14. Ibrahimابراهيم
Abraham · Meccan · 52 ayahs · 7 rukus · محترمہ رفعت اعجاز
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ﴿1﴾
الۗرٰ۔ یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف اتاری تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائیں ان کے رب کے حکم سے غالب اور قابل تعریف اللہ کے راستے کی طرف۔اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ﴿2﴾
وہ اللہ کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ اسی کا ہے اور کافروں کے لیے سخت عذاب کی وجہ سے خرابی ہے۔اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ﴿3﴾
جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے اور اس میں خرابی چاہتے ہیں یہ لوگ پرلے درجہ کی گمراہی میں ہیں۔وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿4﴾
اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا۔ تاکہ انہیں (اللہ کے احکامات) کھول کھول کر سنا دے، پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ﴿5﴾
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ اور ان کو اللہ کے دن یاد دلائو اور اس میں ان لوگوں کے لیے جو صابر و شاکر ہیں (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ع﴿6﴾
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ ”اللہ نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جب کہ تم کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی، وہ لوگ تمہیں بڑی بڑی سزا دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی سخت آزمائش تھیوَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ﴿7﴾
اور جب تمہارے رب نے تم کو آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی سخت ہے۔وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ﴿8﴾
اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو اللہ بےنیاز اور قابل تعریف ہے۔اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ﴿9﴾
بھلا تم کو ان لوگوں کے حالات کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے، یعنی نوح کی قوم، عاد اور ثمود اور جو ان کے بعد تھے، جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ جب ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیے (کہ خاموش رہو) اور کہا ہم تو تمہاری رسالت کو مانتے نہیں اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے بڑے شک میں ہیں۔قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ﴿10﴾
ان کے پیغمبروں نے کہا کیا تم کو اللہ کے بارے میں شک ہے، جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، وہ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور فائدہ پہنچانے کے لیے ایک مقررہ مدت تک تمہیں مہلت دے، وہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تم یہ چاہتے ہو کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوجتے رہے ہیں ان کی پوجا سے ہم کو منع کر دو ، تو اچھا کوئی کھلی دلیل (معجزہ) لائو۔قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴿11﴾
پیغمبر نے ان سے کہا کہ ہاں ہم ! تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت دیتا ہے) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر تم کو تمہاری فرمائش کے مطابق معجزہ دکھائیں اور اللہ پر ہی مومنوں کو بھروسا رکھنا چاہیے۔وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ع﴿12﴾
اور ہم کیوں کر اللہ پر بھروسا نہ رکھیں جب کہ اس نے ہم کو ہمارے دین کے سیدھے راستے بتائے ہیں، اور جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو ہم اس پر صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ﴿13﴾
اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ یا تو ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا تم ہمارے مذہب میں داخل ہوجاؤ۔ تو اللہ رب العزت نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ﴿14﴾
اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد کریں گے، یہ اس شخص کے لیے ہے جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے اور میرے عذاب سے خوف کھائے۔وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ﴿15﴾
اور پیغمبروں نے اللہ سے اپنی فتح چاہی تو ہر سرکش ضدی نامراد رہ گیا۔مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ﴿16﴾
اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ﴿17﴾
اور وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پیے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا، اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا۔ اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ﴿18﴾
جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال راکھ سی ہے کہ آندھی کے دن ان پر زور کی ہوا چلے اور اسے اڑا لے جائے، اسی طرح جو کام وہ کرتے ہیں اس میں کچھ بھی نہ پاسکیں گے یہی تو پرلے درجہ کی گمراہی ہے۔اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ﴿19﴾
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے ؟ اگر وہ چاہے تو تم کو ختم کر دے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق پید اکر دے۔وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ﴿20﴾
اور اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ع﴿21﴾
اور قیامت کے دن سب لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے پھر کمزور اپنے سے بڑائی والوں سے کہیں گے ہم تو تمہارے تابع تھے کیا تم ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا سکتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ اگر اللہ ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے اب ہمارے لیے برابر ہے بےقراری کریں یا صبر کریں ہمارے لیے رہائی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿22﴾
جب حساب کتاب کا کام ہوچکے گا تو شیطان کہے گا کہ جو وعدہ اللہ نے تم سے کیا تھا وہ سچا تھا اور جو وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا، اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہ تھا، ہاں میں نے تم کو گمراہی کی طرف بلایا تو تم نے جلدی سے میری بات مان لی، تو آج مجھے ملامت نہ کرو اپنے آپ ہی کو ملامت کرو، نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے، بیشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے۔وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ﴿23﴾
اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی ملاقات کا تحفہ سلام ہےاَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ﴿24﴾
