19. Maryamمريم
Mary · Meccan · 98 ayahs · 6 rukus · محترمہ رفعت اعجاز
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ﴿1﴾
کٓھٰیٰعٓصٓذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ﴿2﴾
یہ تمہارے رب کی مہربانی کا بیان ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا﴿3﴾
جب انہوں نے اپنے رب کو دبی آواز سے پکارا۔قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا﴿4﴾
اور کہا کہ اے میرے رب ! میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں اور سر سفید ہوگیا ہے اور اے میرے رب ! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ﴿5﴾
اور میں اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما۔یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا﴿6﴾
جو میری اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو اور اے میرے رب ! اسے پسندیدہ انسان بنانا۔یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا﴿7﴾
اے زکریا ! ہم تم کو ایک بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخض پیدا نہیں کیا۔قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا﴿8﴾
انہوں نے کہا اے اللہ ! میرے ہاں کس طرح لڑکا پیدا ہوگا۔ اس حال میں کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں۔قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا﴿9﴾
حکم ہوا کہ اسی طرح ہوگا تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ مجھے یہ آسان ہے اور میں پہلے تمہیں بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھےقَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا﴿10﴾
کہا کہ پروردگار میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما۔ فرمایا ”نشانی یہ ہے کہ تم ٹھیک ٹھاک ہونے کے باوجود تین رات لوگوں سے بات نہ کرسکو گے۔فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا﴿11﴾
پھر وہ (عبادت کے حجرے سے) نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح و شام اللہ کو یاد کرتے رہو۔یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ﴿12﴾
اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو اور ہم نے ان کو لڑکپن میں ہی دانائی عطا فرمائی تھی۔وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ﴿13﴾
اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی دی تھی اور پرہیزگار تھے۔وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا﴿14﴾
اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے، اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے۔وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ع﴿15﴾
جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وہ وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ان پر سلام اور رحمت ہے۔وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ﴿16﴾
اور کتاب (قرآن) میں مریم کا ذکر کرو جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب چلی گئیں۔فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا﴿17﴾
تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا اس وقت ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا جو ان کے سامنے ٹھیک آدمی کی شکل میں گیا۔قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا﴿18﴾
مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا﴿19﴾
انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے رب کی طرف سے بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں۔قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا﴿20﴾
مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے تو کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں۔قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا﴿21﴾
فرشتے نے کہا کہ یونہی ہوگا، تمہارے رب نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے (میں اسے اسی طریق پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لیے اپنی طرف سے نشانی اور رحمت و مہربانی کا ذریعہ بنائوں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے۔ 21 ؎فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا﴿22﴾
تو وہ اس بچہ کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں۔فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا﴿23﴾
پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں کہ ”کاش میں اس سے پہلے مر چکتی اور بھول بھال چکی ہوتی۔فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا﴿24﴾
اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے آواز دی کہ ”غمگین نہ ہو تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘﴿25﴾
اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلائو تم پر تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی۔فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ﴿26﴾
تو کھائو اور پیوا ور آنکھیں ٹھنڈی رکھو، اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا میں نے اللہ کے لیے روزے کی منت مانی ہے کہ آج میں کسی سے کلام نہیں کروں گی۔فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا﴿27﴾
پھر وہ اپنے بچے کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں۔ وہ کہنے لگے کہ ”مریم یہ تو تو نے برا کام کیا۔یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ﴿28﴾
اے ہارون کی بہن ! نہ تو تیرا باپ ہی بدکردار تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی۔فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا﴿29﴾
تو مریم نے اس بچے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بولے کہ ہم اس گود کے بچے سے کیسے بات کریں ؟قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ﴿30﴾
اس (عیسیٰ) نے کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ﴿31﴾
اور میں جہاں ہوں جس حال میں ہوں مجھے برکت والا بنایا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھے نماز کا زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا﴿32﴾
اور مجھے اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا بنایا ہے، سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا﴿33﴾
اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام و رحمت ہے۔ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ﴿34﴾
یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ہیں اور یہ سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ﴿35﴾
اللہ کو ضرورت نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے ”ہوجا“ تو وہ ہوجاتا ہے۔وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ﴿36﴾
اور بیشک اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿37﴾
پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ تو جو لوگ کافر ہوئے ہیں ان کے لیے بڑے دن یعنی قیامت کے دن حاضر ہونے میں ہلاکت ہے۔اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿38﴾
وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے، مگر ظالم آج کھلی گمراہی میں ہیں۔وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿39﴾
اور ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈرائیں جب بات کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ وہ بھول رہے ہیں اور غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠﴿40﴾
اور ہم وارث ہوں گے زمین کے اور جو کچھ اس میں ہے اور وہ ہماری ہی طرف پھر آئیں گے۔وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاع﴿41﴾
اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے۔اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا﴿42﴾
جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ اے اباجان ! آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں ؟۔یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا﴿43﴾
اے ابا جان ! مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا تو آپ میرے ساتھ مل جائیں میں آپ کو سیدھی راہ پر چلا دوں گا۔یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا﴿44﴾
اے ابا شیطان کی پوجا نہ کریں بیشک شیطان اللہ کا نافرمان ہے۔یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا﴿45﴾
اے ابا جان ! مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو اللہ کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں۔قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا﴿46﴾
اس نے کہا کہ ”ابراہیم ! کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے ؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تمہیں سنگسار کروں گا اور تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہوجا۔قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا﴿47﴾
ابراہیم نے سلام علیکم کہا اور کہا کہ میں تو آپ کے لیے اپنے رب سے بخشش مانگوں گا وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا﴿48﴾
اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ اللہ کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے رب کو ہی پکاروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا۔فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا﴿49﴾
اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے، الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اس کے بعد) یعقوب بخشے اور سب کو پیغمبر بنایا۔وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ع﴿50﴾
اور ان کو اپنی رحمت سے بہت سی چیزیں عنایت کیں اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا۔وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا﴿51﴾
اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو بیشک وہ ہمارے برگزیدہ پیغمبر اور رسول تھے۔وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا﴿52﴾
اور ہم نے ان کو طور کی داہنی طرف پکارا اور باتیں کرنے کے لیے نزدیک بلایا۔وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا﴿53﴾
اور اپنی مہربانی سے ان کو ان کا بھائی ہارون پیغمبر عطا کیا۔وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ﴿54﴾
اور کتاب میں اسمعٰیل کا ذکر بھی کرو کہ وہ وعدے کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے نبی تھے۔وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا﴿55﴾
اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتے تھے اور اپنے رب کے پسندیدہ اور برگزیدہ تھے۔وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ﴿56﴾
اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو، وہ بھی نہایت سچے نبی تھے۔وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا﴿57﴾
اور ہم نے ان کو بلند مقام پر اٹھا لیا تھا۔اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩۩﴿58﴾
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے اپنے پیغمبروں میں سے فضل کیا، یعنی آدم کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا، جب ان کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور روتے رہتے۔فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ﴿59﴾
پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کردیا، (گویا اسے کھو دیا) اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے، سو عنقریب ان کو گمراہی کی سزا ملے گی۔اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ﴿60﴾
ہاں ! جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا ظلم نہ کیا جائے گا۔جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا﴿61﴾
ہمیشہ رہنے والی جنت جس کا اللہ نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے۔ اور جو ان کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے بیشک اس کا وعدہ (نیک لوگوں کے سامنے) آنے والا ہے۔لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا﴿62﴾
وہ اس میں سلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے اور ان کے لیے صبح و شام کا کھانا تیار ہوگا۔تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا﴿63﴾
یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو مالک بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا۔وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ﴿64﴾
