نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا
نبی کریم ﷺ کے عام صحابۂ کرام ؓ کی بھوک
نبی کریم ﷺ کے صحابی حضرت ابو جہاد ؓ سے ان کے بیٹے نے کہا: اے ابا جان! آپ لوگوں نے حضورﷺ کو دیکھا اور اُن کی صحبت میں رہے۔ اللہ کی قسم! اگر میں حضور ﷺ کو دیکھ لیتا تو میں یہ کرتا اور وہ کرتا۔ تو ان سے ان کے والد حضرت ابو جہاد نے کہا: اللہ سے ڈرو اور سیدھے سیدھے چلتے رہو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! ہم لوگوں نے غزوۂ خندق کی رات اپنا یہ حال دیکھا کہ آپ یہ فرما رہے تھے کہ جو جاکر ان (دشمنوں) کی خبر لے کر ہمارے پاس آئے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے میرا ساتھی بنا دیں گے۔ چوں کہ مسلمانوں کو بھوک بہت زیادہ لگی ہوئی تھی اور سردی بہت زیادہ پڑ رہی تھی اس وجہ سے اس کام کے لیے کوئی بھی نہ کھڑا ہوا، یہاں تک کہ حضور ﷺ نے تیسری مرتبہ میرانام لے کر پکارا: اے حذیفہ !آگے سردی برداشت کرنے کے باب میں حضرت حذیفہ کی لمبی حدیث اسی کے ہم معنی آئے گی۔1
حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیںکہ حضور ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ کے چہروں میں بھوک کے آثار دیکھ کرفرمایا: تمہیں خوش خبری ہو ! عن قریب تم پر ایسا زمانہ آئے گا کہ تمہیں صبح کو بھی ثرید کا ایک پیالہ کھانے کو ملے گا اور اسی طرح شام کو بھی۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت تو ہم بہترہوں گے۔ آپ نے فرمایا: نہیں، آج تم اس دن سے بہتر ہو۔2
حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعض صحابہ ؓ پر تین دن مسلسل ایسے گزر جاتے کہ انھیں کھانے کی کوئی چیز نہ ملتی تو وہ کھال کو بھون کر اسے کھا لیا کرتے، اور جب کوئی چیز نہ ملتی تو پتھر لے کر پیٹ پر باندھ لیتے۔3
حضرت فضالہ بن عبید ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو بہت سے اہلِ صُفّہ بھوک کی کمزوری کی وجہ سے نماز میں گرجاتے اورانھیں دیکھ کر دیہا تی لوگ کہتے کہ ان کو جنون ہوگیا ہے۔ جب حضور ﷺ نماز سے فارغ ہوتے تو اُن کی طرف متوجہ ہوکر فرماتے کہ (اس بھوک پر) تمہیں اللہ کے ہاں جوملے گا اگر وہ تمہیں معلوم ہوجائے تو تم یہ چاہنے لگو کہ یہ فقر و فاقہ اور بڑھ جائے۔1
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے سات سات صحابہؓ صرف ایک کھجور چوس کر گزارہ کرتے اور گرے ہوئے پتے کھایا کرتے تھے جس کی وجہ سے اُن کے جبڑے سُوج جاتے تھے۔ 2
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ کے سات صحابہؓکو سخت بھوک لگی، حضور ﷺ نے مجھے سات کھجوریں دیں، ہرآدمی کے لیے ایک کھجور ۔3
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن مجھے سخت بھوک لگی۔ بھوک کی وجہ سے میں گھر سے مسجد کی طرف چلا۔ مجھے حضور ﷺ کے چند صحابہ ؓ ملے، انھوں نے کہا: اے ابوہریرہ! اس وقت تم کس وجہ سے باہر آئے ہو؟ میں نے کہا: صرف بھوک کی وجہ سے۔ انھوں نے کہا: ہم بھی اللہ کی قسم! صرف بھوک کی وجہ سے باہر آئے ہیں۔ہم وہاں سے اٹھے اور حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا: تم لوگ اس وقت کیوں آئے ہو؟ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بھوک کی وجہ سے۔ حضور ﷺ نے ایک طباق منگایا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپ نے ہم میں سے ہر آدمی کو دو دو کھجوریں دیں اور فرمایا کہ یہ دوکھجوریں کھالو اور اوپر سے پانی پی لو، اِن شاء اللہ یہ آج کے دن کے لیے کافی ہوجائیں گی۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک کھجور کھالی اوردوسری کھجور اپنی لنگی میں رکھ لی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! تم نے یہ کھجور کیوں رکھی ہے؟ میں نے کہا: اپنی والدہ کے لیے رکھی ہے۔ آپ نے فرمایا: تم اسے کھالو، ہم تمہیں تمہاری والدہ کے لیے دو کھجوریں اور دے دیں گے۔ چناںچہ آپ نے والدہ کے لیے دو کھجوریں اور عنایت فرمائیں ۔4
