نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا
حضور ﷺکا بھوک برداشت کرنا
حضرت نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں: کیا یہ بات نہیں ہے کہ تم جتنا چاہتے ہو کھاتے پیتے ہو ؟ (یعنی اپنی مرضی کے مطابق کھاتے پیتے ہو) میں نے تمہارے نبی کریم ﷺ کو اس حال میں دیکھا ہے کہ اُن کو ردّی اور خراب کھجور اتنی بھی نہیں ملتی تھی کہ جس سے وہ اپنا پیٹ بھر لیں۔ 1
اِمام مسلم نے حضرت نعمان ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے لوگوں کو (اُن کے زمانے میں) جو دنیاوی فتوحات ملیں ان کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ میں نے حضور ﷺ کو اس حال میں دیکھا ہے کہ آپ کا سارا دن بھوک کی بے چینی میں گزر جاتا تھا، آپ کو اتنی بھی ردّی کھجور نہیں ملتی تھی جس سے آپ اپنا پیٹ بھر لیں۔2
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں، آپ کو کیا ہوا ؟ (کیوں کہ افضل یہ ہے کہ نمازکھڑے ہوکر پڑھی جائے اور آپ ہمیشہ افضل پر عمل کرتے ہیں) آپ نے فرمایا: بھوک کی وجہ سے۔ یہ سن کر میں رو پڑا۔ آپ نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! مت رو، کیوں کہ جو آدمی دنیا میں ثواب کی نیت سے بھوک کو برداشت کرے گا قیامت کے دن اُس کے ساتھ حساب میں سختی نہیں کی جائی گی۔ 3
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر ؓ کے گھر والوں نے ایک رات ہمارے ہاں بکری کی ایک ٹانگ بھیجی۔میں نے اس ٹانگ کو پکڑا اور حضور ﷺ نے اس کے ٹکڑے کیے۔ یا حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے پکڑا اور میں نے ٹکڑے کیے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ جس سے بھی یہ حدیث بیان کرتیں اس سے یہ بھی فرماتیں کہ یہ کام چراغ کے بغیر ہوا۔1
’’طبرانی‘‘ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا: اے اُمّ المؤمنین! (کیا یہ کام) چراغ کی روشنی میں ہوا تھا ؟ انھوں نے کہا: اگر ہمارے پاس چراغ جلانے کے لیے تیل ہوتا تو ہم اسے کھالیتے۔2
ابو یعلیٰ نے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ کے گھر والوں پر کئی چاند ایسے گزر جاتے تھے کہ نہ کسی گھر میں چراغ جلایا جاتا اور نہ آگ۔ اگر انھیں تیل مل جاتا تواسے اپنے جسم پر لگا لیتے اور اگر چربی مل جاتی تو اسے کھا لیتے۔3
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے گھر والوں پر ایک چاند گزر جاتا، پھر دوسرا چاند گزر جاتا اور حضور ﷺ کے کسی بھی گھر میں کچھ آگ نہ جلائی جاتی، نہ روٹی کے لیے اور نہ سالن کے لیے۔ لوگوں نے پوچھا :اے ابو ہریرہ! پھر وہ کس چیز پر گزارہ کیا کرتے تھے؟ فرمایا: دو کالی چیزوں پر یعنی کھجور اور پانی پر۔ ہاں! حضور ﷺ کے پڑوسی اَنصار تھے۔ اللہ تعالیٰ انھیں بہترین جزا عطا فرمائے! اُن کے پاس دودھ والے جانور ہوتے تھے جن کا کچھ دودھ وہ حضور ﷺ کے گھر والوں کو بھیج دیا کرتے۔4
