔ اور جب انھیں مسلمانوں کی خیریت اور سلامتی کی خبر ملتی تو بڑے غمگین ہو جاتے۔
منافقوں کے جتنے دشمن مدینہ میں موجود تھے ان سب کو منافقوںکی اس دلی کیفیت کا یعنی نفاق اور مسلمانوںسے کدورت کا اچھی طرح سے پتہ چل گیا۔ اور ہر دیہاتی اور غیر دیہاتی منافق کوئی نہ کوئی خفیہ طور پر ناپاک حرکت کر رہا تھا، بالآخر یہ سب کچھ کھل کر سامنے آگیا۔ اور ہر معذور اور بیمار مسلمان کی حالت یہ تھی کہ وہ اس انتظار میں تھا کہ اللہ تعالیٰ جو آیتیں اپنی کتاب میں نازل فرما رہے ہیں ان آیتو ں میں (مدینے میں رہنے کی اجازت کی) گنجایش والی آیت بھی نازل ہوجائے۔ سورۂ براء ت تھوڑی تھوڑی اُترتی رہی (اور اس میں ایسے مضامین نازل ہوتے رہے جن کی وجہ سے) لوگ مسلمانوں کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے، اور مسلمان اس بات سے ڈرنے لگے کہ توبہ کے ذیل میں ان کے ہر چھوٹے بڑے گناہ کے بارے میں اس سورت میں ضرور کوئی نہ کوئی سزا نازل ہو جائے گی، یہاں تک کہ سورۂ براء ت پوری مکمل ہوگئی اور عمل کرنے والے ہر کارکن (مسلمان اور منافق) کے بارے میں اس سورت میں واضح کر دیا گیا کہ وہ ہدایت پر ہے یا گمراہی پر ہے ۔ 1
حضرت عبداللہ بن ابی بکر بن حَزم کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی عادت ِشریفہ یہ تھی کہ غزوہ میں جس طرف جانے کا ارادہ ہوتا (اس کا اظہار نہ فرماتے) بلکہ ایسا انداز اختیار کرتے جس سے کسی اور طرف جانے کا ارادہ معلو م ہو۔ لیکن غزوۂ تبوک میں (آپ نے یہ انداز اختیار نہ کیا بلکہ) صاف طور سے فرمایا: اے لوگو! اس دفعہ روم والوںسے لڑنے کا ارادہ ہے۔ چناںچہ آپ نے اپنا ارادہ صاف صاف ظاہر فرما دیا۔ اس وقت لوگ بڑے نادار تھے، گرمی سخت پڑ رہی تھی، اور سارے علا قہ میں قحط سالی تھی، اور پھل پک چکے تھے اور لوگ (تیار پھلوں کو کاٹنے کے لیے) اپنے باغات میں (اور شدتِ گرمی سے بچنے کے لیے) اپنی سایہ دار جگہوں میں رہنا چاہتے تھے، اور ان جگہوں کو چھوڑکر (گرمی میں سفر پر) جانا بالکل پسند نہیں تھا۔ اس غزوہ کی تیاری فرماتے ہوئے حضور ﷺ نے ایک دن جَد بن قیس (منافق) کو کہا: اے جَد! بنو اَصفر (رومیوں) سے لڑنے کا تمہارا بھی خیال ہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ مجھے (یہاں رہنے کی) اجازت دے دیںاور مجھے آزمایش میں نہ ڈالیں۔ میری قوم کو یہ بات معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ عورتوں سے متأثر ہونے والا کوئی نہیں ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ بنو اَصفر (رومیوں) کی عورتوں کو دیکھ کر میں کہیں فتنہ میں نہ پڑ جائوں۔ یا رسول اللہ! آپ مجھے اجازت دے دیں۔ آپ نے اس سے منہ پھیرتے ہوئے فرمایا: ہاںاجازت ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما ئی:
{وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَلَا تَفْتِنِّیْط اَلَا فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوْا}1