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ خندق کی طرف تشریف لے گئے تو مہاجرین اور اَنصا رصبح صبح سخت سردی میں خندق کھود رہے تھے اور اُن کے پاس غلام نہیں تھے جواُن کو یہ کام کر دیتے۔ حضور ﷺ نے اُن کی تھکن اور بھوک کو دیکھ کرفرمایا:
اَللّٰھُمَّ إِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْاٰخِرَۃْ
فَاغْفِرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُھَاجِرَۃْ
اے اللہ !اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، لہٰذا آپ اَنصار اورمہاجرین کی مغفرت فرمادیں۔
صحابہؓ نے حضور ﷺ کے جواب میں یہ شعر پڑھا:
نَحْنُ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا مُحَمَّدًا
عَلَی الْجِھَادِ مَا بَقِیْنَا أَبَدًا
ہم نے محمد ﷺ سے اس بات پر بیعت کی ہے کہ جب تک دنیا میں رہیں گے جہاد کرتے رہیں گے۔1
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ مہاجرین اور اَنصار مدینہ کے اِردگرد خندق کھود رہے تھے اور اپنی کمر پر مٹی اُٹھا کر باہر لا رہے تھے اوریہ کہتے جاتے تھے:
نَحْنُ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا مُحَمَّدًا
عَلَی الإِسْلَامِ مَا بَقِیْنَا أَبَدًا
ہم لوگوں نے محمد ﷺ سے اس بات پر بیعت کی ہے کہ جب تک دنیا میں رہیں گے اِسلام پر چلتے رہیں گے۔
حضور ﷺ اُن کے جواب میں یہ فرماتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنَّہٗ لاَ خَیْرَ إِلاَّ خَیْرُ الْاٰخِرَۃْْ
فَبَارِکْ فِي الْأَنْصَارِ وَالْمُھَاجِرَۃْْ
اے اللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، اس لیے اَنصار اور مہاجرین میں برکت عطا فرما۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیںکہ دو مُٹّھی جَو اس پگھلی ہوئی چربی میں ان حضرات کے لیے تیار کیے جاتے جس کا ذائقہ بدلا ہوا ہوتا اور پھر اُن کے سامنے رکھ دیے جاتے اور یہ حضرات بھوکے ہوتے (اس لیے کھاجاتے) حالاں کہ یہ کھانا بدمزہ حلق میں اٹکنے والا اورکچھ بدبودار ہوتا۔2
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیںکہ ہم غزوۂ خندق کے دن (خندق) کھود رہے تھے کہ ایک سخت اور بڑی چٹان سامنے آگئی۔ صحابہؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ خندق میں ایک سخت چٹان سامنے آگئی ہے (جس پر کدال اَثر ہی نہیں کرتی )۔آپ نے فرمایا: اچھا! میں خود (خندق میں) اُترتاہوں۔ پھرآپ کھڑے ہوئے اور آپ کے پیٹ پر ایک پتھر بندھا ہوا تھا اور ہم سب نے بھی تین دن سے کوئی چیز نہ چکھی تھی۔آگے لمبی حدیث ذکر کی ہے۔1
حضرت ابنِ عباسؓفرماتے ہیں کہ حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ نے خندق کھودی اور انھوںنے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے۔ آگے لمبی حدیث ذکر کی ہے۔2
ان دونوں حدیثوں کو ہم صحابۂ کرام ؓکی تائیداتِ غیبیہ کے باب میں ذکر کریں گے۔ اور ابنِ ابی شیبہ نے حضرت جابر کی اسی حدیث کوذکر کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ ہے کہ انھوں نے مجھے بتایا کہ اس دن صحابۂ کرام ؓ کی تعداد آٹھ سو تھی ۔ 3
حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد حضرت عامر ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ حضور ﷺ بعض مرتبہ ہمیں سریّہ میں (جہادکے لیے) بھیج دیتے اورہمارا زادِ راہ صرف کھجور کی ایک زنبیل ہوتی اور پہلے ہمارا امیر ایک ایک مٹھی کھجور ہم لوگوں میں تقسیم کرتا، پھر آخر میں ایک ایک کھجور تقسیم کرتا۔ میں نے اپنے والد سے کہا کہ ایک کھجور کیا کام دیتی تھی؟ انھوں نے کہا: اے بیٹے! یہ نہ کہو، جب ہمیں ایک کھجور ملنی بھی بند ہوگئی تب ہمیں ایک کھجور کی ضرورت کا اندازہ ہوا۔ 4
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ایک دفعہ ہمیں قریش کے ایک تجارتی قافلہ کے مقابلہ کے لیے بھیجا اور حضرت ابو عبیدہ بن الجرّ اح ؓکو ہمارا امیر بنایا اور آپ نے ہمیں کھجوروں کی ایک زنبیل بطور توشہ کے دی۔آپ کو اس زنبیل کے علاوہ ہمارے لیے اور کوئی توشہ نہ ملا۔ چناںچہ حضرت ابو عبیدہ ہمیں ایک ایک کھجور دیتے۔حضرت جابر ؓ کے شاگرد کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ آپ لوگ ایک کھجور کاکیا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہم ایک کھجور کو ایسے چوستے تھے جیسے بچہ (دودھ) چوستا ہے اور اوپرسے ہم پانی پی لیا کرتے تھے تو وہ ایک کھجور ہمیں صبح سے رات تک کے لیے کافی ہوجاتی تھی۔ ہم اپنی لاٹھیوں سے پتے جھاڑتے اور انھیں پانی میں بھگو کر کھالیا کرتے۔ آگے پوری حدیث کو ذکر کیا ہے۔ 1
امام مالک اور حضراتِ شیخین بخاری و مسلم ؒ اور دیگر حضرات نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اُن کی روایت میں یہ ہے کہ اس سفر میں صحابۂ کرام ؓ کی تعداد تین سو تھی۔ طبرانی نے اپنی روایت میں چھ سو سے کچھ زیادہ کی تعداد لکھی ہے۔ 2
امام مالک کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت جابر ؓ کے شاگرد کہتے ہیںکہ میں نے پوچھا: ایک کھجور کیا کام دیتی ہوگی؟ انھوں نے فرمایا کہ جب وہ بھی ختم ہوگئی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی۔
حضرت ابو خُنَیس غِفَاری ؓ فرماتے ہیں کہ وہ غزوۂ تہامہ میں حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم عُسْفان پہنچے تو صحابہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ! بھوک نے ہمیں کمزور کردیا۔ آپ ہمیںاجازت دیںہم سواری کے جانور (ذبح کرکے) کھالیں۔ آپ نے فرمایا: بہت اچھا (کھالو)۔ پھر حضرت عمربن خطّاب ؓکواس بات کا پتہ چلا۔ انھوں نے حضور ﷺکی خدمت میںآکر عرض کیا: یانبی اللہ! یہ آپ نے کیاکیا؟ آپ نے لوگوں کو سواری کے جانور ذبح کرنے کا حکم دے دیا (اس طرح تو سواریاں ختم ہوجائیں گی) تو لوگ پھر کس پر سوار ہوںگے؟ آپ نے فرمایا: اے ابن الخطّاب! پھر تمہاری کیا رائے ہے؟ انھوں نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ لوگوںسے یہ کہیں کہ اُن کے توشہ میں جتنا بچا ہوا ہے وہ سب آپ کی خدمت میں لے آئیں، پھر آپ اس سارے کو ایک برتن میں جمع کریں اور آپ پھر مسلمانوں کے لیے اللہ سے(برکت کی) دعاکریں۔چناںچہ آپ نے لوگوں کو اس کاحکم دیا، سب نے اپنے بچے ہوئے توشہ کو ایک برتن میں ڈال دیا۔ پھر آپ نے مسلمانوں کے لیے دعا فرمائی، پھر آپ نے فرمایا: تم اپنے انپے برتن لے آؤ۔ چناںچہ ہر آدمی نے اس میں سے اپنا برتن بھر لیا۔ آگے پوری حدیث کو ذکر کیا ۔ 1