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ فرمایا کرتی تھیں کہ اے میرے بھانجے! اللہ کی قسم! ہم ایک چاند دیکھتے ، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ دو مہینوں میں تین چاند دیکھ لیتے اور حضور ﷺ کے گھروں میں آگ بالکل نہ جلائی جاتی۔ میں نے کہا: اے خالہ جان! پھر آپ لوگوں کا گزارہ کیسے ہوتا تھا؟ انھوں نے فرمایا: دو کالی چیزوں پر کھجور اور پانی پر۔ البتہ حضور ﷺ کے پڑوسی اَنصار تھے جن کے پاس دودھ والے جانور تھے۔ وہ اُن کا دودھ حضور ﷺ کے پاس بھیج دیا کرتے جو حضور ﷺ ہمیں پلا دیا کرتے۔1
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم چالیس چالیس دن اس طرح گزار لیا کرتیں کہ ہم حضور ﷺ کے گھر میں نہ آگ جلاتیں اور نہ کچھ اور۔ میں نے کہا: آپ لوگ کس چیز پر گزارہ کرتے؟ انھوں نے کہا: دو کالی چیزوں پر یعنی کھجور اور پانی پر، اور وہ بھی جب میسر آجاتیں۔2
حضرت مسروق کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے میرے لیے کھانا منگایا اور فرمایا: میں جب بھی پیٹ بھرلیتی ہوں اور رونا چاہوں تو رو سکتی ہوں۔ میں نے کہا: کیوں؟ انھوں نے فرمایا: مجھے وہ حال یاد آجاتا ہے جس حال پر حضور ﷺ نے اس دنیا کو چھوڑا تھا۔ اللہ کی قسم! آپ نے کبھی بھی ایک دن میں روٹی اور گوشت دو مرتبہ پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔ 3
حضرت ابنِ جریر نے روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ مدینہ آنے سے لے کر انتقال کے وقت تک کبھی بھی حضور ﷺ نے تین دن مسلسل گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ ابنِ جریر نے ہی حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ محمد ﷺ کے گھر والوں نے حضور ﷺ کے انتقال تک کبھی بھی دو دن مسلسل جَو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ ابنِ جریر نے ہی حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضورﷺ کا انتقال ہوگیا اور آپ کو دو کالی چیزیں یعنی کھجور اور پانی پیٹ بھر کر نہیں ملیں۔4
’’بیہقی ‘‘کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے کبھی بھی تین دن تک مسلسل پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔ اگر ہم چاہتے تو ہم بھی پیٹ بھر کر کھاتے، لیکن آپ دوسروں کو کھلا دیا کرتے۔1
حضرت حسنؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ اپنی جان سے لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اپنی لنگی میں چمڑے کا پیوند لگا لیا کرتے۔ اور آپ نے انتقال تک کبھی تین دن تک صبح اور شام کا کھانا مسلسل نہیں کھایا۔2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا اور آپ نے کبھی باریک چپاتی نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہوگیا۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ نے اپنی آنکھوں سے کبھی بھی بُھنی ہوئی بکری نہیں دیکھی۔3
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ اور آپ کے گھر والے مسلسل کئی راتیں بھوکے ہی گزار دیتے، انھیں رات کا کھانا نہ ملتا تھا، اور اُن کی روٹی بھی اکثر جَو کی ہوتی تھی۔4
حضرت ابو ہریرہ ؓ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جن کے سامنے بُھنی ہوئی بکری رکھی ہوئی تھی۔ ان لوگوں نے حضرت ابو ہریرہ کو بلایا، انھوں نے کھانے سے انکار کردیا اور فرمایا: حضور ؓ دنیا سے اس حال میں تشریف لے گئے کہ آپ نے کبھی پیٹ بھر کر جَو کی روٹی نہیں کھائی تھی۔ 5