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے پاک کلمے کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے وہ ایسی ہے جیسے پاکیزہ درخت، جس کی جڑ مضبوط (زمین کو پکڑے ہوئے ہو) اور شاخیں آسمان میں ہوں۔تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ﴿25﴾
اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا اور میوے دیتا ہو۔ اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ﴿26﴾
اور ناپاک کلمے کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مضبوط اور نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور وہ ہرگز مضبوط نہیں ہوتا۔یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ع﴿27﴾
اللہ مومنوں کے دلوں کو ٹھیک اور پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے، اور آخرت میں بھی رکھے گا۔ اللہ بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ﴿28﴾
کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کے احسان کو ناشکری میں بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر اتارا۔جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ﴿29﴾
وہ گھر دوزخ ہے، سب ناشکرے اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ﴿30﴾
اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک مقرر کیے کہ لوگوں کو اس کے راستے سے گمراہ کریں کہہ دو کہ چند روز فائدے اٹھا لو، آخر کار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ﴿31﴾
(اے پیغمبر ﷺ !) میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ نماز پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ اعمال کا سودا ہوگا اور نہ دوستی کام آئے گی ہمارے دیے ہوئے مال میں سے درپردہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں۔اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ﴿32﴾
اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور آسمان سے مینہ برسایا، پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل پیدا کیے، کشتیوں اور جہازوں کو تمہارے زیر فرمان کیا، تاکہ دریا اور سمندر میں اس کے حکم سے چلیں اور نہروں کو بھی تمہارے زیر فرمان کیا۔وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ﴿33﴾
سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا کہ دونوں دن رات ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ رات اور دن کو بھی تمہاری خدمت میں لگا دیا۔وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ع﴿34﴾
اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا اور اگر اللہ کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) یقینا انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہےوَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ﴿35﴾
اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے رب ! اس شہر کو لوگوں کے لیے امن کی جگہ بنا دے مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھ۔رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿36﴾
(اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ) اے میرے رب ! انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے، سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے، اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ﴿37﴾
اے میرے رب ! میں نے اپنی اولاد (میدان مکہ میں) جہاں کھیتی نہیں ہوتی تیرے عزت و ادب والے گھر کے پاس لا بسائی ہے، اے میرے رب ! تاکہ وہ نماز قائم کریں تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میووں سے روزی دے تاکہ تیرا شکر کریں۔رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ﴿38﴾
اے اللہ ! جو بات ہم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں تو سب جانتا ہے اور اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ﴿39﴾
اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بیشک میرا رب دعاؤں کا سننے والا ہے۔رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ﴿40﴾
اے اللہ ! مجھے ایسی توفیق دے کہ نماز قائم کرتا رہوں اور میری اولاد کو بھی یہ توفیق بخش، اے رب العلمین ! میری دعا قبول فرما۔رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ع﴿41﴾
اے اللہ ! حساب کتاب کے دن مجھے اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو بخش دینا۔وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ﴿42﴾
اور مومنو ! مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں اللہ ان سے بیخبر ہے، وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ دہشت کے سبب آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ﴿43﴾
اور لوگ سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل مارے خوف کے ہوا ہو رہے ہوں گےوَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ﴿44﴾
اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کر دو جب ان پر عذاب آجائے گا۔ تب ظالم لوگ کہیں گے ”اے ہمارے رب ! ہمیں تھوڑی مدت مہلت کی عطا کر دے، تاکہ تیری دعوت (توحید) قبول کرلیں، اور (تیرے) پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو (اس حال سے جس میں تم) ہو زوال (اور قیامت کو اعمال کا حساب) نہیں ہوگا۔وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ﴿45﴾
اور جو لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے، تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے، اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کیا تھا، اور تمہارے (سمجھانے کے) لیے مثالیں بیان کردی تھیں۔وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ﴿46﴾
اور انہوں نے بڑی بڑی تدبیریں کیں اور ان کی سب تدبیریں اللہ کے ہاں لکھی ہوئی ہیں، گو وہ تدبیریں ایسی غضب کی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ﴿47﴾
تو ایسا خیال نہ کرنا کہ اللہ نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا۔ بیشک اللہ زبردست بدلہ لینے والا ہے۔یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴿48﴾
جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی بدل دیے جائیں گے اور لوگ زبردست اکیلے اللہ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ﴿49﴾
اور اس دن آپ گنہگاروں کو دیکھیں گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیںسَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ﴿50﴾
ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی۔لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ﴿51﴾
یہ اس لیے کہ اللہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ع﴿52﴾
یہ قرآن لوگوں کے نام اللہ کا پیغام ہے تاکہ ان کو اللہ سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے، اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں۔