20. Taa-Haaطه

Taa-Haa · Meccan · 135 ayahs · 8 rukus · محترمہ رفعت اعجاز

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. طٰهٰۚ﴿1﴾

    طٰہٰ
  2. مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ﴿2﴾

    (اے نبی ﷺ !) ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجاؤ۔
  3. اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ﴿3﴾

    بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لیے نازل کیا ہے جو خوف رکھتا ہے۔
  4. تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ﴿4﴾

    یہ اس ذات کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان بنائے۔
  5. اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى﴿5﴾

    وہ رحمٰن عرش پر قائم ہے۔
  6. لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى﴿6﴾

    جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے بیچ میں ہے اور جو کچھ زمین کی مٹی کے نیچے ہے سب اسی کا ہے۔
  7. وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى﴿7﴾

    اگر تم پکار کر بات کہو تو وہ چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے۔
  8. اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى﴿8﴾

    اللہ وہ ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کے سب نام اچھے ہیں۔
  9. وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ﴿9﴾

    اور کیا آپ کو موسیٰ کے حال کی خبر ملی ہے۔
  10. اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى﴿10﴾

    جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھروالوں سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے، میں وہاں جاتا ہوں شاید اس میں سے میں تمہارے پاس انگاری لائوں یا آگ کے مقام کا رستہ معلوم کرسکوں۔
  11. فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ﴿11﴾

    جب وہاں پہنچے تو آواز آئی۔
  12. اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ﴿12﴾

    موسیٰ ! میں تمہارا رب ہوں تم اپناجوتا اتار دو تم یہاں پاک میدانِ طو ٰی میں ہو۔
  13. وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى﴿13﴾

    اور میں نے تم کو چن لیا ہے۔ تو جو حکم دیا جائے اسے سنو !۔
  14. اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ﴿14﴾

    بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو میری عبادت کیا کرو اور میری یاد کے لیے نماز پڑھا کرو۔
  15. اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى﴿15﴾

    قیامت یقینا آنے والی ہے، میں نے اس (کے وقت) کو مخفی رکھا ہے تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ ملے جو اس نے کمایا ہے۔
  16. فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى﴿16﴾

    تو جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلتا ہے کہیں تمہیں اس کے یقین سے روک نہ دے تو اس صورت میں تم ہلاک ہوجاؤ۔
  17. وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى﴿17﴾

    اور اے موسیٰ ! یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟۔
  18. قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى﴿18﴾

    انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کیلئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کئی فائدے ہیں۔
  19. قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى﴿19﴾

    فرمایا : موسیٰ ! اسے ڈال دو۔
  20. فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى﴿20﴾

    انہوں نے اس کو ڈال دیا اور وہ اسی وقت دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔
  21. قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى﴿21﴾

    اللہ نے فرمایا کہ ”اسے پکڑلو اور ڈرنا مت ہم ابھی اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔
  22. وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ﴿22﴾

    اور اپنا ہاتھ بغل سے نکالو وہ کسی بیماری یا عیب کے بغیر سفید چمکتا دمکتا نکلے گا۔ یہ دوسری نشانی ہے۔
  23. لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ﴿23﴾

    تاکہ ہم تمہیں اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں۔
  24. اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ع﴿24﴾

    تم فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہو رہا ہے۔
  25. قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ﴿25﴾

    کہا میرے رب ! میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔
  26. وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ﴿26﴾

    ور میرا کام آسان کر دے۔
  27. وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ﴿27﴾

    اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
  28. یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪﴿28﴾

    تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔
  29. وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ﴿29﴾

    اور میرے گھر والوں میں سے ایک کو میرا وزیر (مددگار) مقرر فرما۔
  30. هٰرُوْنَ اَخِیۙ﴿30﴾

    یعنی میرے بھائی ہارون کو۔
  31. اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ﴿31﴾

    اس سے میری قوت کو مضبوط کر۔
  32. وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ﴿32﴾

    اور اسے میرے کام میں شریک کر۔
  33. كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ﴿33﴾

    تاکہ ہم تیری بہت پاکی بیان کریں۔
  34. وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ﴿34﴾

    اور تجھے کثرت سے یاد کریں۔
  35. اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا﴿35﴾

    تو ہم کو ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔
  36. قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى﴿36﴾

