نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا
حضور ﷺ اور آپ کے گھر والوں اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ کی بھوک
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابو بکر ؓ دوپہر کے وقت سخت گرمی میں گھر سے مسجد کی طرف چلے۔ حضرت عمر ؓ نے سنا تو کہا: اے ابو بکر! اس وقت آپ گھر سے باہر کیوں آئے؟ حضرت ابو بکر نے کہا: صرف اس وجہ سے آیاہوں کہ سخت بھوک لگی ہوئی ہے۔حضرت عمرنے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی صرف اسی وجہ سے آیا ہوں۔ ابھی یہ دونوںآپس میں بات کر ہی رہے تھے کہ اچانک حضور ﷺگھر سے نکل کر ان دونوں حضرات کے پاس تشریف لے آئے۔آپ نے پوچھا :اس وقت تم دونوں گھر سے باہر کیوں آئے؟ دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم صرف اس وجہ سے آئے ہیں کہ ہمیں سخت بھوک لگی ہوئی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کی قبضہ میں میری جان ہے! میں بھی صرف اسی وجہ سے گھر سے باہر آیا ہوں، چلو تم دونوں کھڑے ہوجاؤ ۔ چناںچہ یہ تینوں حضرات تشریف لے گئے اورحضرت ابو ایوب اَنصاری ؓکے دروازے پر پہنچ گئے۔ اور حضرت ابو ایوب اَنصاری حضور ﷺ کے لیے کھانا یا دودھ بچا کر رکھا کرتے تھے۔اس دن حضور ﷺ کو اُن کے ہاں آنے میں دیر ہوگئی اورجس وقت روزانہ آیاکرتے تھے اس وقت نہ آسکے، تو حضرت ابو ایوب اَنصاری وہ کھانا اپنے گھر والوں کو کھلا کر اپنے کھجوروں کے باغ میں کام کرنے چلے گئے تھے۔
جب یہ حضرات اُن کے دروازے پر پہنچے تو اُن کی بیوی نے باہر نکل کر ان حضرات کا استقبال کیا اور کہا: خوش آمدید ہو اللہ کے نبی کریم (ﷺ)کو اور ان کے ساتھ آنے والوں کو۔ حضور ﷺ نے ان سے پوچھا: ابو ایوب کہاں ہیں؟ حضرت ابو ایوب اپنے باغ میں کام کر رہے تھے وہاں سے انھوں نے حضور ﷺ کی آواز کو سناتو دوڑتے ہوئے آئے اور کہا: خوش آمدید ہو اللہ کے نبی کریم (ﷺ) کو اور اُن کے ساتھ آنے والوں کو۔ اے اللہ کے نبی! یہ وہ وقت نہیں ہے جس میں آپ آیاکرتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تم ٹھیک کہتے ہو۔ چناںچہ وہ گئے اورکھجورکاایک خوشہ توڑکرلائے جس میں خشک اور تر اور گدّر (نیم پختہ) تینوں قسم کی کھجوریں تھیں۔حضور ﷺ نے فرمایا: یہ تم نے کیا کیا؟ ہمارے لیے چن کر صرف خشک کھجور لاتے۔ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا دل یہ چاہا کہ آپ خشک اور تر اور گدّر تینوں قسم کی کھجورکھائیں اور ابھی آپ کے لیے میں کوئی جانور بھی ذبح کروں گا۔ آپ نے فرمایا: گرتم نے ذبح کرنا ہی ہے تو دودھ والا جانورذبح نہ کرنا۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے سال یا سال سے کم عمر کا بکری کا بچہ ذبح کیا اوراپنی بیوی سے کہا کہ تم ہمارے لیے آٹا گوندھ کر روٹی پکاؤ،کیوں کہ تم روٹی پکانا اچھی طرح جانتی ہو۔ اور حضرت ابوایوب نے بکری کے اس بچہ کے آدھے گوشت کا سالن بنایا اور آدھے کو بھون لیا۔
