ایمان مفصل

خدا پر ایمان

آگے بڑھنے سے پہلے تم کو ایک مرتبہ پھر ان معلومات کا جائزہ لے لینا چاہیے جو تمہیں پچھلے ابواب میں حاصل ہوئی ہیں۔ 1. اگرچہ مسلمان کے معنی خدا کی اطاعت اور فرماں برداری کے ہیں لیکن چونکہ خدا کی ذات و صفات اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ اور آخرت کی جزا و سزا کا صحیح حال صرف خدا کے پیغمبر ہی کے ذریعہ سے معلوم ہوسکتا ہے اس لیے مذہب اسلام کی صحیح تعریف یہ ہوئی کہ پیغمبر کی تعلیم پر ایمان لانا اور اس کے بتائے ہوئے طریقہ پر خدا کی بندگی کرنا اسلام ہے۔جو شخص پیغمبر کے واسطے کو چھوڑ کر براہ راست خدا کی اطاعت و فرماں برداری کا دعویٰ کرے وہ مسلم نہیں ہے۔ 2. قدیم زمانہ میں الگ الگ قوموں کے لیے الگ الگ پیغمبر آتے تھے اور ایک ہی قوم میں یکے بعد دیگرے کئی پیغمبر آیا کرتے تھے۔ اس وقت ہر قوم کے لیے “اسلام” اس مذہب کا نام تھا جو خاص اسی قوم کے پیغمبر یا پیغمبروں نے سکھایا۔ اگرچہ اسلام کی حقیقت ہر ملک اور ہر زمانے میں ایک ہی تھی۔ مگر شریعتیں یعنی قوانین اور عبادات کے طریقے کچھ مختلف تھے۔ اس لیے ایک قوم پر دوسری قوم کے پیغمبروں کی پیروی ضروری نہ تھی۔، اگرچہ ایمان لانا سب پر ضروری تھا۔ 3. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تو آپ کے ذریعہ سے اسلام کی تعلیم کو مکمل کردیا گیا۔ اور تمام دنیا کے لیے ایک ہی شریعت بھیجی گئی۔ آپ کی نبوت کسی خاص ملک یا قوم کے لیے نہیں بلکہ تمام اولاد آدم کے لیے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے۔ اسلام کی جو شریعتیں پچھلے پیغمبروں نے پیش کی تھیں وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر منسوخ کردی گئیں اور اب قیامت تک نہ کوئی نبی آنے والا ہے اور نہ کوئی دوسری شریعت خدا کی طرف سے اترنے والی ہے۔ لہذا اب “اسلام” صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا نام ہے ۔ آپ کی نبوت کو تسلیم کرنا اور آپ کے اعتماد پر ان سب باتوں کو ماننا جن پر ایمان لانے کی آپ نے تعلیم دی ہے اور آپ کے تمام احکام کو خدا کے احکام کو خدا کے احکام سمجھ کر ان کی اطاعت کرنا “اسلام” ہے۔ اب کوئی اور ایسا شخص خدا کی طرف سے آنے والا نہیں ہے جس کو ماننا مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہو، اور جسے نہ ماننے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے۔ آؤ اب ہم تمہیں بتائیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کن کن باتوں پر ایمان لانے کی تعلیم دی ہے،وہ کیسی سچی باتیں ہیں اور ان کو ماننے سے انسان کا درجہ کس قدر بلند ہوجاتا ہے۔ خدا پر ایمان آنحضرت کی سب سے پہلی اور سب سے زیادہ اہم تعلیم یہ ہے: “لاالہ الا اللہ” (اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے)۔ یہ کلمہ اسلام کی بنیاد ہے۔ جو چیز مسلم کو ایک کافر، ایک مشرک اور ایک دہریے سے الگ کرتی ہے وہ یہی ہے۔ اسی کلمہ کے اقرار و انکار سے انسان اور انسان کے درمیان عظیم الشان فرق ہوجاتا ہے۔ اس کو ماننے والے ایک گروہ بن جاتے ہیں اور نہ ماننے والے دوسرا گروہ۔ اس کے ماننے والوں کے لیے دنیا سے لے کر آحرت تک ترقی، کامیابی اور سرفرازی ہے۔ اور نہ ماننے والوں کو لیے نامرادی، ذلت اور پستی۔ اتنا بڑا فرق جو انسان اور انسان کے درمیان واقع ہوتا ہے، یہ محض ل، ا ، ہ سے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے جملے کو زبان سے ادا کردینے کا نتیجہ نہیں ہے۔ زبان سے اگر تم دس لاکھ مرتبہ کونین کونین پکارتے رہو اور کھاؤ نہیں تو تمہارا بخار نہ اترے گا۔ اسی طرح اگر زبان سے “لا الہ الا اللہ ” کہہ دیا، مگر یہ نہ سمجھے کہ اس کے معنی کیا ہیں اور یہ الفاظ کہہ کر تم نے کتنی بڑی چیز کا اقرار کیا ہے، اور اس اقرار سے تم پر کتنی بڑی ذمہ داری عائد ہوگئی ہے تو ایسا بے سمجھی کا تلفظ کچھ بھی مفید نہیں۔ دراصل فرق تو اسی وقت واقع ہوگا جب کہ ‘لاالہ الا اللہ’ کے معنی تمہارے دل میں اتر جائیں، اس کے معنی پر تم کو کامل یقین ہوجائے اس کے خلاف جتنے اعتقادات ہیں ان سے تمہارا دل بالکل پاک ہوجائے اور اس کلم کااثر تمہارے دل و دماغ پر کم از کم اتنا گہرا ہو جتنا اس بات کا اثر ہے کہ آگ جلانے والی چیز ہے اور زہر مارڈالنے والی چیز۔ یعنی جس طرح آگ کی خاصیت پر ایمان تم کو چولھے میں ہاتھ ڈالنے سے روکتا ہے، اور زہر کی خاصیت پر ایمان تم کو زہر کھانے سے باز رکھتا ہے، اسی طرح ‘لاالہ الا اللہ ‘ پر ایمان تم کو شرک اور کفر اور دہریت کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات سے بھی روک دے خواہ وہ اعتقاد میں ہو یا عمل میں۔