نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا
دعوت الی اللہ کی وجہ سے سخت پیاس برداشت کرنا
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ سے لوگوں نے عرض کیا کہ ہمیں ساعۃُالعُسْرۃ یعنی مشکل گھڑی (اس سے مراد غزوۂ تبوک ہے) کا کچھ حال بتائیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: ہم لوگ سخت گرمی میں غزوۂ تبوک کے لیے نکلے، ایک مقام پر پہنچ کر ہمیں اتنی سخت پیاس لگی کہ ہم سمجھنے لگے کہ ہماری گردنیں ٹوٹ جائے گی (یعنی ہم مرجائیں گے)۔ہم میں سے بعض کا تو یہ حال تھا کہ وہ کجاوہ کی تلاش میں جاتا تو واپسی میں اس کا اتنا برا حال ہوجاتا کہ وہ یوں سمجھنے لگتا کہ اس کی گردن ٹوٹ جائے گی۔اور بعض لوگوں نے اپنے اُونٹ ذبح کیے اور اس کی اوجھڑی میں سے پھوس نکال کر اسے نچوڑا اور اسے پیا، اور اس باقی پھوس کو اپنے پیٹ اور جگر پر رکھ لیا (تاکہ باہر سے کچھ ٹھنڈک اندرپہنچ جائے)۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کا آپ کے ساتھ دستور یہ ہے کہ آپ کی دعا کو ضرور قبول فرماتے ہیں، اس لیے آپ ہمارے لیے دعا فرمائیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں دعا کروں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں! چناںچہ حضور ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھائے (اور اللہ سے دعا مانگی) اور ابھی ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ آسمان میں بادل آگئے۔ پہلے بوندا باندی ہوئی، پھر موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔ صحابۂ کرام ؓ نے جتنے برتن ساتھ تھے وہ سارے بھر لیے۔ پھر ( بارش بند ہونے کے بعد) ہم دیکھنے گئے (کہ کہاں تک بارش ہوئی ہے؟) تو دیکھا کہ جہاں تک لشکر تھا صرف وہاں تک بارش ہوئی ہے، لشکر کے باہر بارش نہیںہوئی ۔ 1
حضرت حبیب بن ابی ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت حارث بن ہشام اور حضرت عکرمہ بن ابی جہل اور حضرت عیّاش بن ابی ربیعہ ؓ جنگ ِیرموک کے دن( لڑائی کے لیے)نکلے (اور اتنا لڑے کہ) زخموں سے چُور ہوکر گر پڑے۔ حضرت حارث بن ہشام نے پینے کے لیے پانی مانگا۔ (جب اُن کے پاس پانی آگیا تو) حضرت عکرمہ نے اُن کو دیکھا (تو پانی لانے والے سے) حضرت حارث بن ہشام نے کہا: یہ پانی عکرمہ کو دے دو۔ ابھی حضرت عکرمہ نے پانی لیا ہی تھا کہ اُن کی طرف حضرت عیّاش نے دیکھا تو حضرت عکرمہ نے کہا: یہ پانی عیّاش کو دے دو۔ ابھی پانی حضرت عیاش تک پہنچا نہیں تھا کہ اُن کی روح پرواز کرگئی۔ پھر پانی لے کر حضرت عکرمہ اور حارث کے پاس گئے تو ان دونوں حضرات کا بھی انتقال ہوچکا تھا۔1
حضرت محمد بن حنفیّہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عمرو اَنصاری ؓ جنگِ بدر میں اور بیعتِ عَقَبہ ثانیہ میں اور جنگِ اُحد میں شریک ہوئے تھے۔ میں نے اُن کو (ایک میدانِ جنگ میں) دیکھا کہ انھوں نے روزہ رکھا ہوا ہے اور وہ پیاس سے بے چین ہو رہے ہیں اور وہ اپنے غلام سے کہہ رہے ہیں: تیرا بھلا ہو! مجھے ڈھال دے دو۔ غلام نے اُن کو ڈ ھال دی۔ پھر انھوں نے تیر پھینکا (جسے کمزوری کی وجہ سے) زور سے نہ پھینک سکے اور یوں تین تیر چلائے۔ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جس نے اللہ کے راستہ میں تیر چلایا وہ تیر نشانہ تک پہنچے یا نہ پہنچے یہ تیر اُس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔ چناںچہ سورج ڈوبنے سے پہلے شہید ہوگئے۔2
ایک روایت میں ہے کہ انھوں نے غلام سے کہا: مجھ پر پانی چھڑکو۔ چناںچہ اس نے ان پر پانی چھڑکا۔