30. Ar-Roomالروم
The Romans · Meccan · 60 ayahs · 6 rukus · محترمہ رفعت اعجاز
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓمّٓۚ﴿1﴾
الۗمّۗ۔ حرف مقطعات میں سے ہے۔غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ﴿2﴾
اہل روم مغلوب ہوگئے۔فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ﴿3﴾
نزدیک کے ملک میں۔ اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ﴿4﴾
چند ہی سال میں پہلے بھی اور پیچھے بھی اللہ کا ہی حکم ہے اور اس روز مومن خوش ہوجائیں گے۔بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ﴿5﴾
یعنی اللہ کی مدد سے، وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب و مہربان ہے۔وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿6﴾
یہ اللہ کا وعدہ ہے اور وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتےیَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ﴿7﴾
یہ تو دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں اور آخرت کی طرف سے غافل ہیں“اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ﴿8﴾
کیا انہوں نے اپنے نفسوں میں غور نہیں کیا کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لیے پیدا کیا ہے اور بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کا انکار کرنے والے ہیں۔اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ﴿9﴾
کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی ؟ (سیر کرتے) تو دیکھ لیتے جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ وہ ان سے زور و قوت میں کہیں زیادہ تھے۔ انہوں نے زمین کو جوتا اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا تھا جو انہوں نے آباد کیا اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آتے رہے تو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھےثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ع﴿10﴾
پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا۔ اس لیے کہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے رہے تھے“اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿11﴾
اللہ ہی انسان کو پہلی بار پیدا کرتا ہے وہی اس کو پھر دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ جاؤ گےوَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ﴿12﴾
اور جس دن قیامت برپا ہوگی مجرم ناامید ہوجائیں گے۔وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ﴿13﴾
اور ان کے بنائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے۔وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ﴿14﴾
اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز الگ الگ فرقے ہوجائیں گےفَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ﴿15﴾
تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغ میں خوش حال ہوں گے۔وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ﴿16﴾
اور جنہوں نے کفر کیا، ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلا دیا وہ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ﴿17﴾
تو جس وقت شام ہو اور جس وقت صبح ہو اللہ کی تسبیح کرو (نماز قائم کرو)وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ﴿18﴾
آسمانوں اور زمین میں اسی کی تعریف ہے اور تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو اس وقت بھی نماز قائم کیا کرو۔یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ع﴿19﴾
وہی زندے سے مردے کو نکالتا ہے اور وہی مردے کو زندے سے نکالتا ہے۔ اور وہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ اور اسی طرح تم دوبارہ زمین سے نکالے جاؤ گے۔وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ﴿20﴾
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم انسان ہو کر جا بجا پھیل رہے ہو۔وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿21﴾
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ ان کی طرف (مائل ہو کر) آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لیے ان باتوں میں بہت سی نشانیاں ہیں۔وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ﴿22﴾
اور اسی کے نشانات میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا، تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا۔ عقلمندوں کے لیے ان باتوں میں بہت سی نشانیاں ہـیں۔وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ﴿23﴾
اور انہی نشانیوں میں سے ہے تمہارا رات اور دن میں سونا اور اس کے فضل کا تلاش کرنا، جو لوگ سنتے ہیں ان کے لیے ان باتوں میں بہت سی نشانیاں ہیں۔وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿24﴾
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم کو خوف اور امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے مینہ برساتا ہے پھر زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ اور (ہرا بھرا) کردیتا ہے، عقل والوں کے لیے ان باتوں میں بہت سی نشانیاں ہیں۔وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ﴿25﴾
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے نکلنے کے لیے آواز دے گا تو تم جھٹ نکل پڑو گےوَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ﴿26﴾
اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی (فرشتے اور انسان وغیرہ) ہیں اسی کے مملوک ہیں اور سب اس کے فرمانبردار ہیں۔وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ع﴿27﴾
اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس کے لیے بہت آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی شان بہت بلند ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے ‘ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿28﴾
وہ تمہارے لیے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ بھلا جن لونڈی غلاموں کے تم مالک ہو وہ اس مال میں جو ہم نے تم کو دیا ہے، تمہارے شریک ہیں ؟ اور کیا تم اس میں ان کو اپنے برابر مالک سمجھتے ہو اور کیا تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو ؟ اس طرح ہم عقل والوں کے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ﴿29﴾
مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو جسے اللہ گمراہ کرے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ﴿30﴾
تو آپ ایک طرف کے ہو کر دین الٰہی کے رستے پر سیدھا منہ کیے چلے جائیں اور اللہ کی فطرت کو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اختیار کیے رہیں، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتےمُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ﴿31﴾
(مومنو !) اسی اللہ کی طرف رجوع کیے رہو، اور اس سے ڈرتے رہو نماز پڑھتے رہو اور مشرکوں میں نہ ہونا۔مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ﴿32﴾
اور نہ ان لوگوں میں ہونا جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور خود فرقے فرقے ہوگئے، سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ﴿33﴾
(اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں) اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو ایک فرقہ ان میں سے اپنے رب سے شرک کرنے لگتا ہے۔لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ﴿34﴾
تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اس کی ناشکری کریں ؟ سو فائدے اٹھا لو عنقریب تم کو اس کا انجام معلوم ہوجائے گا۔اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ﴿35﴾
کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے جو ان کو اللہ کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے۔وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ﴿36﴾
اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتے ہیں اور اگر ان کے عملوں کے سبب جو انہوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی تکلیف پہنچے تو ناامید ہوجاتے ہیں۔اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿37﴾
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانیاں ہیں“۔فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿38﴾
تم قرا بتداروں، محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دو جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ بہتر ہے اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں۔وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ﴿39﴾
اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں زیادتی ہو تو اللہ کے نزدیک اس میں زیادتی نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو اور اس سے اللہ کی رضا مندی طلب کرتے ہو تو وہ موجب برکت ہے۔ اور ایسے ہی لوگ اپنے مال کو دو گنا تین گنا کرنے والے ہیں“اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ع﴿40﴾
اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا، پھر تمہیں مارے گا پھر زندہ کرے گا، بھلا تمہارے بنائے ہوئے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرسکے ؟ وہ پاک ہے اور بلند ہے اس سے جو شریک ٹہراتے ہیں۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿41﴾
خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں۔قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ﴿42﴾
کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ تم سے پہلے ہوئے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا، ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے۔فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ﴿43﴾
تو اس دن سے پہلے جو اللہ کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین کے رستے پر سیدھا منہ کیے چلے چلو اس دن سب لوگ منتشر ہوجائیں گے۔مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ﴿44﴾
جس شخص نے کفر کیا تو اس کے کفر کا نقصان اسی کو ہے اور جس نے نیک عمل کیے تو ایسے لوگ اپنے ہی لیے آرام گاہ درست کرتے ہیں۔لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ﴿45﴾
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو اللہ اپنے فضل سے بد لہ دے گا بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا“وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿46﴾
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے۔ جو خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے روزی طلب کرو عجب نہیں کہ تم شکر کرو۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿47﴾
اور ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تو وہ ان کے پاس نشانیاں لے کر آئے سو جو لوگ نافرمانی کرتے تھے ہم نے ان سے بدلہ لے کر چھوڑا اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی۔اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ﴿48﴾
اللہ ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور تہ بتہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلنے لگتا ہے۔ پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اسے برسا دیتا ہے۔ تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ﴿49﴾
اور بیشتر تو وہ مینہ اترنے سے پہلے ناامید ہو رہے تھے۔فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿50﴾
تو (اے دیکھنے والے) اللہ کی رحمت کی نشانیوں کی طرف دیکھ کہ وہ کس طرح زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے، بیشک وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہےوَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ﴿51﴾
اور اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں کہ وہ اس کے سبب کھیتی کو دیکھیں کہ زرد ہوگئی ہے تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں“۔فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ﴿52﴾
تو آپ مردوں کو بات نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو کہ جب وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں (آواز سنا سکتے ہو)وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ع﴿53﴾
اور نہ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راہ راست پر لاسکتے ہیں۔ آپ تو انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں۔اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ﴿54﴾
اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو ابتدا میں کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت دی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھا پا دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہےوَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ﴿55﴾
اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں اٹھائیں گے کہ وہ دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ اسی طرح وہ (رستے سے) الٹے جاتے تھے۔وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴿56﴾
اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا وہ کہـیں گے کہ ”اللہ کی کتاب کے مطابق تم قیامت تک رہے ہو۔ اور یہ قیامت ہی کا دن ہے۔ لیکن تم کو اس کا یقین ہی نہ تھا۔فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ﴿57﴾
تو اس روز ظالم لوگوں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی۔وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ﴿58﴾
ہم نے لوگوں کے سمجھانے کے لیے قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی ہے اور اگر آپ ان کے سامنے کوئی نشانی پیش کریں تو یہ کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو۔كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿59﴾
اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے مہر لگا دیتا ہے۔فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ع﴿60﴾
پس آپ صبر کریں بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور دیکھو جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ آپ کو اوچھا نہ بنا دیں۔