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ ؓ نے حضور ﷺ کو جَو کی روٹی کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔ آپ نے فرمایا: یہ پہلا کھانا ہے جسے تمہارے والد تین دن کے بعد کھا ر ہے ہیں۔ طبرانی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ حضرت فاطمہؓ نے عرض کیا: یہ ٹکیہ میں نے پکائی تھی، مجھے یہ اچھا نہ لگا کہ میں اسے اکیلے ہی کھالوں، اس لیے میں آپ کے پاس یہ ٹکڑا لے آئی۔ پھر آپ نے وہ ارشاد فرمایا جو پہلے گزرا ہے۔6
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے پاس گرم کھانا لایا گیا۔ آپ نے اسے نوش فرمایا اور کھانے سے فارغ ہوکر آپ نے فرمایا: الحمد للہ! میرے پیٹ میں اتنے اتنے دنوں سے گرم کھانا نہیں گیا تھا۔1
حضرت سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ؓ نے اپنی بعثت سے لے کر انتقال تک کبھی میدہ نہیں دیکھا۔ حضرت سہل سے پوچھا گیا کہ کیا حضور ﷺ کے زمانہ میں آپ لوگوں کے پاس چھلنی ہوتی تھی؟ تو انھوںکہا کہ حضور ﷺ نے اپنی بعثت سے لے کر انتقال تک کبھی چھلنی نہیں دیکھی تھی۔ تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ جَو کا آٹا بغیر چھانے ہوئے کیسے کھالیتے تھے ؟ انھوں نے کہا کہ ہم جَو کو پِیس کر اس پر پھونک مارتے، جو اُڑنا ہوتا وہ اُڑجاتا، باقی کو ہم گوندھ لیتے۔2
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ کے دستر خوان پر تھوڑی بہت بھی جَو کی روٹی نہیں بچتی تھی۔طبرانی کی ایک روایت میں یہ ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حضور ﷺ کے سامنے سے دستر خوان اٹھایا گیا ہو اور اس پر کھانا بچا ہواہو۔3
حضرت ابو طلحہ ؓ فرماتے ہیں: ہم نے حضور ﷺ سے بھوک کی شکایت کی اور (بھوک کی وجہ سے ہم لوگوں نے اپنے پیٹ پر ایک ایک پتھر باندھ رکھا تھا۔ چناںچہ) ہم نے کپڑا ہٹاکر اپنا اپنا پیٹ دکھایا تو ہر ایک کے پیٹ پر ایک ایک پتھر بندھا ہوا تھا۔ تو حضور ؓ نے اپنے پیٹ مبارک سے کپڑا ہٹایا توآپ کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔4
حضرت ابنِ بُجَیرؓ حضور ﷺ کے صحابہ میں سے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضور ﷺ کو سخت بھوک لگی۔ حضور ﷺ نے ایک پتھر اٹھاکر اسے اپنے پیٹ پر باندھ لیا۔ پھر آپ نے فرمایا: غور سے سنو! بہت سے لوگ دنیا میں خوب کھانا کھا رہے ہیں اور اچھی زندگی گزار رہے ہیں، لیکن یہ لوگ قیامت کے دن بھوکے اور ننگے ہوںگے۔ غور سے سنو! بہت سے لوگ (دنیا میں اپنی خواہشات پر چل کر بظاہر) اپنا اِکرام کر رہے ہیں، لیکن (حقیقت میں) وہ اپنی توہین کر رہے ہیں(کہ قیامت کے دن وہ رسوا اور ذلیل ہوںگے)۔ غور سے سنو! بہت سے لوگ (دنیا میں اللہ کے حکموں پر چل کر بظاہر) اپنی توہین کر رہے ہیں، لیکن (حقیقت میں) وہ اپنا اِکرام کر رہے ہیں (کہ قیامت کے دن اُن کو راحت اور عزت ملے گی)۔ 1
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ کے (جانے کے بعد) اس اُمت میں سب سے پہلے جو مصیبت پیدا ہوئی وہ پیٹ بھرنا ہے، کیوں کہ جب کوئی قوم پیٹ بھرکر کھاتی ہے تو اُن کے بدن موٹے ہو جاتے ہیں اور اُن کے دل کمزور ہوجاتے ہیں اور اُن کی خواہشات بے قابو ہوجاتی ہیں۔2