    فرمایا موسیٰ ! تمہاری دعا قبول کی گئی۔
  37. وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ﴿37﴾

    اور ہم نے تم پر ایک اور بھی احسان کیا تھا۔
  38. اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ﴿38﴾

    جب ہم نے تیری ماں کی طرف وحی کے ذریعے پیغام بھیجا۔
  39. اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ﴿39﴾

    (وہ یہ تھا) کہ موسیٰ کو صندوق میں رکھو اور صندوق کو دریا میں ڈال دو تو دریا اس کو کنارے پر ڈال دے گا، اور میرا اور اس کا دشمن اسے ٹھا لے گا اور موسیٰ ! میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی اس لیے کہ تم پر مہربانی کی جائے اور اس لیے کہ تم میرے سامنے پرورش پائو۔
  40. اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى﴿40﴾

    جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتائوں جو اس کو پالے، تو اس طریقہ سے ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ کرے اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تو ہم نے تم کو غم سے نجات دی اور ہم نے تمہاری کئی بار آزمائش کی، پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے، پھر اے موسیٰ تم تقدیر کے مطابق ٹھیک اپنے وقت پر یہاں پر آپہنچے۔
  41. وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ﴿41﴾

    اور میں نے تم کو اپنے کام کے لیے بنایا ہے۔
  42. اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ﴿42﴾

    تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔
  43. اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ﴿43﴾

    دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے۔
  44. فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى﴿44﴾

    اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے۔
  45. قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى﴿45﴾

    دونوں کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار ہمیں خوف ہے کہ وہ پر ہم ظلم کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہوجائے۔
  46. قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى﴿46﴾

    اللہ نے فرمایا ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔
  47. فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى﴿47﴾

    اچھا تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجیے اور انہیں عذاب نہ کیجیے۔ ہم آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور جو ہدایت کی بات مانے اس کو سلامتی ہو۔
  48. اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى﴿48﴾

    ہماری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے یا منہ پھیرے اس کے لیے عذاب تیار ہے۔
  49. قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى﴿49﴾

    اس نے کہا کہ ”موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے ؟
  50. قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى﴿50﴾

    کہا ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل صورت بخشی پھر راہ دکھائی۔
  51. قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى﴿51﴾

    کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال ؟
  52. قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘﴿52﴾

    کہا کہ ان کا علم میرے رب کو ہے جو کتاب میں لکھا ہوا ہے، میرا رب نہ بھولتا ہے نہ چوکتا ہے۔
  53. الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى﴿53﴾

    وہ وہی تو ہے جس نے تم لوگوں کے لیے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لیے رستے جاری کیے اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس نے قسم قسم کی نباتات پیدا کیں۔
  54. كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ع﴿54﴾

    کہ خود بھی کھائو اور اپنے جانوروں کو بھی چرائو، بیشک ان باتوں میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔
  55. مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى﴿55﴾

    اسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوسری دفعہ نکالیں گے۔
  56. وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى﴿56﴾

    اور ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹلاتا رہا اور انکار ہی کرتا رہا۔
  57. قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى﴿57﴾

    کہنے لگا موسیٰ ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو ؟۔
  58. فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى﴿58﴾

    تو ہم بھی تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کرلو کہ نہ تو ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تم اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔
  59. قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى﴿59﴾

    موسیٰ نے کہا کہ آپ کے لیے یوم زینت کا وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ اس دن چاشت کے وقت اکٹھے ہوجائیں۔
  60. فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى﴿60﴾

    فرعون لوٹ گیا اور اپنے سامان جمع کر کے پھر آیا۔
  61. قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى﴿61﴾

    موسیٰ نے ان جادو گروں سے کہا کہ ”ہائے تمہاری کمبختی اللہ پر جھوٹا بہتان نہ باندھو، کہ وہ تمہیں عذاب سے فنا کر دے گا، اور جس نے جھوٹ گھڑا وہ نامراد رہا۔
  62. فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى﴿62﴾

    تو وہ آپس میں جھگڑنے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے۔
  63. قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى﴿63﴾

    کہنے لگے یہ دونوں جادو گرہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارے اچھے مذہب کو ختم کردیں۔
  64. فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى﴿64﴾