حضرت عمر بن خطّاب ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک غزوہ میں حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دشمن سامنے آگیاہے (اُن کے پاس کھانے کا خوب سامان ہے اس وجہ سے) اُن کے پیٹ تو بھرے ہوئے ہیں اور ہم لوگ بھوکے ہیں۔ اس پر اَنصار نے کہا: کیا ہم اپنے اونٹ ذبح کرکے لوگوں کو نہ کھلا دیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس جو کچھ بچا ہواکھانا ہے وہ اسے لے آئے۔ چناںچہ لوگ لانے لگے کوئی ایک مُد لاتا، کوئی صاع لاتا (ایک مُد ۱۴ چھٹانک کا ہوتا ہے، اور ایک صاع ۲/۱ ۳ سیرکا)کوئی کم لاتا کوئی زیادہ، توسارے لشکر سے بیس صاع سے کچھ زیادہ کھانے کا سامان جمع ہوا۔ حضور ﷺ نے اس کے ایک طرف بیٹھ کر برکت کی دعا فرمائی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ (اس میں سے آرام سے) لیتے جاؤ اور لُوٹ مار نہ مچاؤ۔ چناںچہ ہر آدمی اپنی زنبیل میں اور اپنی بوری میںڈال کر لے جانے لگا۔ اور انھوں نے اپنے تمام برتن بھرلیے یہاں تک کہ بعض حضرات نے تو اپنی آستین میں گرہ لگا کر اس میں بھر لیا۔ (اس زمانے میںآستین بڑی ہوتی تھی) جب سب لے جاچکے تو کھانا جُوں کا تُوں اسی طرح تھا (اس میںکوئی کمی نہ آئی تھی)۔ پھر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ جو بندہ بھی سچے دل سے اس کلمہ کو پڑھے گا اور اسے لے کر اللہ کے ہاں حاضر ہوگا اللہ تعالیٰ ا سے آگ کی گرمی سے ضرور بچائیں گے۔ 2
حضرت سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلہ کی ایک عورت اپنے کھیت میں چقندر لگایا کرتی تھی۔ جب جمعہ کا دن آتا تو وہ چقندر کی جڑیں نکال کر ایک ہانڈی میں ڈال دیتی اور پھر ایک مٹھی جَو پِیس کر اس میں ڈال دیتی تو چقندر کی جڑیں گوشت والی ہڈی کا کام دیتیں۔ ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر اس عورت کے پاس جاتے اور اسے سلام کرتے، وہ عورت یہ کھانا ہمارے سامنے رکھتی۔ ہمیں اس کے اس کھانے کی وجہ سے جمعہ کے دن کا بڑا شوق ہوتا۔اورایک روایت میں یہ ہے کہ اس میں چربی اور چکنائی بالکل نہ ہوتی، اور ہمیں جمعہ کے دن کی بڑی خوشی ہوتی ۔ 1
حضرت ابنِ ابی اوفیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور ﷺ کے ساتھ سات غزوے ایسے کیے جن میں ہم ٹڈّی کھایاکرتے تھے۔2
حضرت ابو برزہ ؓ فرماتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں تھے۔ ہمارا کچھ مشرکوں سے مقابلہ ہوا۔ ہم نے اُن کو شکست دے دی، وہ سب وہاں سے بھاگ گئے۔ ہم نے اُن کی جگہ پر قبضہ کر لیا تو وہاں راکھ پر روٹی پکانے کے تندوربھی تھے۔ ہم اُن کے تندور کی پکی ہوئی روٹیاں کھانے لگے۔ ہم نے جاہلیت میں یہ سنا تھاکہ جو( گندم کی ) روٹی کھائے گا وہ موٹا ہوجائے گا۔چناںچہ جب ہم نے یہ روٹیاں کھالیں تو ہم میں سے ہر آدمی اپنے بازوؤںکودیکھنے لگاکہ کیا وہ موٹا ہوگیا ہے۔3
امام ہیثمی نے فرمایا ہے کہ ایک روایت میں یہ ہے کہ ہم لوگ غزوۂ خیبر کے دن حضور ﷺ کے ساتھ تھے، ہمارا دشمن میدہ کی روٹیاں چھوڑ کربھاگ گیا۔4
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے خیبر فتح کر لیا تو چند یہودیوں کے پاس سے ہمارا گزر ہوا جو اپنے تندور کی راکھ میں روٹیاںپکا رہے تھے۔ ہم نے اُن کو وہاں سے بھگایا، وہ روٹیاں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پھر ہم نے اُن روٹیوں کو آپس میں تقسیم کیا۔ مجھے بھی روٹی کا ایک ٹکڑا ملا جس کا کچھ حصہ جلا ہواتھا۔میںنے یہ سن رکھا تھا کہ جو (گندم کی) روٹی کھائے گا وہ موٹا ہوجائے گا۔چناںچہ روٹی کھا کر میں اپنے بازوؤںکو دیکھنے لگا کہ کیا میں موٹا ہوگیا ہوں۔5