صحابۂ کرام ؓکی دینِ اسلام کی نصرت کے لئے کوشش کرنا
حضرات انصار ؓ کی صفات
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے پاس بحرین سے مال آیا جس کے بارے میں مہاجرین اور اَنصار نے ایک دوسرے سے سنا۔ یہ حضرات حضور ﷺ کی خدمت میں تشریف لے گئے۔ آگے لمبی حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ آپ نے اَنصار سے فرمایا: جہاں تک مجھے معلوم ہے تم لوگ جب جان لگانے کا وقت آتا ہے تو بہت زیادہ ہوجاتے ہو، اور جب کچھ ملنے کا وقت آتا ہے تو بہت کم ہوجاتے ہو (اس موقع پر پیچھے ہٹ جاتے ہو)۔ 2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت ابو طلحہ ؓ سے فرمایا: اپنی قوم کو میرا سلام کہنا اور انھیں بتا دینا کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ لوگ بڑے عفیف (پاک دامن) اور صابر ہیں۔ 3
حضرت انس ؓ فرماتے ہیںکہ جس بیماری میں حضور ﷺ نے انتقال فرمایا اس میں حضرت ابو طلحہ ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو حضور ﷺ نے ان سے فرمایا: اپنی قوم (اَنصار) کو میرا سلام کہنا، کیوں کہ وہ لوگ بڑے عفیف اور صابر ہیں۔ 4
حضرت عبداللہ بن شدّاد ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ حضرت سعد بن معاذ ؓ کے پاس تشریف لے گئے اور وہ حضرت سعد کی زندگی کا آخری وقت تھا۔ آپ نے فرمایا: اے اپنی قوم کے سردار! اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین جزا عطا فرمائے۔ تم نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے پورا کر دیا اور اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا ہے اللہ اسے ضرور پورا فرمائیں گے۔ 1
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کوئی عورت اَنصار کے دو گھروں کے درمیان رہے یا اپنے ماں باپ کے درمیان رہے اس میں کوئی فرق نہیں ہے، اس کا کوئی نقصان نہ ہوگا (یعنی اَنصار بڑے بااخلاق ہیں اجنبی عورت کے ساتھ ماں باپ جیسا معاملہ کرتے ہیں )۔ 2