77. Al-Mursalaatالمرسلات
The Emissaries · Meccan · 50 ayahs · 2 rukus · محترمہ رفعت اعجاز
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ﴿1﴾
ہواؤں کی قسم جو نرم نرم چلتی ہیںفَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ﴿2﴾
پھر زور پکڑ کر جھکڑ ہوجاتی ہیں۔وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ﴿3﴾
بادلوں کو پھاڑ کر پھیلا دیتی ہیںفَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ﴿4﴾
ان کو پھاڑ کر جدا جدا کردیتی ہیں۔فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ﴿5﴾
پھر فرشتوں کی قسم جو وحی لاتے ہیںعُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ﴿6﴾
تاکہ عذر دور ہو اور ڈر سنایا جائےاِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ﴿7﴾
کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ہو کر رہے گافَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ﴿8﴾
جب تاروں کی چمک جاتی رہےوَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ﴿9﴾
اور جب آسمان پھٹ جائےوَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ﴿10﴾
اور جب پہاڑ اڑتے پھریںوَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ﴿11﴾
اور جب پیغمبروں کا وقت مقرر ہوجائےلِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ﴿12﴾
بھلا ان کاموں میں تاخیر کس لیے کی گئی ؟لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ﴿13﴾
فیصلے کے دن کے لیےوَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ﴿14﴾
اور تمہیں کیا خبر کہ فیصلے کا دن کیا ہے۔وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿15﴾
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہےاَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ﴿16﴾
کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا ؟ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ﴿17﴾
پھر ان پچھلوں کو بھی ان کے پیچھے بھیج دیتے ہیںكَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ﴿18﴾
ہم گناہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیںوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿19﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہےاَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ﴿20﴾
کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا ؟فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ﴿21﴾
پہلے اس کو ایک محفوظ جگہ میں رکھااِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ﴿22﴾
ایک معین وقت تکفَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ﴿23﴾
پھر اندازہ مقرر کیا اور ہم کیا ہی خوب اندازہ مقرر کرنے والے ہیںوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿24﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ﴿25﴾
کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایااَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ﴿26﴾
یعنی زندہ اور مردوں کووَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ﴿27﴾
اور اس پر اونچے اونچے پہاڑ رکھ دئیے اور تم لوگوں کو میٹھا پانی پلایاوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿28﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہےاِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ﴿29﴾
جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کی طرف چلواِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ﴿30﴾
یعنی اس سائے کی طرف چلو جس کی تین شاخیں ہیںلَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ﴿31﴾
نہ ٹھنڈی چھاؤں اور نہ لپٹ سے بچاؤ۔اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ﴿32﴾
اس سے آگ کی اتنی بڑی چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محلكَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ﴿33﴾
گویا زرد رنگ کے اونٹ ہیںوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿34﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہےهٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ﴿35﴾
یہ وہ دن ہے کہ لوگ لب تک نہ ہلا سکیں گےوَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ﴿36﴾
اور نہ ان کو اجازت دی جائے گی کہ عذر کرسکیںوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿37﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہےهٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ﴿38﴾
یہی فیصلے کا دن ہے جس میں ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہےفَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ﴿39﴾
اگر تم کو کوئی داؤ آتا ہو تو مجھ سے کرلووَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ع﴿40﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہےاِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوْنٍۙ﴿41﴾
بیشک پرہیزگار سایوں اور چشموں میں ہوں گےوَّ فَوَاكِهَ مِمَّا یَشْتَهُوْنَؕ﴿42﴾
اور میوے جو ان کو پسند ہوںكُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿43﴾
جو عمل تم کرتے تھے ان کے بدلے میں مزے سے کھاؤ پیؤ۔اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ﴿44﴾
ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیںوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿45﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہےكُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ﴿46﴾
اے جھٹلانے والو ! تم کسی قدر کھالو اور فائدے اٹھا لو تو تم بیشک گنہگار ہووَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿47﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہےوَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ﴿48﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے آگے جھکو تو جھکتے نہیںوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿49﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہےفَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ۠ع﴿50﴾
اب اس کے بعد یہ کونسی بات پر ایمان لائیں گے ؟