جب کھانا تیار ہوگیا اور نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے سامنے رکھاگیاتوآپ نے تھوڑا سا گوشت روٹی پر رکھ کر حضرت ابو ایوب سے کہا: اسے حضرت فاطمہ (ؓ) کے پاس پہنچادو،کیوں کہ بہت دنوں سے انھیںایسا کھانا نہیں ملا۔ حضرت ابو ایوب وہ لے کر حضرت فاطمہ کے پاس گئے۔ جب یہ حضرات کھا چکے اور سیر ہوگئے تو حضور ﷺ نے فرمایا:روٹی اور گوشت اور خشک کھجور اور تر کھجور اور گدّر کھجور۔ اور یہ کہہ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور پھر یہ فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ یہ بات آپ کے صحابہ کو بڑی بھاری معلوم ہوئی، تو آپ نے فرمایا: لیکن جب تمہیں ایسا کھانا ملے اور تم اس کی طرف ہاتھ بڑھانے لگو تو بِسْمِ اللّٰہِ پڑھا کرو، اور جب تم سیر ہوجاؤ تو یہ دعا پڑھو:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ ھُوَ أَشْبَعَنَا وَأَنْعَمَ عَلَیْنَا فَأَفْضَلَ۔
تمام تعریفیںاس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں سیر کیا اور ہم پر اِنعام فرمایا اور ہمیں خوب دیا۔
تو یہ دعا اس کھانے کا بدلہ ہوجائے گی (اور اب اس کھانے کے بارے میں قیامت کے دن سوال نہیں کیا جائے گا)۔ جب آپ وہاں سے اُٹھے تو حضرت ابو ایوب کو فرمایا کہ کل ہمارے پاس آنا۔آپ کی عادتِ شریفہ یہ تھی کہ جو بھی آپ کے ساتھ بھلائی کرتا آپ اسے اس کا بدلہ دینا پسند فرماتے۔
حضرت ابو ایوب ؓ نے حضور ﷺ کی یہ بات نہ سنی تو حضرت عمر ؓ نے اُن سے کہا کہ حضور ﷺ تمہیں کل اپنے پاس آنے کاحکم دے رہے ہیں۔چناںچہ وہ اگلے دن حضور ﷺ کی خدمت میںآئے۔حضور ﷺ نے اُن کو اپنی باندی دے دی اور فرمایا: اے ابو ایوب! اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، کیوں کہ یہ جب تک ہمارے پاس رہی ہے ہم نے اس میں خیر ہی دیکھی ہے۔ حضرت ابو ایوب ؓ جب اس باندی کو حضور ﷺ کے ہاں سے لے آئے توفرمایا کہ حضور ﷺ کی اس وصیت کی سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ میں اسے آزادکردوں۔ چناںچہ اسے آزادکر دیا۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ نے حضرت عمربن خطاب ؓکو فرماتے ہوئے سناکہ ایک دن حضورﷺ دوپہرکے وقت گھرسے باہر تشریف لائے توحضرت ابو بکر ؓکو آپ نے مسجد میں پایا۔ تو آپ نے فرمایا: تم اس وقت گھرسے باہر کیوں آئے؟ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جس وجہ سے آپ آئے ہیں۔ پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ آگئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے ابنِ خطاب! تم گھرسے باہرکیوںآئے؟ انھوں نے عرض کیا: جس وجہ سے آپ دونوں آئے ہیں۔ پھرحضرت عمر بھی بیٹھ گئے اور حضور ﷺ ان دونوں حضرات سے بات کرنے لگ گئے۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تم دونوں میں اتنی ہمت ہے کہ کھجوروںکے اس باغ تک چلے چلو؟ وہاں تمہیں کھانا اور پانی اور سایہ مل جائے گا۔ پھرآپ نے فرمایا: آؤ ابوالہیثم بن تَیِّہان اَنصاری کے گھرچلتے ہیں۔ اس کے بعد آگے لمبی حدیث ذکرکی ہے۔1
حافظ منذری نے جلد ۵ صفحہ ۱۶۷ پر فرمایا ہے کہ بظاہر یہ قصہ ایک مرتبہ حضرت ابو الہیثم ؓ کے ساتھ پیش آیا ہے اور ایک مرتبہ حضرت ابوایوب اَنصاری ؓ کے ساتھ۔
