31. Luqmanلقمان

Luqman · Meccan · 34 ayahs · 3 rukus · محترمہ رفعت اعجاز

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. الٓمّٓۚ﴿1﴾

    الۗمّۗ (حروف مقطعات میں سے ہے)
  2. تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ﴿2﴾

    یہ حکمت سے بھری ہوئی کتاب کی آیات ہیں۔
  3. هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ﴿3﴾

    نیکو کاروں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
  4. الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ﴿4﴾

    جو نماز کی پابندی کرتے زکوٰۃ دیتے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
  5. اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿5﴾

    یہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ اور یہی نجات پانے والے ہیں“۔
  6. وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ﴿6﴾

    اور لوگوں میں بعض ایسے ہیں جو لہویات خریدتے ہیں تاکہ لوگوں کو بےسمجھے اللہ کے راستے سے گمراہ کریں اور اس سے ہنسی مذاق کریں یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا۔
  7. وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿7﴾

    اور جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا ان کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں بہرہ پن ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دیں“
  8. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ﴿8﴾

    جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔
  9. خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿9﴾

    ہمیشہ ان میں رہیں گے اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے“۔
  10. خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ﴿10﴾

    اسی نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین پر پہاڑ بنا کر رکھ دیے تاکہ تم کو ہلا ہلا نہ دے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دیے، اور ہم ہی نے آسمان سے پانی نازل کیا، پھر اس سے ہر قسم کا نفیس جوڑا اگا یا۔
  11. هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ع﴿11﴾

    یہ تو اللہ کی پیدائش ہے۔ تو مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو لوگ ہیں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں“
  12. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ﴿12﴾

    اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی کہ اللہ کا شکر کرو۔ اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو اللہ بھی بےپرواہ اور سزا و ارِحمد و ثنا ہے۔
  13. وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ﴿13﴾

    اور اس وقت کو یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ”بیٹا اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے“۔
  14. وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ﴿14﴾

    اور ہم نے انسان کو جسے اس کی ماں کمزوری پر کمزوری سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے پھر اس کو دودھ پلاتی ہے اور آخر کار دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے۔ اپنے اور اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر ادا کرتے رہو اور اپنے ماں باپ کا بھی کہ تم کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
  15. وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿15﴾

    اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا، ہاں دنیا کے کاموں میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع کرے اس کے رستے پر چلنا پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو عمل تم کرتے رہے، میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا۔
  16. یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ﴿16﴾

    (لقمان نے یہ بھی کہا کہ) ”بیٹا اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی چھوٹا ہو اور وہ کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں چھپا ہوا ہو یا زمین میں، اللہ اس کو قیامت کے دن لا موجود کرے گا۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ باریک بین اور خبردار ہے۔
  17. یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ﴿17﴾

    بیٹا نماز کی پابندی رکھنا، لوگوں کو اچھے کام کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصبیت تم پر واقع ہو اس پر صبر کرنا بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔
  18. وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ﴿18﴾

    اور غرور سے لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا کہ اللہ کسی مغرور اور خود پسند کو پسند نہیں کرتا۔
  19. وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ع﴿19﴾

    اپنی چال میں اعتدال کیے رہنا اور بولتے وقت آواز نیچی رکھنا کیونکہ اونچی آواز گدھوں کی سی ہے اور کچھ شک نہیں کہ سب سے بری آواز گدھوں کی ہے“
  20. اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ﴿20﴾

    کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اللہ نے تمہارے قابو میں کردیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن۔
  21. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ﴿21﴾

    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کتاب اللہ نے نازل کی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ”ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا“ ، بھلا اگر شیطان ان کو دوزخ کی طرف بلاتا ہو تب بھی ؟۔
  22. وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ﴿22﴾

    اور جو شخص اپنے چہرے کو اللہ کا فرمانبردار کر دے اور نیکو کار بھی ہو تو اس نے مضبوط رسی ہاتھ میں لے لی اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔
  23. وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿23﴾

    اور جو کفر کرے تو اس کا کفر آپ کو غمناک نہ کرے، ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو بتادیں گے، بیشک اللہ دلوں کی باتوں سے واقف۔
  24. نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ﴿24﴾

    ہم ان کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر شدید عذاب کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے۔
  25. وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿25﴾

    اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو بول اٹھیں گے کہ ”اللہ نے“ فرمادیں کہ اللہ کا شکر ہے مگر ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے۔
  26. لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ﴿26﴾

    جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے، بیشک اللہ بےپرواہ اور سزا و ار حمد وثنا ہے۔
  27. وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿27﴾

    اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں سب کے سب قلم ہوں اور سمندر کا تمام پانی سیا ہی ہو اس کے بعد سات سمندر اور سیاہی ہوجائیں تو اللہ کی باتیں (صفات) ختم نہ ہوں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔
  28. مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ﴿28﴾

    کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو تمہارے زیر فرمان کر رکھا ہے۔
  29. اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿29﴾

    ہر ایک، ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔
  30. ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ع﴿30﴾

    یہ اس لیے کہ اللہ کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ اللہ ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے“۔
  31. اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ﴿31﴾

    کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں تاکہ وہ تم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔
  32. وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ﴿32﴾

    اور جب ان پر دریا کی لہریں سائیبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو اللہ کو پکارنے اور خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور نا شکرے ہیں۔
  33. یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ﴿33﴾

    لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آسکے گا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے۔
  34. اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ع﴿34﴾

    اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے وہی مینہ برساتا ہے، وہی حاملہ کے پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کس سر زمین میں اسے موت آئے گی، بیشک اللہ ہی جاننے والا خبردار ہے“