بعضے ان میں کہتے ہیں: مجھ کو رخصت دے اور گمراہی میں نہ ڈال۔ سنتا ہے! وہ تو گمراہی میں پڑ چکے ہیں۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ رومیوں کی عورتوں کے فتنہ سے ڈر کر یہ مدینہ رہنا چاہتا ہے اور حضور ﷺ کے ساتھ جانا نہیں چاہتا ہے۔ یہ مدینہ میں اس وقت رہ جانا اور حضور ﷺ کے ساتھ نہ جانا خود بڑا فتنہ اور زبردست گمراہی ہے جس میں وہ گمراہ ہو چکا ہے ۔
{وَاِنَّ جَھََنَّمَ لَمُحِیْطَۃٌم بِالْکٰفِرِیْنَ O}2
اور بے شک دوزخ گھیر رہی ہے کافروں کو۔
یہاں کافر سے وہ منا فق مراد ہیں جو بہانہ بنا کر پیچھے رہ جانا چاہتے تھے۔ ایک منا فق نے کہا: لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّّ مت کرو کوچ گرمی میں ۔ اس پر یہ آیت نا زل ہوئی :
{قُلْ نَارُ جَھَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّاط لَوْ کَانُوْا یَفْقَھُوْنَ O}3
تو کہہ دوزخ کی آگ سخت گرم ہے اگر ان کو سمجھ ہوتی۔
پھر حضور ﷺ اپنے سفر کی زور شور سے تیاری کر نے لگے اور لوگوں کو اللہ کے راستے میں جان دینے کو کہا اور مال داروں کو اللہ کے راستے میں سواریاں دینے اور خوب خرچ کر نے کی ترغیب دی۔ چناںچہ مال دار لوگوں نے ثواب لینے کے شوق میں خوب سواریاں دیں۔ اور اس غزوہ میں حضرت عثمان ؓ نے اتنا زیادہ خرچ کیا کہ ان سے زیادہ کوئی نہ کر سکا اور دو سو اُونٹ سواری کے لیے دیے۔ 4
حضرت ابنِ عباس ؓ فرما تے ہیں: جب حضور ﷺ نے غزوۂ تبوک کے لیے جانے کا ارادہ فرمایا تو جَد بن قیس سے کہا: بنو اَصفر رومیوں سے لڑنے کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں تو بہت سی عورتوں والا ہوں (ان کے بغیر نہیں رہ سکتا ہوں)۔ میں تو رومیوں کی عورتوں کو دیکھ کر فتنہ میں پڑ جائوں گا۔ کیا آپ مجھے یہاں رہنے کی اجازت دے دیں گے؟ مجھے (ساتھ لے جا کر) فتنہ میں نہ ڈالیں۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَلَا تَفْتِنِّیْ ط اَلاَ فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوْا} 1
ابنِ عساکر نے بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ نے مختلف قبیلوں اور اہلِ مکہ کی طرف آدمی بھیجے، جو ان سے دشمن کے مقابلہ میں جانے کا مطالبہ کریں۔ چناںچہ حضرت بُریدہ بن حُصَیب ؓ کو قبیلہ اَسلم کی طرف بھیجا اور ان سے فرمایا: فُرع بستی تک پہنچ جانا۔ اور حضرت ابو رُہم غِفَاری ؓ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور ان سے فرمایا کہ اپنی قوم کو ان کے علاقہ میں جمع کر لیں۔ اور حضرت ابو واقد لیثی ؓ اپنی قوم کی طرف گئے۔ اور حضرت ابو جَعْد ضَمْری ؓ ساحلِ سمندر پر اپنی قوم کی طرف گئے۔ اور حضور ﷺ نے حضرت رافع بن مَکِیث اور حضرت جُنْدُب بن مکیث ؓ کو قبیلہ جُہَیْنہ کی طرف بھیجا۔ اور نُعَیم بن مسعود ؓ کو قبیلہ اَشجع کی طرف بھیجا۔ اور حضور ﷺ نے قبیلہ بنو کعب بن عمرو میں حضرت بُدَیل بن وَرقا اور حضرت عمرو بن سالم اور حضرت بِشْر بن سفیان ؓ کی جماعت کو بھیجا۔ اور قبیلہ سُلَیم کی طرف چند صحابہ کو بھیجا جن میں حضرت عباس بن مِرداس ؓ بھی تھے۔ حضور ﷺ نے مسلمانوں کو جہاد میں جانے کی خوب ترغیب دی اور انہیں (اللہ کے راستے میں ) مال خرچ کرنے کا حکم دیا۔
