43. Az-Zukhrufالزخرف
Ornaments of gold · Meccan · 89 ayahs · 7 rukus · محترمہ رفعت اعجاز
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حٰمٓۚۛ﴿1﴾
حٰـم) حروف مقطعات میں سے ایک ہےوَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ﴿2﴾
روشن کتاب کی قسم۔اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ﴿3﴾
ہم نے اس کو عربی (زبان) میں اتارا ہے تاکہ تم اس کو سمجھو۔وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ﴿4﴾
اور یہ بڑی کتاب یعنی لوح محفوظ میں ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے یہ بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے۔اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ﴿5﴾
کیا ہم یہ کتاب تمہاری طرف سے موڑ کر پھیر دیں گے اس لیے کہ تم حد پر نہیں رہتے۔وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ﴿6﴾
اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے نبی بھیجے ہیں۔وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿7﴾
اور کوئی بنی ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھےفَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ﴿8﴾
تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلوں کی مثال گزر چکی ہے۔وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ﴿9﴾
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے اللہ نے پیدا کیا ہے ‘الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ﴿10﴾
جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھو نا بنایا اور اس میں تمہارے لیے رستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو۔وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ﴿11﴾
اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس سے مردہ شہر کو زندہ کیا، اسی طرح تم بھی زمین سے نکالے جاؤ گے۔وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ﴿12﴾
اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کئے، تمہارے لیے کشتیاں اور چار پائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہولِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ﴿13﴾
تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور اس پر بیٹھ کر اپنے اللہ کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ ذات پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کردیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو اپنے بس میں کرسکتے۔وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ﴿14﴾
اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیںوَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ع﴿15﴾
اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لیے اولاد ٹھہرائی بیشک انسان صریح نا شکرا ہےاَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ﴿16﴾
کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دیےوَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ﴿17﴾
حالانکہ جب ان میں سے کسی کو خوشخبری دی جاتی ہے جو انہوں نے اللہ کے لیے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ غمگین ہوجاتا ہےاَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ﴿18﴾
کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے، اللہ کی بیٹی ہوسکتی ہے ؟۔وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ﴿19﴾
اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی اللہ کی مخلوق ہے اللہ کی بیٹیاں بنا دیا ہے۔ کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے ؟ عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ﴿20﴾
اور کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے ان کو اس کا کچھ علم نہیں یہ تو صرف اندازے لگا رہے ہیںاَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ﴿21﴾
یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس کو پکڑے ہوئے ہیںبَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ﴿22﴾
بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ﴿23﴾
اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیںقٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ﴿24﴾
پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا دین لاؤں کہ تمہارے باپ دادا کے رستے سے کہیں زیادہ سیدھا ہو ؟ کہنے لگے کہ جو دین تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتےفَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ع﴿25﴾
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہواوَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ﴿26﴾
اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ﴿27﴾
ہاں جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی مجھے سیدھا راستہ دکھائے گاوَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿28﴾
اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ اللہ کی طرف رجوع کریں۔بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ﴿29﴾
) اصل میں ان کفار کو اور ان کے باپ دادا کو متمنع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آپہنچاوَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ﴿30﴾
اور جب ان کے پاس سچا قرآن آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتےوَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ﴿31﴾
اور یہ بھی کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں یعنی مکہ اور طائف میں سے کسی بڑے آدمی پر نازل کیوں نہ کیا گیا ؟اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ﴿32﴾
کیا یہ لوگ تمہارے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں ؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے رب کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہےوَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ﴿33﴾
اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں گے تو جو لوگ اللہ سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتےوَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ﴿34﴾
ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیںوَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ع﴿35﴾
اور خوب زینت و آرائش کردیتے اور یہ دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہےوَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ﴿36﴾
اور جو کوئی اللہ کی یاد سے آنکھیں بند کرے یعنی غافل ہوجائے تو ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہےوَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ﴿37﴾
اور یہ شیطان ان کو رستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے رستے پر ہیںحَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ﴿38﴾
یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے تو کہے گا کہ کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا توُ برُا ساتھی ہےوَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ﴿39﴾
اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم سب عذاب میں شریک ہواَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿40﴾
کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو یا اندھے کو رستہ دکھا سکتے ہو، اور جو صریح گمراہی میں ہو اسے راہ پر لاسکتے ہو ؟فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ﴿41﴾
اگر ہم آپ کو (دنیا سے) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے ہم انتقام لے کر رہیں گے۔اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ﴿42﴾
یا تمہاری زندگی میں تمہیں وہ عذاب دکھا دیں گے جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿43﴾
پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو بیشک تم سیدھے رستے پر ہووَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ﴿44﴾
اور یہ قرآن تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے نصیحت ہے اور لوگو ! تم سے عنقریب باز پرس ہوگی۔وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ع﴿45﴾