    تو تم جادو کا سامان اکٹھا کرلو، اور پھر قطار باندھ کر آئو۔ آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا۔
  65. قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى﴿65﴾

    بولے کہ موسیٰ یا تو تم اپنی چیز ڈالو یا ہم اپنی چیزیں پہلے ڈالتے ہیں۔
  66. قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى﴿66﴾

    موسیٰ نے کہا نہیں تم ہی ڈالو، جب انہوں نے چیزیں ڈالیں تو اچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں موسیٰ کے خیال میں ایسی نظر آنے لگیں کہ وہ میدان میں ادھراُدھر دوڑ رہی ہیں۔
  67. فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى﴿67﴾

    اس وقت موسیٰ نے اپنے دل میں خوف معلوم کیا۔
  68. قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى﴿68﴾

    ہم نے کہا خوف نہ کر بلا شبہ تم ہی غالب ہو۔
  69. وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى﴿69﴾

    اور جو چیز (یعنی لاٹھی) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے اس کو نگل جائے گی۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ تو جادو گروں کے مکر ہیں اور جادو گر جہاں جائے فلاح نہیں پائے گا۔
  70. فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى﴿70﴾

    (القصہ یوں ہی ہوا) تو جادو گر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے۔
  71. قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى﴿71﴾

    فرعون بولا پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ تمہارا بڑا ہی استاد ہے۔ جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو میں تمہارے ہاتھ اور پائوں جانب خلاف (یعنی سیدھا ہاتھ تو الٹا پائوں) سے کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنے پر سولی چڑھا دوں گا، اس وقت تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے ولا ہے۔
  72. قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ﴿72﴾

    انہوں نے کہا جو دلائل ہمارے پاس آگئے ہیں، ان پر اور جس نے ہم کو پیدا کیا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے۔ تو آپ کو جو حکم دینا ہے دے دیجئے اور آپ جو حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں دے سکتے ہیں۔
  73. اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى﴿73﴾

    ہم اپنے رب پر ایمان لے آئے، تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور اسے بھی جو آپ نے زبردستی ہم سے جادو کروایا، اور اللہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔
  74. اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى﴿74﴾

    جو شخص اپنے رب کے پاس گنہگار ہو کر آئے گا تو اس کے لیے جہنم ہے، جس میں نہ مرے گا اور نہ جیئے گا۔
  75. وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ﴿75﴾

    اور جو اس کے سامنے مسلم ہو کر آئے گا اور عمل بھی نیک کیے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لیے اونچے اونچے درجے ہیں۔
  76. جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ع﴿76﴾

    ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ اس شخص کا بدلہ ہے جو پاک ہو۔
  77. وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى﴿77﴾

    اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جا، پھر ان کے لیے دریا میں لاٹھی مار کر خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو فرعون کے آپکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ غرق ہونے کا ڈر۔
  78. فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ﴿78﴾

    فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا تو دریا کی موجوں نے ان پر چڑھ کر انہیں ڈھانک لیا۔ (یعنی ڈبو دیا)
  79. وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى﴿79﴾

    اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھے رستے پر نہ ڈالا۔
  80. یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى﴿80﴾

    اے آل یعقوب ! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تورات دینے کے لیے تم سے کوہ طور کی دا ہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا۔
  81. كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى﴿81﴾

    اور حکم دیا کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں ان کو کھائو۔ اور ان میں حد سے نہ نکلنا ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا۔
  82. وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى﴿82﴾

    اور جو توبہ کرے ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے رستے چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں۔
  83. وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى﴿83﴾

    اور اے موسیٰ ! تم نے اپنی قوم سے آگے چلے آنے میں جلدی کیوں کی ؟۔
  84. قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى﴿84﴾

    کہا وہ میرے پیچھے آرہے ہیں اور اے میرے رب میں نے تیرے پاس آنے میں اس لیے جلدی کی کہ تو خوش ہو۔
  85. قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ﴿85﴾

    فرمایا ”ہم نے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے۔ (
  86. فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ﴿86﴾

    موسیٰ غصہ اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے اور کہنے لگے ”کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ کیا میری جدائی کی مدت تمہیں لمبی معلوم ہوئی ؟ یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو ؟ اور اس لیے تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا۔
  87. قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ﴿87﴾

