صحابۂ کرام ؓکی دینِ اسلام کی نصرت کے لئے کوشش کرنا

ابو رافع سَلّام بن ابو الحُقَیْق کا قتل

حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ (کے دین کے پھیلنے اور ترقی پانے) کے لیے جن مفید صورتوں اور حالات کو وجود عطا فرمایا، ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ انصار کے دونوں قبیلوں اَوس اور خزرج کا حضور ﷺ کی نصرت میں اور ان کے کام کرنے میں ایک دوسرے سے ہر وقت ایسا مقابلہ لگا رہتا تھا جیسے کہ دو پہلوانوں میں ہوا کرتا ہے۔ قبیلہ اَوس والے جب کوئی ایسا کام کر لیتے جس سے حضور ﷺ (کے دین کو اور حضور ﷺ والی محنت) کو فائدہ ہوتا تو قبیلہ خزرج والے کہتے: تم یہ کام کرکے حضور ﷺ کے ہاں فضیلت میں ہم سے آگے نہیں نکل سکتے ہو۔ اور جب تک ویسا ہی کام نہ کرلیتے وہ حضرات چین سے نہ بیٹھتے۔ اور جب قبیلہ خزرج والے کوئی ایسا کام کرلیتے تو قبیلہ اَوس والے یہی بات کہتے۔ چناںچہ جب قبیلہ اَوس (کے ایک صحابی حضرت محمد بن مَسْلَمہؓ) نے کعب بن اشرف کو حضورﷺ سے دشمنی رکھنے کی وجہ سے قتل کردیا تو قبیلہ خزرج نے کہا: اللہ کی قسم! تم یہ کارنامہ کر کے فضیلت میں کبھی بھی ہم سے آگے نہیں بڑھ سکتے ہو۔ اور پھر انھوں نے سوچا کہ کون سا آدمی حضور ﷺ سے دشمنی رکھنے میں کعب بن اشرف جیسا ہے۔ وہ آخر اس نتیجہ پر پہنچے کہ خیبر کا ابنِ ابی الحُقَیْق دشمنی میں کعب جیسا ہے۔ چناںچہ ان حضرات نے اسے قتل کرنے کی حضور ﷺ سے اجازت مانگی۔ حضور ﷺ نے انھیں اجازت دے دی تو قبیلہ خزرج میں سے بنو سَلِمہ کے پانچ آدمی حضرت عبداللہ بن عتیک، حضرت مسعود بن سنان، حضرت عبداللہ بن اُنَیس، حضرت ابو قتادہ حارث بن رِبعی اور حضرت خُزاعی بن اَسود ؓ (خیبر جانے کے لیے) تیار ہوئے۔ حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عتیک کو ان کا امیر بنایا اور انھیں کسی بچے یا عورت کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ چناںچہ وہ حضرات (مدینہ سے) روانہ ہوئے اور خیبر پہنچ کر وہ حضرات رات کے وقت ابنِ ابی الحُقَیْق کے گھر گئے اور گھر کے ہر کمرے کو باہر سے بند کر دیا تاکہ کسی کمرے میں سے اندر والے باہر نہ آسکیں۔ ابنِ ابی الحُقَیْق اپنے بالاخانہ میں تھا جہاں تک جانے کے لیے کھجور سے بنی ہوئی ایک سیڑھی لگی ہوئی تھی۔ چناںچہ یہ حضرات اس سیڑھی سے چڑھ کر اس کے دروازے پر پہنچ گئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی۔تو اس کی بیوی نکل کر باہر آئی اور کہنے لگی: تم لوگ کون ہو ؟ ان حضرات نے کہا: ہم عرب کے لوگ ہیں اورغلہ کی تلاش میں آئے ہیں۔ اس نے کہا: ابو رافع یہ ہے جس سے تم ملنا چاہتے ہو، اندر آجاؤ۔ فرماتے ہیں کہ جب ہم اندر چلے گئے تو ہم نے اندر سے کمرہ بند کر لیا تاکہ اس تک پہنچنے میں کوئی حائل ہی نہ ہوسکے۔ (یہ دیکھ کر) اس کی بیوی شور مچا کر ہماری خبر کرنے لگی۔ ابو رافع اپنے بستر پر تھا۔ ہم تلواریں لے کر اس پر تیزی سے جھپٹے۔ اللہ کی قسم! رات کے اندھیرے میں ہمیں اس کا پتہ صرف اس کی سفیدی سے ہی چلا۔ ایسا سفید تھا جیسے کہ مصری سفید چادر پڑی ہو۔ جب اس کی بیوی ہمارے بارے میں شور مچا کر بتانے لگی تو ہمارے ایک ساتھی نے (قتل کرنے کے لیے ) اس پر تلواراُٹھالی، لیکن پھر اسے یاد آیا کہ حضور ﷺ نے (بچے اور عورت کو قتل کرنے سے) منع فرمایا تھا اس وجہ سے اس نے تلوار روک لی۔ اگر حضور ﷺ نے ہمیں منع نہ فرمایا ہوتا تو ہم رات ہی کو اس سے نمٹ جاتے۔ جب ہم لوگوں نے تلواروں سے اس پر حملہ کیا (لیکن اس کا کام تمام نہ ہوا) تو حضرت عبداللہ بن اُنَیس نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر تلوار پر اپنا سارا وزن ڈال دیا جس سے تلوار پار ہوگئی، ابو رافع بس بس ہی کہتا رہا۔ اس کے بعد ہم لوگ وہاں سے باہر آئے۔ حضرت عبداللہ بن عتیک کی نگاہ کمزور تھی وہ سیڑھی سے گر گئے جس سے اُن کے ہاتھ میں بری طرح موچ آگئی۔ ہم انھیں وہاں سے اُٹھا کر یہود کے چشموں سے بہنے والی ایک نہر کے پاس لائے اور اس میں داخل ہوگئے۔اُدھر وہ لوگ آگ جلا کر ہر طرف ہماری تلاش میں دوڑ پڑے، آخر نااُمید ہو کر اس کے پاس واپس گئے اور اس کو سب نے گھیر لیا اور ان سب کے بیچ میں اس کی جان نکل رہی تھی۔ ہم نے آپس میں کہا: ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ اللہ کا دشمن مرگیا؟ ہم میں سے ایک ساتھی نے کہا کہ میں جا کر دیکھ آتا ہوں۔ چناںچہ وہ گئے اور عام لوگوں میں شامل ہوگئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہاں جا کر میں نے دیکھا کہ ابو رافع کی بیوی اور بہت سے یہودی اس کے اِردگرد جمع ہیں۔ اس کی بیوی کے ہاتھ میں چراغ ہے اور وہ اس کے چہرے کو دیکھ رہی ہے اور وہ اُن کو بتا رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ اللہ کی قسم! آواز تو میں نے ابنِ عتیک کی سنی تھی، لیکن پھر میں نے اپنے آپ کو جھٹلایا اور میں نے کہا: ابنِ عتیک یہاں اس علاقہ میں کہاں؟ پھر اس نے آگے بڑھ کر اس کے چہرے کو غور سے دیکھا اور پھر کہا: یہود کے معبود کی قسم! یہ تو مر چکا ہے۔ میں نے اس سے زیادہ لذیذ بات کبھی نہیں سنی۔ فرماتے ہیں کہ ہمارا ساتھی ہمارے پاس واپس آیا اور اس نے ہمیں (اس کی موت) کی خبر دی۔ ہم اپنے ساتھی کو اُٹھا کر چلے اور حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ کے دشمن کو قتل کردینے کی خبر دی۔ حضور ﷺ کے سامنے ہمارا اختلاف ہوگیا کہ کس نے قتل کیا ہے؟ ہر ایک کہنے لگا کہ اس نے قتل کیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اپنی تلواریں لاؤ۔ ہم اپنی تلواریں لائے۔ آپ نے انھیں دیکھ کر حضرت عبداللہ بن اُنَیسؓکی تلوار کے بارے میں کہا کہ اس نے قتل کیا ہے، کیوں کہ میں اس میں کھانے کا اثر دیکھ رہا ہوں (یہ تلوار اس کے معدے میں سے گزری ہے)۔1 حضرت براء ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ابو رافع یہودی (کو قتل کرنے کے لیے) چند اَنصار کو بھیجا اور حضرت عبداللہ بن عتیک ؓ کو اُن کا امیر بنایا۔ ابو رافع رسول اللہ ﷺ کو بہت اَذیت پہنچاتا تھا اور آپ کے مخالفین کی (مالی) اِمداد کیا کرتا تھا، اور وہ سر زمینِ حجاز میں (خیبر میں) اپنے قلعہ میں رہا کرتا تھا۔ یہ حضرات سورج ڈوبنے کے بعد خیبر کے قریب پہنچے۔ لوگ (چراگاہوں سے) اپنے جانور واپس لاچکے تھے۔ حضرت عبداللہ نے (اپنے ساتھیوں سے) کہا کہ تم یہاں بیٹھے رہو میں جاتا ہوں اور دربان سے کوئی ایسی تدبیر کرتا ہوں جس سے میں (قلعہ کے اندر) داخل ہو جاؤں۔ چناںچہ یہ گئے اور دروازے کے قریب جا کر اپنا کپڑا اپنے اوپر ڈال کر اس طرح بیٹھ گئے جیسے کہ یہ قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوں۔ سب لوگ اندر جا چکے تھے تو ان کو دربان نے آواز دے کر کہا: اے اللہ کے بندے! اگر تمہیں اندر آنا ہے تو آجاؤ میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں۔ میں اندر داخل ہوکر چھپ گیا۔ جب سب لوگ اندر آگئے تو اس نے دروازہ بند کرکے چابیاں کیل پر لٹکا دیں۔ میں نے کھڑے ہو کر چابیاں لیں اور دروازہ کھول لیا۔ ابو رافع کے پاس رات کو قصے کہانیاں ہوا کرتی تھیں اور وہ اپنے بالاخانے میں تھا۔ جب قصے کہانیاں سنانے والے لوگ اس کے پاس سے چلے گئے تو میں نے بالاخانے پر چڑھنا شروع کیا۔ جب بھی میں کوئی دروازہ کھولتا تو میں اندر سے اسے بند کر لیتا اور میں نے کہا: اگر لوگوں کو میرا پتہ چل بھی گیا تو میں ان کے آنے سے پہلے اسے قتل کر لوں گا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ اندھیرے کمرے میں اپنے اہل و عیال میں تھا۔ مجھے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ کمرے میں کس جگہ ہے، اس لیے میں نے اسے آواز دی: ابو رافع! اس نے کہا: یہ کون ہے؟ میں آواز کی طرف بڑھا اور میں نے اس پر تلوار کا ایک وار کیا، لیکن چوں کہ میں گھبرایا ہوا تھا اس وجہ سے اس کا کام تمام نہ کرسکا۔ اور اس نے شور مچایا تو میں کمرے سے باہر نکل کر تھوڑی دیر کھڑا رہا۔ پھر میں اندر اس کی طرف گیا اور میں نے کہا: اے ابو رافع! یہ شور کیسا تھا؟ اس نے کہا: تیری ماں کا ناس ہو! کمرے میں کوئی آدمی ہے جس نے مجھے ابھی تلوار ماری تھی۔ یہ سن کر میں نے اس کو زور سے تلوار ماری جس سے وہ زخمی تو ہوگیا لیکن مرا نہیں۔ میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر اس زور سے اسے دبایا کہ اس کی کمر تک پہنچ گئی، تب میں سمجھا کہ میں نے اس کا کام تمام کردیا ہے۔ پھر میں ایک ایک دروازہ کھولتا ہوا واپس چلا یہاں تک کہ میں ابو رافع کی سیڑھی تک پہنچ گیا (اور میں سیڑھی سے نیچے اُترنے لگا۔ ایک جگہ پہنچ کر) میں سمجھا کہ سیڑھی ختم ہوگئی ہے اور میں زمین تک پہنچ گیا ہوں (اس خیال سے میں نے قدم آگے بڑھایا) تو میں چاندنی رات میں گر گیا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی جسے میں نے پگڑی سے باندھا اور میں چل دیا، یہاں تک کہ میں دروازے پر جا کر بیٹھ گیا۔ میں نے دل میں کہا: آج رات میں یہاں سے باہر نہیں جاؤں گا جب تک مجھے پتہ نہ چل جائے کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے یا نہیں؟ صبح جب مرغ بولا تو ایک آدمی نے قلعہ کی دیوار پر چڑھ کر یہ اِعلان کیا کہ اہلِ حجاز کا تاجر ابو رافع مر گیا ہے۔ پھر میں وہاں سے اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا اور میں نے ان سے کہا: جلدی چلو، اللہ نے ابو رافع کو قتل کردیا ہے۔(چناںچہ ہم وہاں سے مدینہ روانہ ہوئے) میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ سنایا۔ آپ نے فرمایا: اپنا پاؤں پھیلاؤ۔ میں نے پھیلا دیا۔ آپ نے اس پر اپنا دستِ مبارک پھیرا۔ دستِ مبارک پھیرتے ہی میرا پاؤں ایک دم ایسے ٹھیک ہوگیا جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ 1 ’’بخاری‘‘ کی ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت اُبی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ یہ حضرات جب حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو اس وقت حضور ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے۔ (ان کو دیکھ کر) آپ نے فرمایا: یہ چہرے کامیاب ہوگئے۔ ان حضرات نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کا چہرہ بھی کامیاب ہوگیا۔ آپ نے فرمایا: کیا تم اسے قتل کر آئے ہو؟ ان حضرات نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ذرا مجھے تلوار دو۔ آپ نے تلوار کو (لے کر اسے) سونتا اور آپ نے فرمایا: ہاں! اس تلوار کی دھار پر اس کے کھانے کا اثر ہے۔ 2