چناںچہ حضراتِ صحابہ ؓ نے بھی بہت دل کھول کر خوب خرچ کیا۔ اور سب سے پہلے حضرت ابو بکر ؓ لائے اور وہ اپنا سارامال لائے تھے جو کہ چار ہزار درہم تھا۔ تو ان سے حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ تو حضرت ابو بکر نے عرض کیا: ہاں، اللہ اور اس کے رسول کو (گھر چھوڑ کر آیا ہوں)۔ پھر حضرت عمر ؓ اپنا آدھا مال لے کر آئے، ان سے حضور ﷺ نے پوچھا: کیا تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ انھوں نے عرض کیا کہ جتنا لایا ہوں اس کا آدھا (چھوڑ کر آیا ہوں، لیکن دوسری روایت میں یہ ہے کہ جتنا لایا ہوں اتنا ہی چھوڑ کر آیا ہوں)۔ حضرت ابوبکر صدیق جو مال لے کر آئے جب اس کی خبر حضرت عمر کو ملی تو حضرت عمر نے فرمایا کہ جب بھی کسی نیکی میں ہمارا مقابلہ ہوا تو ہمیشہ حضرت ابو بکر اس نیکی میں مجھ سے آگے نکلے ہیں۔
حضرت عباس بن عبدالمطّلب اورحضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ بھی بہت سا مال حضور ﷺ کی خدمت میںلے کر آئے۔ اور حضرت عبدالر حمن بن عوف ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں دو سو اُوقیہ چاندی یعنی آٹھ ہزار درہم لا ئے۔ اور حضرت سعد بن عبادہ ؓ بھی بہت سا را مال لائے، اور اسی طرح حضرت محمد بن مسلمہ ؓ بھی۔ اور حضرت عاصم بن عدی ؓ نے نوّے وسق (تقریباً پونے پانچ سو من)کھجور دی۔اور حضرت عثمان بن عفّان ؓ نے تہائی لشکر کا پورا سامان دیا اور صحابہ میں سے سب سے زیادہ انھوں نے خرچ کیا، یہاں تک کہ تہائی لشکر کے لیے تمام ضروری سامان دیا حتی کہ یہ کہا گیا کہ اب ان کو مزید کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے یہاں تک کہ مشکیزوں کی سلائی کے لیے موٹی سوئی کا بھی انتظام کیا۔ چناںچہ یہ بتایا جاتا ہے کہ اس دن حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اس کے بعد عثمان کچھ بھی کر لیں ان کا کوئی نقصان نہ ہوگا۔
مال داروں نے مال خرچ کرنے کی نیکی میں خوب ذوق وشوق سے حصہ لیا، اور انھوں نے یہ سب کچھ محض ا للہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے شوق میں کیا۔ اور جو حضرات ان مال داروں سے مال میں کم تھے انھوں نے بھی اپنے سے کم تر مال والوں کی خوب مدد کی اور ان کی قوت کا ذریعہ بنے، یہاں تک کہ بعض اپنا اونٹ لاکر ایک دو آدمیوں کو دے دیتے کہ تم دونوں اس پر باری باری سوار ہوتے رہنا۔اور دوسرا آدمی کچھ خرچ لاتا اور اس غزوہ میں جانے والے کو دے دیتا۔ یہاں تک کہ عو رتیں بھی اپنی طاقت اور ہمت کے مطابق ان نکلنے والوں کی مدد کر رہی تھیں۔ چناںچہ حضرت اُمّ سِنان اَسلمیہؓ کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں حضورﷺ کے سامنے ایک کپڑا بچھا ہوا ہے جس پر کنگن، بازو بند، پازیب، بالیاں، انگوٹھیاں اور بہت سے زیور رکھے ہوئے ہیں۔ اور اس غزوہ کی تیاری کے لیے عورتوں نے جانے والوں کی مدد کے لیے جو زیورات بھیجے تھے ان سے وہ کپڑا بھرا ہوا تھا ۔