    وہ کہنے لگے کہ ”ہم نے جان کر تم سے وعدہ خلافی نہیں کی بلکہ ہم لوگوں کے زیورات کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے پھر ہم نے اس کو آگ میں ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا۔
  88. فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ﴿88﴾

    تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی گائے کا بت بنا دیا) جس میں سے گائے کی آواز نکلتی تھی (ہوا کے گزرنے سے) تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور یہی موسیٰ کا معبود ہے، مگر وہ بھول گئے ہیں۔
  89. اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ع﴿89﴾

    کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور نہ ان کے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔
  90. وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ﴿90﴾

    اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو ! اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے اور تمہارا رب تو رحمٰن ہے تو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو۔
  91. قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى﴿91﴾

    وہ بولے کہ جب تک موسیٰ ہمارے پاس نہ آئے ہم تو اس کی پوجا پر قائم رہیں گے۔
  92. قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ﴿92﴾

    پھر موسیٰ نے ہارون سے کہا کہ اے ہارون ! جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو تم کو کس چیز نے روکا۔
  93. اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ﴿93﴾

    اس بات سے کہ تم میرے پیچھے چلے آئوبھلا تم نے میرے حکم کے خلاف کیوں کیا ؟۔
  94. قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ﴿94﴾

    کہنے لگے کہ بھائی میری ڈاڑھی اور سر کے بالوں کو نہ پکڑیے میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا۔
  95. قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ﴿95﴾

    پھر سامری سے بولے سامری تیرا کیا حال ہے ؟۔
  96. قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ﴿96﴾

    اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے قدم سے ایک مٹھی مٹی کی بھر لی، پھر اس کو اس (بچھڑے کے) بت میں ڈال دیا اور مجھے میرے دل نے اس کام کو اچھا بتایا۔
  97. قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا﴿97﴾

    موسیٰ نے کہا جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ سزا ہے کہ کہتا رہے ”مجھ کو ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لیے ایک اور وعدہ ہے عذاب کا جو ٹل نہ سکے گا اور جس معبود کی پوجا پر تو قائم اور معتکف تھا اس کو دیکھ، ہم اسے جلا دیں گے، پھر اس کی راکھ کو اڑا کر دریا میں بہا دیں گے۔
  98. اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا﴿98﴾

    تمہارا معبود اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔
  99. كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ﴿99﴾

    اس طرح ہم آپ پر وہ حالات بیان کرتے ہیں جو گزر چکے ہیں۔ اور ہم نے اپنے پاس سے آپ کو نصیحت کی کتاب عطا فرمائی ہے۔
  100. مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ﴿100﴾

    جو شخص اس سے منہ پھیرے گا وہ قیامت کے دن گناہ کا بوجھ اٹھائے گا۔
  101. خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ﴿101﴾

    ایسے لوگ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لیے برا ہوگا۔
  102. یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ﴿102﴾

    جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکٹھا کریں گے اور ان کی آنکھیں نیلی نیلی ہوں گی۔
  103. یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا﴿103﴾

    تو وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہیں گے کہ تم دنیا میں صرف دس ہی دن رہے ہو۔
  104. نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ع﴿104﴾

    جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں اس وقت ان میں سے اچھی راہ والا (یعنی عقل مند اور) کہے گا کہ نہیں بلکہ صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو۔
  105. وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ﴿105﴾

    اور تم سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرمادیں کہ اللہ ان کو اڑا کر بکھیر دے گا۔
  106. فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ﴿106﴾

    اور زمین کو ہموار اور میدان کر دے گا۔
  107. لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ﴿107﴾

    جس میں تم نہ نشیب دیکھو گے نہ ٹیلا۔
  108. یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا﴿108﴾

    اس روز لوگ ایک پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اس کی پیروی سے انحراف نہ کرسکیں گے اور اللہ کے سامنے آوازیں پست ہوجائیں گی (اللہ کے ڈر سے) اور سوائے ہلکی آہٹ کے کچھ سنائی نہ دے گا۔
  109. یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا﴿109﴾

    اس روز کسی کی سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے اللہ اجازت دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے۔
  110. یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا﴿110﴾

    جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ اس کو جانتا ہے اور وہ اپنے علم سے اللہ کے علم پر احاطہ نہیں کرسکتے۔
  111. وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا﴿111﴾