حضرت فاطمہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضورِ اَقدس ﷺ ایک دن اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: میرے دونوں بیٹے حسن اور حسین کہاں ہیں؟ حضرت فاطمہ نے کہاکہ صبح کو ہمارے گھر میں چکھنے کے لیے بھی کوئی چیز نہ تھی، توحضرت علی (ؓ) نے کہا: میں ان دونوں کو اپنے ساتھ لے جاتاہوں،کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ یہ دونوں تمہارے پاس (بھوک کی وجہ سے) روتے رہیںگے اور تمہارے پاس کوئی چیز ہے نہیں۔ چناںچہ وہ فلاں یہودی کے ہاں(مزدوری کے لیے)گئے ہیں۔ حضور ﷺ اُن کے پاس تشریف لے گئے۔(آپ جب وہاں پہنچے تو) دیکھاکہ دونوں بچے ایک حوض میں کھیل رہے ہیں اور ان دونوں کے سامنے کچھ کھجوریں رکھی ہوئی ہیں۔ آپ نے فرمایا: اے علی! کیا گرمی تیز ہونے سے پہلے تم میرے دونوں بیٹوں کو گھر نہیں واپس لے جاتے؟ انھوں نے کہا: آج صبح ہمارے گھرمیںکوئی چیزنہیںتھی۔ یا رسول اللہ! آپ تھوڑی دیرتشریف رکھیں، میں فاطمہ کے لیے بھی کچھ کھجوریںجمع کر لوں۔ حضور ﷺ وہاںبیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میںحضرت فاطمہ کے لیے بھی کچھ کھجوریں جمع ہوگئیں۔ حضرت علی نے ان کھجوروں کو ایک کپڑے میں باند ھ لیا، پھر وہ حضور ﷺ کے پاس آئے۔ پھر حضور ﷺ نے ایک بچے کو اٹھایا دوسرے کو حضرت علی نے اٹھایا یہاں تک کہ دونوں کو گھرواپس لے آئے۔1
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی کہ حضرت علی ؓنے فرمایا کہ کئی دن ایسے گزرے کہ نہ ہمارے پاس کوئی چیز تھی اور نہ حضور ﷺکے پاس۔ میں (گھر سے) باہر نکلا تو مجھے راستہ میں ایک دینار پڑھا ہوا ملا۔ تھوڑی دیر تو میں سوچتا رہا کہ اسے اُٹھا ؤں یا نہ اُٹھاؤں، لیکن بالآخر میں نے اسے اٹھالیاکیوں کہ (کئی دن کے فاقہ کی وجہ سے) ہم بڑی مشقت میں تھے۔ میں اسے لے کر ایک دکان پر گیا اور اس کا آٹا خرید کر حضرت فاطمہ ؓ کے پاس لایا اور میں نے کہا: اسے گوندھ کر روٹی پکاؤ۔ چناںچہ وہ آٹا گوندھنے لگیں۔ (بھوک کی وجہ سے) اُن کی کمزوری کا یہ حال تھا کہ اُن کی پیشانی کے بال (آٹے کے) برتن سے ٹکرا رہے تھے۔ پھر انھوں نے روٹی پکائی، پھر میں نے حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر سارا قصہ سنایا۔ آپ نے فرمایا: تم اسے کھا لو، کیوں کہ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو ( غیبی خزانہ سے) عطا فرمائی ہے۔2
حضرت محمد بن کعب قُرَظی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو حضور ﷺ کے ساتھ اس حال میں دیکھا ہے کہ میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھا، اور آج میرا یہ حال ہے کہ میرے مال کی زکوٰۃ چالیس ہزار دینار تک پہنچ گئی ہے ۔اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آ ج میری زکوٰۃ چالیس ہزار ہے۔3
حضرت اُمّ سلیم ؓ فرماتی ہیں کہ اُن سے حضور ﷺ نے (بھوک کی وجہ سے پریشان دیکھ کر) فرمایا: تم صبر سے کام لو۔ اللہ کی قسم! محمد (ﷺ) کے گھرانے میں سات دن سے کوئی چیز نہیں ہے اور تین دن سے تو اُن کی کسی ہانڈی کے نیچے آگ نہیں جلی ہے۔ اللہ کی قسم! اگر میں اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کروںکہ وہ تِہَامہ کے تمام پہاڑوں کو سونے کا بنا دے تو یقینااللہ تعالیٰ ضروربنا دیںگے۔1