لوگ ان دنوں سخت تنگی میں تھے اور اس وقت پھل بالکل پک چکے تھے اور سایہ دار جگہیں بڑی مرغوب ہو گئیں تھیں۔ لوگ گھروں میں رہنا چاہتے تھے اور ان حالات کی بنا پر گھرو ں سے جانے پر بالکل راضی نہیں تھے۔ اور حضور ﷺ نے اور زیادہ زور شور سے تیاری شروع فرما دی، اور ثنیّۃ الوداع میں جا کر آپ نے اپنے لشکر کا پڑائو ڈال دیا۔ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ کسی ایک رجسٹر میں سب کے نام آنہیں سکتے تھے۔ اور جوبھی اس غزوہ سے غا ئب ہونا چاہتا تھا اسے معلوم تھا کہ اس کے غائب ہو نے کا اس وقت تک کسی کو پتہ نہیں چلے گا جب تک کہ اس کے بارے میں اللہ کی طرف سے وحی نازل نہ ہو۔ چنا ںچہ جب حضور ﷺ نے سفر شروع کرنے کا پختہ عزم فرما لیا تو آپ نے مدینہ میں حضرت سِباع بن عُرْفُط ؓ کو اپنا خلیفہ مقرر فرمایا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کو خلیفہ بنایا تھا۔ اور حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جوتے زیا دہ مقدار میںساتھ لے کر چلو، کیوںکہ جب تک آدمی جوتی پہنے رہتا ہے وہ گویا کہ سوار ہی رہتا ہے۔ جب حضور ﷺ نے سفر شروع فرما دیا تو ابنِ اُبی (منافق) اور منا فقین کو لے کر پیچھے رہ گیا اور یوں کہنے لگا کہ محمد (ﷺ) بنو اَصفر رومیوں سے لڑنا چاہتے ہیں حالاں کہ مسلمانوں کی بری حالت ہو رہی ہے اور گرمی سخت پڑ رہی ہے اور یہ سفر بہت دور کا ہے اور مقابلہ بھی ایسے لشکر سے ہے جن سے لڑنے کی حضور ﷺ میں طاقت نہیں ہے۔ کیا محمد یہ سمجھتے ہیں کہ بنو اَصفر رومیوں سے لڑنا کھیل ہے؟ اور اس کے منافق ساتھیوں نے بھی اسی طرح کی باتیں کیں، اور حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کے بارے میں پریشان کن خبریں پھیلانے کے لیے اس نے یہ کہا کہ اللہ کی قسم! میں تو دیکھ رہا ہوں کہ حضور ﷺ کے تمام صحابہ کل کو رسیوں میں بندھے ہوئے ہوں گے۔ جب حضور ﷺ نے ثنیّۃ الوداع سے سفر شروع فرمایا اور چھوٹے اور بڑے جھنڈوں کو لہرایا تو چھوٹے جھنڈوں میں سب سے بڑا جھنڈا حضرت ابو بکر کو، اور بڑے جھنڈوں میں سے سب سے بڑا جھنڈا حضرت زُبیر ؓ کو دیا۔ اور قبیلہ اَوس کا جھنڈا حضرت اُسید بن حضیر ؓکو، اور قبیلہ خزرج کا جھنڈا حضرت ابودُجانہ ؓکو دیا۔ بعض کہتے ہیں کہ خزرج کا جھنڈا حضرت حُباَب بن منذر ؓکو دیا۔ حضور ﷺ کے ساتھ تیس ہزار کا لشکر تھا اور دس ہزار گھوڑے تھے۔ حضورﷺ نے اَنصار کے ہر خاندان کو حکم دیا کہ اپنے چھوٹے اور بڑے جھنڈے لے لیں۔ اور عرب کے دوسرے قبائل کے بھی اپنے اپنے چھوٹے اور بڑے جھنڈے تھے۔ 1