اور اے محمد ﷺ ! جو ہم نے تم سے پہلے پیغمبر بھیجے ہیں ان کے حالات دیکھ لو۔ کیا ہم نے اللہ رحمن کے سوا اور معبود بنائے تھے کہ جن کی عبادت کی جائے ؟۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿46﴾
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے رب العٰلمین کا رسول ہوں۔فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ﴿47﴾
جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے ہنسی کرنے لگے۔وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿48﴾
اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے ہیں وہ دوسری سے بڑی ہوتی ہے اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آئیں۔وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ﴿49﴾
اور کہنے لگے کہ اے جادوگر ! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر تو ہمیں ہدایت مل جائے گیفَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ﴿50﴾
سو جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگےوَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ﴿51﴾
اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا کہ اے میری قوم ! کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں جو میرے محلات کے نیچے بہہ رہی ہیں، میری نہیں ہیں ؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ﴿52﴾
بھلا میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ایک ذلیل آدمی ہے اور بات بھی صاف طور پر نہیں کرسکتا۔فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ﴿53﴾
تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اتارے گئے یا یہ ہوتا کہ فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتےفَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ﴿54﴾
غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی اور انہوں نے اس کی بات مان لی بیشک وہ نافرمان لوگ تھےفَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ﴿55﴾
جب انہوں نے ہم کو ناراض کیا تو ہم نے ان سے انتقام لے کر ان سب کو ڈبو دیافَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ع﴿56﴾
اور ان کو گئے گزرے کردیا اور آنے والوں کے لیے عبرت بنا دیا ‘وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ﴿57﴾
اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ کا حال بیان کیا گیا تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چلا اٹھےوَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ﴿58﴾
اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ عیسیٰ ؟ انہوں نے صرف جھگڑنے کے لیے ہی آپ سے عیسیٰ ؑ کی مثال بیان کی ہے دراصل یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿59﴾
وہ تو ایک بندے ہی تھے جن پر ہم نے فضل کیا اور بنی اسرائیل کے لیے ان کو اپنی قدرت کا نمونہ بنا دیا۔وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ﴿60﴾
اور اگر ہم چاتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتےوَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ﴿61﴾
اور وہ عیسیٰ قیامت کی نشانی ہیں لہذا اس میں ہرگز شک نہ کرو میرے پیچھے چلو یہی سدھا راستہ ہےوَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴿62﴾
اور کہیں شیطان تم کو اس سے روک نہ دے وہ تو تمہارا اعلانیہ دشمن ہےوَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ﴿63﴾
اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی کی کتاب لے کر آیا ہوں اور اس لیے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو تم کو سمجھا دوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانواِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ﴿64﴾
کچھ شک نہیں کہ میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے پس اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ﴿65﴾
پھر کتنے فرقے ان میں سے پیدا ہوگئے تو جو لوگ ظالم ہیں ان کو درد دینے والے عذاب سے خرابی ہے۔هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿66﴾
یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت اچانک آجائے اور ان کو خبر تک نہ ہو۔اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ع﴿67﴾
جو آپس میں دوست ہیں اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگار کہ وہ (اس دن) آپس میں دوست ہی رہیں گے۔یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ﴿68﴾
میرے بندو ! آج تمہیں نہ کچھ خوف ہے اور نہ تم غمناک ہو گےاَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ﴿69﴾
جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرمانبردار ہوگئے۔اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ﴿70﴾
(ان سے کہا جائے گا) تم اور تمہاری بیویاں عزت و احترام کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤیُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ﴿71﴾
لیے پھریں گے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور آبخورے اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے موجود ہوگا اور (اے اہل جنت) تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿72﴾
اور یہ جنت جس کے تم مالک بنا دیئے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے۔لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ﴿73﴾
وہاں تمہارے لیے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گےاِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ﴿74﴾
اور مجرم ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہیں گےلَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ﴿75﴾
جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں ناامید ہو کر پڑے رہیں گےوَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ﴿76﴾
اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ﴿77﴾
اور وہ پکاریں گے اے مالک تمہارا پروردگار ہمیں موت دے دے تو وہ جواب دے گا کہ تم ہمیشہ اسی حالت میں رہو گےلَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ﴿78﴾
ہم تمہارے پاس حق لے کر پہنچے لیکن تم میں سے اکثر حق سے ناخوش ہوتے رہےاَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ﴿79﴾
کیا انہوں نے کوئی بات ٹھہرا رکھی ہے تو ہم بھی کچھ ٹھہرانے والے ہیںاَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ﴿80﴾
کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور سر گوشیوں کو سنتے نہیں ؟ ہاں ہم سب سنتے ہیں، ہمارے فرشتے ان کے پاس ان کی سب باتیں لکھ لیتے ہیں۔قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ﴿81﴾
کہہ دو کہ اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوں۔سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ﴿82﴾
یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کا مالک، عرش کا مالک اس سے پاک ہےفَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ﴿83﴾
تو ان کو بک بک کرنے اور کھیلنے دو یہاں تک کہ جس دن ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کو دیکھ لیںوَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ﴿84﴾
اور وہی ایک آسمانوں میں معبود ہے اور وہ دانا اور علم والا ہے۔وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿85﴾
اور وہ بہت بابرکت ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کی بادشاہت ہے۔ اور اسی کو قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤگےوَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿86﴾
اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں جو علم و یقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں وہ سفارش کرسکتے ہیںوَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ﴿87﴾
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ اللہ نے تو پھر یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں ؟۔وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ﴿88﴾
اور بعض اوقات پیغمبر کہا کرتے ہیں کہ ”اے رب یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتےفَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿89﴾
تو ان سے منہ پھیر لو اور سلام کہہ دو ان کو عنقریب انجام معلوم ہوجائے گا ‘