اور فرشتوں نے پیغمبر کو جواب دیا کہ ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر اتر نہیں سکتے، جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے، سب اسی کا ہے اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں۔رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ع﴿65﴾
آسمان اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت پر ثابت قدم رہو۔ بھلا تم کوئی اس کا ہم نام جانتے ہو۔وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا﴿66﴾
اور کافر کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ؟اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا﴿67﴾
کیا انسان یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو پہلے بھی تو پیدا کیا تھا اور وہ کچھ بھی چیز نہ تھا۔فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ﴿68﴾
تمہارے رب کی قسم ہم ان کو جمع کریں گے اور شیطانوں کو بھی، پھر ان سب کو جہنم کے گرد جمع کریں گے اور وہ گھٹنوں پر گرے ہوئے ہوں گے۔ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ﴿69﴾
پھر ہر جماعت میں سے ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو اللہ سے سخت سرکشی کرتے تھے۔ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا﴿70﴾
اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو اس میں داخل ہونے کے بہت لائق ہیں (زیادہ لائق ہیں)۔وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ﴿71﴾
اور تم میں سے کوئی شخص نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا، یہ تمہارے رب پر لازم اور مقرر ہے۔ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا﴿72﴾
پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۔ اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا﴿73﴾
اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں۔وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا﴿74﴾
اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کردیں وہ لوگ ان سے ٹھاٹھ اور نمود میں کہیں اچھے تھے۔قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا﴿75﴾
کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے، اللہ اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیے جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب، خواہ قیامت تو اس وقت جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے۔وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا﴿76﴾
اور جو لوگ ہدایت پاتے ہیں اللہ ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے رب کے صلے کے لحاظ خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں۔اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ﴿77﴾
بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ اگر میں دوبارہ زندہ ہوا بھی تو یہی مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا۔اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ﴿78﴾
کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا اللہ سے عہد لے لیا ہے ؟كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ﴿79﴾
ہرگز نہیں یہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھتے جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں۔وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا﴿80﴾
اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا۔وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ﴿81﴾
اور ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا لیے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے عزت اور مدد کا سبب بنیں۔كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ع﴿82﴾
ہرگز نہیں وہ جھوٹے معبود ان کی عبادت سے انکار کردیں گے اور ان کے دشمن اور مخالف ہوں گے۔اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ﴿83﴾
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطان کو کافروں پر مقرر کر رکھا ہے کہ ان کو برائی پر اکساتے رہتے ہیں۔فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ﴿84﴾
تو آپ ان پر عذاب کے لیے جلدی نہ کرو اور ہم تو ان کے لیے دن شمار کر رہے ہیں۔یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ﴿85﴾
جس دن ہم پرہیزگاروں کو اللہ کے سامنے مہمان کے طور پر حاضر کریں گے۔وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ﴿86﴾
اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لیں گے (لے جائیں گے)لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ﴿87﴾
تو لوگ کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے اللہ سے اقرار لیا۔وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ﴿88﴾
اور کہتے ہیں کہ اللہ بیٹا رکھتا ہے۔لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ﴿89﴾
ایسا کہنے والو یہ تو تم بری بات زبان پر لاتے ہو۔تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ﴿90﴾
قریب ہے کہ اس افترا سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں۔اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ﴿91﴾
کہ انہوں نے اللہ کے لیے بیٹا تجویز کیا۔وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ﴿92﴾
اور اللہ کے شایان نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ﴿93﴾
تمام لوگ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اللہ کے سامنے بندے ہو کر آئیں گے۔لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ﴿94﴾
اس نے ان سب کو اپنے علم سے گھیر رکھا ہے اور ایک ایک کو شمار کر رکھا ہے۔وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا﴿95﴾
اور سب قیامت کے دن اس کے سامنے اکیلے اکیلے حاضر کیے جائیں گے۔اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا﴿96﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے رحمن ان کو محبت عطا فرمائے گا۔فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا﴿97﴾
(اے پیغمبر ﷺ ہم نے یہ قرآن آپکی زبان میں آسان نازل کیا ہے تاکہ آپ اس سے پرہیزگاروں کو خوشخبری پہنچا دیں اور جھگڑالو لوگوں کو ڈر سنا دیں۔وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ع﴿98﴾
اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا ہے بھلا آپ ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا کہیں ان کی بھنک سنتے ہو۔