صحابۂ کرام ؓکی دینِ اسلام کی نصرت کے لئے کوشش کرنا

اسلام کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے کس طرح حضرات انصار ؓ نے جاہلیت کے تعلقات کو قربان کیا

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کا کام تمام کردے؟ کیوں کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو بہت تکلیف پہنچائی ہے۔ تو حضرت محمد بن مَسْلَمہؓ نے کھڑے ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ انھوں نے کہا کہ مصلحتاً کچھ کہنے کی مجھے اِجازت دے دیں۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے تم کہہ سکتے ہو۔ چناںچہ حضرت محمد بن مَسْلَمہ (چند ساتھیوں کو لے کر) کعب بن اشرف کے پاس گئے اور اس سے کہا: اس آدمی (یعنی حضور ﷺ) نے ہم سے صدقہ کا مطالبہ کیا ہے، اور مشکل اور دشوار کام ہمارے ذمہ لگا لگا کر ہمیں تھکا دیا ہے۔ میں تمہارے پاس قرضہ لینے آیا ہوں۔ اس نے کہا: ابھی تو وہ اور کام تمہارے ذمہ لگائے گا۔ اللہ کی قسم! ایک نہ ایک دن تم اس سے ضرور اُکتا جاؤ گے۔ حضرت محمد ؓ نے کہا: ابھی تو ہم اُن کا اِتباع شروع کر چکے ہیں اس لیے ابھی ہم اُن کو ( جلدی) چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ آخر اُن کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں ایک وسق یا دو وسق غلہ اُدھار دے دو۔ (ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور ایک صاع ساڑھے تین سیر کا)۔1 کعب نے کہا: ہاں، میں ادھار دینے کو تیار ہوں لیکن تم میرے پاس کوئی چیز رہن رکھو۔ ان حضرات نے کہا: تم رہن میں کون سی چیز چاہتے ہو؟ اس نے کہا: تم اپنی عورتیں میرے پاس رہن رکھ دو۔ ان حضرات نے کہا: تم تو عرب میں سب سے زیادہ حسین و جمیل آدمی ہو، ہم تمہارے پاس اپنی عورتیں کیسے رہن رکھ دیں؟ اس نے کہا: اچھا، پھر اپنے بیٹے میرے پاس رہن رکھ دو۔ ان حضرات نے کہا: ہم اپنے بیٹے کیسے تمہارے پاس رہن رکھ دیں پھر تو لوگ انھیں یہ طعنہ دیا کریں گے کہ یہ وہی تو ہے جسے ایک دو وسق غلہ کے بدلہ میں رہن رکھا گیا تھا، یہ ہمارے لیے بڑی عار کی بات ہے۔ ہاں! ہم تمہارے پاس ہتھیار رہن رکھ دیتے ہیں۔ حضرت محمد بن مَسْلَمہؓ نے اس سے ہتھیار لے کر رات کو آنے کا وعدہ کرلیا۔ چناںچہ کعب کے رضاعی بھائی حضرت ابو نائلہ ؓ کو ساتھ لے کر حضرت محمد ؓ رات کو کعب کے پاس آئے۔ کعب نے ان حضرات کو قلعہ میں بلایا، یہ قلعہ میں گئے۔ وہ ان کے پاس اُتر کر آنے لگا تو اس کی بیوی نے اس سے کہا: اس وقت تم باہر کہاں جارہے ہو؟ اس نے کہا: یہ محمد بن مَسْلَمہ اور میرے بھائی ابو نائلہ آئے ہیں۔ اس کی بیوی نے کہا: میں تو ایسی آواز سن رہی ہوں جس سے خون ٹپکتا ہوا محسوس ہو رہا ہے ۔ اس نے کہا: یہ تو میرے بھائی محمد بنمَسْلَمہ اور میرے رضاعی بھائی ابو نائلہ ہیں۔ بہادر آدمی کو اگر رات کے وقت بھی مقابلہ کے لیے بلایا جائے تو وہ رات کو بھی ضرور نکل آتا ہے۔ 1 حضرت محمد بن مَسْلَمہؓ نے اپنے ساتھ دو تین اور آدمیوں کو بھی داخل کرلیا اور ان سے کہا: میں اس کے بالوں کو پکڑ کر سونگھنے لگ جاؤں گا اور تمہیں بھی سونگھاؤں گا۔ جب تم دیکھو کہ میںنے اس کا سر اچھی طرح پکڑ لیا ہے تو تم اس پر تلوار سے وار کر دینا۔ کعب موتیوں سے جڑی ہوئی ایک پیٹی پہنے ہوئے نیچے اتر کر ان حضرات کے پاس آیا اور اس سے عطر کی خوشبو مہک رہی تھی۔ حضرت محمد بن مسلمہ نے کہا: آج جیسی عمدہ خوشبو میںنے کبھی نہیں دیکھی۔ اس نے کہا: میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ خوش بُو لگانے والی بڑی خوب صورت عورت ہے۔ حضرت محمد ؓ نے کہا: کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کا سر سونگھ لوں؟ کعب نے کہا: ضرور۔ چناںچہ حضرت محمد نے خود سونگھا اور اپنے ساتھیوں کو سونگھایا۔ پھر کعب سے کہا: کیا دوبارہ اجازت ہے؟ اس نے کہا: ضرور۔ جب حضرت محمد نے اس کا سر مضبوطی سے پکڑ لیا تو ساتھیوں سے کہا: پکڑو۔ انھوں نے اسے قتل کردیا۔ پھر ان حضرات نے حضور ﷺ کی خدمت میں واپس آکر سارا واقعہ سنایا۔ حضرت عروہ کی روایت میں یہ ہے کہ جب ان حضرات نے واقعہ سنایا تو حضور ﷺ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ ابنِ سعد کی روایت میں یہ ہے کہ یہ حضرات جب بقیع غرقد (مدینہ کے مشہور قبرستان) کے قریب پہنچے تو زور سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا۔ حضور ﷺ اس رات کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے۔ جب آپ نے اُن کی تکبیر کی آواز سنی تو آپ نے بھی اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا اور آپ سمجھ گئے کہ ان حضرات نے اسے قتل کردیا ہے۔ پھر یہ حضرات حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: یہ چہرے کامیاب ہوگئے۔ ان حضرات نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور آپ کا چہرۂ مبارک بھی (کامیاب ہوا)۔ اور ان حضرات نے کعب کا سر آپ کے سامنے ڈال دیا۔ حضور ﷺ نے اس کے قتل ہوجانے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ حضرت عکرمہ کی مرسل روایت میں یہ ہے کہ (اس قتل سے) تمام یہودی خوف زدہ ہوگئے اور گھبراگئے۔ انھوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں آکر کہا کہ ہمارا سردار دھوکہ سے قتل کر دیا گیا ہے۔ حضور ﷺ نے اُن کو اس کی ناپاک حرکتیں یاد دلائیں کہ کیسے وہ اِسلام کے خلاف لوگوں کو اُبھارتا تھا اور مسلمانوں کو اذیت پہنچایا کرتا تھا۔ (یہ سن کر) وہ یہودی ڈر گئے اور کچھ نہ بولے ۔ 1 ابنِ اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری طرف سے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لیے کون تیار ہے؟ حضرت محمد بن مَسْلَمہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس کی ذمہ داری اٹھاتا ہوں، میں اسے قتل کروں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اگر تم یہ کام کر سکتے ہو تو ضرور کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت محمد ؓ واپس چلے گئے اور کھانا پینا چھوڑ دیا۔ بس اتنا کھاتے پیتے تھے جس سے جان بچی رہے۔ یہ بات حضور ﷺ کو بتائی گئی۔ آپ نے انھیں بلا کر فرمایا: تم نے کھانا پینا کیوں چھوڑ دیا ہے؟ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کے سامنے ایک بات کہی ہے، پتہ نہیں میں اسے پورا کرسکوں گا یا نہیں (اس فکر میں میں نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے)۔ آپ نے فرمایا: تمہارے ذمہ تو محنت اور کوشش کرنا ہی ہے۔ ابنِ اسحاق نے حضرت ابنِ عباس ؓ کی روایت میں یہ بھی نقل کیا ہے (کہ حضرت محمد بن مَسْلَمہ جب اپنے ساتھیوں کو لے کر چلے تو) حضور ﷺ بھی ان حضرات کے ساتھ بقیع الغرقد تک پیدل تشریف لے گئے۔ پھر آپ نے اُن کو روانہ فرمایا اور ارشاد فرمایا: اللہ کا نام لے کر چلو۔ اے اللہ! ان کی اِعانت فرما ۔ 1