صحابۂ کرام ؓکی دینِ اسلام کی نصرت کے لئے کوشش کرنا

حضرات انصار کا دنیاوی لذتوں اور فانی سامان سے صبر کرنا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے راضی ہونا

حضرت عبداللہ بن رباح ؓ فرماتے ہیں: رمضان کے مہینے میں چند وفود حضرت معاویہ ؓ کی خدمت میں آئے۔ ان وفود میں، میں بھی تھا اور حضرت ابوہریرہ ؓ بھی تھے۔ ہم لوگ ایک دوسرے کے لیے کھانا تیارکیا کرتے تھے اور حضرت ابوہریرہ نے ہماری بہت دعوتیں کیں۔ ہاشم راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ہمیں اپنی قیام گاہ پر بہت زیادہ بلایا۔ ایک دفعہ میں نے (اپنے دل میں) کہا: کیا میں کھانا تیار کرکے ان سب کو اپنی قیام گاہ کی دعوت نہ دوں؟ چناںچہ میں نے کھانا تیار کروایا۔ عشاء میں حضرت ابوہریرہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے اُن سے کہا: آج رات کھانے کی دعوت میرے ہاں ہے۔ انھوں نے کہا: کیا آج تم مجھ پر سبقت لے گئے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے سب کو اپنے ہاں بلایا، وہ سب میرے ہاں آئے تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا: اے جماعتِ انصار! کیا میں تمہیں تمہارا ہی قصہ نہ بتاؤں؟ پھر انھوں نے فتحِ مکہ کا قصہ ذکر کرتے ہوئے کہا: حضور ﷺ تشریف لائے اور آپ مکہ میں (فاتحانہ) داخل ہوئے۔ حضور ﷺ نے لشکر کے ایک حصہ پر حضرت زُبیر ؓ کو اور دوسرے حصہ پر حضرت خالد ؓ کو امیر بنا کر بھیجا اور غیر مسلح مسلمانوں پر حضرت عبیدہ ؓ کو مقرر فرمایا۔ یہ حضرات وادی کے بیچ والے حصے سے گئے اور حضورﷺ اپنے لشکر میں تھے۔ قریش نے مختلف قبائل کے آدمی اکھٹے کر رکھے تھے۔ اور انھوں نے کہا: ہم ان کو آگے رکھیں گے، اگر ان کو کچھ غلبہ مل گیا تو ہم ان کے ساتھ ہوں گے، اور اگر وہ شکست کھا گئے تو حضور ﷺ ہم سے جو مطالبہ فرمائیں گے اسے پورا کر دیں گے۔ حضور ﷺ نے نظر اٹھائی، میں آپ کو نظر آیا۔ آپ نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: جاؤ میرے لیے اَنصار کو بلا لاؤ، لیکن ان کے ساتھ کوئی اور غیر انصاری نہ آئے۔ میں نے سب کو بلایا وہ سب آگئے اور حضور ﷺ کے اِردگرد جمع ہوگئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: کیا تم قریش کے مختلف قبیلوں کے رَلے مِلے اور ان کے تابع دار لوگ دیکھ رہے ہو؟ پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مار کر کہا: ان سب کو اچھی طرح سے (کھیتی کی طرح) کاٹ ڈالو اور صفا پہاڑی پر مجھ سے ملو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: ہم چلے (اور قریش کے ان مختلف قبائل کے لوگوں کا یہ حال تھا) کہ ہم میں سے ہر ایک آدمی ان لوگوں میں سے جتنے چاہے ان کو قتل کرلے، ان میں سے کوئی بھی ہماری طرف کوئی ہتھیار نہیں اٹھا سکتا تھا۔ حضرت ابو سفیان ؓ نے کہا: یا رسول اللہ! (آج تو) قریش کی جماعت فنا ہوجائے گی۔ آج کے بعد قریش باقی نہیں رہیں گے۔ آپ نے فرمایا: جو اپنا دروازہ بند کرلے گا اسے امن ہے، اور جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے گا اسے امن ہے۔ چناںچہ لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لیے (مکہ فتح ہونے کے بعد) حضور ﷺ حجرِ اسود کے پاس تشریف لے گئے اور اس کا اِستلام فرمایا پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ آپ کے ہاتھ میں ایک کمان تھی جسے آپ نے کنارے سے پکڑ رکھا تھا۔ طواف کرتے ہوئے آپ کا گزر ایک بت کے پاس سے ہوا جو بیت اللہ کے پہلو میں رکھا ہوا تھا جس کی کفارِ مکہ عبادت کیا کرتے تھے۔ آپ اس کی آنکھ میں کمان مارتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: {وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا O}1 حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل ہے ہی مٹنے والی چیز۔ پھر آپ صفا پہاڑی پر تشریف لائے اور اس پر اس جگہ تک چڑھے جہاں سے بیت اللہ نظر آنے لگا۔ پھر آپ ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر ذکر ودعا میں مشغول رہے اور اَنصار اس وقت نیچے کھڑے ہوئے تھے۔ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان حضرت پر تو اپنی بستی کی محبت اور اپنے خاندان کی شفقت غالب آگئی ہے (تبھی تو ان اہلِ مکہ کی ہزار اِیذا رسانیوں کے باوجود انھیں قتل نہیں کیا۔ شاید اب مدینہ چھوڑ کر یہ مکہ آکر رہنے لگ جائیں)۔ اتنے میں آپ پر وحی اُترنے لگی اور آپ پر وحی کا اُترنا ہم سے پوشیدہ نہیں رہا کرتا تھا، اور جب وحی اُترنے لگتی تھی تو ختم ہونے تک ہم میں سے کوئی آپ کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ جب وحی کا اُترنا ختم ہوگیا تو آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: اے جماعتِ اَنصار! تم نے یہ کہا ہے کہ ان حضرت پر اپنی بستی کی محبت اورا پنے خاندان کی شفقت غالب آگئی ہے؟ انصار نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے یہ کہا ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر میرا کیا نام رکھا جائے گا؟ بے شک میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں (میں تو وہی کروں گا جو اللہ تعالیٰ مجھ سے فرمائیں گے، اپنی مرضی سے میں کچھ نہیں کرتا ہوں)۔ میں نے اللہ کی نسبت پر تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ اب زندگی تمہارے ساتھ گزاروں گا اور تمہارے ہاں ہی مروں گا (چناں چہ ایسا ہی ہوا)۔ اس پر (اَنصار خوشی سے روتے ہوئے) آپ کی طرف لپکے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم!ہم نے یہ بات صرف اس لیے کہی تھی تاکہ اللہ اور اس کے رسول ہمارے ہی رہیں (ہمیں چھوڑ کر کہیں اور نہ چلے جائیں، ہم نے تو یہ بات محض اللہ و رسول کی انتہائی محبت کی وجہ سے کہی تھی)۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کا رسول تمہیں سچا سمجھتے ہیں اور تم لوگوں کا عذر قبول کرتے ہیں (کہ تم نے غایتِ محبت کی وجہ سے یہ کہا)۔ 1 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جنگ ِحنین کے دن ہَوَازِن اور غَطَفان وغیرہ قبائلِ کفار اپنے جانور اور بچوں کو بھی ساتھ لے کر آئے تھے (یہ اس زمانے کا دستور تھا کہ جو لوگ میدانِ جنگ میں جمے رہنے اور نہ بھاگنے کا پختہ عزم کرکے آتے وہ اپنا سب کچھ ساتھ لے کر میدانِ جنگ میں آتے کہ مرجائیں گے لیکن واپس نہیں جائیں گے)۔ اور حضور ﷺ کے ساتھ دس ہزار مسلمان بھی تھے اور مکہ کے وہ لوگ بھی تھے جن کو آپ نے عام معافی دے دی تھی اور باوجود ان پر قابو پالینے کے انھیں قتل نہیں کیا تھا، جنھیں طُلَقاء یعنی آزاد کردہ لوگ کہا جاتا تھا۔ جب لڑائی شروع ہوئی تو یہ سب میدانِ جنگ چھوڑ کر بھاگ گئے اور حضور ﷺ اکیلے رہ گئے۔ (دشمن کی طرف بڑھتے ہوئے جہاں آپ تھے وہاں اس وقت آپ اکیلے رہ گئے تھے) تو پھر آپ نے اس دن دو آوازیں الگ الگ لگائیں۔ پہلے آپ نے دائیں طرف متوجہ ہوکر آواز دی: اے جماعتِ انصار! تو انصار نے کہا: لبیک یا رسول اللہ! آپ خوش رہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر بائیں طرف متوجہ ہوکر آپ نے آواز دی: اے جماعت ِ انصار! انصار نے کہا: لبیک یارسول اللہ! آپ خوش رہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ سفید خچر پر سوار تھے آپ نے اس سے نیچے اتر کر فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر مشرکین کو شکست ہوگئی اور اس دن حضورﷺ کو بہت زیادہ مالِ غنیمت ملا جسے آپ نے مہاجرین اور طُلَقاء (نو مسلم آزاد کردہ اہلِ مکہ )میں تقسیم کر دیا اور اس میںسے انصار کو کچھ نہ دیا۔ اس پر اَنصار (کے بعض افراد) نے کہا: جب کوئی مشکل وقت آتا ہے تو ہمیں بلایا جاتا ہے، اور جب مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ دوسروں کو دے دیا جاتا ہے۔ کسی طرح یہ بات حضور ﷺ تک پہنچ گئی تو آپ نے اُن کو ایک خیمہ میں جمع فرمایااور ان سے فرمایا: اے جماعتِ اَنصار! وہ کیا بات ہے جو مجھ تک پہنچی ہے؟ سب خاموش رہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اے جماعتِ اَنصار! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو دنیا کو لے کر جائیں اور تم لوگ اپنے گھروں کو اللہ کے رسول کو لے کر جاؤ؟ اَنصارنے کہا: ہم بالکل راضی ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار کسی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلوں گا۔ ہشام راوی کہتے ہیں کہ میں نے (حضرت انس ؓ سے) کہا: اے ابو حمزہ! (یہ حضرت انس کی کنیت ہے) کیا آپ اس موقع پر وہاں موجود تھے؟ انھوں نے کہا: میں وہاں سے کہاں غائب ہوسکتا تھا؟ 1 حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ کو جنگِ حنین میں بہت سا مالِ غنیمت ملا او ر آپ نے یہ سب مالِ غنیمت قریش اور عرب کے (نو مسلم) مؤ لّفۃ القلوب افراد میں تقسیم کردیا اور انصار کو اس میں سے کچھ نہ ملا، تو انصار کو یہ بات محسوس ہوئی یہاں تک کہ ان میں سے بعض افراد کی زبان سے یہ نکل گیا کہ اللہ کی قسم! حضور ﷺ تو اپنی قوم سے جاملے (اور اب یہ یہیں مکہ میں ٹھہر جائیں گے اور مدینہ واپس نہیں جائیںگے)۔ تو حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں جا کر عرض کیا: یا رسول اللہ! قبیلہ انصار اپنے جِی میں آپ کے بارے میں کچھ پا رہے ہیں۔ آپ نے فرما یا: کیوں ؟ انھوں نے کہا: وہ اس وجہ سے ناراض ہیں کہ آپ نے سارا مالِ غنیمت اپنی قوم میں اور باقی عرب لوگوں میں تقسیم کردیا اور اَنصار کو اس میں سے کچھ نہ ملا۔ آپ نے فرمایا: اے سعد! تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا: میں بھی اپنی قوم کا ایک آدمی ہوں (جو اُن کا خیال ہے و ہی میرا)۔ آپ نے فرمایا: اپنی قوم کو میرے لیے اس احاطہ میں جمع کرلو، اور جب وہ جمع ہوجائیں تو مجھے خبر کر دینا۔ حضرت سعد نے باہر اَنصار میں اعلان کردیا اور سب کو اس احاطہ میں جمع کرلیا۔ کچھ مہاجرین آئے تو اُن کو بھی (اندر آنے کی) اجازت دے دی اور کچھ اور آئے تو اُن کو حضرت سعد نے واپس کر دیا۔ جب سارے اَنصار وہاںجمع ہوگئے تو حضرت سعد نے حضور ﷺ کی خدمت میں جا کر عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے جہاں جمع کرنے کاحکم دیا تھا قبیلہ انصار وہاں جمع ہوچکا ہے۔ چناںچہ حضور ﷺ وہاں تشریف لے گئے اور ان میں بیان فرمانے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا: اے جماعت ِ انصار! کیا یہ بات نہیں ہے کہ میں جب تمہارے پاس گیا تھا تو تم سب گمراہ تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت دے دی، اور تم سب فقیر تھے اللہ نے تمہیں غنی کردیا، اور تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے اللہ نے تمہارے دلوں میں اُلفت پیدا فرمادی؟ انصار نے کہا: جی ہاں، بالکل ایسے ہی ہوا۔ پھر آپ نے فرمایا: اے جماعت ِانصار! تم جواب کیوں نہیں دیتے ہو؟انھوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! ہم کیا کہیں؟ اور ہم کیا جواب دیں؟ سارا اِحسان تو اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو یہ کہہ سکتے ہو اور (اس کہنے میں ) تم سچے ہوگے اور سچے مانے جاؤگے (یعنی اللہ ورسول بھی تمہیں سچا سمجھیں گے) کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ کو لوگوں نے اپنے ہاں سے نکالا ہوا تھا ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا، اور آپ فقیر تھے ہم نے آپ سے مالی ہمدردی کی، اور آپ خوف زدہ تھے ہم نے آپ کو اَمن دیا، اور آپ بے یار ومدد گار تھے ہم نے آپ کی نصرت کی۔ اس پر انصار نے کہا: یہ سارا اِحسان اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ پھر آپ نے کہا: تم گھاس پھوس کی طرح جلد ختم ہوجانے والی اس دنیا کی وجہ سے اپنے دلوں میں مجھ سے ناراض ہوگئے ہو۔ وہ تو میں نے مالِ غنیمت دے کر اُن لوگوں کی تالیفِ قلب کی ہے جو ابھی مسلمان ہوئے ہیں، اور میں نے تمہیں اس نعمتِ اسلام کے حوالہ کیا ہے جو اللہ نے تمہاری قسمت میں لکھی (کہ تم مالِ غنیمت کے نہ ملنے کے باوجود نعمتِ اسلام پر اللہ اور رسول سے راضی رہوگے)۔ اے جماعت ِانصار! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمام لوگ تو بکریاں اور اونٹ لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم لوگ اللہ کے رسول (ﷺ) کو لے کر اپنے گھروں کو جاؤ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر لوگ ایک گھاٹی میں چلیں اور اَنصار دوسری گھاٹی میں چلیں تو میں اَنصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔ اگر ہجرت (کو فضیلت) نہ ہوتی تو میں بھی اَنصار میں کا ایک آدمی ہوتا۔ اے اللہ! اَنصار پر، اَنصار کے بیٹوں پر، اَنصار کے بیٹوں کے بیٹوں پر رحم فرما۔ (یہ سن کر) تمام اَنصار رونے لگ گئے اور اتنا روئے کہ ڈاڑھیاں تر ہوگئیں۔ اور انھوں نے کہا: ہم اللہ کے ربّ ہونے پر اور اللہ کے رسول کی تقسیمِ مال پر راضی ہیں۔ چناںچہ آپ واپس (اپنی قیام گاہ پر) تشریف لے گئے اور حضراتِ اَنصار بھی ۔1 حضرت سائب بن یزید ؓ فرماتے ہیں کہ حضورِ اَقدس ﷺ نے غزوۂ حنین میں ہوازِن کے مالِ غنیمت کو بطور اِحسان قریش وغیرہ (نو مسلم لوگوں) میں تقسیم فرما دیا تو اس پر اَنصار ناراض ہوگئے۔ جب حضور ﷺ نے یہ خبر سنی تو آپ اُن کی قیام گاہوں میں اُن کے پاس تشریف لے گئے اور پھر آپ نے فرمایا: یہاں جو بھی اَنصار میں سے ہے وہ حضور ﷺ کی قیام گاہ پر چلا جائے۔ (چناںچہ وہ سب وہاں چلے گئے) تو حضور ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی اورپھر فرمایا: اے جماعتِ اَنصار! میں نے یہ مالِ غنیمت تمہیں نہیں دیا بلکہ تالیفِ قلب کی وجہ سے کچھ (نو مسلم) لوگوں کو دے دیا تاکہ وہ آیندہ جہاد میں میرے ساتھ شریک ہوا کریں، اور اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں میں اِسلام کو (پورے طور سے) داخل فرما دے۔ تم لوگوں نے اس بارے میں کچھ بات کہی ہے جو مجھے پہنچی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اے جماعتِ اَنصار! کیا اللہ نے تم پر یہ اِحسان نہیں کیاکہ تم کو نعمت ِ ایمان عطا فرمائی، اور خصوصی اِکرام سے نوازا، اور تمہارا بہترین اور بہت خوبصورت نام رکھا یعنی اللہ اور اس کے رسول کے اَنصار (اور مددگار)۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی اَنصار میں کا ایک آدمی ہوتا۔ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور تم دوسری وادی میں چلوتو میں تمہاری وادی میں چلوں گا۔ کیا تم اس بات پرراضی نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور جانور اور اُونٹ لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر جاؤ؟ جب اَنصار نے حضور ﷺ کی یہ بات سنی تو انھوں نے کہا: (اس تقسیم پر) ہم بالکل راضی ہیں۔ آپ نے فرمایا: میںنے جو کہا ہے اس کے جواب میں تم بھی کچھ کہو۔ اَنصار نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں اندھیرے میں پایا اللہ نے آپ کے ذریعہ سے ہمیں روشنی کی طرف نکالا، اور آپ نے ہمیں آگ کے گڑھے کے کنارے پر پایا اللہ نے آپ کے ذریعہ سے ہمیں (اس گڑھے میں گرنے سے) بچایا، اور آپ نے ہمیں گمراہ پایا اللہ نے آپ کے ذریعہ سے ہمیں ہدایت دی۔ ہم اللہ کے ربّ ہونے اور اِسلام کے دین ہو نے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں۔ یا رسول اللہ! ہم کھلے دل سے کہہ رہے ہیں کہ آپ جو چاہیں کریں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور جواب میں کہتے تو بھی میں کہتا کہ تم نے ٹھیک کہا ہے۔ اگر تم یہ کہتے کہ کیا یہ بات نہیں ہے کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے تو لوگوں نے آپ کو اپنے ہاں سے نکالا ہوا تھا ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا، اور لوگوں نے آپ کو جھٹلا رکھا تھا ہم نے آپ کی تصدیق کی، ا ور آپ بے یار ومددگار تھے ہم نے آپ کی نصرت کی، اور آپ کی جس دعوت کو لوگوں نے ٹھکرا دیا تھا ہم نے اسے قبول کیا؟ اگر تم یہ باتیں جواب میں کہتے تو ٹھیک کہتے۔ انصار نے کہا:نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کا اِحسان ہے اور اس کے رسول کا ہم پر اور دوسروں پر فضل واحسان ہے۔ یہ کہہ کر اَنصار رو پڑے اور بہت زیادہ روئے اور ان کے ساتھ حضور ﷺ بھی رونے لگے۔ 1 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اموالِ ہوازِن بطور غنیمت عطا فرمائے اور آپ کچھ لوگوں کو سو (۱۰۰) سو (۱۰۰) اُونٹ دینے لگے تو اَنصار کے کچھ لوگوں نے کہا: اللہ، رسول اللہ ﷺ کی مغفرت فرمائے کہ آپ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑے جارہے ہیں حالاں کہ ہوازِن کا خون ابھی بھی ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے (جہاد میں جان تو ساری ہم نے لگائی اور دے رہے ہیں دوسروں کو)۔ کسی طرح سے یہ بات حضور ﷺ کو معلوم ہوگئی۔ آپ نے آدمی بھیج کر اَنصار کو چمڑے کے ایک خیمہ میں جمع کیا اور آپ نے دوسروں کو اُن کے ساتھ نہ بیٹھنے دیا۔ جب سب جمع ہوگئے تو آپ نے کھڑے ہو کر فرمایا: وہ کیا بات ہے جو مجھے تمہاری طرف سے پہنچی ہے؟ تو سمجھ دار اَنصار نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے بڑوں نے کچھ نہیں کہا، البتہ ہمارے چند نو عمر لوگوں نے کہا ہے کہ اللہ، رسول اللہﷺ کی مغفرت فرمائے کہ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑے جارہے ہیں حالاں کہ اُن کا خون (یعنی ہوازِن کا خون) ابھی بھی ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔ آپ نے فرمایا: ابھی ابھی جو لوگ کفر سے اِسلام میں آئے ہیں میں نے ان کو یہ مالِ غنیمت تالیفِ قلب کے لیے دیا ہے۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ مال لے کر جائیں اور تم نبی (کریم ﷺ) کو لے کر اپنے گھروں کو جاؤ؟ اللہ کی قسم! تم (نبی کی) جس ذاتِ اَقدس کو لے کر اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہو وہ اس (مالِ غنیمت ) سے (ہزار درجہ) بہتر ہے جسے وہ لوگ لے کر واپس جا رہے ہیں۔ اَنصار نے کہا: یا رسول اللہ! ہم بالکل راضی ہیں۔ پھر آپ نے اُن سے فرمایا: تم (میرے بعد) اس بات کو پاؤگے کہ دوسروںکو تم پر (اِمارت اور دوسرے معاملات میں) بہت زیادہ ترجیح دی جائے گی۔ تم اللہ اور اس کے رسول سے ملنے تک یعنی موت تک صبر سے کام لینا، میں حوضِ (کوثر) پر (تمہارے انتظار میں) ہوںگا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: لیکن اَنصار صبر نہ کرسکے ۔1 امام احمد نے حضرت انس ؓ کی حدیث میں یہ مضمون بھی بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ نے (اَنصار سے) فرمایا: تم میرے لیے اندر کا کپڑا ہو اور باقی لوگ باہر کا۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ لے کر جائیں اور تم رسول اللہ(ﷺ) کو اپنے علاقہ میں لے کر جاؤ؟ اَنصار نے کہا: ہم بالکل راضی ہیں۔ آپ نے فرمایا: اَنصار تو میرے لیے معدہ کی طرح ہیں اور خاص کپڑوں کے صندوق کی طرح سے ہیں یعنی میرا ان سے خاص تعلق ہے۔ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور اَنصار دوسری گھاٹی میں چلیں تو میں اَنصار کی گھاٹی میں چلوں گا، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میںبھی اَنصار میں کا ایک آدمی ہوتا۔ 1