    اور اس زندہ و قائم کے سامنے چہرے جھک جائیں گے اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا۔
  112. وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا﴿112﴾

    اور جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کو نہ ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا۔
  113. وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا﴿113﴾

    اور ہم نے اس کو اسی طرح کا قرآن عربی نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈر اوے بیان کردیے ہیں تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا اللہ ان کے لیے نصیحت پیدا کر دے۔
  114. فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا﴿114﴾

    تو اللہ جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے پڑھنے کے لیے جلدی نہ کیا کرو اور دعا کرو کہ میرے رب ! مجھے اور زیادہ علم دے۔
  115. وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ع﴿115﴾

    اور ہم نے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ اسے بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا۔
  116. وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى﴿116﴾

    اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ ”آدم کے آگے سجدہ کرو، ، تو سب سجدے میں گر پڑے مگر ابلیس نے انکار کیا۔
  117. فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى﴿117﴾

    ہم نے کہا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو یہ تم دونوں کو کہیں بہشت سے نکلوا نہ دے، پھر تم تکلیف میں پڑجاؤ۔
  118. اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ﴿118﴾

    یہاں تمہیں یہ آسائش ہے کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے۔
  119. وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى﴿119﴾

    اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھائو۔
  120. فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى﴿120﴾

    تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا کہ آدم بھلا میں تم کو ایسا درخت بتائوں جو ہمیشہ کی زندگی کا ثمرہ دے اور ایسی بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو۔
  121. فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ﴿121﴾

    تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے بدنوں پر پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے رب کے حکم کے خلاف کیا تو وہ اپنے مطلوب سے بہک گیا۔
  122. ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى﴿122﴾

    پھر ان کے رب نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے تو جہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی۔
  123. قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى﴿123﴾

    فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تم میں بعض بعض کے دشمن ہوں گے پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا، وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔
  124. وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى﴿124﴾

    اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔
  125. قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا﴿125﴾

    وہ کہے گا میرے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا میں تو دیکھتا بھالتا تھا ؟۔
  126. قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى﴿126﴾

    اللہ فرمائے گا کہ ایسا ہی چاہیے تھا تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تو نے ان کو بھلا دیا اسی طرح آج ہم تم کو بھلا دیں گے۔
  127. وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى﴿127﴾

    اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے ہم اس کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب بڑا سخت اور بہت دیر رہنے والا ہے۔
  128. اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ع﴿128﴾

    کیا یہ بات ان لوگوں کے لیے ہدایت کا موجب نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے فرقوں کو ہلاک کرچکے ہیں، جن کے رہنے کے مقامات پر یہ چلتے پھرتے ہیں ؟ عقل والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔
  129. وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ﴿129﴾

    اور اگر ایک بات تمہارے رب کی طرف سے پہلے صادر اور جزائے اعمال کے لیے ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو عذاب کا نازل ہونا لازم ہوجاتا۔
  130. فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى﴿130﴾

    پس جو کچھ یہ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی تسبیح و تمحید کیا کرو۔ اور رات کے پہلے پہر میں اس کی تسبیح کیا کرو اور دن کی اطراف (یعنی دوپہر کے قریب ظہر کے وقت بھی) تاکہ تم خوش ہوجاؤ۔
  131. وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى﴿131﴾

    اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے مالا مال کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں، ان پر نگاہ نہ کرنا اور تمہارے رب کی عطا کی ہوئی روزی بہت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔
  132. وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى﴿132﴾

    اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں بلکہ تمہیں روزی دیتے ہیں۔ اور نیک انجام اہل تقویٰ کا ہے۔
  133. وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى﴿133﴾

    اور کہتے ہیں کہ ”یہ پیغمبر اپنے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے“ ؟ کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی نشانی نہیں آئی ؟
  134. وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى﴿134﴾

    اور اگر ہم ان کو پیغمبر بھیجنے سے پیشتر کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے، ”اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا ؟ کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیرے کلام و احکام کی پیروی کرتے۔
  135. قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ع﴿135﴾

    کہہ دو کہ سب نتائج اعمال کے منتظر ہیں سو تم بھی انتظار کرو۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ دین کے سیدھے رستے پر چلنے والے کون ہیں۔